]’’نقد و نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
فلسفہ، تصوف اور علم دین کی تکون میں احمد جاوید صاحب کا مذہبی فکر کس رخ سے سامنے آتا ہے؟ فلسفیانہ تشکیک اور زبان کی دلالت کی عدم قطعیت پر اصرار کے ساتھ وہ ایمانیات کو کن بنیادوں پر استوار کر پاتے ہیں؟ ان کے فکر پر یہ ایک بڑا سوال ہمیشہ قائم رہتاہے۔ اپنے ایک حالیہ لیکچر بعنوان ’’آگے دیکھنا سیکھو‘‘ میں اپنی فکری بنیادوں کا تعارف کراتے ہوئے اس کا جواب انھوں نے فراہم کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خدا پر ایمان ’’علم کی کسی بھی شرط سے بے نیاز‘‘ ہو کر اختیار کیا جائے، اس کے بعد استدلال کی قوت فراہم کی جائے اور شعور کو ایمان سے ہم آہنگ کر لیا جائے۔
دیکھا جا سکتا ہے کہ اس فکر کی بنیاد بے علمی پر استوار کی گئی ہے۔ اس کے سوا چارہ بھی نہیں تھا۔ فلسفیانہ تشکیک پر اعتماد کا نتیجہ ذرائع علم پر عدم اعتماد کی صورت میں نکلنا لازم ہے۔ اس کے بعد مذہبی بیانات پر ایمان لانے کی کوئی بنیاد نہیں رہتی۔ بے نتیجیت جہاں منتہاے کمالِ علم ہو، زبان کا ذریعہ جہاں گونگا نہیں تو ’لا یکاد یبین‘ قرار پائے، جہاں علم کا اثبات ہی محل نظر ٹھہرے، وہاں علمی بنیادوں پر ایمان لانے کا مباحثہ کیسےبار پا سکتا ہے؟ چنانچہ یہی راہ بچتی ہے کہ ایمان کو علم کا موضوع نہ بنایا جائے اورعلمی شرائط سے بے نیاز ہو کر ایمان لانے اور بچانے کا مشورہ دیا جائے۔
اس غیر علمی اپروچ کو قرآن مجید ’’بغیر علم‘‘ اور ’’بغیر حق‘‘ جیسے الفاظ میں ہدف تنقید بناتا ہے۔ اپنے مخاطبین سے پوچھتا ہے کہ علمی شرائط پوری کیے بغیر وہ اپنے معتقدات کو کیوں تسلیم کیے ہوئے ہیں؟ ان کی بے علمی اور بے عقلی پر اصرار کے سبب ہی سے وہ خدا کے غضب کا شکار ہوئے۔
غور کیجیے کہ علمی شرائط سے بے نیازی کا یہ مقدمہ ایمان کے بعد دعوت دین کا مقدمہ بھی تحلیل کر دیتا ہے۔ مخاطبین سے کیا کہا جائے کہ کسی علمی شرط کا مطالبہ کیے بغیر اسلام کے خدا پر ایمان لے آؤ؟ دلائل بعد میں فراہم کیے جائیں گے! اُدھر سے بھی یہی جواب متوقع ہے کہ علم سے بے نیازی کی یہ سہولت انھیں بھی میسر ہونی چاہیے۔
ایمان باللہ یا ایمان بالغیب علم کا مسئلہ ہے۔ قرآن مجید خدا اور آخرت پر ایمان لانے کی جو بنیادیں فراہم کرتا ہے وہ علم، عقل اور فطرت کے مسلمات اور تاریخی شواہد پر مشتمل اور مبنی ہیں۔ ان کے ابلاغ لیے زبان کا جو واسطہ اختیار کرتا ہے، وہ واضح انسانی زبان، انسانی اسالیب اور محاورے پر مشتمل ہے۔ خدا کے کلام نے یہ تعینات اسی لیے قبول کیے کہ اس کا پیغام انسان کے لیے قابل فہم ہو سکے اور وہ پوری قطعیت سے قابل فہم ہے۔
ایک واضح کلام کا غلط یا درست فہم کلام کا نقص نہیں ہوتا، فہم کا نقص ہوتا ہے۔ اس سے کلام ظنی نہیں بن جاتا۔ لغت، اصولِ زبان، تناظرات بیان اور تدبر کا حق ادا کر کے فہم کو درست کیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس زبان و بیان اور عقل و فہم کے مسلمات کی صورت میں وہ معیارات موجود ہوتے ہیں جس کی بنا پر ہم ایک کوالیفائیڈ فہم کو درست اور دوسرے کو غلط قرار دیتے ہیں۔ یہ کام ہم ہر علم و فن اور روز مرہ کلام میں کرتے ہیں۔ یہی کام ہم قرآن مجید کے مفاہیم متعین کرنے میں کرتے ہیں۔
علمی و عقلی حریت کے اس دور میں الحاد کا چیلنج اس لیے بھی موثر ہوا کہ اہل ایمان کی اکثریت کے ہاں اپنے ایمان کی کوئی علمی بنیاد نہیں تھی۔ الحاد کا مقابلہ ایمان کو علمی بنیادوں پر استوار کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔ وہ مذاہب جو علمی بنیادوں سے محروم ہیں، یہ مجبوری ان کے پیروکاروں کی ہے کہ علمی شرائط سے بے نیاز ہو کر اپنے معتقدات کو بچائیں یا الحاد قبول کر لیں۔اسلام پورے قد سے اپنی علمی بنیادوں پر استوار ہے۔ اسے علمی شرائط سے بے نیاز ہو کر تسلیم کر لینے کا مشورہ دینے کی ضرورت نہیں۔
مذہب کو بے علمی سے مان لینے کے مشورے کی دوسری وجہ مذہب کو بھی تہذہب کے دائرے میں شمار کر لینا ہے۔ مذہب تہذیبی روایت میں شامل ہوتا ہے، مگر خود تہذیبی روایت نہیں ہوتا۔ یہ ایک علم کا نام ہے اور اسے علم کے طریقے پر حاصل کیا جانا ہی اس کا حق ہے۔ روایت محض اس لیے مانی اور منوائی جاتی ہے کہ وہ تہذیبی میراث ہے۔ مثلاً ہمارے ہاں یہ معیوب سمجھا جاتا ہے کہ والدین نیچے اور اولاد اونچی مسند پر بیٹھے ہوں۔ اس کا جواز اس کے سوا کچھ نہیں کہ روایت یہی ہے۔ لیکن مذہب کا معاملہ یوں نہیں۔ وہاں بتانا پڑتا ہے کہ کچھ غیبی باتوں کو بن دیکھے ہم کیوں مانتے ہیں۔
کلام میں تعیینِ معنی ایک حقیقت ہے۔ روز مرہ کی باتیں ہوں یا لین دین کے معاملات، یا عدالت میں قوانین اورتنازعات کے مباحث، کلام میں تعیینِ معنی کے امکان کو تسلیم کر کے پیش کیے جاتے اور اکثر اتفاق پر منتج ہوتے ہیں۔ اتفاق نہ ہو پائے تو وجہ زبان کو نہیں ٹھہرایا جاتا، عقلی، جذباتی، تناظراتی یا تعصباتی محرکات گنوائے جاتے ہیں۔ اختلاف فہم کلام کا خاصہ نہیں، قاری کا مسئلہ ہے جو بیش تر معاملات میں دور کر لیا جا سکتا ہے۔ دنیا انھی حقائق کو تسلیم کر کے چل رہی ہے، ورنہ ایک بڑا پاگل خانہ ہوتی جہاں کوئی کسی کو اپنی بات کا یقین نہ دلا سکتا۔
تعیینِ معنی کے منکرین خود اپنے موقف کی قطعیت کو ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور اسی بنا پر لگاتے ہیں کہ ان کے کلام کو پوری تعیین اور قطعیت سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کوئی ابہام رہ جائے تو اسے واضح کیا جا سکتا ہے۔ تضادِ فکر و عمل کا یہ نمونہ اپنے فکر و فلسفے کے خلاف خود اپنی شہادت ہے۔
تعیینِ معنی سے گریز کا منطقی نتیجہ صداقت کی عدم تعیین اور موضوعیت ہے۔ یہ اتنا خوش کن فلسفہ ہے، جس نے ہر کفر و گم راہی کو جواز فراہم کر دیا ہے۔ اس کے بعد دیانت داری کا تقاضا تو یہی ہے کہ کسی بھی بات پر ایمان و یقین نہ رکھا جائے، اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ علم کی کوئی شرط پوری کیے بغیر ہی خدا پر ایمان رکھ لیا جائے۔ اس پر مبارک شاہ صاحب کا شعر یاد آتا ہے:
بتا ان اہل ایماں کی سزا رکھی ہے کیا تو نے
خداوندا! جو تجھ کو احتیاطاً مان لیتے ہیں
احمد جاوید صاحب سے بجا طور پر جب بھی یہ سوال ہوا کہ تشکیکی فلسفوں پر ایمان لانے کے بعد حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کے باب میں اسلام کی صداقت کیسے فیصلہ کن ہو سکتی ہے، اس کے جواب میں انھوں نے جو افکار پریشاں پیش کیے ہیں، ان میں کسی قابل فہم جواب کا سرا نہیں ملتا۔
اپنے ایک اور لیکچر ’’درجات فہم‘‘ میں زبان کی عدم قطعیت کو ثابت کرتے ہوئے انھوں نے دو مثالیں پیش کیں: ایک یہ کہ قرآن مجید میں ’’نماز ادا کرو‘‘ کے مفہوم میں نماز سے متعلق کیفیات اور خالق کے ساتھ تعلق کی تمام جہتیں سمجھی نہیں جا سکتیں۔ ہر فرد کے لیے اس لحاظ سے نماز کا ایک الگ معنی بھی ہے۔ دوسری مثال رات کی دی کہ رات کی مختلف نوعیتیں اور اوقات مختلف افراد کے لیے مختلف ہو سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ الفاظ تمام ممکنہ معانی کا کامل احاطہ نہیں کرتے۔ چنانچہ زبان قطعی الدلالت نہیں۔
سوال یہ ہے کہ قطعی الدلالت کے مفہوم میں یہ چیزیں شامل کیوں کر ہوگئیں؟ لفظ کے معنی میں اس معنی سے کسی فرد میں پیدا ہونے والی داخلی کیفیات، لفظ کے مصداقات اور اطلاقات کو شامل کرنا محض غلط اور خلط مبحث پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ لفظ کے متعدد مصداقات اور ان مصداقات کے تنوعات لفظ کے معنی نہیں ہوتے۔ قرائن سے مصداقات کا تعین ہو جاتا ہے اور اگر ضرورت پڑے تو زبان ہی کی راہ سے واضح کیا جا سکتا ہے کہ کون سا مصداق مراد ہے۔ کلام میں ایسے مصداقات کا تعین مقصود نہ ہو تو اس کے درپے ہونا اور نہ ملنے پر کلام ہی کو غیر قطعی مان لینا محض کم عقلی ہے۔ تعیین مصداق کی ضرورت کے باوجود کسی کلام میں ایسے تعینات نہ ہوں تو یہ کلام کا نقص ہے، زبان کا نہیں، جو اسے واضح کر سکتی ہے۔ زبان اور کلام کو ہم عملاً اسی طرح برتتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ فقط احتمالِ نقیض یا برعکس مفہوم ہے جو اگر کسی لفظ کے معنی میں پیدا ہو جائے اور دور نہ کیا جا سکے تو کلام غیر قطعی کہلاتا ہے۔ استاد جاوید احمد غامدی اپنی کتاب ’’مقامات‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’بعض کم سواد یہ سمجھتے ہیں کہ ہر وہ علم جو غور و تفحص سے حاصل کیا جائے یا اُس میں غلطی کا امکان مان لیا جائے، وہ ظنی ہوتا ہے۔ ہرگز نہیں، غور و تفحص سے حاصل ہونے والے علم کو نظری کہا جاتا ہے جو قطعی بھی ہوتا ہے اور ظنی بھی۔ چنانچہ اُس کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ ’ھو الفکر الذي یطلب بہ من قام بہ علمًا أو ظنًا‘۔ آمدی نے مزید وضاحت کی ہے کہ ’ھو عام للنظر المتضمن للتصور و التصدیق، والقاطع و الظني‘۔ رہا غلطی کا امکان تو یہ محسوسات اور تجربیات تک میں مانا جا سکتا ہے، اِس لیے کہ انسان جب تک انسان ہے، غلطی سے مبرا نہیں ہو سکتا۔ ائمۂ اصول کی اصطلاح میں ظنی الدلالہ کی تعبیر اِس کے لیے نہیں، بلکہ اُس کلام کے لیے اختیار کی جاتی ہے جس میں نقیض کا احتمال مان لیا جائے، یعنی تسلیم کر لیا جائے کہ ترجیح بے شک اُسی مفہوم کی ہے جو ’ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘ سے بالعموم سمجھا جاتا ہے، لیکن اِس جملے کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ ایک نہیں ہے۔ اِس طرح کا احتمال ہے جو کسی کلام کو ظنی الدلالۃ بناتا ہے۔‘‘
(138)
جس طرح وحدت الوجود اور وحدت ادیان کے فلسفے ہر قسم کے متضاد و متناقض نظریات اور اعتقادات کو اپنے اندر سمو لینے کو کوئی کام سمجھتے ہیں اسی طرح کلام میں مفاہیم کی بے جا تکثیریت اور تعیینِ معنی سے گریز کے لسانی فلسفے ہر قسم کی کج فہمی اور انحراف کو انگیز کرلینے کا مطالبہ کرتے اورغلط اور درست اور حق و باطل کے معیارات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ایسا ہر فلسفہ قابل رد ہے جو غیر حقیقی اور خیالی بنیادوں پر کلام الہٰی کو ظنی قرار دے کر حق و باطل میں امتیاز کی راہ مسدود اور تشکیک اور الحاد کی راہ ہموار کرتا ہے۔