(ماہنامہ ’’صدق‘‘ لکھنؤ، نومبر 1941ء سے انتخاب )
[مختارات کا حصہ قدیم و جدید مصنفین کی منتخب تحریروں کے لیے مخصوص ہے۔ اس کا مقصد ماضی اور حال کے فکر و نظر کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس میں ماضی کے نمایندہ اہل علم کی تصانیف سے ایسے اقتباس نقل کیے جاتے ہیں، جو ان کے افکار اور اسالیب کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ نئے لکھنے والوں کی موثر اور معتبر تحریروں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اِس حصے کے مندرجات سے مدیر اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادارہ]
خلوص، اخلاص، مخلص وغیرہ الفاظ ہماری زبان پر بہت چڑھے ہوئے ہیں۔ ہم جب کسی شخص کے کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور اس کی تعریف کرنا چاہتے ہیں تو ان لفظوں میں سے کوئی نہ کوئی لفظ ضرور اس کی تعریف میں لگا دیتے ہیں۔ عموماً تو یہ استعمال کچھ بے جا سا، بلکہ مسرفانہ قسم کا معلوم ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات صحیح بھی معلوم ہوتا ہے مثلاً جو لوگ ایک جماعتی کام کرتے ہیں اس کے لیے ہر طرح کی دکھم برداشت کرتے ہیں؛ جیل خانے جاتے ہیں، پولیس کے ڈنڈے کھاتے ہیں ضبطی املاک و جائداد کے خطرات برداشت کرتے ہیں اور بہ ظاہر اس کے صلے میں اپنی ذات یا اپنے متعلقین کی کوئی منفعت شخصی سامنے نہیں رکھتے۔ ایک اسکول یا کالج کھولتے ہیں، اس کے لیے در در بھیک مانگتے ہیں، اس کو ترقی دیتے ہیں اور مرتے ہیں تو کفن تک کے لیے پیسے چھوڑ کے نہیں جاتے یا کتابیں لکھتے ہیں اور اس سے کوئی تاجرانہ مقصد پیشِ نظر نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ اس بات کے ضرور مستحق ہیں کہ اگر ان کے کاموں میں شہرت طلبی اور خواہشِ نام و نمود کی کوئی کُھلی ہوئی علامت موجود نہ ہو تو ان کو مخلص کہا جائے۔ لیکن ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ اگر ایک شخص کو مخلص مانیے تو لوگ اخلاص اور اصابت میں کچھ ایسا منطقی لزوم سمجھتے ہیں کہ پھر آپ سے اس کے افعال کی صحت و حمایت تسلیم کرنے کا بھی مطالبہ کریں گے۔ یہ مطالبہ ذرا ٹیڑھا معلوم ہوتا ہے۔ پہلی بات تو مسامحت کر کے مان لیجیے تو دل پر کچھ ایسی گراں نہیں گزرتی، مگر مچھ کے بعد اس اونٹ کو نگلنا ان طبیعتوں پر شاق ہوتا ہے جو اخلاص کے معنی مطلب سے بے خبر نہیں ہیں، حالاں کہ یہ بہت کھلی ہوئی بات ہے کہ کسی شخص کا اخلاص اس کے عمل کی صحت کو مُستلزم نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنے ارادہ میں نہایت مخلص ہو، مگر اُس کا عمل بالکل غلط ہو۔ ماں کی مامتا کتنی غیر مُشتبہ چیز ہے بیٹے کے لیے وہ جو کچھ کرتی ہے سچے مادری جوش کے سوا اور کیا چیز اس کی مُحرّک ہو سکتی ہے، لیکن دیکھیے، یہ اخلاص کتنے بچوں کی جانیں روز لیتا رہتا ہے۔ معلوم ہوا کہ مجرد اخلاص کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ تو علم بھی ضروری شرط ہے۔ آپ طبیب نہیں ہیں، مگر آپ مریضوں کا علاج شروع کر دیں۔ مذہب سے واقف نہیں مگر فتویٰ نویسی کی مسند بچھا لیں۔ عربی کی الف بے بھی نہیں آتی مگر قرآن پاک کی تفسیر لکھ ڈالیں۔ انجینئر نہیں ہیں مگر پُل بنانے کی ذمہ داری اُٹھا لیں، ڈرائیور نہیں ہیں، مگر موٹر چلانے لگ جائیں تو چاہے کتنے ہی اخلاص کے ساتھ ان کاموں کو انجام دیں مگر آپ کا عمل صحیح نہیں ہو سکتا، اور اگر صحیح ہو گا تو یہ ایک اتفاقی بات ہو گی۔ اور یہ اتفاقی صحت آپ کو ایک خطرناک اقدام کی ذمہ داری سے بری نہیں کرتی۔ آپ اس بات کے مستحق ہوں گے کہ آپ کو امراض دماغی کے کسی شفا خانہ میں بھیجا جائے۔ یہ بات اخلاص و خلوص کے اس مفہوم کو صحیح مان کر کی گئی ہے جو عرف عام میں مشہور ہو گیا ہے۔ لیکن ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ اخلاص کا یہ مفہوم غیر قرآنی ہے۔ کسی کام کو صرف اللہ کے لیے انجام دیا جائے، وہ اخلاص کا کام ہے۔ اور جو شخص خالص اللہ کے لیے کسی کام کو کرے، وہ مخلص ہے۔ اس لفظ کی اصلی روح توحید ہے، چنانچہ سورۂ اخلاص جو توحید کی سورہ ہے اسی وجہ سے سورۂ اخلاص کے نام سے موسوم ہے۔ تمام آیتیں نقل کرنے میں طوالت ہو گی، ہم صرف چند آیتیں محض بہ طور مثال پیش کرتے ہیں :
سورۂ نساء میں ہے: ’وَ اَخۡلَصُوۡا دِیۡنَہُمۡ لِلّٰہِ‘، ’’جنھوں نے اپنی اطاعت اللہ کے لیے خالص رکھی‘‘، ’فَاعۡبُدِ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ‘، ’’بس اللہ ہی کی عبادت کرو اُس کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے‘‘، ’وَ نَحۡنُ لَہٗ مُخۡلِصُوۡنَ‘، ’’اور ہماری اطاعت اللہ ہی کے لیے خالص ہے‘‘ وغیرہ۔ پس اخلاص کا کام وہ ہے جو اللہ واحد کے لیے کیا جائے۔ اُس میں کوئی اور شائبہ نہ پایا جائے اور مخلص وہ شخص ہو گا جس کے اعمال و افعال کی محرک صرف خدا کی خوشنودی میں ہو۔ وہ بچوں کے منہ میں لقمہ ڈالنے سے لے کر قوموں کی سیادت و قیادت تک جو کچھ کرتا ہو، مجرد رضاے مولیٰ کے داعیہ سے کرتا ہو، اس میں کوئی دغدغہ اور وسوسہ شامل نہ ہو۔ احادیث میں یہ حقیقت نہایت دل آویز لفظوں میں تعبیر ہوئی ہے۔ اور شاہ صاحب نے شرح موطا میں بعض احادیث کے ذیل میں اور ابن قیم نے اپنی تالیفات میں تو ایسی باتیں فرمائی ہیں کہ ان سے روح کو تازگی اور ایمان کو غذا نصیب ہوتی ہے۔ مگر ان لطائف کی تفصیل کے لیے اس مختصر اور سادہ تحریر میں گنجایش نہیں۔
بہرحال قرآن میں اس لفظ کی جو حقیقت ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کسی خدمت کو مخلصانہ اور کسی شخص کو مخلص سمجھنے کے لیے تنہا یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ذاتی مفاد کی آلایشوں سے پاک ہے۔ بلاشبہ جو شخص ہر کام اپنے ہی پیٹ اور تن کے لیے کرتا ہے اور جس کی تمام تگ و دو کا محور اُس کی اپنی ہی ذات ہے، اُس نے حیوانیت کے دائرہ سے قدم باہر نہیں نکالا ہے۔ اور اس کے مقابل میں وہ شخص ایک دوسری حیثیت رکھتا ہے جو ذات کی تنگنائے سے نکل کر خاندان، قوم، ملک، وطن وغیرہ کی وسعتوں میں بڑھ گیا ہے۔ لیکن قرآن کے مفہوم ’’اخلاص‘‘ کو سامنے رکھ کر جب ہم دونوں میں مقابلہ کریں گے تو یہ مقابلہ دو برائیوں میں ہو گا دو اچھائیوں میں نہیں ہو گا۔ یعنی یہ کہیں گے کہ پہلے کے مقابلے میں دوسرا زیادہ اچھا ہے کیونکہ قرآن مجید تنہا یہ نہیں مطالبہ کرتا کہ ایک آدمی اپنی ذات اور شخصیت کی پرستش سے چھوٹ جائے، اس کا مطالبہ تو یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے سوا آدمی کے اعمال کے لیے کوئی اور مُحرّک ہی باقی نہ رہے۔ اور اُسی کے لیے جیے اور اسی کے لیے مرے اور اُسی کی رضا کی تلاش میں ہر لمحہ سر گرم کار رہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو مخلص ہونا تو در کنار اس کے تمام اعمال اللہ کی نظر میں اکارت ہیں۔ ممکن ہے بعض لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آئے، مگر ہے بالکل صاف۔
اصل یہ ہے کہ انسان کے اعمال کے لیے اگر صفات و ذات کے سوا کوئی اور محرک تسلیم کر لیا جائے تو نہ صرف یہ کہ اس کی تمام روحانی عظمتوں کا خاتمہ ہو جائے گا، بلکہ نیک انسان زمین میں خدا کا خلیفہ ہونے کے بجاے شیطان کا ایجنٹ بن جائے گا۔ جن لوگوں نے خدا کو چھوڑا ہے، ان کے سامنے ان کی ذات سے لے کر قوم ملک تک جتنے اصنام ہیں، ان میں سے کس کے ساتھ رشتۂ اخلاص میں جڑ کر انسان اپنے اعمال کو پاک و صالح بنا سکتا ہے؟
ممکن ہے، آپ جواب دیں کہ قوم و ملت، وطن وغیرہ۔ صحیح ہے، اس زمانہ کے سب سے اونچے دیوتا یہی ہیں اور اگر ایک شخص اپنی قوم کا مخلص ہے اور جو کچھ کرتا ہے، وہ قوم ہی کے مفاد کے لیے کرتا ہے تو ہم اُس کے ترانے گاتے ہیں، لیکن اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ جو شخص اپنی قوم کا دوست ہے، وہ دوسری قوم کا دشمن ہے۔ افلاطون اور ارسطو بڑے فلسفی اور عقل مند تھے، لیکن افلاطون کی جمہوریت اور ارسطو کی سیاست میں دیکھ لیجیے کہ یہ فلسفی بھی اپنی قوم کے سوا دوسروں کے ساتھ انصاف نہ کر سکے۔ اور ان پرانے فلسفیوں کے نام گنوانے کی ضرورت کیا ہے؟ ہٹلر، مسولینی اور یورپ و امریکہ کے دوسرے آئمۂ سیاست کے اخلاص میں کسے شبہ ہو سکتا ہے؟ ان میں سے ایک ایک اپنی قوم کا جاں نثار ہے اور قوم و وطن ہی ان کے اعمال و افعال کے محرک ہیں، لیکن دیکھیے کہ ان کے اخلاص وطنی و قومی نے آج دنیا میں کیا ہنگامہ مچا رکھا ہے اور غور کیجیے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ان میں سے ان کا اخلاص اپنی قوم کے لیے جتنا ہی زیادہ بڑھا چڑھا ہوا ہے، وہ دنیا کے لیے اتنا ہی بڑا عذاب ہے، لیکن اگر یہ وطن و قوم کے بجاے خدا کے مخلص ہوتے تو نہ دنیا پر یہ آفت نازل ہوتی اور نہ خود اُن کی قومیں اس عذاب میں مبتلا ہوتیں۔
خدا کا اخلاص محض تقدس کے لیے ضروری نہیں، بلکہ ایک عملی ضرورت ہے، اس کے بغیر انسان کا جو قدم بھی اٹھے گا، غلط اٹھے گا۔ صرف خدا ہی کے تعلق سے انسان کے دماغ میں وہ روشنی پیدا ہوتی ہے جس سے وہ اپنا اور دنیا کا صحیح مفاد پہچان سکتا ہے۔ اس کے بغیر اگر وہ چلے گا تو کتنا ہی بڑا فلسفی اور زاہد مرتاض کیوں نہ ہو، کسی نہ کسی کھڈ میں ضرور گرے گا، اپنے گھر کی نالی میں نہیں گرے گا شہر کے چوبچہ میں گر جائے گا، مگر گرے گا ضرور۔
بہرحال دنیا کی قومیں جس کو جی چاہے مخلص کا لقب دے دیں، لیکن مسلمان تو صرف اُسی کو مخلص کہہ سکتا ہے جس کی تلاش زند گی بھر یہ رہی ہو کہ خدا کی مرضی کس بات میں ہے۔ ممکن ہے اس نے اپنے فیصلوں اور کاموں میں نہایت فاش غلطیاں بھی کی ہوں، لیکن یہ اجتہادی غلطیاں ہو ں گی۔ اس سے اس کا اجر و ثواب ضائع نہیں جائے گا۔ لیکن جن لوگوں کے پیش نظر خدا کی مرضی کا سوال ہی نہیں ہے، وہ اگر قومی خدمات کے جوش میں اپنے تکے بوٹی کرا دیں تو وہ قومی سرفروش وطنی لیڈر اور نہ جانے کیا کیا کہے جا سکتے ہیں، لیکن جس اخلاص کی تعلیم قرآن مجید نے دی ہے، وہ اخلاص اپنے ساتھ ایک مخصوص نسبت رکھتا ہے اور بغیر اس نسبت کے کسی فعل یا شخص کے لیے اس کا استعمال صحیح نہیں ہے۔