[المورد کا ایک تعلیمی منصوبہ]
’’مصعب اسکول سسٹم ‘‘اسلامی تشخص کا آ ئینہ دار ایک جدید تعلیمی ادارہ ہے۔یہ اِس احساس کی بنا پر قائم کیا گیا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایسے افراد تیار کرنے سے قاصر ہے جو اعلیٰ سیرت و کردار کے حامل ہوں اور علم و فن کے میدان میں کارہاے نمایاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اِس نظام میں ایک جانب وہ روایتی اسکول ہیں جوقومی شعبے کے ماتحت ملک کے طول و عرض میں قائم ہیں۔ اِن کے بارے میں یہ بات ہر سطح پر تسلیم شدہ ہے کہ اِن کے نصاب فرسودہ اور طریق تدریس پس ماندہ ہے۔ لہٰذا یہ اِس کی استطاعت ہی نہیں رکھتے کہ علم و فن کے ارتقا کو جزوِ نصاب بنا سکیں اور تعلیم و تدریس کے وہ اسالیب اختیار کر سکیں جن کے بغیر جدید علوم و فنون تک رسائی کم و بیش ناممکن ہے۔ اِن میں، بالعموم وہ نصاب پڑھائے جاتے ہیں جو دنیا میں ترک کیے جا چکے ہیں اور اُن کے لیے بھی تفہیم کے بجاے حفظ و یادداشت کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔چنانچہ اِن سے فارغ ہونے والے طلبہ اُن علوم سے کم و بیش ناواقف ہوتے ہیں جن کی تحصیل کی اسناد اُنھیں فراہم کی جاتی ہیں۔ اِس کا نتیجہ اِس کے سوا کچھ نہیں نکلتا کہ تعلیم کا مقصد محض روزگار کا حصول قرار پاتاہے اور علوم پر غور و فکر اور اُن کی بنا پرتحقیق ودریافت کے وہ اہداف بالکل مفقود ہو جاتے ہیں جنھیں حاصل کر کے کوئی قوم دنیوی ترقی کی منزلیں طے کر سکتی ہے۔
دوسری جا نب نجی شعبے میں قائم جدید تعلیمی ادارے ہیں۔اِن کے نصابِ تعلیم اور طریق تدریس کامعیار اگرچہ قومی شعبے میں قائم تعلیمی اداروں کے مقابلے میں بہتر ہے، مگراِن کا فساد یہ ہے کہ یہ نئی نسل کا تعلق اُس کی قومی اور تہذیبی روایات سے منقطع کرنے پر مصر نظر آتے ہیں۔ چنانچہ شرم و حیا،ایثارو قربانی، ادب و احترام، مروت و پاس داری، شایستگی و خوش اسلوبی، سنجیدگی و متانت اورغیرت و خودداری جیسی وہ اقدارجو ہماری معاشرت کا طرۂ امتیاز ہیں، اِن میں کم ترین اوصاف کی حیثیت سے شمار کی جاتی ہیں۔ اِن کے نصابات میں وہ موضوعات بہت قدر کے حامل ہوتے ہیں جن کا ہدف انسان کی مادی ترقی ہے اور وہ مضامین جن کا مقصد انسان کی تہذیبِ نفس اور اُس کی اخلاقی اصلاح ہے یا جو دینی اور ملی حمیت کو بیدار کرتے ہیں،بے وقعت قرار پاتے ہیں۔ چنانچہ اِن درس گاہوں کے فارغ التحصیل اپنے قومی تشخص سے بے گانہ اور تہذیبی اقدار سے عاری ہوتے ہیں۔
اِن دونوں طرح کے اداروں میں جس چیز کو قدرِ مشترک کی حیثیت حاصل ہے، وہ اِن کا اپنی روح میں لادینی ہونا ہے۔چنانچہ زبان و ادب، اخلاقیات و عمرانیات، سائنس اور ٹیکنالوجی اور دیگر علوم و فنون کی تدریس کے لیے جو نصاب اِن درس گاہوں میں رائج ہے، اُس میں:
’’…یہ کارخانۂ عالم بغیر کسی خالق کے وجود میں آتا اور بغیر کسی مدبر ہی کے چلتا نظر آتا ہے۔ انسان اِس میں آپ ہی اپنی تقدیر بناتا اور آپ ہی اُسے بگاڑتا ہے۔ قانون و سیاست اور معیشت و معاشرت کے سارے اصول اس میں ’بغیر ھدی ولاکتاب منیر‘ وجود میں آتے اور دنیا انھی کی روشنی میں اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انسان کی تاریخ اِس میں انسان سے شروع ہوتی اور انسان ہی پر ختم ہو جاتی ہے۔ ذاتِ خداوندی کے لیے اِس میں نہ ابتدا میں کوئی جگہ ہے، نہ انتہا میں۔ اِس سلسلۂ روز و شب کے بارے میں یہ بات اِس نصاب کی روح میں سرایت کیے ہوئے ہے کہ وہی درحقیقت ابتدا، وہی انتہا اور وہی باطن و ظاہر ہے۔ چنانچہ اِس کی تعلیم پانے والے بغیر کسی ترغیب و دعوت کے آپ سے آپ اِس نقطۂ نظر کے حامل بن جاتے ہیں کہ زندگی خدا سے بے تعلق ہو کر بھی بسر کی جا سکتی ہے اور دنیا کا نظام اُس کی رہنمائی سے بے نیاز ہو کر بھی چلایا جا سکتا ہے۔…
اِس نظام کی اِس لادینی فطرت نے صرف یہ ذہنی ارتداد ہی ہماری قوم کے کارفرما عناصر میں پیدا نہیں کیا، اِس کے ساتھ اُنھیں اُس سیرت و کردار سے بھی محروم کر دیا ہے جس کے بغیر کوئی قوم دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتی۔ اِس میں یہ بات کبھی پیشِ نظر نہیں رہی کہ تعلیمی ادارے صرف کتابیں پڑھا دینے کے لیے قائم نہیں کیے جاتے، اُن کا ایک بڑا مقصد کسی قوم کے بنیادی نظریے کے مطابق اُس کی آیندہ نسلوں کی تربیت اخلاق اور تہذیب نفس بھی ہے۔ … چنانچہ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ … ہماری یہ نئی نسل اپنی قوم کے ماضی سے بے گانہ، حال سے بے پروا اور مستقبل سے بے تعلق ہے۔ ‘‘
(مقامات، جاوید احمد غامدی 404)
یہ وہ پس منظر ہے جس میں ’’مصعب اسکول سسٹم‘‘ کو قائم کیا گیا ہے۔ اِس پس منظر میں یہ ایک نئے نظام تعلیم کا علم بردار ہے۔ اِس کے اہداف رائج تعلیمی نظام کے مقابلے میں بالکل منفرد ہیں۔ اِس کی دس سالہ تاریخ اِس بات کی شاہد ہے کہ یہ امت مسلمہ کی تعلیمی اور تہذیبی روایت کو قائم رکھنے میں کوشاں ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ اُس ترقی کابھی داعی ہے جو شرق و غرب کی اقوام نے جدیدعلوم و فنون کے میدان میں کی ہے۔