مواد پر جائیں

باب 29: شکر گزاری

آپ نے بعض پالتو جانوروں کو اپنے مالک کے قدموں میں لوٹتے دیکھا ہوگا ۔ مالک کے اشاروں پر ناچتے اور اس کے ہر حکم کی بے چون و چرا تعمیل کرتے بارہا وہ آپ کو نظر آئے ہوں گے ۔ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ یہ سوال اگر آپ سے پوچھا جائے تو بے ساختہ آپ کے منہ سے نکلے گا کہ یہ ان کا اپنے مالک سے اظہارِ تشکر ہے ، یہ اظہار اُن کے مالک کی اُن عنایات کا نتیجہ ہے ، جو شب و روز وہ ان پر کرتا رہتا ہے ۔

یعنی ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ فطری طور پر ہر عنایت ، ہر نوازش شکر گزاری کا تقاضا کرتی ہے ۔ اولاد کا اپنے والدین کا شکر گزار ہونا ، شاگرد کی اپنے استاد کے لیے شکر گزاری ، دوست کا دوست کے لیے اظہارِ تشکر ، غرض کہ ہر احسان مند کا اپنے محسن کے لیے شکر گزار ہونا ایک ایسی قدر ہے، جس کے بغیر فطری طور پر انسان مطمئن ہی نہیں ہو سکتا ۔

جب کوئی ہمارے احسان کو نظر انداز کرتا ہے تو ہم برملا ، اُسے احسان فراموش اور ناشکرا کہہ کر پکارتے ہیں ، یعنی ہم فطری طور پر اِس کی طرف سے اپنے لیے احسان مندی اور شکرگزاری کے اظہار کے طالب ہوتے ہیں ۔ جب وہ یہ اظہار نہیں کرتا تو ہمیں اُس کا یہ طرزِعمل سراسر غیر منصفانہ اورغیر اخلاقی محسوس ہوتا ہے ، گویا شکر گزاری ہماری فطرت کی آواز ہے، جس پر لبیک کہے بغیر ہمارے اخلاقی وجود کی تکمیل ممکن ہی نہیں۔ لیکن اِس کے باوجود افسوس ہے کہ فطرت کی یہ آواز ہم اُس وقت نہیں سنتے، جب اِس کی سب سے بڑھ کر ضرورت ہوتی ہے۔

کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ ایک ایسی ہستی ہے، جو سب سے بڑھ کر شکر کی سزاوار ہے۔ وہ ہستی کائنات کو تخلیق کرنے والی اور خود ہماری ذات کو پیدا کرنے والی ہے ۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو دنیا میں ہمارا وجود ہی نہ ہوتا ، اُس نے چاہا ہے تو ہم ایک وجود کے ساتھ چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے ، کھاتے پیتے اور اپنے معمولات انجام دیتے نظر آتے ہیں ۔ وہ ہمارا خالق ہے ، ہمارا مالک ہے ۔ وہی ہے جس نے وجود بخشنے کے لیے اسباب پیدا کیے اور اب ہمارے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے لمحہ بہ لمحہ اسباب فراہم کرتا ہے ۔

ہم اپنی ساری زندگی اُس کے حضور سجدے میں گزار دیں تو بھی یہ حقیقت ہے کہ ہم اُس کی عنایتوں ، اُس کی نوازشوں کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ لیکن اپنے مالک کا شکر ادا کرنے کی جتنی سکت ہم رکھتے ہیں ، اگر ہم اتنا بھی شکر ادا نہ کریں تو پھر ہم سے بڑا احسان فراموش اور ہم سے بڑا بے انصاف کون ہوگا ۔ اِس صورت میں تو وہ پالتو جانور ہی ہم سے بہتر ہو جائے گا، جو اپنے مالک کے قدموں میں لوٹ کر اپنے شکر اور وابستگی کا اظہار کرتا ہے ۔

[اپریل 1994ء ]