مواد پر جائیں

باب 53: مولانا محمد منظور نعمانی

4/ مئی1997ء کو دنیاے اسلام کے جلیل القدر عالم دین مولانا محمد منظور نعمانی وفات پا گئے۔ اُن کا اِس دنیا سے رخصت ہونا ملت اسلامیہ اور خاص طور پر مسلمانان ہند کے لیے ایک بہت بڑا علمی حادثہ ہے۔ برصغیر نے گذشتہ دو صدیوں میں جو عظیم الشان رجالِ امت پیدا کیے، وہ اُن میں ممتاز تھے۔ ہندوستان کے درو دیوار گواہ ہیں کہ اِس مجسمۂ علم و اخلاق کی زندگی کا ایک ایک لمحہ دین اسلام کی نصرت و حفاظت میں گزرا۔ درس و تدریس، ارشاد و ہدایت اور وعظ و نصیحت ہی اُن کے شب و روز کے مشاغل تھے۔ وہ ہندوستان کے اُن چند علما میں سے تھے، جنھیں علوم اسلامیہ میں فی الواقع رسوخ حاصل تھا۔ دینی حمیت کے معاملے میں ہندوستان میں اُن کا ثانی شاید کوئی نہیں تھا۔ فتنۂ قادیانیت ہو، خاکسار تحریک ہو یا مشرکانہ عقائد کے حاملین ہوں، وہ تمام زندگی اُن کے مقابلے میں دین کے محافظ بن کر کھڑے رہے۔ اِن فتنوں کے خلاف اُنھوں نے خطابت کے میدان میں بھی جنگ لڑی اور تحریر کے میدان میں بھی۔ اِس جنگ میں،معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی نصرت ہمیشہ اُن کے شامل حال رہی۔

مولانا منظور نعمانی اگرچہ پوری زندگی تصوف کے داعی اور مبلغ رہے، لیکن اِس کے باوجود عام مشرکانہ اعمال اور بدعتوں کی بیخ کنی کے لیے اُنھوں نے بے پناہ خدمات انجام دیں۔ اُنھوں نے مسلمانوں کے توحید پر ایمان کو راسخ کیا۔ہندوؤں کی تقلید میں مسلمانوں میں در آنے والی قبر پرستی، غیر اللہ سے استعانت اور اِس طرح کی دوسری قباحتوں سے مسلمانوں کو بچانے کی بھر پور سعی کی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اُن کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور اُنھیں آخرت میں بلند درجات سے نوازے۔ آمین۔

مولانامنظور نعمانی نے دین کی بنیادی تعلیم ضلع ا عظم گڑھ کے قصبہ مؤ کی مشہور دینی درس گاہ ’’دارالعلوم ‘‘ میں مولانا کریم بخش سنبھلی سے حاصل کی۔ اُس زمانے میں (1921ء -1923ء) میں تحریک خلافت اپنے عروج پر تھی۔ مولانا کو اِس تحریک سے خاص تعلق خاطر رہا۔ اپنی تعلیمی زندگی کے آخری دوسال اُنھوں نے دارالعلوم دیوبند میں گزارے۔ اِسی زمانے میں جمعیت علماے ہند سے وابستگی اختیار کی۔ جمعیت سے اُن کی وابستگی ذہنی اور فکری لحاظ سے تھی، عملی سیاست میں اُن کی شرکت بس برائے نام ہی تھی۔ اُن کا زیادہ تر وقت تعلیم و تدریس ہی میں گزرتا تھا۔ اِسی زمانے میں آریہ سماجیوں کی برپا کی ہوئی شدھی سنگھٹن کی تحریک کی وجہ سے آریہ سماج اور مسلمانوں کے درمیان بحث و مناظرہ کا میدان گرم رہا۔ مولانا نے اِس موقع پر بھر پور طریقے سے مسلمانوں کی وکالت کی۔ قادیانی مبلغین کی سرگرمیاں بھی اِس زمانے میں اپنے عروج پر تھیں، مولانا نے مسلمانوں کو اس فتنے سے محفوظ رکھنے کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ جب نجد میں محمد بن عبدالوہاب کی تحریک سے متاثر حکومت کے فرماں روا سلطان عبدالعزیز بن سعود نے سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کر لی اور وہاں اپنے مسلک کے مطابق دینی اصلاحات نافذ کیں تو ہندوستان کے مختلف طبقوں نے محمد بن عبدالوہاب کی تحریک کے خلاف تحریر و تقریر کے ذریعے سے محاذ کھول دیا۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے شاہ اسماعیل شہید کی دعوت اور جماعت دیو بند کے علما کو بھی خاص طور پر نشانہ بنایا۔ مولانا منظورنعمانی نے اِس موقع پر بھی مباحثوں اور مناظروں کے ذریعے سے مسلمانوں تک صحیح بات پہنچانے کی بھر پور سعی کی۔ گویا اُن کی زندگی کا ایک بڑا حصہ تعلیم و تدریس میں اور اِس کے ساتھ ساتھ دین اور علماے دین پر ہونے والے حملوں کی مدافعت میں گزرا۔1932ء میں ’’دار المبلغین‘‘ لکھنؤسے وابستہ ہوئے۔ یہ ادارہ اِس لیے قائم کیا گیا تھا کہ دارالعلوم دیو بند کے فارغ التحصیل علما کو تحریر و تقریر کی تربیت دی جائے۔ اِسی قیام کے دوران میں اُنھوں نے’’الفرقان‘‘ کے اجرا کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ مارچ 1934ء میں بریلی سے ’’الفرقان ‘‘ کا اجرا ہوا۔ لکھنؤقیام کے دوران ہی میں مولانا کا’’ترجمان القرآن‘‘ اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سے تعارف ہوا۔ مولانا نعمانی ’’ترجمان القرآن‘‘ میں شائع ہونے والی مولانا مودودی کی تحریروں سے بہت متاثر ہوئے۔ اِسی کیفیت میں اُنھوں نے مولانا مودودی سے خط کتابت کا سلسلہ شروع کیا۔ بعدازاں مولانامودودی سے براہِ راست ربط و ضبط پیدا ہوا۔مولانا مودودی نے اپنے کام کے آغاز میں جب’’دارالاسلام‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کا پروگرام بنایاتو مولانا نعمانی سے ادارہ میں شمولیت کی پر زور خواہش کا اظہار کیا۔ مولانا نعمانی ادارے کے تاسیسی اجلاس میں تو شریک ہوئے، لیکن مولانا کے طرزِ زندگی کے بارے میں کچھ تذبذب پیدا ہو جانے کی بنا پر، اُنھوں نے ادارے کی رکنیت اختیار نہیں کی۔ اِسی زمانے میں مولانا مودودی نے مولانا منظور نعمانی کی فرمایش پر’’تجدید و احیاے دین‘‘ کے زیر عنوان رسالہ تحریر کیا۔ یہ رسالہ جماعت کے بنیادی لٹریچر میں شامل ہے۔

مولانا منظور نعمانی سمجھتے تھے کہ دین کی خدمت کے لیے ضروری ہے کہ مخلصین کی ایک جماعت قائم ہو۔ اُن کا خیال تھا کہ اِس جماعت کی ذمہ داری ایسی شخصیت کو اٹھانی چاہیےجو قدیم و جدید علوم سے کماحقہٗ واقف ہو اور اپنے آپ کو پوری طرح اُس کی تنظیمی سرگرمیوں کے لیے خاص کر دے۔ اپنی اِس خواہش کی تکمیل کے لیے اُنھوں نے مولانا ابوالحسن علی ندوی سے بات کی۔ اُنھوں نے اِس کام کی ضرورت سے تو اتفاق کیا، لیکن اِس کی بنیادی ذمہ داری اٹھانے سے معذوری ظاہر کی۔ اِس سلسلے میں اُنھوں نے مولانا ابوالحسن علی ندوی کے ساتھ مل کر بعض دوسرے علما سے بھی ملاقاتیں کیں اور متعدد سفر بھی کیے، لیکن کوئی اجتماعی کام شروع نہیں کیا جا سکا۔

اِس زمانے میں مولانا منظور نعمانی کی جو کیفیت تھی ، اُس کے بارے میں مولانا ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں:

’’مولانا کے دل و دماغ پر اس زمانہ میں خاکسار تحریک کی عسکری تنظیم کے متوازی ایک تنظیم قائم کرنے کا خیال حاوی تھا، ان کے نزدیک، اس کے بغیرحوصلہ مند نوجوانوں کو خاکسار تحریک کے مضر اثرات سے بچانے کی کوئی صورت نہیں تھی، ان کے نزدیک، محض علمی تردید و استدلال کافی نہیں تھا،ایک عملی اور عسکری تنظیم ضروری تھی، جس میں نوجوانوں کو مشغول کر کے مطمئن کیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے اس مہم کا آغاز کر دیا تھا، لیکن ان کو اس کا بھی احساس تھا کہ وہ اس کی قیادت کے لیے زیادہ موزوں نہیں، اس لیے کہ ان کی شہرت ایک کامیاب دیو بندی مناظر، اور ردبریلویت کے مشہور پرجوش مقرر اور عالم کی حیثیت سے ہو چکی تھی۔ ان کی شخصیت جلد متنازع فیہ بن جائے گی، اس لیے وہ کسی ایسی موزوں شخصیت کی تلاش میں تھے،جس کی کوئی ایسی شہرت نہ ہو، وہ حالات حاضرہ سے بھی باخبر ہو اور اس مقصد سے کلی اتفاق رکھتا ہو۔‘‘ (کاروان زندگی235-234)

بالآخر مولانا منظور نعمانی سید ابوالاعلیٰ مودودی کی شخصیت پر کسی قدر مطمئن ہو گئے۔ چنانچہ جب جماعتِ اسلامی کا تاسیسی اجلاس ہوا تو اُس میں مولانا منظور نعمانی نے بھر پور شرکت کی۔ اِس موقعے پر جماعت کی امارت کے لیے اُنھوں نے ہی مولانا مودودی کا نام پیش کیا۔ مولانا منظور نعمانی اِس موقعے پر نائب امیر بھی منتخب ہوئے۔ اِس کے بعد ’’الفرقان‘‘، ’’ترجمان القرآن‘‘ ہی کی طرح جماعت کا ترجمان بن گیا، لیکن جماعت کی تاسیس کے تقریباً دو سال بعد ہی اُنھوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ علیحدگی کی وجہ بیان کرتے ہوئے اُنھوں نے لکھا:

’’میری یہ علیحدگی کسی اصولی اختلاف کی بنیاد پرنہیں، بلکہ اس کا باعث، دراصل کچھ شخصی قسم کی چیزیں ہوئی ہیں، جن کے باوجود وابستہ رہنا میں نے اپنے لیے صحیح نہیں سمجھا اور ان کا کوئی اطمینان بخش اصلاحی حل بھی میں نہیں پا سکا، نیز میری یہ علیحدگی صرف اس مخصوص نظام جماعت سے ہے، یعنی میں اب اس کا باضابطہ رکن نہیں رہا ہوں اس لیے اگرچہ جماعت کی باضابطہ شرکت اور اس کی ذمہ داریوں سے میں سبک دوش ہو چکا ہوں، لیکن پھر بھی اس کے اصل مقصد کے ساتھ میری وابستگی ویسی ہی ہے اور میں اللہ پاک سے اس راہ میں جدوجہد کی بیش از بیش توفیق مانگتا ہوں۔‘‘

(مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت 70-69)

جیسا کہ درجِ بالا اقتباس سے واضح ہوتا ہے، اِس علیحدگی کی وجہ یہ تھی کہ اُنھیں مولانا مودودی کے طرزِ زندگی سے اختلاف تھا، لیکن بعد ازاں اُنھیں جماعتِ اسلامی کے فکر سے بھی، جو درحقیقت سید مودودی کا فکر تھا، بنیادی اختلاف پیدا ہو گیا۔ اُنھوں نے جماعت کے فکر کی بنیادی کتاب ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ پر سخت تنقید کی۔ وہ لکھتے ہیں:

’’میں نے اس پر بہت غور کیا کہ مودودی صاحب سے ایسی خطرناک غلطی (الٰہ، رب، دین اور عبادت جیسی دین کی بنیادی اصطلاحات کے بارے میں یہ سمجھنا اور لوگوں کو باور کرانے کی کوشش کرنا کہ صدیوں سے جمہور علماے امت،ان کا جو مطلب سمجھ رہے ہیں وہ غلط یا ناقص تھا۔) کیوں ہوئی؟ تو میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ بیسویں صدی کے اس دور میں جب کہ ساری دنیا میں سیاست اور سیاسی اقتدار کے مسئلہ نے دوسرے تمام مسائل سے زیادہ، قیامت اور جنت، دوزخ کے مسئلہ سے بھی زیادہ اہمیت حاصل کر لی تھی۔… اس سیاست زدہ فضا اور ماحول میں مولانا مودودی صاحب نے اپنی دعوت و تحریک کو خاص کر جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کی نگاہوں میں وقیع اور مقبول بنانے کے لیے ضروری سمجھا کہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ،اور عقیدۂ توحید کی اور اس طرح اسلام کی ایک نئی سیاسی تشریح کی جائے اور اسی کو دعوت کی بنیاد بنایا جائے۔… اس کے لیے ان کو ضرورت محسوس ہوئی کہ عقیدۂ توحید سے تعلق رکھنے والی خاص بنیادی اصطلاحوں (الٰہ، رب، عبادت، دین) کی وہ نئی سیاسی تشریح کریں۔‘‘

( مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت 94-93)

معاصر خاکسار تحریک اور علامہ مشرقی کے وہ سخت ناقد تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ تحریک پھیلنے میں کامیاب ہو گئی اور اِس نے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو متاثر کر لیا تو پھر مسلمانوں میں دینی حمیت باقی نہیں رہے گی اور معروف و منکر میں فرق ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ اُنھوں نے خاکسار تحریک کی سخت مخالفت کی۔ اپنی کتاب ’’مولانا مودودی سے میری رفاقت کی سرگزشت‘‘ میں وہ لکھتے ہیں:

’’علامہ مشرقی جس چیز کو اسلام کے نام سے پیش کر رہے ہیں وہ رسول اللہ کالا یا ہوا اور قرآن کاپیش کیا ہوا اسلام نہیں ،بلکہ جرمنی کے ہٹلر اور اٹلی کے موسولینی کا ’’دین ‘‘ہے اور ان کی تحریک سیاسی حیثیت سے بھی مسلمانان ہند کے لیے تباہ کن ہے اور خدانکردہ اس کے نتیجہ میں اسلامیان ہند کسی بہت برے انجام سے دو چار ہو سکتے ہیں۔‘‘ (150)

مولانا منظور نعمانی کا مولانا ابوالحسن علی ندوی سے تعارف تو اُسی زمانے میں ہو چکا تھا،جب مولانا نعمانی لکھنؤ میں’’دارالمبلغین‘‘سے وابستہ تھے، لیکن یہ تعارف، تعلق کی صورت میں اُس وقت بدلا جب مولانا ندوی نے اپنی نو تصنیف کتاب’’سیرت سید احمد شہید‘‘مولانا نعمانی کو ارسال کی۔کتاب کے موصول ہونے کے بعد مولانا نعمانی نے جو خط ارسال کیا، اِس سے ان کے علمی اور دعوتی اشتیاق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ خط کے الفاظ ہیں:

’’یہاں ڈاک آنے کا وقت وہ ہے جب میں کھانے کے بعد سونے کے لیے تیار ہوتا ہوں۔ تمھاری کتاب کے مطالعے نے مجھے سونے نہیں دیا، میں بہت متاثر ہوا، اب تم یہ لکھو کہ تمھاری یہ کتاب تصنیف برائے تصنیف ہے یا کچھ کرنے کا بھی ارادہ ہے؟‘‘

(کاروانِ زندگی، ابوالحسن علی ندوی 234)

جس زمانے میں مولانا اجتماعی کام کرنے کے سلسلے میں قیادت کی تلاش میں سرگرداں تھے تو اُنھوں نے مولانا ابوالحسن علی ندوی کے ہم راہ میوات کے تبلیغی مرکز میں مولانا الیاس سے ملاقاتیں کیں۔ دونوں حضرات مولانا الیاس کی شخصیت اور اُن کے کام سے بہت متاثر ہوئے۔ چنانچہ اُنھوں نے تبلیغی جماعت کے کام کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا لیا۔ اِن دونوں حضرات نے مل کر لکھنؤ میں تبلیغی کام کو منظم کیا۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے پنجاب،سرحد، کشمیر اور دوسرے علاقوں کے طویل تبلیغی دورے کیے۔ اِس زمانے میں تبلیغی جماعت کے جمعہ کی شب کے تبلیغی اجتماعات دارالعلوم ندوہ کی مسجد میں ہوتے تھے۔ اِن اجتماعات میں نمازِمغرب کے بعد دعوتی خطبات اور دروسِ سیرت کی خدمات مولانا منظور نعمانی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی ہی انجام دیتے تھے۔

مولانا نعمانی نے تصنیف و تالیف کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اُن کی شہرۂ آفاق کتاب’’معارف الحدیث‘‘اُن کے نام کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ اِس کے علاوہ اُنھوں نے تفہیم دین کے سلسلے میں سادہ اور عام فہم اسلوب میں متعدد کتابیں تحریر کیں۔ یہ کتابیں عوام الناس میں بہت مقبول ہوئیں۔ اِن میں’’اسلام کیا ہے؟‘‘،’’آپ حج کیسے کریں؟‘‘، ’’قرآن آپ سے کیا کہتا ہے؟‘‘ اور’’دین و شریعت‘‘ جیسی کتابیں اسلامی لٹریچر میں نہایت ممتاز اور منفرد درجہ رکھتی ہیں۔ مولانا منظور نعمانی کی تحریروں کے بارے میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کا یہ تبصرہ بالکل صحیح ہے:

’’یہ مولانا کا بہت بڑا امتیاز تھا کہ آپ نے اس وقت انگریزی داں طبقہ کے سامنے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کے سامنے اور خود نوجوان علما کے سامنے دین کو ایسی زبان میں اور ایسی تعبیر کے ساتھ اور ایسی ترکیب و انتخاب کے ساتھ اور ایسی حسن تفہیم کے ساتھ پیش کیا جس کی مثال بہت کم ملے گی۔‘‘ (ماہنامہ الفرقان، جون 1997، 24)

مولانا منظور نعمانی کی دینی اور علمی خدمات اتنی وسیع ہیں کہ اُنھیں احاطۂ بیان میں لانا شاید ممکن ہی نہیں، اِس لیے اُن الفاظ کی تائید ہی پرکفایت کی جا سکتی ہے جو مولانا ابوالحسن علی ندوی نے مولانا منظور نعمانی کی وفات کے موقعے پر کہے ہیں:

’’اللہ کی نعمت کے طور پر، اور اس زمانے کے حالات کو دیکھ کر کہیے کہ ایک کرامت کے طور پر مولانا کا وجود تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان سے وہ کام لیے جو اجتماعی جگہوں پر بہت کم کیے جاتے ہیں، تصنیف کرنے والے دعوت سے گریز کرتے ہیں، جلسوں میں تقریر کرنے والے کے لیے تصنیف مشکل کام ہے۔ اس لیے کہ وہ یکسوئی کی طالب ہے۔ بقدرضرورت دینی ملی کاموں میں حصہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ تعمیری سیاست کے ذریعہ ملت کے تحفظ میں حصہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ مولانا کو اللہ تعالیٰ نے یہ جامعیت عطا فرمائی۔

مولانا نے تمام سرگرمیوں کے ساتھ رسالہ’’الفرقان‘‘نکالا جو برصغیر کا نہ صرف ایک ممتاز دینی و دعوتی ماہنامہ تھا، بلکہ وہ ایک ایسا مکتب خیال اور مدرسۂ فکر تھا جس سے لوگوں کی ذہنی اور فکری رہنمائی ہوتی تھی۔ توحید خالص اور سنت صحیحہ کا پیغام ملتا تھا۔

مولانا کی وفات ملت کا ایک عظیم خسارہ ہے۔ پھر ان کی معذوری جس کی مدت مہینوں سے متجاوز ہو چکی تھی، وہ ملت کا نقصان تھا، مولانا کی وفات سے ملت کا ایک بڑا سر چشمۂ قوت بند ہو گیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے کارناموں کو زندہ رکھے اور ان کی تصنیفات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔‘‘ (ماہنامہ الفرقان، جون 1997، 30)

[جولائی 1997ء]