Skip to content

Chapter 57: قتل عمد میں معافی کی گنجایش

[ جناب جاوید احمد غامدی کی گفتگو اور تحریر سے ماخوذ ]

قصاص کے بارے میں ،بالعموم دو نقطہ ہاے نظر پائے جاتے ہیں:

ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ قاتل درحقیقت ایک ذہنی مریض ہوتا ہے۔ اُس سے قتل جیسے سنگین جرم کا صدور کسی جذباتی تناؤ یا ذہنی انتشار ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اِن امراض کا شکار کوئی مریض علاج کا مستحق ہوتا ہے نہ کہ سزا کا۔ چنانچہ قاتل کو قتل کے بدلے میں قتل کر دینا ایسی ہی بات ہے، جیسے کسی مریض کا علاج کرنے کے بجاے اُسے موت کی نیند سلا دیا جائے۔ اِس وجہ سے یہ نقطۂ نظر رکھنے والوں کے نزدیک صحیح رویہ یہ ہے کہ قاتل کو قتل کردینے کے بجاے اُس کی ذہنی اصلاح اور تربیتِ نفس کا اہتمام کیا جائے۔

دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ قاتل کی حیثیت معاشرے کے وجود میں ایک ناسور کی سی ہے۔ اُسے کاٹ کر پھینک دینا ہی معاشرے کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ قاتل امن و سلامتی کا دشمن ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو اگر معاشرے میں باقی رہنے دیا جائے تو معاشرے کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ معاشرے کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ ایسے شخص سے معاشرے کو لازماً پاک کر دیا جائے۔

اِن دونوں نقطہ ہاے نظر کا عمومی جائزہ ہی ہمیں اِس نتیجے تک پہنچا دیتا ہے کہ یہ دونوں نقطہ ہاے نظر مقام اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں۔

جہاں تک پہلے نقطۂ نظر کا تعلق ہے تو یہ بات اپنی بنیاد ہی میں غلط ہے کہ انسان سے جرم قتل کا صدور،لا زماً حالتِ بیماری میں ہوتا ہے۔ عام طور پر، وہ کامل ہوش و حواس کے ساتھ کسی کو مارنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اگر کسی قاتل کے بارے میں فی الواقع یہ ثابت ہو جائے کہ وہ ذہنی یا نفسیاتی مریض ہے تو پھر دنیا کی کوئی عدالت بھی اُس پر قتل کی سزا نافذ نہیں کرتی۔

اِس نقطۂ نظر کو اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ بلا استثنا، ہر قاتل کو ذہنی اور نفسیاتی مریض تصور کیا جائے اورموت کی سزا کو بالکل ختم کر دیا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اِسے اختیار کر لیا جائے تو اِس کے نتیجے میں انسانی جان کا تحفظ اپنی حقیقت میں باقی ہی نہیں رہتا۔ جان جانے کا خوف کسی درندہ صفت انسان کو بھی دوسروں کی جان لینے سے باز رکھ سکتا ہے۔ جان لینے کے بدلے میں اگر جان جانے کا خوف نہ رہے تو پھر کوئی بھی انسان نما درندہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کھیل بنا سکتا ہے۔ مزید برآں، اِس نقطۂ نظر کو اختیار کرنے سے دوسروں کے لیے عبرت کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی اور ایک قاتل کو قتل کے بدلے میں قتل کی سزا نہ ملتے دیکھ کر اُس طرح کا شیطانی داعیہ رکھنے والے دوسرے افراد کے اندر بھی ایسے سنگین جرم کی تحریک پیدا ہو جاتی ہے۔

دوسرے نقطۂ نظر کی بنیادی خامی یہ ہے کہ یہ توبہ و انابت اوراصلاح و ہدایت کے امکان ہی کو نہیں مانتا اور اِن راستوں کو یک سر مسدود کر دیتا ہے۔ مزید برآں، خاندانوں کے مابین سلسلۂ دشمنی کے خاتمے اور اُس کے نتیجے میں معاشرے میں رواداری اور بھائی چارے کی فضا قائم ہونے کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے۔

قصاص کے حوالے سے یہ دو انتہائی نقطہ ہاے نظر ہیں۔ اسلام ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال اور توازن کی جگہ پر کھڑا ہے۔ وہ نہ یہ چاہتا ہے کہ قاتلوں کو کھلی چھٹی دے کرانسانی خون کو ارزاں کر دے اور معاشرے کو ظلم و زیادتی کا مظہر بنا دے اورنہ یہ چاہتا ہے کہ قاتل کے لیے معافی کی گنجایش ختم کرکے معاشرے سے ہم دردی، احسان مندی، بھائی چارے اور ایثار وقربانی جیسی اقدار کے اظہار کے مواقع ختم کر دے اور اِس طرح معاشرے کوبالکل بے روح اور بے جان بنا ڈالے۔ چنانچہ اُس نے ایک طرف ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دے کر اور قصاص کو لازم ٹھہرا کر، معاشرے کو پوری طرح تحفظ فراہم کر دیا ہے اور دوسری طرف ورثا کو معاف کرنے کی گنجایش دے کر معاشرے میں بھائی چارے کی فضا قائم کرنے اور مجرم کے لیے توبہ و انابت اور اصلاح و ہدایت کی سبیل پیدا کر دی ہے۔

قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ اسلام نے ایک انسان کے قتل کو تمام انسانیت کا قتل اور ایک انسانی جان کے بچانے کو پوری انسانیت کوبچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا.

(المائدہ5 :32)

”(انسان کی) یہی (سرکشی) ہے، جس کی وجہ سے ہم نے (موسیٰ کو شریعت دی تو اُس میں) بنی اسرائیل پربھی اپنا یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، اِس کے بغیر کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو اُس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک انسان کو زندگی بخشی، اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔“

اِس جرم کے مرتکب کو اللہ تعالیٰ نے جہنم کی ابدی سزا کا مستحق ٹھہرایا ہے۔ ارشاد ہے:

وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیْہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا. (النساء 93:4)

” اُس شخص کی سزا، البتہ جہنم ہے، جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، وہ اُس میں ہمیشہ رہے گا، اُس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اُس کے لیے اُس نے ایک بڑا عذاب تیار کر رکھاہے۔“

اِس جرم کی یہ سنگینی، بلا شبہ اِس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ریاست اور معاشرہ اپنے پورے نظام کے ساتھ قاتل کے خلاف اٹھ کھڑا ہو اور مقتول کے ورثا کو لازماً قصاص دلا کر چھوڑے۔ قصاص کے بارے میں جو قانون اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآنِ مجید میں بیان کیا ہے، وہ یہ ہے:

یَٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی، اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی، فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ. ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ رَحْمَۃٌ، فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ. وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ، لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ.

(البقرہ 2:178-179)

”ایمان والو، (تم میں) جو لوگ قتل کر دیے جائیں، اُن کے مقدموں میں قصاص تم پر فرض کیا گیا ہے۔ اِس طرح کہ قاتل آزاد ہو تو اُس کے بدلے میں وہی آزاد، غلام ہو تو اُس کے بدلے میں وہی غلام، عورت ہو تو اُس کے بدلے میں وہی عورت۔ پھر جس کے لیے اُس کے بھائی کی طرف سے کچھ رعایت کی جائے (تو اُس کو تم قبول کر سکتے ہو، لیکن یہ قبول کر لی جائے) تو دستور کے مطابق اُس کی پیروی کی جائے گی اور جو کچھ بھی خون بہا ہو، وہ خوبی کے ساتھ اُسے ادا کر دیا جائے گا۔ یہ تمھارے پروردگار کی طرف سے ایک قسم کی رعایت اور تم پر اُس کی عنایت ہے۔ پھر اِس کے بعد جو زیادتی کرے تو اُس کے لیے (قیامت میں) دردناک سزا ہے۔ اور تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے، عقل والو، تاکہ تم حدودِ الٰہی کی پابندی کرتے رہو۔“

اِن آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قتل عمد کے لیے قصاص فرض ہے اور اِس کی فرضیت مسلمانوں کی اجتماعیت پر قائم ہے۔چنانچہ معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قاتل کو پکڑے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد اُس پر قصاص کی سزا کا نفاذ کرے۔ یعنی قاتل کو اُس کے جرم کی پاداش میں قتل کی سزا دے کر معاشرے کو اُس کے وجود سے پاک کر دیا جائے۔ معاشرے یا ریاست کو اِس معاملے میں تخفیف، رعایت یا معافی کا اختیار نہیں ہے۔ مقتول کے ورثا کو ، البتہ یہ حق حاصل ہے کہ وہ قاتل کے لیےرعایت یا معافی کی سفارش کر سکتے ہیں۔ اُن کی اِس سفارش کے بعد عدالت اور حکومت پر قصاص کے نفاذ کی فرضیت باقی نہیں رہتی اور نتیجتاً رعایت یا معافی کا جواز پیدا ہو جاتا ہے۔ اِس صورت میں عدالت اور حکومت کا اختیار ہے کہ وہ جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات کو مد ِنظر رکھتے ہوئے، چاہے تو رعایت دے دے اور چاہے تو قصاص ہی کا نفاذ کر دے۔

چنانچہ حکومت اور معاشرے کو پورا حق ہے کہ جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات کے پیش نظر وہ قصاص ہی پر اصرار کریں اور اِس رعایت کو قبول کرنے سے انکار کر دیں۔

سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ قاتل کو معافی ملنے کی صورت میں اُس کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ دستور کے مطابق دیت یا خوں بہا ادا کرے۔

دیت اپنی حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے؟ اِس بارے میں، بالعموم دو نقطہ ہاے نظر رائج رہے ہیں:

ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ دیت درحقیقت جان کی قیمت ہے،مقتول کے ورثا جب کچھ رقم کے عوض قاتل کو معاف کردیتے ہیں تو وہ دراصل، مقتول کی جان کی قیمت وصول کر کے معاف کرتے ہیں۔

دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ اُس معاشی نقصان کی تلافی ہے، جو مقتول کے دنیا سے رخصت ہو جانے سے مقتول کے ورثا کو پہنچتا ہے۔ گویا مقتول کے ورثا دیت وصول کر کے اُس معاشی نقصان کو پورا کرتے ہیں، جو مقتول کے نہ ہونے کی وجہ سے اُنھیں جھیلنا پڑ سکتاہے۔

یہ دونوں نقطہ ہاے نظر ہمارے نزدیک درست نہیں ہیں۔ انسان سے اِس بے حمیتی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے عزیزوں کے خون کی قیمت وصول کرے۔ کیا کوئی ماں باپ اپنے بیٹے اور کوئی بیٹا اپنے والدین کے خون کی قیمت وصول کر کے قاتل کو معاف کر سکتا ہے؟ اِسی طرح یہ بات بھی ٹھیک نہیں ہے کہ قتل کے بعد دیت وصول کرنا، معاشی نقصان کا بدل ہے۔ اِس بات کو مان لینے کے بعد جسم کے دوسرے اعضا کی دیت کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ ظاہر ہے کہ دانت کے ٹوٹنے یا ہاتھ پاؤں کی کسی انگلی کے کٹنے سے، بالعموم کوئی معاشی نقصان نہیں ہوتا۔

دیت کے بارے میں یہ دونوں نقطہ ہاے نظر اگر غلط ہیں تو پھر صحیح نقطۂ نظر کیا ہے؟ اِس ضمن میں استاذِگرامی جناب جاوید احمد غامدی اپنی کتاب ”برہان“ میں لکھتے ہیں:

”دیت کا مضمون جاہلی عرب کی شاعری میں کئی جگہ بیان ہوا ہے۔ قتل و خوں ریزی کے واقعات اُن کی زندگی میں اس قدر عام تھے کہ ’ثأر‘،’قصاص‘ اور ’دیت‘ کے مضامین اُن کے شاعروں کی طبع آزمائی کے لیے گویا ہر وقت حاضر رہتے تھے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہ اپنے اِن اشعار میں عام طور پر دیت قبول کرنے والوں کو عار دلاتے اور اُنھیں انتقام پر ابھارتے ہیں، لیکن اِس طرح کے کسی جذباتی پس منظر کے بغیر وہ اگرکبھی دیت کے موضوع پر کچھ کہتے ہیں تو دیت کی حقیقت بھی بالعموم اُن کے بیان سے واضح ہو جاتی ہے۔

دیت کے لیے وہ اِس طرح کے مواقع پر لفظ’غرامۃ‘یااِس کا ہم معنی لفظ ’مغرم‘ استعمال کرتے ہیں۔عربی زبان میں یہ لفظ بالکل اُسی مفہوم میں بولا جاتا ہے جس مفہوم میں ہم اردو میں لفظ تاوان یاجرمانہ بولتے ہیں۔ ہماری زبان میں جس طرح ہر اُس مال کے لیے جو کسی جرم کی سزا کے طور پرمجرم سے لیا جائے، لفظ تاوان یاجرمانہ مستعمل ہے، اِسی طرح عرب جاہلی کی زبان میں اِس کے لیے لفظ’غرامۃ‘مستعمل تھا۔حقیقت دیت کی تعبیر کے لیے عرب شعرا نے، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، یہی لفظ استعمال کیا ہے۔

…اس سے واضح ہے کہ دیت معاشی نقصان کا بدل ہے، نہ مقتول کے خون کی قیمت۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ محض ’غرامۃ‘یعنی تاوان یا جرمانہ ہے، جو قتل عمد میں قصاص سے درگذر کے بعد اور قتل خطا کی صورت میں،لازماً مجرم پر عائد کیا جاتا ہے۔“(23-24)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مقتول کا قصاص شریعت کا حکم ہے۔یہ مسلمانوں کے نظم اجتماعی پر فرض ہے۔ چنانچہ اِس معاملے میں ریاست و حکومت کی حیثیت ایک پہلو سے ذمہ دار کی اور دوسرے پہلو سے فریق کی ہے۔ اُسے شریعت کی پاس داری بھی کرنی ہے ،عدل و انصاف کی ذمہ داری بھی نبھانی ہے اور اِس کے ساتھ اپنے خلاف، یعنی معاشرے کے خلاف ہونے والے جرم میں اپنے حق کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ اِس بنا پر وہ قاتل کو گرفتار کرے گی اور مقتول کے ورثا سے معلوم کرے گی کہ آیا وہ قتل کے بدلے میں قتل کی سزا کا نفاذ چاہتے ہیں یا قاتل کو کوئی رعایت دینے کے لیے آمادہ ہیں۔ ورثا اگر قصاص کا مطالبہ کریں گے تو ریاست پر لازم ہو گا کہ وہ اُسے نافذ کر دے۔اِس صورت میں کسی تخفیف یا رعایت کا حق ریاست کو حاصل نہیں ہو گا۔ اِس کے برعکس، ورثا اگر قاتل کو معاف کرنا چاہیں گے تو پھر ریاست کی صواب دید ہے کہ جرم کی نوعیت اور مجرم کے معاملات کو دیکھ کر چاہے تو معافی کی رعایت کو قبول کر لے اور ورثا کو دیت دلوا دے اور چاہے تو قصاص ہی کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے اُسے قتل کر دے۔

[ اگست 1997ء]

___________