مواد پر جائیں

باب 32: قضا نمازوں کی تسبیحات سے تلافی

[ ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث کے بعد جناب جاوید احمد غامدی سے ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ کئی کتابوں میں پڑھا ہے کہ قضا نمازوں کے لیے اگر چند خاص نمازوں میں بعض تسبیحات پڑھ لی جائیں تو اُن سے قضا نمازوں کی تلافی ہو سکتی ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟اِس سوال کے جواب میں غامدی صاحب کی گفتگو کا خلاصہ درجِ ذیل ہے۔]

قضا نمازوں کے حوالے سے علماے امت میں، بالعموم دو ہی مسلک پائے جاتے ہیں: ایک یہ کہ آپ ہر فرض نماز کو ادا کرتے ہوئے، نوافل کی جگہ پر یا ان کے علاوہ قضانمازبھی پڑھ لیں ۔ دوسرے یہ کہ آپ اپنی کوتاہی پر اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر معافی مانگیں اور آیندہ کوتاہی نہ کرنے کا عہد کریں اوراُس کے بعدامید رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی توبہ قبول فرمائیں گے ۔ اِن دونوں طریقوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں ۔ آپ اِن میں سے کسی پر بھی عمل کر سکتے ہیں۔ یہ بات، البتہ درست نہیں ہے کہ بعض تسبیحات قضا نمازوں کی تلافی کر سکتی ہیں۔

_______