Skip to content

Chapter 10: زنا بالجبر کی سزا: ڈاکٹر محمد مشتاق کی تنقید کا جائزہ

ڈاکٹر محمد مشتاق کی تنقید کا جائزہ

[ڈاکٹر محمد مشتاق احمد اور جناب حسن الیاس کی بحث کے تناظر میں]

ــــــــــ 1 ــــــــــ

زنا بالجبر یا زنا بالاکراہ کے بارے میں ہمارے فقہا کا عمومی موقف یہ ہے کہ یہ زنا ہی کی ایک قسم ہے اور اِس کے لیے شریعت میں وہی سزا ہے، جو اِس کی ایک دوسری قسم زنابالرضا کے لیے مقرر ہے۔ چنانچہ یہ زنا بالرضا ہی کی طرح مستوجبِ حد ہے، جس کی شرعی سزا سورۂ نور (24) کی آیت 2 کے مطابق سو کوڑے ہے۔ تاہم،یہ سزا اِس کے غیرشادی شدہ مرتکب کے لیے ہے۔ جہاں تک شادی شدہ مجرم کا تعلق ہے تو زنا بالرضا ہو یا زنابالجبر، ہر دو صورتوں میں اُس کے لیے رجم، یعنی سنگ ساری کی سزا ہے۔ سو کوڑے کی طرح یہ بھی شرعی حد ہے، جو سنتِ متواترہ سے ثابت ہے۔حدود کی یہ سزائیں زنا بالرضا کے دونوں فریقین کے لیے ہیں، البتہ زنا بالجبر میں اِن کا مستحق صرف جبر کرنے والا فریق ہے، جبر کا شکار ہونے والا فریق اِن سے مستثنیٰ ہے۔زنا بالجبر کے ثبوت کا معیار چار مسلمان مرد گواہوں کی عینی شہادت ہے۔ بعینہٖ یہی معیارزنا بالرضا کے ثبوت کے لیے بھی ہے۔چار چشم دید مسلمان گواہ اگر میسر ہوں تو کوڑے یا رجم کی حد کا نفاذ ہوگا، بہ صورتِ دیگر یہ حدود نافذ نہیں کیے جائیں گے۔اِس سے واضح ہے کہ ثبوتِ جرم اور نفاذِ حدود کے اعتبار سے زنا بالجبر اور زنا بالرضا میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جو معیاراتِ ثبوت اور جو شرعی حدودز نا بالرضا کے لیے قائم ہیں، وہی زنا بالجبر کے لیے بھی مقرر ہیں۔

زنا بالجبر اور اُس کی سزا کے حوالے سے یہ فقہا کا عمومی موقف ہے۔ دورِ حاضر میں فقہ حنفی کے جید عالم دین مولانا مفتی تقی عثمانی نے پاکستان میں حدود آرڈیننس کی بحث کے تناظر میں اُسے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:

’’1۔قرآن کریم نے سورۂ نور کی دوسری آیت میں زنا کی حد بیان فرمائی ہے:

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ. (النور24: 2)

’’جو عورت زنا کرے، اور جو مرد زنا کرے، ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔‘‘

اس آیت میں زنا کا لفظ مطلق ہے جو ہر قسم کے زنا کو شامل ہے، اس میں رضا مندی سے کیا ہوا زنا بھی داخل ہے، اور زبردستی کیا ہوا زنا بھی۔ بلکہ یہ عقل عام (Common Sense) کی بات ہے کہ زنا بالجبر کا جرم رضا مندی سے کیے ہوئے زنا سے زیادہ سنگین جرم ہے، لہٰذا اگر رضا مندی کی صورت میں یہ حد عائد ہو رہی ہے تو جبر کی صورت میں اس کا اطلاق او ر زیادہ قوت کے ساتھ ہوگا۔

اگرچہ اس آیت میں زنا کرنے والی عورت کا بھی ذکر ہے، لیکن خود سورۂ نور ہی میں آگے چل کر اُن خواتین کو سزا سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو، چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے:

وَمَنْ یُّکْرِھْھُّنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ مِنْ بَعْدِ اِکْرَاھِہِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(النور24: 33)

’’اور جوان خواتین پر زبردستی کرے تو اللہ تعالیٰ ان کی زبردستی کے بعد (ان خواتین) کو بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔‘‘

اِس سے واضح ہو گیا کہ جس عورت کے ساتھ زبردستی ہوئی ہو، اسے سزا نہیں دی جا سکتی، البتہ جس نے اُس کے ساتھ زبردستی کی ہے، اُس کے بارے میں زنا کی وہ حد جو سورۂ نور کی آیت نمبر 2 میں بیان کی گئی تھی، پوری طرح نافذ رہے گی۔

2۔ سو کوڑوں کی مذکورہ بالا سزا غیر شادی شدہ اشخاص کے لیے ہے، سنت متواترہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ اگر مجرم شادی شدہ ہو تو اُسے سنگ سار کیا جائے گا۔ اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سنگ ساری کی یہ حد جس طرح رضا مندی سے کیے ہوئے زنا پر جاری فرمائی، اُسی طرح زنا بالجبر پر بھی جاری فرمائی۔… لہٰذا قرآن کریم، سنت نبویہ علی صاحبہا السلام اور خلفاء راشدین کے فیصلوں سے یہ بات کسی شبہ کے بغیر ثابت ہے کہ زنا کی حد جس طرح رضا مندی کی صورت میں لازم ہے، اُسی طرح زنا بالجبر کی صورت میں بھی لازم ہے، اور یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ قرآن وسنت نے زنا کی جو حد (شرعی سزا) مقرر کی ہے وہ صرف رضا مندی کی صورت میں لاگو ہوتی ہے، جبر کی صورت میں اُس کا اطلاق نہیں ہوتا۔‘‘ (حدود آرڈیننس ایک علمی جائزہ 23-22)

’’حدود آرڈیننس میں احکام یہ تھے کہ اگرزنا پر شرعی اصول کے مطابق چار گواہ موجود ہوں تو آرڈیننس کی دفعہ کے تحت مجرم پر زنا کی حد(شرعی سزا) جاری ہو گی۔‘‘

(حدود آرڈیننس ایک علمی جائزہ 26)

فقہا کے اِس موقف سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ حدودِ شریعت میں زنا بالرضا اور زنا بالجبر کے جرائم، اُن کے ثبوت اور اُن کی سزا میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ چنانچہ اگر کوئی غیرشادی شدہ شخص کسی خاتون، کسی لڑکی یا کسی کم سن بچی کے ساتھ جبراً فعل شنیع کا ارتکاب کرتا ہے اور اُس کا یہ جرم چار مسلمان گواہوں کی عینی شہادت سے پایۂ ثبوت تک پہنچ جاتا ہے تو اُس پر شرعی حدود کے مطابق سو کوڑے کی سزا نافذ ہو گی۔

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک یہ موقف شریعتِ اسلامی کی صحیح تعبیر پر مبنی نہیں ہے۔ اِس میں نوعیتِ جرم، معیارِ ثبوت اور نفاذِ حدود، تینوں اعتبارات سے بعض ایسے اسقام ہیں کہ جن کی موجودگی میں شریعت کا منشا و مقصود کما حقہٗ، حاصل نہیں ہوسکتا۔ استاذِ گرامی کی یہی وہ تنقیدہے کہ جس کے بعض پہلوؤں کو ادارۂ علم و تحقیق ’’المورد ‘‘کے اسکالر برادرم حسن الیاس نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں نمایاں کیا ہے۔ اِس میں اُنھوں نے قصور کی سات سالہ معصوم زینب سے زیادتی اور قتل کے اندوہ ناک واقعے کے حوالے سے یہ بیان کیا ہے کہ اگر زینب زندہ بچ جاتی اور اُس کے ساتھ زیادتی کا جرم چار گواہوں کی شہادت سے ثابت ہو جاتا تو ہماری فقہ کے مطابق مجرم پر وہی سو کوڑے کی حد نافذ کی جاتی، جو زنابالرضا کے مجرم کے لیے مقرر ہے۔ ’’اگر زینب زندہ ہوتی ‘‘ کے زیرِ عنوان یہ تحریر ایک محاکاتی المیہ ہے، جس میں مکالمے کی صورت میں فقہی موقف کے بعض اسقام کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔

حسن الیاس صاحب نے اِس بحث کو جس موقع پر اٹھایا ہے اور اِس کے لیے جو پیرایۂ بیان اختیار کیا ہے، اُس پر یقیناً دو رائیں ہو سکتی ہیں، لیکن جہاں تک اِس کی سماجی حساسیت اورعلمی ضرورت کا تعلق ہے تو دین کے سنجیدہ طالبِ علموں کے لیے اُس سے مفر ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم نے اِس تحریر کا غیر معمولی نوٹس لیا ہے اور اِس پر اپنے اتفاق واختلاف اور تحسین و تنقید کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ اِس ضمن میں سب سے نمایاں بحث انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادکے فاضل استاد اور ہمارے برادرِ مکرم ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب کی طرف سے سامنے آئی ہے۔ ’’فقہ اور اصول فقہ کے متعلق جہل مرکب کا شاہ کار‘‘ اور ’’جنسی تشدد زنا کی قسم نہیں ہے‘‘ کے زیرِ عنوان اُنھوں نے اپنے ابتدائی مضامین میں حسن صاحب کے تمام مقدمات کی تغلیط کی ہے اور اِس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ فقہا کے نقطۂ نظر کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔

برادرم مشتاق صاحب نے نقد و جرح کے لیے، بالعموم طنز و تعریض اور تنقیص و تضحیک کا پیرایہ اختیار کیا ہے۔ یہ ظاہرہے کہ اُن کے علمی مرتبے کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اُن کا تعارف علوم اسلامی کے ایک معلم، فقہ حنفی کے ایک ماہر اور دین کے ایک مخلص داعی کا ہے۔ یہ تعارف عامیانہ کے بجاے عالمانہ اسلوب کلام کا تقاضا کرتا ہے۔ بہرحال، اِس سے قطع نظر کرتے ہوئے اگر اُن کی تحریروں کے نفس مضمون کا جائزہ لیا جائے تو اُنھوں نے یہ بیان کیا ہے کہ فقہا کے نزدیک زنا بالجبر، زنا کا جرم ہی نہیں ہے، یہ جنسی تشدد کی ایک قسم ہے، جس میں اکراہ شامل ہے۔ اِس اعتبار سے یہ فساد کا جرم ہے۔ ربا اور دیگر متعدد جرائم کی طرح اِس کی سزا بھی قرآن مجید نے مقرر نہیں کی۔ اِس لیے فقہا اِسے ’شرعی حدود ‘کے تحت نہیں، بلکہ ’سیاسۃ شریعۃ ‘کے تحت زیر بحث لاتے ہیں۔ وہ اِس کے ثبوت کے لیے اقرار یا شہادت کو ضروری قرار نہیں دیتے، بلکہ حالات و قرائن ہی کی بنا پر اِسے ثابت مانتے ہیں۔جہاں تک اِس کی سزا کا تعلق ہے تو فقہا اِس پر حدود، یعنی سو کوڑے یا رجم کی سزائیں نافذ نہیں کرتے۔ اِن کے بجاے وہ قاضی یا حکمران کو یہ حق دیتے ہیں کہ اپنی صواب دید کے مطابق جو چاہے، سخت سے سخت سزا نافذ کرے۔ جرم کی شدت اور شناعت کے لحاظ سے یہ موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔مشتاق صاحب کے مضامین کے درج ذیل مقامات اِسی موقف کو واضح کرتے ہیں:

’’…(اما م سرخسی کی کتاب المبسوط کے مطابق) فساد کے جرم پر عبرت ناک طریقے سے سزائے موت دینے کا اختیار حکمران اور قاضی کے پاس ہے اور اس کے ثبوت کے لیے اقرار یا گواہی ضروری نہیں، بلکہ قرائن بھی کافی ہوتے ہیں۔

… فقہ کی رو سے بچی پر تشدد کی بدترین قسم کا ارتکاب کیا گیا ہے جس پر فقہی قواعد کی رو سے حدود اور قصاص کے بجاے فقہی تصور ’’سیاسہ‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس شنیع ترین جرم کا ارتکاب کرنے والے بدبخت کو بدترین سزا دینا لازم ہے۔

… ا س معصوم بچی کے ساتھ پیش آیا ہوا واقعہ حدِ زنا کا مسئلہ ہے ہی نہیں، بلکہ یہ فساد کی بدترین قسم ہے جس کے لیے فقہاے کرام ’’سیاسہ‘‘ کے تصور کی رو سے قاضی کے لیے یہ اختیار مانتے ہیں کہ وہ قرائن اور جدید ترین ذرائع سے میسر آنے والے ثبوتوں کی روشنی میں مجرم کو ایسی عبرت ناک سزا دے کہ پھر کسی کو اس طرح کے جرم کے ارتکاب کی جرأت ہی نہ ہوسکے۔

… جنسی تشدد زنا کی قسم نہیں ہے، نہ ہی اس کے لیے معیار ثبوت زنا کا ہے۔

… فقہائے کرام کی ساری بحث باہمی رضامندی سے کیے جانے والے زنا سے متعلق ہے۔ اکراہ کا ذکر اس میں دیگر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے آیا ہے۔

… جب جنسی تشدد کا جرم زنا کے جرم سے الگ جرم ہے، اور اس پر سیاسہ کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے تو پھر اس کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط بھی ضروری نہیں ہے، اور اس کی سزا بھی سو کوڑے یا رجم کے علاوہ کچھ اور شکل اختیار کرسکتی ہے۔‘‘

(دلیل ڈاٹ پی کے)

مشتاق صاحب کے اِس فہم پر حسن الیاس صاحب نے اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے سے اِس بات پر اصرار کیا ہے کہ اِس موقف کو فقہا سے منسوب کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے، فقہا کا موقف وہی ہے، جس کی عکاسی اُنھوں نے اپنے ابتدائی مضمون میں کی ہے۔اپنی بات کی دلیل کے طور پر اُنھوں نے امام ابن عبدالبر اور امام سرخسی کے درجِ ذیل اقتباسات کو بھی پیش کیا ہے:

’’علما کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ زبردستی اور جبراً زنا کرنے والا موجبِ حد ہے،اگر اس پر گواہیاں پیش کر دی جائیں، وہ گواہیاں جو حد کو لازم کرتی ہیں۔یا پھر وہ آدمی خود اس کا اقرار کر لے۔ (ابن عبد البر، الاستذکار 7/ 146)

’’جب گواہ اس بات پرقائم ہوجائیں کہ اس مرد نے اس خاتون کو مجبور کر کے اس کے ساتھ واقعتاً زنا کیا ہے تو اس مرد کو حد لگائی جائے گی۔ عورت کو نہیں لگائی جائے گی۔‘‘

(السرخسی، المبسوط 9/ 54)‘‘ (دلیل ڈاٹ پی کے، فیس بک)

اِس بحث و مکالمے کے ضمن میں میری طالب علمانہ راے یہ ہے کہ مشتاق صاحب نے زنا بالجبر کی سزا کے حوالے سے جو بات فقہا کی نسبت سے بیان کی ہے، اُسے کسی طرح بھی فقہا کے موقف کی ترجمانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مزیدبرآں، اِس سے اُن اعتراضات کی تردید بھی نہیں ہوتی، جو حسن الیاس صاحب نے اپنے مضمون میں اٹھائے ہیں۔اِس پر مستزاد یہ طرفہ تماشا ہے کہ زنا بالجبر کو زنا سے الگ کرنے، اُسے فساد قرار دینے،اُسے چار گواہوں کے بجاے حالات و قرائن سے ثابت ماننے اور مجرم کے لیے قتل تک کی عبرت ناک سزا مقرر کرنے کا جو نقطۂ نظر اُنھوں نے جوابی طور پر پیش کیا ہے، وہ نتائج کے اعتبار سے فقہا کے بجاے مدرسۂ فراہی کے موقف کے زیادہ قریب ہے۔ اِس لیے اِن تحریروں کے مطالعے سے بہ ظاہر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ اِن میں حسن الیاس صاحب کے نقد کی تائید کی گئی ہے، مگر اِس کے لیے تردید کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے اور فقہا کے موقف کی تردید کی گئی ہے، مگر اِس کے لیے تائید کا پیرایہ اختیار کیا گیا ہے۔

یہ تاثر کیسے قائم ہوتا ہے، اِس کودو سوالوں کے جواب میں آرا کے تقابل سے بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا فقہا زنا بالجبر کو زنا بالرضا سے الگ جرم تصور کرتے ہیں؟

حسن الیاس صاحب کے فہم کے مطابق اِس کا جواب نفی میں ہے۔ یعنی وہ اِن دونوں کو اصلاً ایک ہی نوعیت کا جرم گردانتے ہیں۔ چنانچہ مذکورہ تحریر میں اُنھوں نے لکھا ہے:

’’فقہ اسلامی کی روشنی میں زنا بالجبر، زنا کے علاوہ کوئی الگ جرم نہیں ہے، زنا زنا ہی ہوتا ہے، چاہے جبراً ہو یا مشاورت سے۔‘‘

مفتی تقی عثمانی صاحب کے درج ذیل بیان سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’(سورۂ نور کی) اس آیت میں زنا کا لفظ مطلق ہے جو ہر قسم کے زنا کو شامل ہے، اس میں رضا مندی سے کیا ہوا زنا بھی داخل ہے، اور زبردستی کیا ہوا زنا بھی۔‘‘

مشتاق صاحب اِس کی واضح تردید کرتے ہیں۔ اپنے مضامین میں مختلف مقامات پر اُنھوں نے لکھا ہے:

’’زنا بالجبر زنا کی قسم نہیں، بلکہ جنسی تشدد کی قسم ہے، اکراہ کی قسم ہے۔‘‘

’’جنسی تشدد کا جرم زنا کے جرم سے الگ جرم ہے۔‘‘

’’بچی کے ساتھ کی گئی زیادتی فقہ کی رو سے زنا کی تعریف میں ہی نہیں آتی۔‘‘

دوسرا سوال یہ ہے کہ زنا بالجبر کی صورت میں اگر حد کے شرائط پورے ہو ں تو کیا اِس صورت میں فقہا کے نزدیک حد نافذ ہو گی؟

حسن الیاس صاحب کے مضمون میں اِس کا جواب اثبات میں ہے:

’’فقہ اسلامی اور شریعت اسلامی کی روشنی میں زینب کے ساتھ زنا کے مجرم کو (سورۂ نور کی مقرر کردہ حد، یعنی) سو کوڑے مارنے کی سزا سنائی جاتی ہے۔‘‘

مفتی تقی عثمانی صاحب کے درج ذیل الفاظ سے بھی یہی بات سمجھ میں آتی ہے:

’’جس عورت کے ساتھ زبردستی ہوئی ہو، اسے سزا نہیں دی جا سکتی، البتہ جس نے اس کے ساتھ زبردستی کی ہے، اس کے بارے میں زنا کی(سو کوڑے کی)وہ حد جو سورۂ نور کی آیت نمبر 2 میں بیان کی گئی تھی، پوری طرح نافذ رہے گی… قرآن کریم، سنت نبویہ علی صاحبہا السلام اور خلفاء راشدین کے فیصلوں سے یہ بات کسی شبہ کے بغیر ثابت ہے کہ زنا کی حد جس طرح رضا مندی کی صورت میں لازم ہے، اسی طرح زنا بالجبر کی صورت میں بھی لازم ہے۔‘‘

مگر مشتاق صاحب کا بیان اِس کے برعکس ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’جب جنسی تشدد کا جرم زنا کے جرم سے الگ جرم ہے اور اس پر سیاسہ کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے تو پھر اس کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط بھی ضروری نہیں ہے اور اس کی سزا بھی سو کوڑے یا رجم کے علاوہ کچھ اور شکل اختیار کر سکتی ہے۔‘‘

’’اس معصوم بچی کے ساتھ پیش آیا ہوا واقعہ حد زنا کا مسئلہ ہے ہی نہیں،بلکہ یہ فساد کی بدترین قسم ہے،جس کے لیے فقہائے کرام سیاسہ کے تصور کی رو سے قاضی کے لیے یہ اختیار مانتے ہیں کہ وہ قرائن اور جدید ترین ذرائع سے میسر آنے والے ثبوتوں کی روشنی میں مجرم کو ایسی عبرت ناک سزا دے کہ پھر کسی کو اس طرح کے جرم کے ارتکاب کی جرأت ہی نہ ہو سکے۔‘‘

اِس تقابل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ زنا بالجبر کے حوالے سے فقہا کا موقف وہی ہے، جسے حسن الیاس صاحب نے سمجھا ہے اور جو مفتی تقی عثمانی صاحب کے اقتباسات سے ثابت ہے۔ یہی موقف پاکستان میں فقہ حنفی کے نمایندہ علما کا متفقہ موقف ہے۔2006ء میں حقوقِ نسواں بل کی بحث کے موقع پر مفتی تقی عثمانی، مولانا زاہد الراشدی، مفتی منیب الرحمٰن، قاری حنیف جالندھری،مولانا حسن جان، ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور بعض دیگر علما نے یہ موقف اِن الفاظ میں بیان کیا تھا:

’’زنا بالجبر اگر حد کی شرائط کے ساتھ ثابت ہو جائے تو اُس پر حدِ زنا جاری کی جائے گی۔‘‘(ماہنامہ الشریعہ، اکتوبر 2006ء)

اِس جملے کے معنی یہ ہیں کہ یہ علما:

1۔ زنا بالجبر کی اصطلاح کو قبول کرتے ہیں؛

2۔ اِسے زنا ہی کی ایک صورت تصور کرتے ہیں؛

3۔ اِس کے ثبوت کے لیے حد ہی کے شرائط، یعنی مجرم کے اقرار یا چار مسلمان گواہوں کی شہادت کو تسلیم کرتے ہیں ؛

4۔اِس پرزنا (بالرضا) ہی کی حد، یعنی سو کوڑے یا رجم کی سزا نافذ کرتے ہیں۔

چنانچہ علما و فقہا کے اِس موقف اور مشتاق صاحب کی راے کا اگر تقابلی تجزیہ کیا جائے تو واضح ہو گا کہ:

فقہ ِحنفی کے اکابرین یہ کہتے ہیں کہ زنا بالجبر زنا ہی کی ایک صورت ہے، جب کہ مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ زنا بالجبر زنا کی قسم نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ حدود کے دائرے کا جرم ہے، جب کہ مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ یہ حدود کے دائرے کا نہیں، بلکہ سیاسہ کے دائرے کا جرم ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ جرم مجرم کے اقرار یا چار مسلمان گواہوں کی شہادت سے ثابت ہو گا، جب کہ مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ یہ حالات و قرائن سے ثابت ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ اِس پر زنا (بالرضا) ہی کی حد، یعنی سو کوڑے یا رجم کی سزا نافذ ہو گی، مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ نہیں، اِس پر سو کوڑے یا رجم کی سزا کے علاوہ کوئی اور سزا نافذ ہو گی۔

اگر صورت معاملہ یہی ہے توپھر یہ کوئی بہت بڑا مغالطہ ہے، جس کا شکار مشتاق صاحب ہوئے ہیں یا بہ صورتِ دیگر قارئین کا حد درجہ سوءِ فہم ہے کہ وہ مشتاق صاحب کی بات کا مفہوم اُن کے مدعا کے برعکس سمجھ رہے ہیں۔

بہرحال، اِس الجھن کو سلجھانا اب مشتاق صاحب ہی کی ذمہ داری ہے۔ہماری گزارش یہ ہے کہ اگر ہمارا اور قارئین کا فہم درست ہے تو مشتاق صاحب کو کوئی خلطِ مبحث پیدا کیے بغیر پوری وضاحت سے یہ بیان کرنا چاہیے کہ فقہا کا عمومی موقف تو وہی ہے، جو حسن الیاس صاحب نے سمجھا ہے، مگر وہ اُس سے قطع نظر کرتے ہوئے اپنے علم و تحقیق اور اپنے دلائل کی بنیاد پر اِس مسئلے کو مختلف زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر اُن کے نزدیک ایسا نہیں ہے تو پھر اُن کو اپنی بات ثابت کرنے کے لیے توضیح و تنقیح کے کچھ مزید مراحل سے گزرنا چاہیے۔ اِس ضمن میں دو نہایت سادہ سوالوں پر اُن کے متعین اور مختصر جواب نہ صرف اُس تناقض اور ابہام کو دور کر سکتے ہیں جو بادی النظر میں اُن کی تحریروں سے پیدا ہو رہا ہے، بلکہ باہمی ابلاغ مدعا میں بھی معاون ہو سکتے ہیں۔ سوال یہ ہیں:

1۔ حسن الیاس صاحب کی مفروضہ صورت کے مطابق اگر زینب کو کسی غیر شادی شدہ شخص نے ظلم کا نشانہ بنا کر قتل کیے بغیر چھوڑ دیا ہوتا اورچار چشم دید گواہ زنابالجبر کی شہادت دے دیتے تو فقہا کے موقف کے مطابق اِس جرم کو کس لفظ یا اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا اور مجرم پر کون سی سزا نافذکی جاتی؟

2۔ فقہا کا مختار موقف اگر وہی ہے، جسے مشتاق صاحب نے ’’سیاسہ ‘‘کے زیرِ عنوان بیان کیا ہے اور جس کے مطابق زبردستی کیے گئے زنا پر نہ زنا کا اطلاق ہوتا ہے اور نہ اُس کے حدود کا تو پھر وہ موقف کس کا ہے، جو مفتی تقی عثمانی، مولانا زاہد الراشدی، مفتی منیب الرحمٰن اور بعض دیگر جید حنفی علما کے حوالے سے اوپر نقل ہوا ہے اور جس کے مطابق زبردستی کیے گئے زنا پر زنا اور اُس کے حدود ہی کا اطلاق ہوتا ہے؟

ــــــــــ 2 ــــــــــ

’’زنا بالجبرکی سزا کے بارے میں فقہا کا موقف‘‘ کے زیرِ عنوان گذشتہ مضمون کے اختتام پر ہم نے برادرِ مکرم جناب ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب کی خدمت میں یہ سوال کیا تھا کہ اگر کسی معصوم بچی کو کوئی غیر شادی شدہ شخص ظلم کا نشانہ بنا کرچھوڑ دے اورچار چشم دید گواہ اُس کے خلاف زنابالجبر کی شہادت دیں تو ہماری فقہ میں اِس جرم کے لیے کیا تعبیر اختیار کی جاتی ہے اور مجرم پر کس سزا کا نفاذ ہوتا ہے؟ جناب مشتاق صاحب نے اِس کے جواب میں یہ بیان کیا ہے کہ اِس صورت میں سو کوڑے کی حد اور اُس کے ساتھ تعزیر کی کوئی سزا نافذ ہو گی ،جو جرم کی شناعت کے اعتبار سے موت بھی ہو سکتی ہے۔ ’’زنا بالجبر سے متعلق آخری سوال کا جواب‘‘ کے عنوان کے تحت اُنھوں نے لکھا ہے:

’’سوال ہوا کہ اگر چار گواہوں کی گواہی سے جرم ثابت ہوجاتا اور مجرم غیرمحصن ہوتا تو اس آرڈی نینس کی رو سے کیا سزا ہوتی؟ (یاد کیجیے ’’اگر زینب زندہ ہوتی‘‘ نامی ڈرامے کا سنسنی خیز کلائمیکس!) اس کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں اسے زنا کی سزا کے طور پر سو کوڑے دیے جاتے اور اکراہ کی سزا کے طور پر مناسب تعزیر جو سزاے موت بھی ہوسکتی تھی!‘‘ (فیس بک)

یہی بات اُن کی بعض گذشتہ تحریروں سے بھی مفہوم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ’’زنا بالجبر کی بحث میں غلطی کہاں سے ہوتی ہے‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’…پس جہاں اکراہ بھی ثابت شدہ ہو اور زنا بھی ثابت شدہ ہو تو اکراہ کرنے والے کو اکراہ کی سزا بھی دی جائے گی اور زنا کی بھی۔ یہ رہا ایک مسئلہ۔ اب آئیے دوسرے مسئلے کی طرف۔ جہاں صرف اکراہ ثابت ہو تو وہاں کیا کیا جائے گا؟ اس سیدھے سادے سوال میں ہی سارے مسئلے کی کنجی ہے۔ اس سیدھے سادے سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں اکراہ ثابت ہو وہاں اکراہ کی سزا دی جائے گی۔ اس پر سوال قائم ہوتا ہے کہ اکراہ کی سزا کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت نے بہت سے دیگر جرائم کی طرح اکراہ کے جرم کی سزا بھی متعین نہیں کی ہے بلکہ اسے حکمران کی صواب دید پر چھوڑا ہے جو اکراہ کی صورت اور نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر مناسب سزا مقرر کر سکتا ہے۔ سنگین صورتوں میں وہ سزاے موت بھی مقرر کر سکتا ہے۔ بہت زیادہ سنگین صورتوں میں وہ سزاے موت کے لیے کوئی عبرت ناک طریقہ بھی تجویز کرسکتا ہے۔ یوں فقہاے کرام کے لیے یہ معاملہ حدود کا نہیں، بلکہ ’’سیاسہ‘‘ کا ہوا۔

…اب سوچیے کہ اکراہ کی ممکن صورتیں کیا ہوسکتی ہیں؟ انسان کس حد تک وحشی ہوسکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی جامع و مانع فہرست مرتب کرنا کسی انسان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ ہم صرف چند موٹی موٹی کیٹگریز ہی ذکر کرسکتے ہیں۔ ان کیٹگریز میں ایک کیٹگری ’’جنسی تشدد‘‘ کی ہے۔ اب اِس پر سوچیے کہ جنسی تشدد کی ممکن صورتیں کیا ہوسکتی ہیں؟ اِس کا جواب بھی یہی ہے کہ اِس کی جامع و مانع فہرست بنانا ممکن ہی نہیں۔ بے شمار صورتیں ہوسکتی ہیں، جن میں ایک وہ صورت بھی ہوسکتی ہے، جسے انگریزوں نے ’ریپ‘ کہا اور پھر یہاں اُس کے لیے ’زنا بالجبر‘ کا ترجمہ رائج کرایا … اِس لیے ایک تو ریپ اور زنا بالجبر کا تصور انتہائی حد تک ناقص ہے۔ جنسی تشدد کی بے شمار دیگر قسمیں، جو زیادہ سنگین بھی ہوسکتی ہیں، اِس تعریف میں آتی ہی نہیں۔ دوسرا یہ کہ اُسے ’’زنا‘‘ کی صورت بنا دیا گیا ہے، جو فقہاے کرام کے اصولوں کے مطابق غلط ہے۔ یہ زنا کی قسم نہیں، بلکہ جنسی تشدد کی قسم ہے، اکراہ کی قسم ہے، سیاسہ کا جرم ہے۔ اِس بحث کے بعد معیارِ ثبوت کا مسئلہ خود بہ خود واضح ہوگیا۔ جب جنسی تشدد کا جرم زنا کے جرم سے الگ جرم ہے اور اُس پر سیاسہ کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے تو پھر اُس کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط بھی ضروری نہیں ہے اور اُس کی سزا بھی سو کوڑے یا رجم کے علاوہ کچھ اور شکل اختیار کرسکتی ہے۔‘‘

(فیس بک)

مشتاق صاحب کی اِس توضیح و تفہیم سے فقہا کا جو موقف سامنے آتا ہے، وہ درجِ ذیل نکات پر مبنی ہے:

1۔زنا بالجبر یا زنا بالاکراہ کا مجرم ایک نہیں، بلکہ دو جرائم کا ارتکاب کرتا ہے: ایک زنا اور دوسرے جبر و اکراہ۔

2۔ زنا کا جرم دائرۂ حد کا جرم ہے، جو چار گواہوں کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے۔اُس کی سزا خود شریعت نے مقرر کی ہے اور وہ غیر شادی شدہ (غیرمحصن)مجرم کے لیے سو کوڑے ہے۔

3۔ جبر و اکراہ کا جرم دائرۂ حد کا نہیں، بلکہ دائرۂ تعزیر یا سیاسہ کا جرم ہے ،جس کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شہادت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حالات و قرائن کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے۔ شریعت نے اُس کی کوئی سزا مقرر نہیں کی، اِس لیے عدالت، حکومت یا ریاست جرم کی شدت اور شناعت کے لحاظ سے خود کوئی سزا مقرر کر سکتی ہے اور یہ سزاے موت بھی ہو سکتی ہے۔

4۔ چنانچہ اگر کسی غیر شادی شدہ شخص نے زنا بالجبر کا ارتکاب کیا ہے اور زنا کا جرم چار گواہوں کی شہادت سے اور جبر و اکراہ کا جرم حالات و قرائن کی گواہی سے ثابت ہو گیا ہے تو مجرم پر زنا اور جبر واکراہ کے دو جرائم کی سزاؤں کا نفاذ ہو گا۔ زنا کے جرم میں سو کوڑے کی شرعی حد لاگو ہو گی اور اکراہ کے جرم میں قتل تک کی سزا کی کوئی تعزیر نافذ کی جائے گی۔

ہمارے علم اور مطالعے کی حد تک اِس موقف کی فقہا سے نسبت صریح طور پر غلط ہے۔ زنا بالجبر یا زنا بالاکراہ کی صورت میں ہمارے فقہا نہ جبر و اکراہ کو زنا سے الگ جرم قرار دیتے ہیں، نہ اُس کے لیے الگ معیارِ ثبوت طے کرتے ہیں اور نہ اُس کی کوئی الگ تعزیری سزا مقرر کرتے ہیں۔ یہ جرم رضامندی سے ہو یا کسی کو مجبور کر کے کیا گیا ہو، ہر دو صورتوں میں وہ اُسے ایک ہی جرم شمار کرتے ہیں، ایک ہی طریقے سے اُس کو ثابت مانتے ہیں اور ایک ہی نوعیت کی سزاؤں کا اُس پر اطلا ق کرتے ہیں۔ چنانچہ اُن کے نزدیک زنا بالرضا ہو یا زنا بالاکراہ، چار گواہوں کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے اور مجرم پر سو کوڑے یا رجم کی حد نافذکی جاتی ہے۔ یہ فرق البتہ ، اُن کے ہاں ملحوظ ہے کہ زنا بالرضا کی صورت میں تو جرم کے دونوں شریک حد کے سزاوار قرار پاتے ہیں، جب کہ زنا بالجبر میں وہی فریق حد کا مستحق ٹھہرتا ہے ، جس نے جبراً زنا کا ارتکاب کیا ہے۔جبر کا شکار ہونے والے فریق پر سزا نافذ نہیں کی جاتی۔

درجِ ذیل حوالوں سے اِسی موقف کا اثبات ہوتا ہے:

’’علما کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ زبردستی اور جبراً زنا کرنے والا موجبِ حد ہے،اگر اس پر وہ گواہیاں پیش کر دی جائیں جو حد کو لازم کرتی ہیں یا پھر وہ خود اس کا اقرار کر لے۔‘‘

(امام ابن عبدالبر، الاستذکار)

’’جب گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ ایک شخص نے ایک عورت کو مجبور کر کے اس کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا ہے تو اس شخص پر تو حد نافذ کی جائے گی، مگر عورت پر نہیں کی جائے گی۔اس (عورت پر حد نافذ نہ کرنے) کی وجہ یہ ہے کہ حد کا وجوب سرزنش کے لیے ہے اور یہ عورت تو خود سرزنش کرنے والی اورقدرت دینے سے انکار کرنے والی تھی،یہاں تک کہ اس آدمی نے اسے مجبور کر دیا۔اور اکراہ اس بات کی بھی نفی کرتا ہے کہ عورت سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہے … اور (جہاں تک اُس شخص کا تعلق ہے جس نے عورت کو مجبور کر کے اُس کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا تو) اُس شخص پر حد کی سزا نافذ کی جائے گی۔ اس لیے کہ اس نے فعل زنا کی تکمیل کی اور اس لیے کہ اس کا جبراً یہ کام کرنا رضا مندی سے کرنے سے زیادہ سنگین ہے۔‘‘(امام سرخسی، المبسوط 9/ 45)

مولانا عمار خان ناصر نے بھی فقہا کا یہی موقف نقل کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’فقہا اس (زنا بالجبر) کو زنا بالرضا کے مقابلے میں سنگین تر جنایت تسلیم کرنے کے باوجود بالعموم اس کے مرتکب کے لیے زنا کی عام سزا ہی تجویز کرتے یا زیادہ سے زیادہ زیادتی کا شکار ہونے والی عورت کو اس کے مہر کے برابر رقم کا حق دار قرار دیتے ہیں، جب کہ احناف اس کو اس رقم کا مستحق بھی نہیں سمجھتے۔‘‘(حدود و تعزیرات: چند اہم مباحث 170)

اِسی بات کو مولانا مفتی تقی عثمانی نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:

’’قرآن کریم، سنت نبویہ علی صاحبہا السلام اور خلفاء راشدین کے فیصلوں سے یہ بات کسی شبہ کے بغیر ثابت ہے کہ زنا کی حد جس طرح رضا مندی کی صورت میں لازم ہے، اسی طرح زنا بالجبر کی صورت میں بھی لازم ہے، اور یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ قرآن و سنت نے زنا کی جو حد (شرعی سزا) مقرر کی ہے وہ صرف رضا مندی کی صورت میں لاگو ہوتی ہے، جبر کی صورت میں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔‘‘

(حدود آرڈیننس ایک علمی جائزہ 22-23)

مولانا زاہدالراشدی، مفتی منیب الرحمٰن، قاری حنیف جالندھری،مولانا حسن جان، ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور بعض دیگر علما کا بھی یہی موقف ہے کہ:

’’زنا بالجبر اگر حد کی شرائط کے ساتھ ثابت ہو جائے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے گی۔‘‘

(ماہنامہ الشریعہ، اکتوبر 2006ء)

اِن اقتباسات سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ فقہا کے نزدیک نہ اکراہ کوئی الگ جرم ہے اور نہ زنا بالاکراہ اور زنا بالرضا میں جرم، ثبوت اور نفاذ حدود کے اعتبار سے کوئی فرق ہے۔ لہٰذا برادرم مشتاق صاحب کا فہم فقہا کے موقف کی صحیح تعبیر نہیں ہے۔

یہ ساری تقریر ہمارے گذشتہ مضمون میں بیان کی گئی بات ہی کا بہ الفاظِ دیگر اعادہ ہے۔ اِسے مکرر کہنے کی ضرورت اِس لیے پڑی ہے کہ برادرم مشتاق صاحب نے ہمارے مضمون کے جواب میں جو مختصر نوٹ تحریر کیاہے، وہ اُس کو پڑھے بغیر یا اُس سے صرفِ نظر کر کے لکھاگیا معلوم ہوتا ہے۔ ہمارا مضمون اِس ایک نکتے پر مبنی تھا کہ ’’مشتاق صاحب نے زنا بالجبر کی سزا کے حوالے سے جو بات فقہا کی نسبت سے بیان کی ہے، اُسے کسی طرح بھی فقہا کے موقف کی ترجمانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ اپنی بات کو کسی ابہام یا غلط فہمی سے بچانے کے لیے ہم نے مشتاق صاحب کی مزعومہ فقہی آرا اورعلما کی مسلمہ فقہی آرا کا نکتہ وار تقابل کیا تھا اور اُس کی بنا پر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ دونوں باہم مخالف اور متضاد ہیں، اِنھیں یکساں یا ہم معنی ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔ دیکھیے، ہم نے لکھا تھا کہ:

’’فقہ حنفی کے اکابرین یہ کہتے ہیں کہ زنا بالجبر زنا ہی کی ایک صورت ہے، جب کہ مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ زنا بالجبر زنا کی قسم نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ حدود کے دائرے کا جرم ہے، جب کہ مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ یہ حدود کے دائرے کا نہیں، بلکہ سیاسہ کے دائرے کا جرم ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ جرم مجرم کے اقرار یا چار مسلمان گواہوں کی شہادت سے ثابت ہو گا، جب کہ مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ یہ حالات و قرائن سے ثابت ہو گا۔وہ کہتے ہیں کہ اِس پر زنا (بالرضا) ہی کی حد، یعنی سو کوڑے یا رجم کی سزا نافذ ہو گی، مشتاق صاحب کہتے ہیں کہ نہیں اِس پر سو کوڑے یا رجم کی سزا کے علاوہ کوئی اور سزا نافذ ہو گی۔اگر صورت معاملہ یہی ہے توپھر یہ کوئی بہت بڑا مغالطہ ہے جس کا شکار مشتاق صاحب ہوئے ہیں یا بہ صورت دیگر قارئین کا حد درجہ سوء فہم ہے کہ وہ مشتاق صاحب کی بات کا مفہوم اُن کے مدعا کے برعکس سمجھ رہے ہیں۔‘‘(ماہنامہ اشراق، فروری 2018ء، 10)

اِس نقد کی تردید کے دو ہی راستے تھے: یا بہ دلائل یہ کہا جاتا کہ ہم نے فقہا کی بات کو غلط بیان کیا ہے یا یہ ثابت کیا جاتا کہ مشتاق صاحب کی بات کی غلط ترجمانی کی گئی ہے۔ مشتاق صاحب کی جوابی تحریر میں اِن میں سے کوئی راستہ اختیار نہیں کیا گیا۔ اِس کے بجاے چند سوالات نقل کرنے پر اکتفا کیا گیاہے، جن کا ہماری دانست میں مسئلۂ زیرِ بحث سے اصلاً کوئی تعلق نہیں ہے۔

بہرحال، اِس تکرار سے اب آگے بڑھتے ہیں اور الفاظ کے ابہامات اور استدلال کے تناقضات سے قطع نظر کرتے ہوئے مشتاق صاحب کے مدعا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ غالباً یہ کہنا چاہتے ہیں کہ فقہا کے نزدیک زنا بالاکراہ میں زنا اوراکراہ کے دو جرائم ویسے ہی جمع ہوتے ہیں، جیسے مثال کے طور پر بعض اوقات ز نا کے ساتھ چوری یا جراحت یا قتل کے جرائم جمع ہو جاتے ہیں۔ اگر فی الواقع اُن کی بناے استدلال یہی ہے تو پھر اُنھیں اپنی بات کے ثبوت کے لیے فقہ کی کتابوں کے حوالے نقل کرنے چاہییں اور یہ بتانا چاہیے کہ فلاں فلاں فقیہ زنا بالاکراہ کو زنا اور اکراہ کے دو جرائم کا مجموعہ قرار دیتے اور اِس بنا پر حد اور تعزیر کی فلاں فلاں سزائیں تجویز کرتے ہیں۔ ہمارے علم کی حد تک فقہا سے اِس بات کی نسبت قطعاً درست نہیں ہے۔ قتل، چوری اور جراحت وغیرہ کی انفرادی نوعیت، بلاشبہ اُن کے ہاں مسلم ہے،لیکن زنا اور اکراہ کے اجتماع کی صورت میں اکراہ کی انفرادی نوعیت کو وہ تسلیم نہیں کرتے۔ مزید برآں، وہ اکراہ سے اضافی طور پرپیدا ہونے والی شدت اور شناعت کی بنا پر زنا بالجبر کو زنا کے علاوہ ایک الگ جرم کے طور پر بھی شمار نہیں کرتے۔

یہ تو فقہا کا معاملہ ہے، عقلاً بھی جبر و اکراہ کو ایک الگ جرم ماننا محال ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اکراہ ظلم و جبر کی ایک ہیجانی کیفیت کا نام ہے۔ یہ کسی جرم کا محرک تو ہو سکتی ہے، مگر بہ ذاتِ خود کوئی جرم نہیں ہو سکتی۔ اِسے اپنے اظہار کے لیے کسی جرم کا قالب درکار ہوتا ہے۔ چنانچہ بدزبانی، دھونس، دھمکی، تشدد، جراحت، قید و بنداور بعض صورتوں میں قتل و غارت، یقیناً جبر و اکراہ کے مظاہر ہیں، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ سب بہ ذاتِ خود جرائم ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ جب کوئی شخص مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے قتل کی دھمکی دیتا ہے یا مارتا پیٹتا ہے یا جسمانی اعضا کو نقصان پہنچاتا ہے تو اِس صورت میں جبر جرم نہیں بنتا، بلکہ جبر کے یہ مظاہر جرم بنتے ہیں۔

یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ جو جرائم دوسرے کے خلاف ہوں یا جن میں دوسرے پر تعدی کی جائے، وہ ہوتے ہی بالاکراہ ہیں۔ قتل، جراحت، چوری، ڈاکا، دھوکا، توہین، تذلیل، اِن سب میں اکراہ شامل ہے۔ مقتول یا مجروح یا چوری، ڈاکے اور دھوکے کا شکار ہونے والا کبھی اپنی رضا مندی سے اِن جرائم کا ہدف نہیں بنتا۔ اِن میں ایک جرم کرنے والا اور دوسرا اُس کا شکار ہونے والا ہوتا ہے۔ یعنی ایک قاتل اور دوسرا مقتول ہوتا ہے، ایک جارح، دوسرا مجروح ہوتا ہے۔اِس کے برعکس، زنا کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ یہ دوسرے کی مرضی سے بھی ہو سکتا ہے اور اُس کی مرضی کے خلاف بھی۔ مرضی سے ہوا ہے تو اُس کی ایک نوعیت ہے، مرضی کے خلاف ہوا ہے تو دوسری نوعیت ہے۔ اِس لیے زنابالرضا اور زنا بالجبر کو ایک جرم کی دو صورتوں پر محمول کرنے کے بجاے دو الگ الگ جرائم پر محمول کرنا زیادہ قرین عقل اور زیادہ قرین انصاف ہے۔ اِس صورت میں اکراہ کو ایک الگ جرم قرار دے کر اُسے زنا میں شامل کرنے اور اُسے دو جرائم کا مرکب بنانے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔

بات کچھ تفصیل میں چلی گئی۔ کہنا فقط یہ مقصود تھا کہ مشتاق صاحب کا پورا سلسلۂ کلام جس نکتے کے گرد گھومتا ہے کہ فقہا زنابالاکراہ میں اکراہ کو زنا سے الگ جرم قرار دے کر اُس کے لیے الگ سزا تجویز کرتے ہیں، اِس کو فقہ کے ذخیرے میں دریافت کرنا امر محال ہے۔ اِس بعید از قیاس تاویل کا سبب یقیناًکوئی غلط فہمی ہو گی، وگرنہ مشتاق صاحب جیسی صاحبِ علم شخصیت سے یہ توقع ہر گز نہیں کی جا سکتی کہ وہ محض حمیت و حمایت کے جذبے میں فقہا سے ایک ایسی بات منسوب کریں گے، جو وہ نہیں کہہ رہے۔

فقہا کا کام اُس کی تمام علمی جلالت کے باوجود، بہرحال انسانی کام ہے،اِس لیے اُسے اسقام سے مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسقام کا سبب کبھی فہم کی غلطیاں ہوتی ہیں اور کبھی حالات اور ذرائع و وسائل کی محدودیتیں اُن کا باعث بن جاتی ہیں۔جرائم کی جو صورتیں مرورِ زمانہ سے وجود میں آئی ہیں، ضروری نہیں کہ ماضی میں بھی اُن کی یہی نوعیت اور یہی شدت و شناعت ہو۔ اِسی طرح تحقیق و تفتیش کے جو طریقے آج کے زمانے میں دستیاب ہیں، لازم نہیں کہ وہ گزرے زمانے میں بھی اِسی سطح پر میسر رہے ہوں۔ لہٰذا اِن وجوہ کی بنا پر غلطی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

فقہا کے کام میں کوئی غلطی، سقم یا خلا رہ گیا ہے تو اُس کی نشان دہی کرنا اور اُس کے تدارک کے لیے کوئی تحقیق پیش کرنا سرتاسر ایک مخلصانہ علمی خدمت ہے، جس کی افادیت کا کوئی صاحبِ علم انکار نہیں کر سکتا۔یہ علم کا سفر ہے اور علوم اسلامی کی علمی تاریخ اِس سفر کی عظیم الشان داستان ہے۔

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی اِس موضوع پر تنقید و تحقیق بھی اِسی نوعیت کی ایک علمی خدمت ہے۔ اِس کے ذریعے سے اُنھوں نے ایک جانب اُن اسقام کی نشان دہی کی ہے، جو عقل و نقل کی رو سے نمایاں ہوتے ہیں اور دوسری جانب اپنے علم و فہم کے مطابق شریعتِ اسلامی کے صحیح موقف کو واضح کیا ہے۔خاتمۂ کلام کے طور پر یہ مناسب ہو گا کہ اُن کے نقد و نظر کے چند متعلق نکات کا یہاں ذکر کر دیا جائے۔ اِس ضمن میں درجِ ذیل تین باتیں بنیادی نوعیت کی ہیں اور کم و بیش یہی وہ باتیں ہیں، جن کی جانب برادرم حسن الیاس صاحب نے اپنی تحریر کے ذریعے سے توجہ دلائی تھی:

ایک بات یہ ہے کہ ہماری فقہ میں زنا اور زنا بالجبرکی سزا میں فرق قائم نہیں کیا گیا۔ اِس کے مطابق جرم کا مرتکب اگر محصن، یعنی شادی شدہ ہے تو اُسے سنگ سار کر کے ہلاک کر دیا جائے گا اور اگر غیر محصن، یعنی غیر شادی شدہ ہے تو اُسے سو کوڑے مارے جائیں گے۔ گویا زناکی سزا میں اگر کوئی فرق قائم ہے تو وہ ازدواجی حیثیت کی بنا پرہے، اُس کے بالرضا یا بالجبر ہونے کی بنا پر نہیں ہے۔ استاذِ گرامی کے نزدیک زنابالرضا اور زنا بالجبر، دونوں الگ الگ جرم ہیں۔ ان میں وہی فرق ہے، جوچوری اور ڈکیتی میں ہے۔ شریعت میں اِن دونوں کے لیے الگ الگ سزامقرر کی گئی ہے۔ زنا کی سزا سو کوڑے ہے، جو سورۂ نور میں اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ ’’زانی مرد ہو یا عورت، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔‘‘ ۔جہاں تک زنا بالجبر کا تعلق ہے تویہ اور اِس نوعیت کے دیگر سنگین جرائم کی سزائیں سورۂ مائدہ میں ’محاربہ‘ اور ’فساد فی الارض‘ کے جامع عنوانات کے تحت بیان کی گئی ہیں۔اِنھی میں سے ایک سزا عبرت ناک طریقے سے قتل ہے۔ ’رجم‘، یعنی لوگوں کی ایک جماعت کا مجرم کو پتھر مار کر ہلاک کرنا بھی اِسی سزا کی ایک صورت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اوباشی کے بعض مجرموں پر اِسی آیت کی پیروی میں رجم کی سزا نافذ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تھا۔

دوسری بات یہ ہے کہ فقہی تعبیر کے مطابق اسلامی شریعت میں ثبوتِ جرم کے لیے ایک متعین اور مخصوص طریقۂ کار طے کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جرم چار گواہوں کی عینی شہادت سے ثابت ہو گا۔ حالات و قرائن کو ثبوتِ جرم کے لیے بہ طورِ شہادت قبول نہیں کیا جائے گا۔ غامدی صاحب کے نزدیک یہ چیز اخلاقیاتِ قانون اور عدل و انصاف کے خلاف ہے۔ شریعتِ اسلامی اِس سے پاک ہے کہ اِس طرح کی غیر عقلی اور خلافِ عدل باتوں کو اُس کی نسبت سے بیان کیا جائے۔ اُن کا موقف ہے کہ ثبوت جرم کے لیے شریعت نے کسی خاص طریقے کی پابندی لازم نہیں ٹھہرائی ہے۔ چنانچہ اسلامی قانون میں جرم اُن تمام طریقوں سے ثابت ہوتا ہے، جو اخلاقیاتِ قانون میں مسلمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یعنی وہ طریقے جو علم و فن اور تہذیب و تمدن کے ارتقا کے نتیجے میں وجود پذیر ہوئے ہیں اور جنھیں انسان کے اجتماعی ضمیر نے ہمیشہ قبول کیا ہے۔ چنانچہ حالات و قرائن، طبی معاینہ یا اِس نوعیت کے دیگر شواہد کی بنا پر اگر جرم کے ارتکاب اور مجرم کا پوری طرح تعین ہو جاتا ہے تو جرم ثابت قرار پاتا ہے اور مجرم سزا کا مستحق ٹھہرتاہے۔

جہاں تک سورۂ نور کی آیات 4-5میں چار گواہوں اور سورۂ نساء کی آیت 15 میں چار مسلمان گواہوں کی شرط کا تعلق ہے تو استاذِ گرامی کے نزدیک یہ شہادت کا کوئی عمومی قانون نہیں ہے، بلکہ دو استثنائی صورتوں کا بیان ہے: ایک صورت وہ ہے جسے اسلامی شریعت میں ’قذف‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی پاک دامن پر زنا کی تہمت لگائے تو اُسے کہا جائے گا کہ اِس الزام کی تائید میں چار عینی گواہ پیش کرو۔ اِس سے کم کسی صورت میں الزام ثابت نہیں ہو گا۔حالات و قرائن اور طبی معاینہ جیسی شہادتوں کی اِس معاملے میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ نہ اُنھیں طلب کیا جائے گا اور نہ قبول کیا جائے گا۔ الزام لگانے والا اگرچار گواہ پیش نہیں کرتا تو اُسے اسّی کوڑے مارے جائیں گے اور ہمیشہ کے لیے ساقط الشہادت قرار دے دیا جائے گا۔ قذف کے اِس قانون سے اللہ تعالیٰ کا مقصود یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی حیثیتِ عرفی مسلم ہے اور وہ ایک شریف آدمی کے طور پر پہچانا جاتاہے تو اُسے توبہ و انابت کا موقع دیا جائے اور معاشرے میں رسوا نہ کیا جائے۔چار گواہوں کی شرط کی دوسری صورت اُن عورتوں سے متعلق ہے، جو قحبہ گری کی عادی مجرم ہوں۔ حکومت اُن سے نمٹنے کے لیے چار مسلمان گواہوں کو طلب کرسکتی ہے، جو اِس بات کی گواہی دیں گے کہ فلاں زنا کی عادی ایک قحبہ عورت ہے اور ہم اِسی حیثیت سے اِسے جانتے ہیں۔ اِن دو مستثنیٰ صورتوں کے سوا اسلامی شریعت ثبوتِ جرم کے لیے عدالت کو کسی خاص طریقے کا پابند نہیں کرتی۔

تیسری بات یہ ہے کہ ہماری فقہی تعبیر میں گواہوں کے معاملے میں جنس اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کی گئی ہے۔ جرم زنا اُسی صورت میں لائق حد قرار پاتا ہے، جب جرم کے عینی گواہ چار بالغ مرد ہوں اور مسلمان ہوں۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ اِس جرم میں اکیلی عورت یا غیر مسلم کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ جناب جاوید احمد غامدی کا کہنا ہے کہ اسلامی شریعت میں شہادت کے معاملے میں جنس اور مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی گئی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جرم کے موقع پر گواہ کا موجود ہونا سراسر ایک اتفاقی امر ہے۔کسی جرم کے موقع پر کوئی مردبھی موجود ہو سکتا ہے اور کوئی عورت بھی، مسلمان بھی ہو سکتا ہے اور غیرمسلم بھی، بچہ بھی ہو سکتا ہے اور بوڑھا بھی اور ایک فرد بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ افراد بھی اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ مظلوم اور مجرم کے علاوہ کوئی فردِ بشر موجود ہی نہ ہو۔ چنانچہ یہ اسلامی شریعت کی صحیح تعبیرنہیں ہے کہ مثال کے طور پر اگر کوئی معصوم بچی ماں کے سامنے درندگی کا شکار ہوئی ہو اور عدالت ماں کی گواہی محض عورت ہونے کی بنا پر رد کر دے یا کسی پاک دامن کی آبرو ریزی کا گواہ مذہباً عیسائی ہو اور اُس کی گواہی غیر مسلم ہونے کی وجہ سے قبول نہ کی جائے۔ استاذِ گرامی کے نزدیک اسلام اِس سے بری ہے کہ اُس پر اِس طرح کی تہمت لگائی جائے۔ قذف اور قحبہ عورتوں کی سرکوبی کے معاملے کے سوا یہ گواہوں کے حوالے سے کوئی شرط عائد نہیں کرتا۔ اِس کے نزدیک ثبوتِ جرم کی اصلاًایک ہی شرط ہے اور وہ عدالت کا اطمینان ہے۔ یہ اطمینان اگر کسی عورت کی گواہی سے ہوتا ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا، کسی غیر مسلم کی گواہی سے ہوتا ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا، کسی بالغ کی گواہی سے ہوتا ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا، کسی بچے کی گواہی سے ہوتا ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا، یہاں تک کہ اگر کوئی فرد بہ طورِ گواہ میسر نہیں ہے اور عدالت فقط طبی معاینے کی بنا پر مطمئن ہو جاتی ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا اور مجرم پر شرعی حدود کا پوری طرح نفاذ ہوگا۔

[فروری، مارچ 2018ء]

____________