مواد پر جائیں

استاذ کا بے مثل شاگرد

خطاب: ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ

میرے لیے بہت ہی اعزاز کی بات ہے کہ میں برادر بزرگ اور بہت ہی عزیز دوست ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب کے اعزاز میں منعقد کی گئی اس مجلس میں گفتگو کے لیے مدعو ہوں۔ ان کے ساتھ میرا تقریباً‌ بیس سال سے تو بہت ہی قریبی تعلق ہے، جب کہ تعارف اس سے بھی پیچھے چلا جاتا ہے۔ پہلی ملاقات غالباً‌ 91ء میں ہوئی ہوگی، جب میں پہلی دفعہ استاذ گرامی کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ اس ملاقات میں شہزاد صاحب بھی تشریف فرما تھے۔ ان کی جن علمی خدمات کا یہاں ذکر ہوا اور جن سے اہل علم، ادارے کے لوگ اور پڑھنے والے واقف ہیں، وہ تو اپنی جگہ ہیں۔ مجھے ان کے ساتھ رفاقت میں اور ان کے ساتھ تعلق میں ان کے انسانی اور شخصی اوصاف کو بہت قریب سے دیکھنے کا اور ان سے مستفید ہونے اور ان سے حظ اٹھانے کا موقع ملا، میری نظر میں وہ زیادہ قیمتی اثاثہ ہیں۔ علمی طور پر کام کا جو حجم ہے، وہ تو بہرحال نتیجہ ہے۔ شہزاد صاحب کی شخصیت میں کچھ انسانی اوصاف اور علمی اوصاف ہیں ،جن کا یہ نتیجہ ہے۔ ان کا ذکر زیادہ اہم ہے۔

میں نے پچھلے دنوں ایک مختصر سی تحریر میں لکھا تھا کہ شہزاد صاحب کا سب سے زیادہ قیمتی وصف جس کی قدر دانی کرنی چاہیے، وہ ان کا استاذ کے ساتھ تعلق ہے۔ شخصی تعلق تو ہے ہی، لیکن علمی طور پر اور علمی دائرے میں انھوں نے اپنے آپ کو استاذ کے ساتھ جس رشتے میں باندھے رکھا ، وہ بھی منفرد ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اپنے پورے سفر میں انھوں نے کہیں بھی استاذ کی انگلی چھوڑی نہیں۔ ان کی رہنمائی میں، ان کے ساتھ مسلسل تعلق میں اور رابطے میں رہ کر اور ہر ہر بات میں اور ہر ہر چیز میں استاذ سے سیکھتے ہوئے انھوں نے اپنا سفر طے کیا ہے۔ یہ جو کمٹمنٹ ہے اور استاذ پر جو اعتماد ہے اور استاذ سے سیکھنے کا جو جذبہ ہے، میرے خیال میں یہ سب سے زیادہ قابل قدر ہے۔ استاذ گرامی کے حلقہ تلامذہ میں اس درجے کی وابستگی ہے، میرے خیال میں اور کسی میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

دوسرے نمبر پر میں نے جو چیز ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے سیکھی ہے، وہ ان کی اپنے کام کے ساتھ لگن اور خود کو کام میں گم کر دینے اور ہمہ تن اپنے آپ کو کام میں مشغول کر دینے کا جذبہ ہے۔ کام کے لیے اپنے آرام اور اپنی صحت کو بالکل تج دینا ، اور کام کے پیچھے پڑ جانے کا وصف ان میں بہت غیر معمولی ہے۔ میں نے بہت کم لوگوں میں اس درجے کی یہ کمٹمنٹ دیکھی کہ وہ اپنے کام کے ساتھ اس طرح مخلص ہو جائیں اور اپنے آپ کو اس کا حصہ بنا دیں اور اس میں اتنی محنت کریں۔ جب تک ہم ’’المورد‘‘ میں ملتے رہتے تھے تو وقتاً‌ فوقتًا ان کے ساتھ ملاقات میں ان کے کام کے متعلق ان سے جاننے کا موقع بھی ملتا رہتا تھا۔ پتہ چلتا رہتا تھا کہ کن چیزوں پر وہ محنت کر رہے ہیں، اور کس طرح کا مواد دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو قوت کار غیر معمولی دی ہے اور جذبہ بھی غیر معمولی دیا ہے۔

جو ان کی انسانی شخصیت ہے، وہ بالکل ہی بے مثال ہے۔ ان کی شخصیت میں بہت عجز ہے، اور انتہائی تواضع ہے۔ یہ صرف شخصی چیزوں میں نہیں ہے، بلکہ دوسروں سے باتیں سیکھنے میں، ان کا نقد سننے میں اور نقد کی روشنی میں کام کو بہتر بنانے میں بھی تواضع ان کی شخصیت کا حصہ ہے۔ اعلیٰ علمی صلاحیت کے ساتھ تواضع ایک نایاب وصف ہے، جو شہزاد صاحب کی شخصیت کا حصہ ہے۔ یہ دو تین پہلو ہیں، جو میری نظر میں اور میرے دل میں ان کے مقام کو اور ان کی وقعت کو بہت بڑھا دیتے ہیں۔

جو کام انھوں نے کیا ہے، اس کی قدر وقیمت تو سب کے سامنے ہے۔ استاذ کی فکر کو اور اس فکر کی روشنی میں جن کاموں کی ضرورت تھی، ان کو پورا کرنے میں انھوں نے جس تسلسل سے اور جس بڑے پیمانے پر اپنا حصہ شامل کیا ہے، اس لحاظ سے ادارے کا یہ فیصلہ بالکل بجا ہے۔ میں اس میں شہزاد صاحب کو بعد میں اور ادارے کو پہلے مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اس نے اس حق اعتراف کی ادائیگی کی سبیل پیدا کی ہے۔ ادارے کو بہت مبارک باد اور ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب کو بھی دل سے بہت مبارک باد۔