ضمیمہ جات
ضمیمہ 1
’’معجزہ‘‘ کا مفہوم اور شق قمر کے واقعہ پر اُس کا اطلاق
’معجزۃ‘ ’اعجاز‘ سے اسم فاعل ہے۔ اِس کے معنی ’’عاجز کر دینے والے‘‘ کے ہیں۔ عام مفہوم میں یہ کسی عظیم الشان اور غیر معمولی واقعے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اصطلاح میں اِس سے مراد وہ خلافِ عادت امر ہے، جو انسانی دسترس سے باہر ہو اور اللہ کے حکم پراُس کے نبیوں سے صادر ہو۔ ہماری علمی روایت کے مطابق یہ جن مفاہیم اور اطلاقات کو شامل ہے، وہ درجِ ذیل ہیں:
* معجزہ خارقِ عادت ہوتا ہے۔
* اللہ کے اذن پر مبنی ہوتا ہے۔
* نبی کی ذات سے ظاہر ہوتا ہے۔
* دعواے نبوت کی تائید و تصدیق کرتا ہے۔
* کبھی منکرین کے مطالبے پر نازل کیا جاتا ہے۔
* کبھی کفار کو تحدی (چیلنج) کرنا مقصود ہوتا ہے۔
* کبھی ثباتِ ایمان کے لیے صادر ہوتا ہے۔
* کبھی اہل ایمان کو اللہ کی نصرت سے فیض یاب کرتا ہے۔
* مخاطبین اِس کی مثل پیش کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
* نتیجتاً یہ نبی کے مخاطبین پر اتمام حجت کا باعث بنتا ہے۔
چند جلیل القدر اہل علم کے اقتباسات نقل ہیں:
علامہ سعد الدین تفتازانی (793 ھ) ’’شرح عقائد النسفی‘‘ میں لکھتے ہیں:
المعجزۃ ھی امر یظھر بخلاف العادۃ علٰی یدی مدعی النبوۃ عند تحدی المنکرین علٰی وجہ یعجز المنکرین عن الاتیان بمثلہ.(125)
’’معجزہ خلافِ عادت امر ہے ۔ یہ نبوت کے مدعی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ منکرین (نبوت) کو اِس (خلافِ عادت امر) کی مثل پیش کرنے کی دعوت دی جائے اور وہ ایسا کرنے سے عاجز ہوں۔‘‘
علی بن محمد الشریف الجرجانی (816 ھ) نے اپنی معروف کتاب ’’معجم التعریفات‘‘ میں معجزہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
المعجزۃ امر خارق للعادۃ داعیۃ الی الخیر والسعادۃ مقرونۃ بدعوی النبوۃ قصد بہ اظھار صدق من ادعی انہ رسول من اللّٰہ. (184)
’’معجزہ وہ خلافِ معمول امر ہے جو خیر و برکت کی دعوت اور نبوت کے دعوے کو شامل ہو اور اِس کا مقصد اللہ کے رسول ہونے کا دعویٰ کرنے والے کی صداقت کا اظہار ہوتا ہے۔‘‘
امام جلال الدین السیوطی (849 ھ) نے لکھا ہے:
المعجزۃ: امر خارق للعادۃ، مقرون بالتحدی، سالم عن المعارضہ.
(الاتقان فی علوم القرآن 2/311)
’’معجزہ ایسے خارقِ عادت امر کو کہتے ہیں، جس کے ساتھ تحدی (چیلنج) بھی شامل ہو اور اُس کا مقابلہ نہ کیا جا سکے۔‘‘
محمد علی تھانوی (1158ھ) کی تالیف ’’کشاف اصطلاحات الفنون‘‘ میں ہے:
المعجزۃ: ھی فی الشرع امر خارق للعادۃ یظہر علیٰ ید مدعی النبوۃ موافقًا لدعواہ. (1575)
’’معجزہ: شریعت میں اِس سے مراد وہ خلافِ معمول امر ہے، جو نبوت کے مدعی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا اور اُس کے دعوے کی تائید کرتا ہے۔‘‘
امام شاہ ولی اللہ (1174ھ)نے انبیا کے معجزات کی نوعیت اور ضرورت کو طبیب اور دوا کی مثال سے واضح کیا ہے۔ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
مثلہ في ذلک کمثل سید مرض عبیدہ، فأمر بعض خواصہ: أن یکلفہم شرب دواء أشاؤا ام أبوا، فلوأنہ أکرہہم علی ذلک کان حقًا، ولکن تمام اللطف یقتضی ان یعلمھم اولاً انھم مرضی، وان الدواء نافع، وان یعمل اموراً خارقۃً تطمئن نفوسھم بھا علی انہ صادق فیما قال، وان یشوب الدواء بحلو فحینئذ یفعلون ما یؤمرون بہ علی بصیرۃ منہ، وبرغبۃ فیہ؛ فلیست المعجزات ولا استجابۃ الدعوات ونحو ذلک الا امورًا خارجۃً عن اصل النبوۃ، لازمۃً لھا فی الاکثر. (2/64)
’’( نبوت کے) اِس معاملے میں اللہ تعالیٰ کی مثال اُس آقا جیسی ہے، جس کے غلام بیمار ہو گئے ہیں۔ چنانچہ اُس نے اپنے خاص کارکنان میں سے کسی کارکن کو حکم دیا ہے کہ وہ اُنھیں دوا پینے کا مکلف بنائے، اِس کے باوجود کہ وہ پینا چاہیں یا اُس کا انکار کریں۔ لہٰذا اگر وہ اِس معاملے میں اُن پر سختی کرے تو وہ حق بجانب ہو گا۔ تاہم، کامل مہربانی کا تقاضا ہے کہ (سختی سے ) پہلے وہ اُنھیں سمجھائے کہ وہ بیمار ہیں اور یہ دوا اُن کے لیے مفید ہے۔ مزید یہ کہ وہ کچھ خارقِ عادت امور کو ظاہر کرے، جو اُنھیں اِس پر مطمئن کر دیں کہ وہ اپنے قول میں سچا ہے۔ یعنی دوا میں شیرینی ملا دے۔ اِس کے نتیجے میں غلام پوری بصیرت اور رغبت کے ساتھ وہ کام کریں گے، جن کا اُنھیں حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ واضح ہوا کہ معجزات کا ظہور، دعاؤں کی قبولیت اور اِس طرح کے دیگر امور نبوت کی حقیقت سے خارج ہیں، البتہ اکثر حالات میں نبوت کے اسباب و لوازم میں شامل ہوتے ہیں۔‘‘
شاہ عبدالحق محدث دہلوی بیان کرتے ہیں:
’’معجزہ خرقِ عادت کو کہتے ہیں، جو مدعی رسالت و نبوت کے ہاتھ سے ظاہر ہوتا ہے۔ جس سے مقصود تحدی ہے۔ تحدی کے معنی کسی کام میں برابری کرنا اور دشمن کو عاجز کر کے غلبہ حاصل کرنا ہے۔ تحقیق یہی ہے کہ معجزہ میں تحدی شرط نہیں ہے۔‘‘
(مدار ج النبوہ 1/ 229)
مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں:
’’جو نبی دعویٰ کرتا ہے کہ میں نبی ہوں . . .میری متابعت کے بغیر کوئی راستہ نجات کا نہیں ہے۔ اور اُس کی دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ اللہ جل شانہ میرے ہاتھوں اور زبان سے وہ چیزیں ظاہر فرمائے گا، جو اُس کی عام عادت کے خلاف ہوں گی اور دنیا اِس کی مثال لانے سے عاجز ہو گی۔ پھر اِس کے موافق مشاہدہ بھی کیا جا رہا ہو تو یہ خدا کی جانب سے عملاً اُس کے دعویٰ کی تصدیق ہے۔ درحقیقت معجزہ نبی کے دعویٰ کی عملی تصدیق ہوتی ہے۔‘‘
(اعجاز القرآن 31)
معجزہ کے معنی و مفہوم کی اِس تفصیل کے بعد اب یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ قرآنِ مجید کی اصطلاح نہیں ہے۔ یہ عربی زبان ہی کا لفظ ہے اور اِس کے بعض اسالیب کلام الٰہی میں مذکور بھی ہیں۔ لیکن جہاں تک درجِ بالا اصطلاحی مفہوم کا تعلق ہے تو اِس مفہوم میں یہ یا اِس کا کوئی اشتقاق کتاب الٰہی میں استعمال نہیں ہوا ہے۔
یہی معاملہ کتب احادیث کا بھی ہے۔ اِن میں بھی یہ لفظ اختیار نہیں کیا گیا۔ تاہم، محدثین نے ابواب کے عنوانات کے لیے اِس لفظ کو اختیار کیا ہے۔
اِسی بنا پر بعض اہل علم کا موقف ہے کہ انبیا کے خوارق کے لیے معجزہ کے لفظ کو استعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ سید سلیمان ندوی ’’سیرت النبی‘‘ میں ’’اِن واقعات کا اصطلاحی نام‘‘ کے زیرِ عنوان لکھتے ہیں:
’’حضرات انبیاے کرام علیہم السلام سے یہ جو مافوق العادت کیفیات اور اعمال صادر ہوتے ہیں، اِن کے لیے عام طور پر معجزہ کا لفظ بولا جاتا ہے، لیکن یہ اصطلاح کئی حیثیتوں سے غلط ہے، اول تو اِس لیے کہ قرآنِ مجید اور احادیث میں یہ لفظ مستعمل نہیں ہوا ہے، بلکہ اِس کی جگہ آیت (نشانی) اور برہان (دلیل ) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، جو اپنے مفہوم کو نہایت خوبی سے ظاہر کرتے ہیں۔ قدیم محدثین نے اِن کی جگہ دلائل اور علامات کے الفاظ استعمال کیے ہیں، جو الفاظ قرآنی کے ہم معنی ہیں۔ دوسرے یہ کہ عام استعمال کی بنا پر ’’معجزہ‘‘ کے ساتھ کچھ خاص لوازم ذہنی پیدا ہو گئے ہیں، جو حقیقت میں صحیح نہیں ہیں، مثلاً: اِس لفظ سے عوام میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ وہ خود پیغمبر کا فعل ہوتا ہے، جس کا صدور خاص اُس کے اعضا و جوارح سے ہوتا ہے اور نیز یہ کہ اِس لفظ کے سبب سے اِس کا معجزہ ہونا گویا اِس کی حقیقت میں داخل ہو گیا ہے، حالانکہ یہ دونوں خیالات غلط ہیں، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ معجزہ پر عقلی حیثیت سے جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں، اُن کا ایک بڑا حصہ خود لفظِ معجزہ کے غلط استعمال سے پیدا ہو گیا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم کو ایک ایسا جامع لفظ درکار ہے، جس میں نبوت کے تمام خواص، کیفیات، مشاہدات اور اعمالِ خارقۂ عادت و غیر خارقۂ عادت، سب داخل ہیں، لیکن معجزہ کا لفظ اتنا وسیع نہیں. . . لیکن چونکہ ہماری زبان میں معجزہ کا لفظ عام طور پر چل گیا ہے، اِس لیے اِس کو یک قلم ترک بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘(3/21- 22)
اِس مفہوم کے لیے کتاب اللہ میں ’آیۃ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی نشانی کے ہیں۔ تاہم،وہاں اِس سے مرادصرف انبیا کے ہاتھوں پر ظاہر ہونے والی نشانیاں ہی نہیں ہیں، اِس کے ساتھ وہ نشانیاں بھی اِس کے مصداقات میں داخل ہیں، جو انفس و آفاق میں روز مرہ ظاہر ہوتی ہیں اور وہ خلافِ معمول نشانیاں بھی داخل ہیں، جنھیں اللہ براہِ راست ظاہر کرتے ہیں۔ مزید برآں ،قرآنِ مجید کے فقروں کے لیے بھی یہی لفظ آیت استعمال ہوتا ہے۔ 15
اب سوال یہ ہے کہ کیا شق قمر کے واقعے پر لفظ معجزہ کا اطلاق درست ہے؟ درجِ بالا تعریفات کی روشنی میں اِس کا جواب نفی میں ہو گا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِن کے مطابق معجزہ وہ خارقِ عادت واقعہ ہے، جو اللہ کے حکم سے نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے۔ شق قمر، بلا شبہ خارقِ عادت واقعہ ہےاور اللہ ہی کے حکم سے ظاہر ہوا ہے، مگر قرآن و حدیث سے واضح ہے کہ اِس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا توسط اختیار نہیں کیا گیا۔ اللہ چاہتا تو اِس کے لیے اپنے پیغمبر کا توسط اختیار کر لیتا، جیسا کہ قرآن و حدیث میں مذکور متعدد دیگر معجزات میں اختیار کیا گیا ہے۔ اگر اللہ نے اپنی حکمت کے تحت ایسا نہیں کیا تو ہمیں اِسے معجزے کے بجاے آیتِ الہٰی سے تعبیر کرنا چاہیے۔ جیسے مثال کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا تو بلا شبہ، اُن کا معجزہ کہلائے گا، مگر اُن کے بن باپ کے پیدا ہونے کو اُن کا معجزہ نہیں کہا جائے گا، بلکہ اللہ کی آیت قرار دیا جائے گا۔
ضمیمہ 2
شق قمر کے واقعے پر مورخین کی خاموشی
ایک اعتراض کا جواب
شق قمر کی حقانیت پر بعض لوگوں کی طرف سے اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ تاریخی طور پر ثابت نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تاریخ کی روشنی کے زمانے میں دنیا میں اتنا بڑا واقعہ ہو جائے اور کسی کو اِس کی خبر نہ ہو؟ چنانچہ اُن کے نزدیک یہ واقعہ اگر ہوا تھا تو یہ ضروری تھا کہ دنیا کے مختلف علاقوں کے لوگ اِسے دیکھتے اور ہر خطے میں اِس کی روایتیں بیان ہوتیں۔ لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمانوں کی کتابوں کے سوا اِس کا کہیں ذکر نہیں ہے۔
ہمارے نزدیک یہ اعتراض کئی پہلوؤں سے بے بنیاد ہے۔
اولاً، قرآن اور حدیث، دونوں سے واضح ہے کہ یہ نشانی فقط قریش کے لیے تھی۔ باقی دنیا سے اِس کا اصلاً کوئی تعلق نہیں تھا۔ اِس کے ظہور کا مقصد یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کو آنے والے عذاب سے پوری طرح متنبہ کر دیا جائے۔ گویا یہ اُسی طرح کی نشانی تھی، جیسی ناقہ کی شکل میں حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے سامنے ظاہر ہوئی یا سیدنا مسیح علیہ السلام کی پیدایش کی صورت میں بنی اسرائیل کے سامنے آئی تھی۔اِن نشانیوں کا تعلق اُنھی اقوام سے تھا، جن میں یہ ظاہر ہوئی تھیں۔ اِس طرح کی نشانیوں کو تمام دنیا اور تمام اقوام کے حوالے سے دیکھنا درست نہیں ہے۔
ثانیاً، یہ خبر قرآن میں مذکور ہے۔ اِس کتاب کے مندرجات کی بنا پر علم و عقل مجبور ہیں کہ اِسے الہامی اور غیر انسانی کلام کے طور پر قبول کریں۔ چنانچہ اگر مسلم ہے کہ یہ کتاب اپنے بیان میں ایک خارقِ عادت معجزہ ہے تو عقل و فطرت کا تقاضا ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں اِس کی تمام اطلاعات کو صحیح مانا جائے۔
ثالثًا، مذکورہ اعتراض پر جواباً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ واقعہ غلط ہے تو جس خطے میں اور جن لوگوں میں یہ واقعہ بلا انقطاع بیان ہو رہا ہے، اُن میں سے کسی نے اِس کی تردید کیوں نہیں کی؟ یہ کوئی ایسی خبر نہیں تھی، جو بند کمروں میں چند لوگوں کے سامنے بیان ہو رہی تھی اور سینہ بہ سینہ آگے منتقل ہو رہی تھی۔ ہر گز نہیں، یہ تو اعلانِ عام تھا، جو قرآن کے ذریعے سے گلیوں کوچوں میں دن رات نشر ہورہا تھا۔ سننے والوں میں نصاریٰ بھی تھے، یہود بھی تھے، مشرکین بھی تھے۔ ایسا کیوں نہیں ہوا کہ اُن کا کوئی مصنف، کوئی شاعر، کوئی مورخ اِس زبان زدِ عام خبر کی تردید کر دیتا، جو بعد ازاں تاریخی دستاویز کے طور پر اگلی نسلوں کو منتقل ہوتی۔
رابعاً، مسلمانوں کے حوالے سے بھی دیکھیے تو یہ کوئی ایسی خبر نہ تھی کہ جس کا تعلق عقیدہ و ایمان یا زندگی بعد الموت سے ہو اور جسے اُس زمانے کے اہل ایمان کو فقط اِس بنا پر قبول کر نا پڑتا ہو کہ یہ قرآن میں مذکور ہے۔ اِس کے بجاے یہ ایک حسی واقعہ تھا۔ تو کیا ابتدائی صدی کے مسلمانوں میں کوئی ایک شخص بھی ایسا پیدا نہیں ہوا،جو اِس کے وقوع کی تردید کرے اور قرآن کے الفاظ کی کوئی مختلف تاویل کرنے کی کوشش کرے؟ اگر ایسا نہیں ہوا تو اِس کا مطلب ہے کہ یہ قرآن کی مصدقہ خبر تھی، جسے صحابہ اور تابعین نے اپنے اجماع و تواتر سے آگے منتقل کیا۔ اِس لیے اِس خبرِ متواتر کا انکار ایک بدیہی امر کا انکار ہے۔
خامساً، مزید یہ کہ یہ خبربخاری و مسلم جیسے مستند ترین تاریخی ماخذوں میں نقل ہوئی اور اِس کے بیان کرنے والوں میں وہ لوگ ہیں، جن کی ثقاہت ہر شک و شبہے سے پاک ہے۔ اُن میں سے بعض اِس کے عینی شاہدین بھی ہیں۔ اِس لیے یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ تاریخ اِس کے بارے میں خاموش ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جس تاریخ کو اِس کے بارے میں بولنا چاہیے، وہ ببانگِ دہل اِس کا اعلان کر رہی ہے۔ مذکورہ اعتراض کے جواب میں ہمارے اہل علم نے بھی اپنے اپنے انداز سے دلائل پیش کیے ہیں۔ اُن میں سے چند اقتباسات درجِ ذیل ہیں۔
تاریخ و سیرت کے محقق سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:
’’سوال یہ ہے کہ ایک ملک کا مشہور واقعہ جو دوسرے ملک کی معاصر تاریخوں میں مذکور نہ ہو۔ صرف اُس کا یہ عدم ذکر کیا اُس کے انکار کی سند ہو سکتا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو ہندوؤں کی مہابھارت کا تم انکار کر سکتے ہو۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے تمام معجزات، بلکہ واقعاتِ زندگی تک کا انکار کر سکتے ہو کہ شام و مصر کے معاصر رومی مورخوں نے ایسے عجیب و غریب واقعات کا ایک حرف بھی قلم بند نہیں کیا۔ اِس کے برخلاف ابھی اوپر کی روایتوں میں بیان کیا جا چکا ہے کہ عرب و شام سے آنے والے مسافروں نے یہ بیان کیا کہ اُنھوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے۔‘‘(سیرت النبی 3/ 311)
اُنھوں نے مزید لکھا ہے:
’’اللہ نے یہ نشانی اہل مکہ کے لیے ظاہر کی تھی اور اُنھی کے لیے یہ آئینۂ ثبوت تھی۔ اِس لیے تمام دنیا میں اِس کے ظہور اور رؤیت کی حاجت نہ تھی۔اِس بنا پر بالفرض اگر دنیا کے دوسرے حصوں میں شق قمر مشاہدہ نہ ہوا ہو تو یہ حیرت اور تعجب کی بات نہیں۔ بلکہ اہل مکہ کے علاوہ اور لوگوں کو دوسرے شہروں اور ملکوں میں اِس کا نظر نہ آنا ہی مصلحت الٰہی تھی کہ اگر یہ عام طور سے دوسرے اقطاع عالم کے لوگوں کو بھی نظر آتا تو یہ سمجھا جا سکتا کہ یہ آسمان کے طبعی انقلاب میں سے کوئی انقلاب تھا، جیسا کہ اور سینکڑوں قسم کے تغیرات اِس سے پہلے ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ فلکیات اور علم بدءخلق (کسموگریفی اور نیچرل ہسٹری) میں مذکور ہے۔ لیکن جب اہل مکہ کے علاوہ جو شہر میں تھے یا باہر قافلہ میں تھے صرف اُنھی کو نظر آیا، تو اِس بات کی صاف اور صریح دلیل ہے کہ یہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک نشان کے طور پر ظاہر ہوا۔ وللہ الحمد۔‘‘
(سیرت النبی 3/ 312)
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اِس اعتراض پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’(یہ اعتراض)اِس لیے بے وزن ہے کہ یہ واقعہ اچانک بس ایک لحظہ کے لیے پیش آیا تھا۔ ضروری نہیں تھا کہ اِس خاص لمحے میں دنیا بھر کی نگاہیں چاند کی طرف لگی ہوئی ہوں۔ اِس سے کوئی دھماکا نہیں ہوا تھا کہ لوگوں کی توجہ اِس کی طرف منعطف ہوتی۔ پہلے سے کوئی اطلاع اِس کی نہ تھی کہ لوگ اِس کے منتظر ہو کر آسمان کی طرف دیکھ رہے ہوتے۔ پورے روے زمین پر اِسے دیکھا بھی نہیں جا سکتا تھا، بلکہ صرف عرب اور اُس کے مشرقی جانب کے ممالک ہی میں اُس وقت چاند نکلا ہوا تھا۔ تاریخ نگاری کا ذوق اور فن بھی اُس وقت تک اتنا ترقی یافتہ نہ تھا کہ مشرقی ممالک میں جن لوگوں نے اِسے دیکھا ہوتا،وہ اِسے ثبت کر لیتے اور کسی مورخ کے پاس یہ شہادتیں جمع ہوتیں اور وہ تاریخ کی کسی کتاب میں اِن کو درج کر لیتا۔ تا ہم، مالابار کی تاریخوں میں یہ ذکر آیا ہے کہ اُس رات وہاں کے ایک راجہ نے یہ منظر دیکھا تھا۔ رہیں علم نجوم کی کتابیں اور جنتریاں، تو اُن میں اِس کا ذکر آنا صرف اِس حالت میں ضروری تھا،جب کہ چاند کی رفتار، اور اُس کی گردش کے راستے، اور اُس کے طلوع و غروب کے اوقات میں اِس سے کوئی فرق واقع ہوا ہوتا۔ یہ صورت چونکہ پیش نہیں آئی، اِس لیے قدیم زمانے کے اہل تنجیم کی توجہ اِس کی طرف منعطف نہیں ہوئی۔ اِس زمانے میں رصد گاہیں اِس حد تک ترقی یافتہ نہ تھیں کہ افلاک میں پیش آنے والے ہر واقعہ کا نوٹس لیتیں اور اُس کو ریکارڈ پر محفوظ کر لیتیں۔‘‘
(تفہیم القرآن 5/ 230- 231)
مولانا امین احسن اصلاحی نے اِس اعتراض کا نہایت مسکت جواب دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہ شبہ صحیح نہیں ہے کہ اِس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا ہوتا تو دوسری قوموں کی تاریخ میں بھی اِس کا ذکر ہوتا۔ ہماری زمین اور دوسرے کُرّوں میں اِس طرح کی شکست و ریخت اور اُن کے ٹکڑوں کے درمیان انفصال و اتصال کے کتنے واقعات ہیں،جو آئے دن ہوتے رہتے ہیں، لیکن پہلے زمانہ میں اِن کا مشاہدہ ایک خاص دائرہ ہی کے اندر محدود رہتا تھا۔ ہمارے زمانے میں اِس طرح کے تغیرات کی تحقیق کے لیے بین الاقوامی ادارے اور رصد گاہیں وجود میں آ گئی ہیں، اِس وجہ سے کوئی واقعہ ظہور میں آتا ہے تو اُس کی تحقیق کے لیے فوراً ساری دنیا کے تحقیقاتی ادارے بھاگ دوڑ شروع کر دیتے ہیں اور برق کی رفتار سے اُس کی اطلاع دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ جاتی ہے۔ پہلے تحقیق و اطلاع کے یہ وسائل موجود نہیں تھے، اِس وجہ سے اُس کی خبر ایک خاص دائرے ہی میں محدود رہ گئی۔ لیکن یہ دائرہ نہایت ثقہ لوگوں کا ہے، اِس وجہ سے نفس واقعہ کی تکذیب کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘‘
(تدبر قرآن 8/ 92)
ضمیمہ 3
شق قمر پر ماہرین فلکیات اور سائنس کی خاموشی
ایک اعتراض کا جواب
شق قمر کے وقوع پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ علم فلکیات سے متعلق ہے، مگر نہ اِسے زمانۂ رسالت کے ماہرین فلکیات نے بیان کیا ہے اور نہ دورِ حاضر کی رصد گاہوں اور سائنسی آلات نے اِس کی تصدیق کی ہے۔ لہٰذا یہ واقعہ علمی لحاظ سے ثابت نہیں ہے۔
ہمارے نزدیک یہ اعتراض درجِ ذیل وجوہ سے درست نہیں ہے۔
اولاً، اِس بات کے شواہد دستیاب نہیں ہیں کہ زمانۂ رسالت میں سرزمین حجاز میں ایسے لوگ موجود تھے، جو اِس طرح کے علوم و فنون میں دل چسپی اور مہارت رکھتے ہوں۔ اگر کسی خطے میں ایک علم و فن کے ماہرین موجود نہ ہوں تو وہاں اِس سے متعلق اطلاعات کے محفوظ رہنے اور آگے منتقل ہونے کی توقع غیر حقیقی ہے۔
ثانیاً، قرآن و حدیث میں واقعے کے بیان سے واضح ہے کہ اِس کے نتیجے میں چاند کی گردش پر کوئی اثر واقع نہیں ہوا تھا۔ اگر چاند کی گردش رکتی تو اُس کی رفتار کا حساب رکھنے والے منجمین، ممکن ہےکہ اِس امر کی طرف متوجہ ہوتے۔ اُس صورت میں بھی یہ سوال بہرحال قائم رہتا ہے کہ آیاوہ یہ مہارت رکھتے تھے کہ چاند کی گردشِ محوری اور گردشِ دوری میں لحظہ بھر کے تعطل کو متعین کر سکیں؟
ثالثًا، اِس اعتراض پر اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا واقعے کے وقوع سے تا دم تحریر کسی ماہر فلکیات نے، کسی رصد گاہ نے، کسی سائنس دان نے یا کسی تحقیقی ادارے نے شق قمر کے واقعے کی تحقیق کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی ہے؟ ہمارے علم کی حد تک اِس کا جواب نفی میں ہے۔عین ممکن ہے کہ چاند پر جا کر اِس کی گہری تحقیق کی جائے تو اِس کے شق ہونے کے آثار دستیاب ہو جائیں۔
رابعاً، یہ بھی ممکن ہے کہ شق ہونے کے بعد جب دونوں ٹکڑے دوبارہ جڑے ہوں تو پہلی حالت کے عین مطابق بہ تمام و کمال جڑ گئے ہوں۔ یعنی شکست و ریخت کا معمولی شائبہ بھی باقی نہ رہا ہو۔ بالکل اُسی طرح جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چار پرندے ذبح کر کے الگ الگ پہاڑوں پر رکھے اور پھر اُنھیں پکارا تو وہ اللہ کے حکم سے اُسی حالت میں واپس آ گئے، جیسے ذبح ہونے سے پہلے تھے۔ یہ واقعہ سورۂ بقرہ میں نقل ہوا ہے۔ ارشاد ہے:
وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ قَالَ اَوَ لَمۡ تُؤۡمِنۡ ؕ قَالَ بَلٰی وَ لٰکِنۡ لِّیَطۡمَئِنَّ قَلۡبِیۡ ؕ قَالَ فَخُذۡ اَرۡبَعَۃً مِّنَ الطَّیۡرِ فَصُرۡہُنَّ اِلَیۡکَ ثُمَّ اجۡعَلۡ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنۡہُنَّ جُزۡءًا ثُمَّ ادۡعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعۡیًا ؕ وَاعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ . (2: 260)
’’اور (اِس سلسلے میں) وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے، جب ابراہیم نے کہا تھا کہ پروردگار، مجھے دکھا دیں کہ آپ مردوں کو کس طرح زندہ کریں گے؟ فرمایا: کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟ عرض کیا: ایمان تو رکھتا ہوں، لیکن خواہش ہے کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہو جائے۔ فرمایا: اچھا، تو چار پرندے لو، پھر اُن کو اپنے ساتھ ہلا لو، پھر (اُن کو ذبح کر کے) ہر پہاڑی پر اُن میں سے ایک ایک کو رکھ دو، پھر اُنھیں پکارو، وہ (زندہ ہو کر) دوڑتے ہوئے تمھارے پاس آ جائیں گے، اور (آیندہ کے لیے) خوب سمجھ لو کہ اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔‘‘
ہمارے اہل علم نے بھی اِس اعتراض پر سیر حاصل کلام کیا ہے۔
سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:
’’حوادث فلکی کے حدوث اور وقوع میں بڑی چیز یہ ہے کہ اُس کا مشاہدہ مطالع اور مغارب پر موقوف ہے اور ہر جگہ کے مطالع و مغارب دوسری جگہ سے نہایت مختلف ہیں۔ بلکہ بالخصوص قمر کے مطالع میں تو اور بھی سخت اختلاف ہے اور ایک جگہ چاند ڈوبتا ہے دوسری جگہ نکلتا ہے، ایک جگہ چاندنی ہے دوسری جگہ اندھیرا ہوتا ہے، ایک جگہ چاند کو گہن لگتا ہے اور دوسرے مقامات کے لوگوں کو وہ نظر تک نہیں آتا۔ اِس لیے اگر تمام دنیا نے اِس معجزہ کو نہیں دیکھا تو یہ شق قمر کی نفی کی دلیل نہیں۔ چنانچہ دنیا کی مختلف باخبر قوموں نے اپنی اپنی کتابوں میں مختلف حوادث فلکی کا ذکر کیا ہے، لیکن جس واقعہ کو ایک نے بڑے شد ومد سے بیان کیا ہے، اُس کی معاصر قوموں کی کتابیں اُس کی شہادت سے قطعاً خالی ہیں۔ لیکن کیا یہ خاموشی اُس کے عدم وقوع کی سند ہو سکتی ہے؟ علاوہ اور وجوہ کے اِس خاموشی اور اختلاف کی ایک وجہ یہی ہوتی ہے کہ تمام دنیا کا ایک مطلع نہیں ہے۔ اِس لیے ایک چیز ایک جگہ نظر آتی ہے، دوسری جگہ نہیں آتی۔ ‘‘ (سیرت النبی 3/312)
سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:
’’موجودہ دور میں سیاروں کی ساخت کے متعلق انسان کو جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، اُن کی بنا پر یہ بات بالکل ممکن ہے کہ ایک کرّہ اپنے اندر کی آتش فشانی کے باعث پھٹ جائے اور اُس زبردست انفجار سے اُس کے دو ٹکڑے دور تک چلے جائیں، اور پھر اپنے مرکز کی مقناطیسی قوت کے سبب سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ آ ملیں۔
…رہیں علم نجوم کی کتابیں اور جنتریاں، تو اُن میں اِس کا ذکر آنا صرف اُس حالت میں ضروری تھا، جب کہ چاند کی رفتار، اور اُس کی گردش کے راستے، اور اُس کے طلوع و غروب کے اوقات میں اِس سے کوئی فرق واقع ہوا ہوتا۔ یہ صورت چونکہ پیش نہیں آئی، اِس لیے قدیم زمانے کے اہل تنجیم کی توجہ اِس کی طرف منعطف نہیں ہوئی۔ اُس زمانے میں رصد گاہیں اِس حد تک ترقی یافتہ نہ تھیں کہ افلاک میں پیش آنے والے ہر واقعہ کا نوٹس لیتیں اور اُس کو ریکارڈ پر محفوظ کر لیتیں۔‘‘(تفہیم القرآن 5/ 230- 231)
مولانا امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:
’’ہو سکتا ہے کہ کل کو سائنس دانوں کے لیے چاند کی تحقیق کی وسیع راہیں کھل جائیں اور علمی تحقیقات سے ثابت ہو جائے کہ چاند کا فلاں حصہ فلاں حصہ سے مربوط تھا، لیکن اتنے سو سال پہلے وہ الگ ہو کر فلاں حصے سے جا ملا۔ اِس طرح کے کتنے انکشافات ہیں، جو ہمارے کرۂ ارض سے متعلق آج ہمارے سامنے آ رہے ہیں اور لوگ اُن کو باور کر رہے ہیں تو آخر چاند سے متعلق قرآن کی اِس خبر پر تعجب کی کیا وجہ ہے؟ سائنس نے اگر ابھی اِس کی تصدیق نہیں کی ہے تو یہ اُس کی نارسائی کی دلیل ہے۔ انتظار اور صبر کیجیے، شاید مستقبل میں وہ بھی اِس کے اعتراف پر مجبور ہو جائے۔‘‘(تدبر قرآن 8/ 92)
ضمیمہ 4: لفظ ’آیۃ‘ کے مختلف مصداقات: ایک اشکال کی وضاحت
ضمیمہ 4
لفظ ’آیۃ‘ کے مختلف مصداقات ایک اشکال کی وضاحت
اِس تالیف کا ابتدائی باب ’’ ’ آیۃ‘ کا مفہوم و مصداق ‘‘ کے زیرِ عنوان ہے۔ اُس میں بیان ہوا ہے کہ ’ آیۃ‘ کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔ قرآنِ مجید میں یہ بہ طورِ اصطلاح آیا ہے اور چار مختلف اطلاقات کے لیے استعمال ہوا ہے۔ کسی مقام پر اِن چار اطلاقات میں سے کون سا اطلاق صادق آتا ہے،اِس کا تعین کلام کرتا ہے۔اِس بات پر بادی النظر میں یہ اشکال پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک لفظ چار مختلف مصداقات کا حامل ہو، وہ چاروں ایک ہی کلام میں استعمال ہوئے ہوں اور اِن میں تفریق کرنا بھی ممکن ہو؟
ہمارے نزدیک کسی لفظ کا ایک سے زیادہ مفاہیم اور اطلاقات کے لیے استعمال ہو جانا زبان و بیان کا عام اسلوب ہے۔ قرآنِ مجید سے اِس کی متعدد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اِن میں سے ایک معروف اور عام فہم مثال لفظِ ’’ذکر‘‘ کی ہے۔ یہ لفظ کئی مفاہیم کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مثال کے طور پر:
1۔ سورۂ بقرہ میں یہ یاد کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ بنی اسرائیل کو فرمایا ہے:
یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَوۡفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمۡ ۚ وَاِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ. (2: 40)
’’(قرآن تمھارے لیے یہی ہدایت لے کر آیاہے، اِس لیے) اے بنی اسرائیل، میری اُس نعمت کو یاد کرو، جو میں نے تم پر کی تھی اور میرے عہد کو پورا کرو، میں تمھارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔‘‘
2۔ سورۂ مائدہ میں یہی لفظ زبان سے نام لینے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے:
یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَہُمۡ ؕ قُلۡ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ۙ وَ مَا عَلَّمۡتُمۡ مِّنَ الۡجَوَارِحِ مُکَلِّبِیۡنَ تُعَلِّمُوۡنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ ۫.
’’وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لیے کیا چیز حلال ٹھیرائی گئی ہے؟ کہہ دو: تمام پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال ہیں اور شکاری جانوروں میں سے جن کو تم نے شکار پر دوڑانے کے لیے سدھا لیا ہے، جنھیں تم اُس علم میں سے کچھ سکھا کر سدھاتے ہو، جو اللہ نے تمھیں سکھایا ہے، (اُن کا کیا ہوا شکار بھی حلال ہے)۔
فَکُلُوۡا مِمَّاۤ اَمۡسَکۡنَ عَلَیۡکُمۡ وَ اذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہِ ۪ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ. (5: 4)
اِس لیے جو وہ تمھارے لیے روک رکھیں، اُس میں سے کھاؤ اور (جانور کو شکار پر چھوڑنے سے پہلے) اُس پر اللہ کا نام لے لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔‘‘
3۔ آلِ عمران میں یہ لفظ اِس طرح آیا ہے کہ دل کی یاد اور زبان کا اظہار، دونوں کو شامل ہے۔ ارشاد ہے:
اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ. الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ….
(3: 191-190)
’’(یہ عقل کے اندھے ہیں، اِس لیے پیغمبر پر ایمان کے لیے نشانی مانگتے ہیں، ورنہ) حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کے بنانے میں اور دن اور رات کے باری باری آنے میں اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو بصیرت والے ہیں۔ اُن کے لیے جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر لیٹے ہوئے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے اور زمین اور آسمانوں کی خِلقت میں غور کرتے رہتے ہیں…۔‘‘
4۔ سورۂ انبیاء میں یہ کسی کے بارے میں عام ذکر کرنے یا بات کرنے کےمعنی میں مذکورہے:
قَالُوۡا مَنۡ فَعَلَ ہٰذَا بِاٰلِہَتِنَاۤ اِنَّہٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ. قَالُوۡا سَمِعۡنَا فَتًی یَّذۡکُرُہُمۡ یُقَالُ لَہٗۤ اِبۡرٰہِیۡمُ. (21:60-59)
’’(اُنھوں نے آ کر بتوں کی یہ حالت دیکھی تو) کہنے لگے: ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے؟ یقیناً وہ بڑا ہی ظالم ہے۔لوگوں نے بتایا کہ ہم نے ایک نوجوان کو اِنھیں کچھ برا کہتے ہوئے سنا تھا، جس کو ابراہیم پکارتے ہیں۔‘‘
5۔ سورۂ احزاب میں بیان کرنے اور چرچا کرنے کے مفہوم میں آیا ہے:
وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕاِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیۡفًا خَبِیۡرًا.(33:34)
’’اور تمھارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور اُس کی حکمت کی جو تعلیم دی جاتی ہے، اُس کا چرچا کرو۔ بے شک، اللہ بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
6۔ سورۂ مائدہ میں یہ لفظ یاددہانی کے معنوں میں استعمال ہواہے:
وَ مِنَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰۤی اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَہُمۡ فَنَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوۡا بِہٖ….(5 :14)
’’اِسی طرح ہم نے اُن سے بھی عہد لیا تھا،جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔پھر جس چیز کے ذریعے سے اُنھیں یاددہانی کی گئی، اُس کا ایک حصہ وہ بھی بھلا بیٹھے…۔‘‘
- [15] مزید تفصیل اِسی تصنیف کے باب اول میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔