جناب احمد جاوید صاحب نے ’تصوف‘ کے بارے میں اپنے تذبذب کو بیان کیا ہے۔ ایک حالیہ گفتگو میں اُنھوں نے بتایا ہے کہ اُن کے سامنے ایک جانب وہ عیوب ہیں، جو اِس فکر کو کلیتاً قبول کرنے میں مانع ہیں اور دوسری جانب وہ محاسن ہیں، جو اِسے یکسر رد کرنے سے رائگاں ہوتے ہوئے نظر آتےہیں۔ ’’تصوف اور تذبذب‘‘ کے زیرِ عنوان اُن کی یہ گفتگو برادرِ مکرم بیرسٹر ظفر اللہ خان صاحب کی زیرِ طبع کتاب کے تناظر میں ہے۔ اِس کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:
اول، فقہ اور کلام کے علوم و فنون دین کی تفہیم و تعلیم کے لیے انسانوں نے وضع کیے ہیں۔ اِن کی نوعیت الہامی یا نبوی نہیں، بلکہ انسانی ہے۔ اِنھیں اِسی حیثیت سے قبول کیا جاتا ہے۔ تصوف کا معاملہ بھی یہی ہے۔ فقہ اور کلام کی طرح یہ بھی ایک انسانی تعبیری روایت ہے۔ چنانچہ اِسے الہامی اورنبوی روایت کے طور پر پیش کرنا یا قبول کرنا صریح طور پر غلط ہے۔
دوم، دین سے متعلق کسی بھی انسانی تعبیری روایت کے بارے میں مطلق طور پر رد و قبول کا فیصلہ کرنا درست نہیں ہے۔ مطلقًا قبول کرنا اِس لیے درست نہیں ہے کہ انسانی فہم و ادراک پر مبنی ہونے کی بنا پر وہ نقص و خطا کے امکانات کی حامل ہوتی ہے۔ مطلق رد کرنا اِس لیے غلط ہے کہ وہ دین کی تشریح و تعبیر اور تعلیم و تربیت کی نہایت ضروری خدمت انجام دینے کی کوشش کرتی ہے۔ چنانچہ جس طرح ہم فقہ اور کلام کی تعبیری روایات کو انسانی کاوش کے درجے تک محدود رکھتے ہوئے جزواً رد یا قبول کرتے ہیں، اُسی طرح تصوف کی روایت کو بھی جزوی طور پر رد یا قبول کرنا چاہیے۔
سوم، انسانی تعبیری روایت کےجزوی طور پر رد وقبول کی وضاحت یہ ہے:
قبولیت اعتباری ہونی چاہیے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ روایت کے جس جز یا مظہر کو قبول کیا جائے، اُسے غلطی کے امکان کے ساتھ قبول کیا جائے۔ گویا ہم اُسے صحیح سمجھ کر قبول کریں، مگر اُس کے غلط ہونے کے امکان کو بھی ساتھ ہی تسلیم کریں۔
تردید منصوص ہونی چاہیے۔ یعنی تعبیری روایت کے جو اجزا یا جو مظاہر قرآن و سنت سے متصادم ہوں، اُنھیں رد کر دیا جائے ۔
تصوف کی تعبیری روایت کے بارے میں یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اِس کے نتیجے میں رد و قبول کلی نہیں، بلکہ جزوی اور مستقل نہیں، بلکہ عارضی ہو گا اور نصوص کے تحکم کے تابع ہو گا۔
چہارم، ہمارے ہاں تصوف کے معاملے میں انتہائی رویے اختیار کیے گئے ہیں۔ بعض لوگوں نے مکمل قبولیت کا اور بعض نے مکمل تردید کا طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ یہ دونوں درست نہیں ہیں۔ کلی قبولیت کے نتیجے میں توحید، نبوت و رسالت اور کتاب و سنت کی حیثیت مجروح ہوئی ہے۔ کلی تردید کے نتیجے میں تزکیۂ نفس، تعلق باللہ اور عبادت کے ذوق و شوق کی روایت میں کم زوری آئی ہے۔ اِن انتہائی رویوں کے بجاے اگر اِس کےباطل افکار و مظاہر کو ردکرنے اور برحق افکار و مظاہر کو قبول کرنے کا طریقہ اختیار کیا جاتا تو اِس کے مفاسد سے محفوظ رہتے ہوئے اِس کے فوائد کو حاصل کیا جا سکتا تھا۔
پنجم، اصل مقصود تزکیۂ نفس ہے۔ اِس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کے ساتھ تعلق قائم رکھا جائے، اُس کی حضوری میں رہا جائے اور ذہنی، عملی اور اخلاقی اچھائیوں کو اختیار کیا جائے۔ اِس مقصد کے حصول کے لیے تصوف یا دیگر تعبیری روایات کے اداروں اور تعریفات و اصطلاحات کا التزام ضروری نہیں ہے۔ اُن کی تجدید کی جا سکتی اور دورِ حاضر کے تقاضوں کے تحت اِنھیں از سرِ نو تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر قدیم اصولوں، موضوعات اور خیالات (themes) کو موجود سیاق و سباق اور قالب میں ڈھال کر اور جدید مظاہر کی صورت دے کر مفید اور قابل عمل بنا لیا جائے تو یہ اُسی طرح کی دینی خدمت ہو گی، جیسی قدیم تعبیری روایات میں پیش کی گئی ہے۔ تاہم، یہ ساری جدو جہد تزکیۂ نفس کے مقصد کو پانے اور اِس ضمن میں تعلق باللہ کے آداب کو نبھانے اور تہذیبِ اخلاق کو بروے کار لانے کے لیے ہونی چاہیے ۔
یہ احمد جاوید صاحب کی گفتگو کا خلاصہ ہے۔ گفتگو کا مرکزی خیال درجِ ذیل ملفوظات پر مبنی ہے:
’’ایک جگہ تصوف کو پورے کا پورا قبول کر لیا گیا اور دوسری جگہ اُسے پورے کا پورا رد کر دیا گیا، دونوں صورتوں میں نتائج اچھے نہیں نکلے۔
کلی قبولیت ــــ یعنی تصوف کو اُس کے تمام مظاہر سمیت قبول کر لینا ــــ کے مضر نتائج تو بہت زیادہ ہیں۔ یہ رویہ جہاں جہاں بھی پایا گیا ، وہاں نبوت کا ادارہ کم تر بن گیا؛ وہاں قرآن ایک جاہلانہ کھلواڑ کی جگہ بن کے رہ گئی ؛ وہاں شخصیت پرستی مشرکانہ حدوں کو چھوتی ہوئی ایک روایت بن گئی؛ شرکِ صریح رکھنے والی شخصیت پرستی، جیسےایک شعار بن گئی؛ پیری مریدی اور یہ سب۔ تو کلی قبولیت کے تو بہت زیادہ مضر نتائج اور مظاہر ہیں۔ وہ غالباً ہر ایک کے علم اور مشاہدے میں ہیں۔
اِسی طرح کلی رد کے بھی مضر نتائج نکلے۔ کلی رد کرنے والے لوگوں میں یا مسالک میں یا اسکولز آف تھاٹ میں تنہائی پیدا ہو گئی اور تزکیۂ باطن، ذوقِ عبادت، شوقِ ذکر اور تعلق مع اللہ کو مغزِ دین سمجھ کر اُس کی حفاظت کرنے اور اُس میں ایک ارتقائی حالت میں رہنے کی روایات ختم ہو گئیں۔ یعنی، تزکیۂ نفس، انسان کی باطنی گہرائیوں کو بندگی کی روشنی اور حرارت سے روشن اور گرم رکھنے کا رویہ اور ذوقِ عبادت، یہ سب چیزیں بہت تشویش ناک حد تک نیچے چلی گئیں۔ تو یہ ہوا کلی رد کرنے کا نتیجہ۔‘‘(گفتگو سے اقتباس)
جناب احمد جاوید صاحب کی اِس گفتگو سے بادی النظر میں تصوف کے بعض مظاہر کی تحسین اور نتیجتًا اُس کی جزوی قبولیت کا اظہار ہوتا ہے، مگر بہ ادنیٰ تامل یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اِس کی نوعیت صریح تنقید کی ہے، جو بالآخر کلی تردید کو لازم کرتی ہے۔ درجِ بالاسطور میں اگر اُن کے موقف کی درست ترجمانی ہوئی ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُنھوں نے اِس قدیم فکری روایت کی جڑ بنیاد پر حجج قاطعہ کا تیشہ رکھ دیا ہے۔ تصوف، جو خود کو آسمانی اور الہامی مقام پر فائز کرتا تھا، اُسے اُنھوں نے زمینی اور انسانی دائرے تک محدود کیا ہے اور اِس دائرے میں بھی اُس کے فکر و عمل کو قرآن و سنت کے تابع کر کے اُس کے خرقے میں موجود شرک فی الوجود، مخاطبۂ الہٰی، مشاہدۂ غیب، کمالِ نبوت اور حقیقت و معرفت کے عجائب کا اعتبار ختم کرنے کی سعی کی ہے۔ مزید برآں، اُنھوں نے تزکیۂ نفس اور تہذیب اخلاق کے خالص دینی تقاضوں کو تصوف کےتاریخی استناد سے الگ کرنے، اُس کے روایتی اداروں سے کاٹنے اور اُس کی رائج تعریفات سے مجرد کرنے کی جو پر زور ترغیب دی ہے، اُس نے قبولیت کی رہی سہی گنجایش کو بھی ختم کر دیا ہے۔
اِس پرزور تنقید کے ساتھ اُنھوں نے تزکیۂ نفس کے پہلو سے اُس کی اہمیت کو بیان کیا ہے اور اِس بنا پر اُس کی انسانی تعبیری روایت کی حیثیت سے قبولیت کو قابلِ جواز قرار دیا ہے۔ استدلال یہ ہے کہ اگر دیگر تعبیری روایات کو انسانی نقص و خطا کا محتمل سمجھنے کے باوجود جائز سمجھنا بجا ہے تو تصوف کو بھی اِسی معیار پر جائز سمجھنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔
اصولی لحاظ سےیہ صائب بات ہے۔ گذشتہ چودہ صدیوں میں معارفِ اسلامی میں جو عظیم الشان ترقی ہوئی ہے، وہ نصوص کی جمع و تحقیق، ترتیب و تدوین اور تشریح و تعبیر کے باب میں انسانی کاوشوں ہی کا نتیجہ ہے۔ تفسیر، حدیث، سیرت، فقہ، کلام کے علوم اِسی سے وجود میں آئے ہیں۔ یہ سب دینی خدمت کے کام ہیں اور اپنے جواز سے بھی آگے بڑھ کر تفقہ فی الدین کے قرآنی حکم کی تعمیل کا مظہر ہیں۔ تصوف کو اِن کی صف میں کھڑا کرنے میں سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ وہ بہ ذاتِ خود بندگی کے اِس مقام پر کھڑا ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مفسرین، محدثین، مورخین، متکلمین، اصولیین اور فقہا تو محض عاجز بندے ہیں۔ یہ سب اپنے فکر و نظر کو انسانی سطح پر محدود سمجھتے، اللہ اور اُس کے رسول کی مطلق برتری کو تسلیم کرتے اور لوگوں کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ ’’قرآن و سنت پر عمل کرو اور ہمارے اقوال کو زمین پر دے مارو‘‘، ’’میری ہر بات کی تحقیق کرو، جو کتاب وسنت کے مخالف ہو اُسے رد کر دو‘‘، ’’جب تم دیکھو کہ میں ایسی بات کہہ رہا ہوں، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے خلاف ہے تو جان لو کہ میری عقل ماری گئی ہے‘‘، ’’ اگر حدیث کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعی ہو تو لعنت ہے مجھ پر اگر میں بحث کروں‘‘۔ محض یہی نہیں، بلکہ وہ انسانوں کے مقابل میں بھی اِس عجز کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم اپنی جس بات کو صحیح کہتے ہیں، اُس میں غلطی کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں اور دوسرے کی جس بات کو غلط کہتے ہیں، اُس میں صحت کے امکان کو رد نہیں کرتے ۔
اہل تصوف کا معاملہ اِن سے بالکل مختلف ہے۔ وہ خود کو الہامی، نبوی اور بعض اوقات اِس سے بھی آگے بڑھ کر الوہی عظمت کے مرتبے پر فائز کرتے اور پورے ادعا اور تحکم کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ ’’اُن کی نگاہیں ہمیشہ لوح محفوظ پر لگی ہوتی ہیں‘‘ اور ’’جہاں وہ گھومتےہیں، حق اُن کے ساتھ گھومتا ہے۔‘‘ اِسی کانتیجہ ہے کہ اُن کی خانقاہوں میں ’أنا الحق‘ (میں حق ہوں)، ’سبحاني ما أعظم شأني‘ (میں پاک ہوں، میری شان کتنی بڑی ہے) اور ’ما في جبتي إلا اللّٰہ‘ (میرے جبے میں اللہ کے سوا کوئی نہیں) کی صدائیں گونجتی ہیں۔ چنانچہ اُنھیں فقہا و متکلمین اور مفسرین و محدثین کے زمرے میں شامل کرنے کی جستجو کرنا ویسا ہی ہے، جیسے کسی مدعیِ الہام و نبوت کو عامۃ الناس کے درجے میں شامل ہونے پر قائل کیا جائے یا بہ صورتِ دیگر امامیت، مہدویت اور ظلی و بروزی نبوت کی تعبیری روایات کو دینی معارف کی فہرست میں جگہ دلانے کی کوشش کی جائے۔
بات کو اگر سمیٹا جائے تو ہماری ناچیز راے میں تصوف کے تین بنیادی تفردات ہیں، جو اُسے اسلام کی متداول علمی روایت سے جدا رکھنے پر اصرار کرتے ہیں:
ایک یہ کہ وہ اپنے فکر و عمل کو، رسالتِ محمدی سے مجرد ہو کر، براہِ راست الہام پر قائم کرتا ہے اور اِس طرح خود کو نہ صرف نقص وخطا کی انسانی سطح سے بلند کر لیتا ہے، بلکہ نبوی رشد و ہدایت کا قلم دان بھی سنبھال لیتا ہے۔
دوسرے یہ کہ وہ صحابہ کے استناد سے ملنے والے قولی، عملی اور تحریری مشمولات ِ دین کو حتمی، مستقل اور مکمل مشمولات کی حیثیت سے قبول نہیں کرتا۔ اِن کو ضمنی اور محدود تصور کرتے ہوئے وہ مختلف استناد کے ساتھ جداگانہ فکری منہاج کو وضع کرتا ہے۔
تیسرے یہ کہ تزکیۂ نفس کے اہداف کو عبادات، تطہیرِ بدن، تطہیرِ خور و نوش اور تطہیرِ اخلاق کے مشروع طریقوں میں منحصر رکھنے کے بجاے اُنھیں مختلف اور مزید طریقوں سے منسلک کرتا اور اِس مقصد کے لیے ایک منفرد نظام عمل تشکیل دیتا ہے۔
یہی وہ عوامل ہیں، جن کی بنا پر مدرسۂ فراہی کے علما نے اِس کے لیے ’’اسلام کے متوازی دین‘‘ کی تعبیر اختیار کی ہے ۔