مواد پر جائیں

باب 16: مسلمانوں کے علم کی الجھن اور اخبارِ آحاد

[امام شافعی کی کتاب ’’الرسالہ‘‘ پڑھتے ہوئے استاذِ

گرامی جناب جاوید احمد غامدی سے راقم کا مکالمہ ]

(3)

سوال: گذشتہ گفتگوئیں سیر حاصل تھیں ، مگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوا کہ ہماری علمی تاریخ میں ماخذ کی بحث اِس قدر پیچیدہ کیوں ہو گئی ؟ چودہ صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی یہ مباحث جاری ہیں۔اِس کے برعکس ،آپ نے اِس بحث کو جیسے پیش کیا ہے تو اُس طرح تو یہ ایک سیدھی سادی سی بحث لگتی ہے ، جس میں کوئی اینچ پینچ محسوس نہیں ہوتا۔

جواب: کسی کی کوئی بات سمجھنی ہو تو سب سے پہلے یہ دیکھناچاہیے کہ اُس کو الجھن کہاں سے پیدا ہوئی ہے۔ اگر آپ یہ پوچھیں کہ امام شافعی سے لے کر مو لانا مودودی تک مسلمانوں کے علم کی الجھن کیا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ الجھن اخبارِ آحاد کا وجود پذیر ہونا ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے انفرادی ذرائع سے بعض ایسی باتیں سامنے آ گئی ہیں، جن کے بارے میں علم و عقل یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ باتیں آپ ہی کی ہو سکتی ہیں۔ علم و عقل کی اِس گواہی کے بعد اِن سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں ہے۔ اب اِن کا کیا کیا جائے؟یہ باتیں کتابِ الٰہی پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں اور دین کے’ content ‘پر بھی۔ اِن کو کہیں بٹھانا ہے، اِن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہے امام شافعی کی الجھن۔ یعنی وہ زبانِ حال سے یہ کہتے ہیں کہ اگر میں اِنھیں نہیں مانتا تو میرا علم و عقل کہتا ہے کہ میں غلطی کر رہا ہوں۔

دیکھیے،ایک چیز ہے منطقی طور پر کسی چیز کا یقینی یا ظنی ہونا اور ایک چیز ہے آپ کا نفسیاتی طور پر اُس کو یقینی یا ظنی حیثیت دینا۔ اِس کو ہمارے علما ایسے بیان کرتے ہیں کہ بات محفوف بالقرائن ہو گئی ہے۔ یعنی ہے تو وہ خبر ِواحد ہی، مگر اُس کے گرد اِس قدر قرائن جمع ہو گئے ہیں اور اُنھوں نے اُس کو گھیر کر اُس جگہ پہنچا دیا ہے کہ جہاں میں اُسے منطقی طور پر تو یقینی نہیں کہہ سکتا، لیکن میرے نفسیاتی یقین میں کوئی کمی بھی نہیں ہوتی۔ یہ الجھن ہے۔

اِس الجھن کے تناظرمیں جب آپ’’ الرسالہ‘‘ کو پڑھیں گے تو آپ کو اُن کی بات زیادہ سمجھ میں آئے گی اور پھر آپ کو معلوم ہو گا کہ ’’الرسالہ‘‘ اصل میں اخبار ِآحاد کی حجیت ثابت کرنا چاہتی ہے۔ اُس کی ساری بحثیں آپ کو اِسی محور کے گرد گھومتی نظر آئیں گی۔ یہی وہ مقصود ہے، جس کو حاصل کرنے کے لیے امام شافعی اور اُن کے بعد مولانا مودودی تک، سب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت کو اسٹیبلش (establish)کرتے ہیں اور آپ کے مامور من اللہ اور مطاع ہونے کو بنیاد بناتے ہیں۔ یہ ساری بحثیں اُن کو اِس لیے کرنی پڑی ہیں کہ آں جناب صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ایسی چیزیں پہنچ گئی ہیں، جن کا انکار کرنا مکابرت ہے۔ یعنی سلف یا راسخ العقیدہ علما بالکل بجا طور پر اپنے ضمیر میں یہ محسوس کرتے ہیں کہ اخبارِآحاد کو رد کرنا صریحاً خلافِ علم و عقل بات ہے۔ وہ اِس مکابرت پر نہیں اترتے، جس طرح کی بات اسلم جیراج پوری صاحب اور پرویز صاحب کرتے ہیں کہ یہ ایک عجمی سازش ہے۔ پھر یہ دراز نفسی شروع ہو جاتی ہے کہ دیکھیے ،دو تین سو سال ہو گئے تھے، اُس کے بعد امام بخاری اٹھے، جن کاتعلق عرب سے نہیں، بلکہ بخارا سے تھا وغیرہ وغیرہ۔یہ طرزِ استدلال یہ نہیں کہتا کہ تمام اخبارِ آحاد غلط ہیں، بلکہ یہ کہتا ہے کہ یہ جس طریقے سے ہم تک پہنچے ہیں، اُس کے بعد اِن کی یہ حیثیت ہی نہیں رہتی کہ اِن کو کسی پہلو سے بھی قرآن پر یا دین پر اثر انداز ہونے دیا جائے۔

یعنی یوں سمجھیے کہ ایک طریقہ یہ تھاکہ اخبارِ آحادکے مشمولات کو ناقابل اعتبار قرار دے کر قرآن کو اور دین کو اُن سے مجرد کر دیا جائے۔ پرویز صاحب، اسلم جیراج پوری صاحب، عبداللہ چکڑالوی صاحب اور اِس طرح کے بعض دوسرے لوگوں نے یہ طریقہ اختیار کیا۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ ایک جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت کی بنیاد پر اُن اخبارِ آحاد کے اثبات کے عمل کوآخری درجے میں موکد کیا جائے اور دوسری جانب قرآن کا اُن پر انحصار ثابت کیا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ وہ تو یہ بھی نہیں بتا رہا کہ چورکا ہاتھ کہاں سے کاٹنا ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے، جسے امام شافعی سے لے کر مولانا مودودی تک، ہمارے علما نے اختیار کیا ہے۔ درمیان میں ایک بڑا آدمی ابنِ حزم کھڑا ہے، جس نے اُن سے ہٹ کر ایک اور طریقہ اختیار کیا۔ اُس نے کہا کہ خدا کی حفاظت جس طرح قرآن کو حاصل ہے، اُسی طرح اخبارِ آحاد کو بھی حاصل ہے۔ 

اِس تناظر میں میں نے حقیقتِ واقعہ کو بیان کرنے کی اپروچ اختیار کی ہے۔ میں نے یہ بتایا ہے کہ اخبارِ آحاد سے حاصل ہونے والا علم قرآن و سنت ہی میں محصور دین کی تفہیم و تبیین ہے، اِس لیے نہ یہ قرآن پر اثر انداز ہوتا ہے اور نہ دین کے ‘content’ میں کوئی اضافہ کرتا ہے۔ جب اِس کی واقعی نوعیت یہ ہے تو نہ مجھے اِس کی تردید کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ناگزیر ہونا ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِس بات کو پوری طرح واضح کر دیا جائے کہ یہ قرآن و سنت میں محصور دین کی کیسے تفہیم و تبیین کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ میں نے مسئلہ حل کرنے کے لیے کوئی راستہ نہیں نکالا،بلکہ واقعے کی اصل حقیقت کو متعین کیا ہے۔

[نومبر 2018ء]

____________