يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّنْ نِسَاءٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴿١١﴾
ایمان والو، (اسی اخوت کا تقاضا ہے کہ) نہ (تمھارے) مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ اپنوں کو عیب لگاؤ اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو برے القاب دو۔ (یہ سب فسق کی باتیں ہیں، اور) ایمان کے بعد تو فسق کا نام بھی بہت برا ہے۔ اور جو (اس تنبیہ کے بعد بھی) توبہ نہ کریں تو وہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔
تسہیل و تفسیر
یاد رکھنا چاہیے کہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ ایمان و عمل کے لحاظ سے کون کس سے بہتر ہے۔ اعمال کا صحیح وزن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی میزانِ عدل ہی سے معلوم ہو گا کہ کون ہلکا ہے اور کون بھاری۔ اُس میں اُن چیزوں کا سرے سے کوئی وزن نہیں ہو گا جنھیں ہم دنیا میں بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ حسب و نسب کا غرور اور اسٹیٹس کا فخر اُس میں بالکل بے حقیقت ثابت ہو گا۔
قرآن نے یہاں مردوں کے ساتھ عورتوں کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ کیا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں
”۔۔۔ قرآن نے فضائل و رذائل، دونوں کے بیان میں یہ اسلوب ملحوظ رکھا ہے کہ عورتوں کا ذکر اُن مواقع میں خاص اہتمام کے ساتھ ہوا ہے، جہاں تاکید کے ساتھ اُن کو کسی فضیلت کے لیے ابھارنا یا کسی فتنے سے بچانا مقصود ہے۔ یہاں یہی دوسری صورت ہے۔ جس برائی سے یہاں مردوں کو روکا گیا ہے، وہ عورتوں کے اندر اس سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں پائی جاتی، جتنی مردوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ جن عورتوں کے اندر اپنی خاندانی، نسبی اور مالی برتری یا اپنے ظاہری حسن و جمال کا غرور ہوتا ہے، اُن کا اندازِ خطاب و کلام اُن عورتوں کے ساتھ حقارت آمیز ہوتا ہے جن کو وہ اپنے مقابل میں فروتر خیال کرتی ہیں۔‘‘
(تدبرِ قرآن، ۷/۵۰۵)
’’لمز‘‘ کے معنی طعن کرنے اور آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کسی پر کوئی طنزیہ فقرہ چست کر دینے کے ہیں۔ اس قسم کے زہر آلود فقرے کہنے والے کے حسد اور اُس کے فخر و غرور کا اظہار کرتے ہیں، جس سے دوسروں کی حوصلہ شکنی ہوتی اور باہمی تعلقات میں ایسا بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے جو بارہا نفرت اور دشمنی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ قرآن نے توجہ دلا دی ہے کہ جو لوگ اپنے کسی بھائی کو طعن کا نشانہ بناتے ہیں، وہ گویا اپنے ہی سینے کو اپنے تیر کا نشانہ بناتے اور اپنے ہی کو مجروح کرتے ہیں۔
برے القاب دینا کوئی معمولی برائی نہیں ہے۔ یہ طریقہ عام طور پر کسی فرد یا قوم کی انتہائی تذلیل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے القاب آسانی سے زبانوں پر چڑھ جاتے اور نہایت پائیدار اور دور رس نتائج پیدا کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کی پیدا کی ہوئی تلخیاں پشت بہ پشت تک باقی رہتی ہیں، جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ افراد میں خیر خواہی کا رشتہ ختم ہو جاتا اور قومی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔
اسی طرح انفرادی طور پر بھی یہ فعل انتہائی فساد اور نفرت کا باعث بنتا ہے۔ یہاں ہر وہ لقب، نام یا ناپسندیدہ نام مراد ہے جو پکارنے والے کو ناپسند ہے۔ چاہے یہ ایسے جسمانی عیب ہی پر مشتمل کیوں نہ ہو جو کسی شخص میں موجود ہو۔ یعنی کسی فربہ خاتون کو اُس کے فربہ ہونے کے باوجود اگر ہم کوئی نام دیں گے تو یہ اللہ کے اس حکم کی خلاف ورزی ہو گی۔