مواد پر جائیں

احکام حجاب کی تفہیم میں نظم قرآن کی اہمیت (3)

سید محمد رضوان علی اردو

اس کے بعد ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور دیگر مسلمان خواتین کو اشرار کی پیدا کردہ صورت حال سے بچنے کے لیے خصوصی اہتمام کی ہدایت فرمائی گئی۔ اور منافقین کو متنبہ کردیا گیا کہ اب بھی وقت ہے باز آجائیں ورنہ جہاں پائے جائیں گے، برے طریقہ سے قتل کر دیے جائیں گے۔ منافقین کے قتل کے لیے اس آیت میں وہی فعل استعمال ہوا ہے جو آیت محاربہ1 میں اللہ اور رسول سے جنگ کرنے والے فسادیوں کو سزا دینے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس سے بھی واضح ہے کہ یہ اشرار اس زمانہ میں کس درجہ کی اذیت اور تکلیفیں مسلمان خواتین کو پہنچا رہے تھے کہ ان کو اسی سزا کا مستحق سمجھا گیا جو معاشرہ میں فساد پھیلانے والوں کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا. لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّ الۡمُرۡجِفُوۡنَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ لَنُغۡرِیَنَّکَ بِہِمۡ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوۡنَکَ فِیۡہَاۤ اِلَّا قَلِیۡلًا. مَّلۡعُوۡنِیۡنَ ۚۛ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا تَقۡتِیۡلًا. سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا. (الاحزاب33: 59-62)

’’(اِن کی شرارتوں سے اپنی حفاظت کے لیے)، اے نبی، تم اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور سب مسلمانوں کی عورتوں کو ہدایت کر دو کہ (اندیشے کی جگہوں پر جائیں تو) اپنی چادروں میں سے کوئی بڑی چادر اپنے اوپر ڈال لیا کریں۔ اِس سے امکان ہے کہ الگ پہچانی جائیں گی تو ستائی نہ جائیں گی۔ اِس کے باوجود (کوئی خطا ہوئی تو) اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ یہ منافقین اگر (اِس کے بعد بھی) اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں لوگوں کو بھڑکانے کے لیے جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم اُن پر تمھیں اکسا دیں گے، پھر وہ تمھارے ساتھ اِس شہر میں کم ہی رہنے پائیں گے۔ اُن پر پھٹکار ہو گی، جہاں ملیں گے، پکڑے جائیں گے اور بے دریغ قتل کر دیے جائیں گے۔ یہی اُن لوگوں کے بارے میں اللہ کی سنت ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کی اِس سنت میں تم ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔‘‘

غامدی صاحب ان آیات کا مدعا واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اصل میں ’یُدْ نِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلاَ بِیْبِھِنَّ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں تبعیض ہمارے نزدیک ’جِلْبَابًا مِّنْ جَلاَبِیْبِھِنَّ‘ کے مفہوم پر دلالت کے لیے ہے، یعنی اپنے گھروں میں موجود چادروں میں سے کوئی بڑی چادر جو بالعموم اوڑھنی کے اوپر لی جاتی تھی۔

ان الفاظ سے بھی واضح ہے اور حکم کا سیاق و سباق بھی بتا رہا ہے کہ یہ عورتوں کے لیے پردے کا کوئی حکم نہیں تھا، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ مسلمان عورتوں کے لیے اُن کی الگ شناخت قائم کر دینے کی ایک وقتی تدبیر تھی جو اوباشوں اور تہمت تراشنے والوں کے شر سے اُن کو محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی گئی۔ اِس سے مقصود یہ تھا کہ وہ اندیشے کی جگہوں پر جائیں تو دوسری عورتوں سے الگ پہچانی جائیں اور اُن کے بہانے سے اُن پر تہمت لگانے کے مواقع پیدا کرکے کوئی اُنھیں اذیت نہ دے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں جب رات کی تاریکی میں یا صبح منہ اندھیرے رفع حاجت کے لیے نکلتی تھیں تو منافقین کے اشرار اُن کے درپے آزار ہوتے اور اِس پر گرفت کی جاتی تو فوراً کہہ دیتے تھے کہ ہم نے تو فلاں اور فلاں کی لونڈی سمجھ کر اُن سے فلاں بات معلوم کرنا چاہی تھی۔( تفسیر القرآن العظیم، ابن کثیر 3/ 518)۔‘‘ (البیان 4/163)

لہٰذا آیت جلباب کا موضوع مسلمان خواتین کو فتنہ کے ماحول میں ایسا لباس اختیار کرنے کی ہدایت کرنا ہے جس سے ان کی شناخت کو محفوظ بناکر انھیں اشرار کے شر سے بچایا جا سکے۔ چہرہ چھپانا اس ہدایت کا بنیادی مقصد نہیں ہے۔ ابن عاشور لکھتے ہیں:

والجَلابِيبُ: جَمْعُ جِلْبابٍ وهو ثَوْبٌ أصْغَرُ مِنَ الرِّداءِ وأكْبَرُ مِنَ الخِمارِ والقِناعِ، تَضَعُهُ المَرْأةُ عَلى رَأْسِها فَيَتَدَلّى جانِباهُ عَلى عِذارَيْها ويَنْسَدِلُ سائِرُهُ عَلى كَتِفَيْها وظَهْرِها، تَلْبَسُهُ عِنْدَ الخُرُوجِ والسَّفَرِ.

وهَيْئاتُ لِبْسِ الجَلابِيبِ مُخْتَلِفَةٌ بِاخْتِلافِ أحْوالِ النِّساءِ تُبَيِّنُها العاداتُ. والمَقْصُودُ هو ما دَلَّ عَلَيْهِ قَوْلُهُ تَعالى ’ذَلِكَ أدْنى أنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ‘.

(التحریر والتنویر 22/ 106- 107)

’’جلابیب، جلباب کی جمع ہے۔ یہ بڑی چادر سے کچھ چھوٹا اور اوڑھنی یا دوپٹے سے بڑا کپڑا ہوتا ہے جسے عورت اپنے سرپر ڈال لیتی ہے اور اس کے دونوں پلو اس کے رخساروں پر لٹک جاتے ہیں، جب کہ باقی ساری چادر اس کے کندھوں اور پشت پر لٹک جاتی ہے۔ یہ چادر عورت گھر سے نکلتے ہوئے یا سفر میں اوڑھتی ہے۔ جلباب اوڑھنے کے طریقے مختلف خواتین کے احوال کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں جن کا تعین ان کے عرف اور عادت سے ہوتا ہے۔ اس سے مقصود وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ اس سے ان کی شناخت میں آسانی ہوگی اور انھیں اذیت نہیں پہنچائی جائے گی۔‘‘2

خلاصہ بحث

اس بحث کے بعد یہ پوری قطعیت سے کہا جا سکتا ہے کہ سورۂ احزاب میں عفت، عصمت اور حیا کا موضوع زیر بحث ہی نہیں کہ اس میں سے مسلمانوں کی معاشرت کی عمومی ہدایات برآمد کی جاسکیں۔ اس کے بر عکس، اس سورہ میں فتنہ کی غیر معمولی صورت حال پیش نظر ہے ، جس میں منافقین کی طرف سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اورازواج مطہرات کی اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ازواج مطہرات کو چند خصوصی احکام دیے اور چونکہ ان احکامات کی وجہ سے ان کے لیے عام عورتوں کی سی آزادی باقی نہیں رہتی تھی، اس لیے پہلے انھیں اس بات کا اختیار دیا گیا کہ اگر پیغمبر سے علیحدہ ہونا چاہیں تو ہوسکتی ہیں۔ لیکن جب ان سب نے خوش دلی سے پیغمبر کی رفاقت اختیارکرلی، تو پھر ان پر کچھ زائد پابندیاں ان کے منصب کی رعایت سے عائد کر دی گئیں اور یہ بھی بیان کردیا گیا کہ ان کے لیے جزا و سزا کا قانون بھی عام خواتین سے مختلف ہوگا۔ ان پر واضح کر دیا گیا کہ وہ اب عام خواتین نہیں ہیں ، اس لیے انھیں چاہیے کہ دنیا سے کنارہ کش ہو کر اپنے گھروں میں ٹک کر رہیں اور خدا کے دین کی تبلیغ کو اپنی زندگی کا مقصد وحید بنالیں۔ ان کو تمام امت کی مائیں قرار دے دیا گیا اور ان کی اس حیثیت کو قلب و نظرمیں جاگزیں کرنے کے لیے یہ قاعدہ مقرر کردیا گیا کہ اگر کوئی چیز بھی ان سے طلب کرنی ہو تو وہ پردہ کے پیچھے سے طلب کی جائے۔ ان احکامات کے دینے کا مقصد اشرار کی سازشوں کو ناکام بنانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی تطہیرکرنا تھا۔

اس تفصیل کے بعد یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ ان آیات کا مقصد عام مسلمان عورتوں کے دائرۂ عمل کو ان کے گھروں تک محدود کرنا ہے، کیونکہ یہ ہدایات اس حیثیت سے ازواج مطہرات کو دی ہی نہیں گئیں کہ تمام امت کی خواتین اس سلسلے میں ان کی پیروی کریں، ورنہ اسلوب کلام ایسا نہیں ہوتا کہ ’’نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو‘‘ (الاحزاب33: 32)، بلکہ عام عورتوں کو مخاطب کرکے یہ کہا جاتا کہ تم ازواج مطہرات کی طرح بننے کی کوشش کرو۔ لہٰذا ان خصوصی ہدایات کا عام مسلمان خواتین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نیز آیت جلباب کے الفاظ اور سیاق و سباق سے بھی واضح ہے کہ اس آیت میں مسلمان خواتین کو پردہ کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ فتنہ کی غیر معمولی صورت حال میں حفاظتی تدبیر اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے، تاکہ ان کی شناخت قائم کرکے انھیں منافقین کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اس کے برعکس، جب ان احکام حجاب کی تعمیم کرکے انھیں عام خواتین تک وسیع کیا جاتا ہے تو ہم اپنے آپ کو ان خود ساختہ مشکلات میں مبتلا کرلیتے ہیں، جس سے خدا کے دین نے ہمیں بچانا چاہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پھر فکر کے تضادات سامنے آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف عام خواتین کو بھی اپنے گھروں میں ٹک کر رہنے کی تلقین کی جاتی ہے اور دوسری طرف ان کے علاج و معالجے کے لیے خواتین اطباہی تلاش کی جا رہی ہوتی ہیں۔

سورہ کے پورے مضمون اور موضوع کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ حقائق پوری طرح واضح ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سیاق و سباق اور سورہ کے مضمون کی رعایت کیے بغیر احکامات کو متفرق خیال کرکے کہیں سے بھی اٹھا لیا جاتا ہے اور پھر ان کی تفسیر کی جاتی ہے۔ اس طرح نظم قرآن کو فراموش کرکے ہم اس کسوٹی سے ہی محروم ہوجاتے ہیں جو متکلم کے مدعا تک پہنچنے میں ہماری براہ راست رہنمائی کر سکتی ہے۔ لہٰذا نظم قرآن کو پیش نظر رکھنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ سورۂ احزاب میں مرد و زن کے اختلاط کے آداب سرے سے زیر بحث ہی نہیں ہیں۔ ان آداب کو ایجابی طور پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور کی آیات 27 تا 31 میں بیان فرمایا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کی عمومی معاشرت کے اصولوں کو بھی انھی آیات سے اخذ کرنا چاہیے، نہ کہ سورۂ احزاب کی زیر بحث آیات سے، جو فتنہ کے خاص سیاق میں نازل ہوئی ہیں۔

کتابیات

1۔ البیان، غامدی، جاوید احمد، المورد، لاہور، چودھویں اشاعت2021ء۔

2۔ التحریر والتنویر، ابن عاشور، محمد الطاہر، الدارالتونسیۃ للنشر، تونس 1984ء۔

3۔ الجامع الصحیح، البخاری، ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل، دارالسلام، الریاض، دوسری اشاعت 1999ء۔

4۔ تدبر قرآن، اصلاحی، امین احسن، فاران فاؤنڈیشن، لاہور، دوسری اشاعت جدید ایڈیشن 2018ء۔

5۔ تفہیم القرآن، مودودی، سید ابو الاعلیٰ، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، 55ویں اشاعت 2012ء۔

6۔ تفسیر القرآن العظیم، ابن کثیر، ابولفداءاسماعیل بن عمر، الفاروق الحدیثیہ لطباعۃوالنشر، قاہرہ ، الطبعۃ الاولی 2000ء۔

7۔ ضیاء القرآن، الازہری، پیر کرم شاہ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور2021ء۔

8۔قرآن مجیدمیں مرد و زن کے اختلاط کے آداب، ناصر، محمد عمار خان، اشراق ، المورد، لاہور، جلد 36، شمارہ 2 ، 2024 ء۔

9۔ میزان، غامدی، جاوید احمد، المورد، لاہور، چودھویں اشاعت 2021ء۔

10۔ 23 اعتراضات سیریز، موضوع: پردہ۔

  1. 1۔ المائدہ: 33:5۔ ’اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ یُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَرۡجُلُہُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ یُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمۡ خِزۡیٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ‘، ’’(انھیں بتا دیا جائے کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول سے لڑیں گے اور اِس طرح زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے،  اُن کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں علاقہ بدر کردیا جائے۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے ایک بڑا عذاب ہے۔‘‘
  2. 2۔ابن عاشور کی تحریر کا ترجمہ ڈاکٹر عمار خان ناصر کے مضمون ’’قرآن مجید میں مرد و زن کے احکام‘‘ کی قسط نمبر 6 سے لیا گیا ہے۔ جس کا تفصیلی حوالہ مقالہ کے آخر میں درج ہے۔