]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
سورۂ حج کے آٹھویں رکوع میں ہے: ’ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ ‘، ’’اور ہم نے نہیں بھیجا تجھ سے پہلے کوئی رسول، نہ کوئی نبی، مگر (اس کا حال یہی ہوا کہ) جب اس نے آرزو کی (کہ لوگ میری دعوتِ حق قبول کر لیں) تو شیطان نے اس کی آرزو پوری ہونے میں خلل ڈال دیا، (یعنی وسوسہ اندازی کر کے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا) پس اللہ مٹا دیتا ہے جب شیطان ڈالتا ہے، پھر اللہ پختہ فرما دیتا ہے اپنے احکام کو‘‘(22: 52)۔یعنی شیطانی وساوس کے تحت جو شکوک و شبہات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے قطعی جوابات دے کر انھیں زائل کر دیتا ہے۔ اس طرح اپنے احکام کو پختہ و ناقابل انکار بنا دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دیکھ کر بڑی کوفت ہوتی ہے کہ خوب سمجھانے کے باوجود بہت سے لوگ قبولِ حق سے روگرداں ہیں۔ آپ کو تسلی دی گئی کہ آپ سے پہلے بھی ہر رسول اور ہر نبی کو یہ صورتِ حال پیش آئی ہے۔
اس آیت کا معنی و مطلب بالکل واضح ہے، مگر بخاری نے اس کی تفسیر میں دو وجوہات ذکر کی ہیں، جو درست نہیں: بخاری نے ایک وجہ کی نسبت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف کی ہے اور ایک وجہ کی کسی اور شخص کی طرف، جس کا نام ذکر نہیں کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف یہ توجیہ منسوب کی ہے کہ ’تَمَنّٰی‘ اس آیت میں ’حَدَّثَ‘ کے معنی میں ہے اور ’اُمْنِیۃ‘ حدیث، یعنی کلام و گفتگو کے معنی میں۔ مطلب یہ ہے کہ جب رسول یا نبی لوگوں سے بات کرتا تھا تو ایسا بھی ہو جاتا کہ شیطان سننے والوں کے کانوں میں وہ بات ڈال دیتا جو اس نے نہیں کہی ہے۔ یہ علی بن ابی طلحہ کذاب نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر کے ذکر کیا ہے۔ بخاری نے پوری کتاب میں کہیں علی بن ابی طلحہ کا نام ذکر نہیں کیا، مگر اس کذاب نے جو انٹ شنٹ اقوال ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیے ہیں، انھیں بخاری نے جزم و یقین کے ساتھ ’قال ابن عباس، قال ابن عباس‘ کہہ کر بیان کر دیا ہے۔ منظوم و منثور کلام عرب میں کہیں کسی کو’تَمَنّٰی‘ بہ معنی ’حَدَّثَ‘ اور’ اُمْنِیَّۃ‘ بہ معنی حدیث، یعنی گفتگو نہیں مل سکتا۔ دوسری توجیہ جس کے قائل کا بخاری نے نام نہیں لیا، یہ ذکر کی ہے کہ’ تَمَنّٰی‘ بہ معنی ’قَرَءَ ‘ہے اور’اُمْنِیَّۃ‘بہ معنی ’قراءۃ‘، یعنی جب رسول یا نبی نے اللہ کی اتاری ہوئی آیتیں پڑھیں اور لوگوں کو سنائیں تو شیطان نے اس کی قراءت میں آمیزش کر کے اس کی آواز میں اپنی آواز ملا کر سننے والوں کے کانوں میں وہ بات ڈال دی جو اس آیت میں نہ تھی، جس کو اللہ کے رسول یا نبی نے پڑھا تھا۔
یہ توجیہ بھی قطعاً غلط ہے۔ عربی زبان میں ’تَمَنّی‘ بہ معنی ’قَرَءَ‘ نہیں آتا، نہ ’اُمْنِیۃ‘ بہ معنی ’قراء ۃ‘ ہے۔ ’تَمَنّی‘ کے معنی ہیں: آرزو کی۔ ’اُمْنِیَّۃ‘ آرزو کو کہتے ہیں۔ بخاری کی ذکر کی ہوئی ان دونوں توجیہوں کا مبنیٰ ایک جھوٹا قصہ ہے، جسے سعید بن جبیر نے بیان کیا ہے اور اسے بیان کرتے ہوئے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یا کسی اور صحابی کا نام نہیں لیا تھا۔ سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سورۂ نجم پڑھ کر لوگوں کو سنائی۔ جب آپ نے آیت پڑھی:’اَفَرَءَیۡتُمُ اللّٰتَ وَ الۡعُزّٰی. وَ مَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الۡاُخۡرٰی‘ فاَلْقی الشیطان علی لسانہ. تلک الغرانیق العُلٰی و ان شفاعتَہن لَترتَجٰی. فقال المشرکون: ما ذکر اٰلہتَنا بخیر قبلَ الیوم. فسجد و سجدوا معہ فنزلت ہذہ الأیۃ: ’وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤی اَلۡقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمۡنِیَّتِہٖ‘۔ یعنی شیطان نے آپ کی زبان پر ڈال دیا: ’تلک الغرانیق‘ الخ۔ مشرکین نے خوش ہو کر کہا کہ آج سے پہلے اس شخص نے ہمارے معبودوں کا خیر کے ساتھ ذکر نہیں کیا تھا۔ پس آپ نے سجدہ کیا اور انھوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔ تب یہ واضح کرنے کے لیے کہ ’تلک الغرانیق العلی‘محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہی ہوئی بات نہ تھی، بلکہ شیطان کی بات تھی، اللہ نے یہ آیت اتاری جو سورۂ حج میں ہے۔
حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ ابن ابی حاتم اور ابن جریر طبری اور ابن المنذر نے متعدد طرق کے ساتھ اس کی روایت شعبہ سے کی ہے۔ اس نے ابو بشر جعفر بن ابی وحشیہ سے، اس نے سعید بن جبیر سے اس کی روایت کی ہے۔ اس کے راوی اول سعید بن جبیر ہیں۔ میرے نزدیک سعید بن جبیر عقیل و فہیم اور ثقہ شخص نہ تھے، اگرچہ اہل رجال ان کو ثقہ و صالح قرار دیتے ہیں، مگر ان کی روایات کچھ اور ہی کہتی ہیں۔
شیطان کو اللہ نے کسی بھی انسان کی بات میں اپنی بات ملانے اور انسان کی زبان سے اسے بولنے کی قدرت نہیں دی۔ پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اپنی بات بولے۔ سعید بن جبیر اس حقیقت سے بھی ناواقف تھے کہ نبی کی زبان سے وہ بات نہیں نکل سکتی، نہ قصداً، نہ چوک کر، نہ بھول کر، جو اس کی دعوت کے منافی ہو۔
پھر یہ کہ سورۂ حج جس میں آیت ’وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤی اَلۡقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمۡنِیَّتِہٖ ‘ ہے، مدنی سورت ہے۔ پوری سورت مدینہ میں نازل ہوئی تھی اور سورۂ نجم یقیناً مکی سورت ہے۔ یہ ہجرت سے بہت پہلے مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ سعید بن جبیر نے ذکر کیا ہے کہ ’تلک الغرانیق‘ والے قصہ سے جو غلط فہمی پیدا ہوئی تھی، اسے زائل کرنے کے لیے اللہ نے یہ آیت اتاری: ’وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ ‘۔ سعید نے یہ نہ سوچا کہ ایسا ہوا ہوتا تو یہ آیت سورۂ نجم کے بعد فوراً کسی مکی سورت میں ہی اتری ہوتی، کئی سال بعد مدینہ میں نہ اترتی۔
محدثین نے سعید بن جبیر کو ثقہ قرار دیا ہے۔ حجاج بن یوسف نے جرم بغاوت میں ان کو قتل کیا تھا۔ اس کی وجہ سے محدثین و مورخین حجاج کو مطعون کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سعید بن جبیر سے یہ قصہ ابو بشر نے، اس سے شعبہ نے، اس سے عبدالرحمٰن بن مہدی و محمد بن جعفر غندر و ابو داؤد طیالسی و امیہ بن خالد نے روایت کیا ہے۔ یہ سب ثقہ راوی ہیں۔ بخاری نے یہ قصہ تو درجِ صحیح کرنے سے اجتناب کیا ہے۔ کسی اور کتاب میں بھی اس کی تخریج نہیں کی، لیکن سورۂ حج کی اس آیت کی تفسیر میں جو دو توجیہات ذکر کی ہیں، ان کی بنیاد اسی جھوٹے قصے پر ہے۔
اس قصہ کی روایات کا میں نے تفصیلی مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ سعید بن جبیر کی طرح سدی و ابوالعالیہ و ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم اور کعبہ قرظی و عطیہ عوفی نے بھی اس کی روایت کی ہے۔ ان جملہ روایات کے مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ مشہور کذاب ابو حناب کلبی نے اسے گھڑا تھا۔ اسی سے سعید بن جبیر وغیرہ نے اسے سنا تھا اور ابو حناب کلبی کانام اس لیے نہ لیا کہ اہل علم فوراً اسے رد کر دیتے، اس لیے سعید بن جبیر وغیرہ نے تدلیس و تلبیس کا طریق اختیار کر کے ابو حناب کلبی کا نام نہیں لیا تھا۔ مجھ سے بہت پہلے قاضی ابو بکر بن عربی و قاضی عیاض اور دیگر محققین اس قصہ کی پختہ دلائل کے ساتھ تردید کر چکے ہیں۔ ابن حجر نے ’’فتح الباری‘‘ میں ابو بکر بن عربی و قاضی عیاض کی تردید کا ذکر بھی کیا ہے، مگر ابن حجر روایت پرستی میں حد سے گزرے ہوئے تھے۔ لکھا ہے: ’لکن کثرۃ الطرق تدل علی ان للقصۃ اصلًا مع ان لہا طریقین اٰخرین مرسلَیْن رجالہما علی شرط الصحیحین اعنی حدیث الزہری عن ابی بکر بن محمد و حدیث داؤد بن ابی ہند عن ابی العالیۃ‘ (فتح الباری 8، تفسیر سورۂ حج)۔ یہ شروع سے آخر تک ابن حجر کی مغالطہ انگیزی ہے۔ سعید بن جبیر سے یہ قصہ ایک ہی طریق سے مروی ہے: ’شعبۃ عن ابی بشر عن سعید بن جبیر‘۔ نہ ابو بشر کے علاوہ کسی اور شخص نے اس کی سعید سے روایت کی ہے، نہ شعبہ کے علاوہ کسی اور شخص نے ابو بشر سے۔ پس محدثین کی اصطلاح کے مطابق یہ حدیث غریب مرسل ہے۔ پھر شعبہ سے متعدد راویوں نے اس کی روایت کی ہے۔ اسی طریق سے کثرتِ طرق تو اس میں تب ہوتی جب ابو بشر کے علاوہ اور لوگوں نے بھی سعید سے اور شعبہ کے علاوہ اور لوگوں نے بھی ابو بشر سے اس کی روایت کی ہوتی۔ شعبہ نے متعدد اشخاص سے اسے بیان کرنے کی غلطی کی تھی۔ شعبہ کے ان تلامذہ کی روایات کو اس قصہ کے طرق قرار دینا قطعاً غلط ہے۔ اگر کوئی جھوٹی اور خلاف واقعہ بات دس بیس آدمی بیان کریں تو اس سے وہ جھوٹی بات صحیح نہیں ہو جاتی، نہ کوئی عقل مند یہ کہہ سکتا ہے کہ ان لوگوں کا بیان اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس بات کی اصلیت ضرور ہے۔ صدیوں سے دنیا بھر کے عیسائی کہتے آ رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کو دشمنوں نے سولی دے کر قتل کیا ہے تو کیا یہ کہنا صحیح ہو گا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قصہ کی کچھ اصلیت ہے۔ پھر ابن حجر نے یہ کہا ہے کہ یہ قصہ دیگر دو مرسل روایتوں میں بھی آیا ہے، مگر آپ تو خود انھیں مرسل تسلیم کر رہے ہیں۔ دو نہیں دس مرسل روایات بھی ہوں تو وہ بھی ضعیف و ناقابل اعتبار ہیں۔
راویوں کی ایک افسوس ناک غلطی
جیسا کہ معلوم ہے اور میں بتا چکا ہوں کہ ’تَمَنّٰی‘ عربی زبان میں بہ معنی ’قَرَء‘ نہیں آتا، مگر اس جھوٹے قصہ کو صحیح باور کرانے کی غرض سے کسی شخص نے ایک شاعر کے شعر میں تصرف کر کے بتایا ہے کہ عربی زبان میں ’تَمَنّی‘ بہ معنی ’قَرَءَ‘ آتا ہے۔ شعر ہے:
تلا مِنْ کتاب اللّٰہ اوّلَ لیلۃ
تلاوۃَ داؤد الزبور علی رِسْل
’’اس نے آغازِ شب میں اللہ کی کتاب کی تلاوت کی ٹھہر ٹھہر کر، داؤد کے زبور کو تلاوت کرنے کی طرح۔ ‘‘
’’فتح الباری‘‘ (13/242) میں یہ شعر یوں لکھا ہے:
تَمَنّی کتاب اللّٰہ اول لیلۃ
تَمَنِّیَ داؤد الزبور علی رسل
جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دروغ بافی کرنے کی جسارت رکھتے تھے، انھیں کسی شاعر کے شعر میں کچھ تصرف کرنا کیا مشکل تھا۔ تصرف کر کے ’تَلَا‘ کو ’تَمَنّی‘ اور ’تلاوۃَ ‘ کو ’تمنِّیَ‘ بنا دیا اور ابن حجر نے اسے صحیح باور کر لیا۔1 بہر کیف یہ قصہ جس کی طرف بخاری نے اشارہ کیا ہے، قطعاً جھوٹا ہے۔
یاد رہے کہ اِس باطل روایت پر نقدمتن اور روایت و درایت کے نقطۂ نظر سے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے بھی سیرحاصل بحث کی ہے، جوان کی حدیثی تنقید و تحقیق کا شاہ کارہے۔ملاحظہ ہو: تفہیم القرآن 3/ 240۔
- ۔ اہل تفسیر میں سے بھی بعض لوگ ’تمنّی‘ کو تلاوت کے معنی میں لیتے ہیں اور یقینی طور پر انھوں نے مذکورہ روایات سے متاثر ہو کر ہی یہ موقف اختیار کیا ہے۔ تعجب ہے کہ راغب بھی یہی کہتے ہیں: ’فی امنیتہ ای فی تلاوتہ‘( 674 )۔