[محمد حسن الیاس کے ساتھ ایک مکالمے سے لیا گیا]
(7)
4۔ واقعۂ شق صدر اور معراج
ـــــ سینہ کھولنے اور معراج پر لے جانے کا واقعہ ـــــ
عن شريك بن عبد اللّٰه أنه قال: سمعت أنس بن مالك یقول: ليلة اسري برسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم من مسجد الكعبة انه جاءه ثلاثة نفر قبل أن يوحى إليه وهو نائم في المسجد الحرام، فقال أولهم: أيهم هو؟ فقال اوسطهم: هو خيرهم، فقال آخرهم: خذوا خيرهم، فكانت تلك الليلة.
فلم يرهم حتى أتوه ليلةً أخرى فيما يرى قلبه، وتنام عينه، ــــــ ولا ينام قلبه، وكذلك الأنبياء تنام أعينهم ولا تنام قلوبهم، ــــــ فلم يكلموه حتى احتملوه فوضعوه عند بئر زمزم، فتولاه منهم جبريل، فشق جبريل ما بين نحره إلى لبته حتى فرغ من صدره وجوفه، فغسله من ماء زمزم بيده حتى أنقى جوفه، ثم أتى بطست من ذهب فيه تور من ذهب محشوًا إيمانًا وحكمةً، فحشا به صدره ولغاديده يعنى عروق حلقه ثم أطبقه.
ثم عرج به إلى السماء الدنيا، فضرب بابًا من أبوابها، فناداه أهل السماء: من هذا؟ فقال: جبريل، قالوا: ومن معك؟ قال: معي محمد، قال: وقد بعث؟ قال: نعم، قالوا: فمرحبًا به واهلًا، فيستبشر به اهل السماء لا يعلم اهل السماء بما يريد اللّٰه به في الارض حتى يعلمهم.
فوجد في السماء الدنيا آدم، فقال له جبريل: هذا أبوك آدم فسلم عليه، فسلم عليه ورد عليه آدم، وقال: مرحبًا وأهلًا بابني، نعم الابن أنت فإذا هو في السماء الدنيا بنهرين يطردان، فقال: ما هذان النهران يا جبريل؟ قال: هذا النيل والفرات عنصرهما، ثم مضى به في السماء، فإذا هو بنهر آخر عليه قصر من لؤلؤ وزبرجد، فضرب يده، فإذا هو مسك أذفر، قال: ما هذا يا جبريل؟ قال: هذا الكوثر الذي خبأ لك ربك.
ثم عرج به إلى السماء الثانية، فقالت الملائكة له مثل ما قالت له الاولى: من هذا؟ قال: جبريل، قالوا: ومن معك؟ قال: محمد صلى اللّٰه عليه وسلم، قالوا: وقد بعث إليه؟ قال: نعم، قالوا: مرحبًا به وأهلًا.
ثم عرج به إلى السماء الثالثة، وقالوا له مثل ما قالت الاولى والثانية، ثم عرج به إلى الرابعة، فقالوا له مثل ذلك، ثم عرج به إلى السماء الخامسة، فقالوا مثل ذلك، ثم عرج به إلى السماء السادسة، فقالوا له مثل ذلك، ثم عرج به إلى السماء السابعة، فقالوا له مثل ذلك.
كل سماء فيها أنبياء قد سماهم، فأوعيت منهم إدريس في الثانية، وهارون في الرابعة، وآخر في الخامسة، لم احفظ اسمه، وإبراهيم في السادسة، وموسى في السابعة ــــــ بتفضيل كلام اللّٰه ــــــ فقال موسى: رب لم أظن أن يرفع علي أحد!
ثم علا به فوق ذلك بما لا يعلمه إلا اللّٰه، حتى جاء سدرة المنتهى، ودنا للجبار رب العزة، فتدلى، حتى كان منه قاب قوسين أو أدنى، فأوحى اللّٰه فيما أوحى إليه خمسين صلاةً على امتك كل يوم وليلة.
ثم هبط حتى بلغ موسى، فاحتبسه موسى، فقال: يا محمد، ماذا عهد إليك ربك؟ قال: عهد إلي خمسين صلاةً كل يوم وليلة، قال: إن أمتك لا تستطيع ذلك فارجع، فليخفف عنك ربك وعنهم، فالتفت النبى صلى اللّٰه عليه وسلم إلى جبريل كانه يستشيره في ذلك، فأشار إليه جبريل: أن نعم إن شئت فعلًا به إلى الجبار، فقال وهو مكانه: يا رب، خفف عنا فإن امتي لا تستطيع هذا، فوضع عنه عشر صلوات.
ثم رجع إلى موسى، فاحتبسه فلم يزل يردده موسى إلى ربه حتى صارت إلى خمس صلوات، ثم احتبسه موسى عند الخمس، فقال: يا محمد، واللّٰه لقد راودت بني إسرائيل قومي على أدنى من هذا، فضعفوا فتركوه، فامتك اضعف أجسادًا وقلوبًا وأبدانًا وأبصارًا وأسماعًا، فارجع، فليخفف عنك ربك، كل ذلك يلتفت النبي صلى اللّٰه عليه وسلم إلى جبريل ليشير عليه ولا يكره ذلك جبريل، فرفعه عند الخامسة.
فقال: يا رب، إن أمتي ضعفاء أجسادهم وقلوبهم وأسماعهم وأبصارهم وأبدانهم، فخفف عنا، فقال الجبار: يا محمد، قال: لبيك وسعديك، قال: إنه لا يبدل القول لدى كما فرضته عليك في أم الكتاب، قال: فكل حسنة بعشر أمثالها فهي خمسون في أم الكتاب وهي خمس عليك.
فرجع إلى موسى، فقال: كيف فعلت؟ فقال: خفف عنا أعطانا بكل حسنة عشر أمثالها، قال موسى: قد واللّٰه راودت بني إسرائيل على أدنى من ذلك فتركوه، ارجع إلى ربك فليخفف عنك أيضًا.
قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: يا موسى، قد واللّٰه استحييت من ربي مما اختلفت إليه، قال: فاهبط باسم اللّٰه.
قال: واستيقظ وهو في مسجد الحرام. (بخاری، رقم7517 )
’’شریک بن عبداللہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اُس رات کے بارے میں یہ بیان کرتے سنا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ کعبہ سے لے جایا گیا۔ (وہ بیان کرتے ہیں): وحی (کا سلسلہ) شروع ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین افراد (فرشتے) آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ اُن میں سے ایک نے پوچھا: اِن (لوگوں) میں سے وہ کون ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا: وہ جو اِن (لوگوں ) میں سب سے بہتر ہیں۔ تیسرے نے کہا: جو سب سے بہتر ہیں بس اُنھیں لے جائیے۔ (پھر و ہ تینوں واپس چلے گئے)۔ اِس رات میں بس اتنا ہی معاملہ ہوا۔
اُس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں نہیں دیکھا، یہاں تک کہ یہی (تینوں افراد) ایک دوسری رات میں (دوبارہ) آئے۔ اُس وقت آپ کی کیفیت ایسی تھی کہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا، مگر آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں۔ ــــــ اور آپ کا دل کبھی نہیں سوتا تھا۔ سب نبیوں کا یہی معاملہ ہے کہ (نیند کے عالم میں بھی) اُن کی آنکھیں تو سو جاتی ہیں، مگر اُن کے دل کبھی نہیں سوتے۔ ــــــ اُنھوں نے آپ سے کوئی بات نہیں کی، بلکہ آپ کو اٹھایا اور زم زم کے کنوئیں کے پاس لے جا کر لٹا دیا۔ پھر اُن میں سے جبریل علیہ السلام نے آپ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ جبریل علیہ السلام نے آپ کے حلق سے لے کر زیریں سینے تک کے حصے کو چیر ڈالا اور سینے اور پیٹ کے اندر جو کچھ تھا، اُسے نکال دیا۔ پھر اُنھوں نے زم زم کا پانی لے کر اپنے ہاتھوں سے اسے دھویا۔ یہاں تک کہ پیٹ کو بالکل صاف کر دیا۔ پھر اُس کے بعد سونے کا ایک طشت لایا گیا، جس میں سونے ہی کا ایک آفتابہ رکھا تھا، جو ایمان اور حکمت سے لبریز تھا۔ جبریل علیہ السلام نے اُس سے آپ کے سینے اور حلق کی رگوں کو بھر دیا اور پھر سینے کو سی کربرابر کر دیا۔
پھر جبریل علیہ السلام آپ کو لے کر آسمانِ زیریں کی طرف پرواز کر گئے۔ (وہاں پہنچ کر) اُنھوں نے اُس کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھٹکھٹایا۔ آسمان والوں کی طرف سے آواز آئی: کون آیا ہے؟ اُنھوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا: میرے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ پوچھا: کیا اُنھیں بلایا گیا ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جی ہاں۔ اُنھوں نے کہا: مرحبا، خوش آمدید۔ اہل آسمان اِن (کی آمد) سے بہت خوش ہیں۔ (تاہم) آسمان والے نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اِن سے زمین میں کیا چاہتے ہیں، یہاں تک کہ اُنھیں اِس سے آگاہ کر دیا جائے۔
پھر اِس آسمانِ زیریں پر آپ نے حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھا۔ جبریل علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ یہ آپ کے والد آدم علیہ السلام ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ آپ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سلام کیا اور اُنھوں نے اُس کا جواب دیا۔ پھر آدم علیہ السلام نے کہا: مرحبا، خیر مقدم میرے بیٹے، آپ کیا ہی اچھے فرزند ہیں۔ پھر اِسی اثنا میں آپ نے آسمانِ زیریں پر دو نہریں بہتی ہوئی دیکھیں۔ آپ نے پوچھا: جبریل، یہ نہریں کیا ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا: یہ نیل و فرات کی حقیقی صورت ہے۔ پھر وہ آپ کو لے کر وہاں سے آگے بڑھے اور آپ نے ایک اور نہر دیکھی، جس کے کنارے موتیوں اور زمرد کا ایک محل تھا۔ آپ نے اُس (نہر) میں ہاتھ ڈالا تو اُس کی مٹی بالکل خوش بو دارمشک جیسی تھی۔ آپ نے پوچھا: جبریل یہ کیا ہے؟ اُنھوں نے کہا : یہ کوثر ہے، جو آپ کے پروردگار نے آپ کے لیے خاص کر رکھا ہے۔
اِس کے بعد جبریل علیہ السلام آپ کو لے کر دوسرے آسمان پر پہنچے۔ یہاں بھی فرشتوں نے وہی کچھ کہا، جو پہلے آسمان کے فرشتوں نے کہا تھا کہ کون آیا ہے؟ انھوں نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا: میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا: کیا اُنھیں بلایا گیا ہے؟جبریل علیہ السلام نے کہا: جی ہاں۔ اُنھوں نے کہا: مرحبا، خوش آمدید۔
پھر جبریل علیہ السلام آپ کو تیسرے آسمان پر لے گئے۔ یہاں بھی فرشتوں نے وہی کچھ کہا، جو پہلے اور دوسرے آسمان کے فرشتوں نے کہا تھا۔ پھر جبریل علیہ السلام چوتھے آسمان پر لے گئے۔ یہاں بھی فرشتوں نے وہی کچھ کہا، جو پہلے کہا تھا۔ پھر وہ پانچویں آسمان پر لے گئے۔ یہاں بھی فرشتوں نے وہی کچھ کہا، جو پہلے کہا تھا۔ پھر چھٹے آسمان پر لے گئے۔ یہاں بھی فرشتوں نے وہی کچھ کہا، جو پہلے کہا تھا۔ پھر ساتویں آسمان پر لے گئے۔ یہاں بھی فرشتوں نے وہی کچھ کہا، جو پہلے کہا تھا۔
اِن میں سے ہر آسمان پر انبیاے کرام موجود تھے (جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی تھی)۔ اُن انبیا کے نام بھی بیان کیے گئے تھے۔ (راوی بیان کرتے ہیں کہ ) اِن میں سے یہ نام مجھے یاد ہیں: ادریس علیہ السلام دوسرے آسمان پر، ہارون علیہ السلام چوتھے آسمان پر،ایک اور نبی پانچویں آسمان پر ــــــ جن کا نام مجھےیاد نہیں ہے ــــــ ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر اور موسیٰ علیہ السلام ساتویں آسمان پر ــــــ اِس لیے کہ اُنھیں (دنیا میں) اللہ کے ساتھ کلام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ــــــ موسیٰ علیہ السلام نے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جبریل علیہ السلام کے ہم راہ دیکھ کر اور یہ جان کر کہ آپ کو ساتویں آسمان سے بھی اوپر لے جایا جا رہا ہے، تعجب سے) کہا: پروردگار، میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی مجھ سے بھی اوپر جائے گا!
پھر جبریل علیہ السلام آپ کو اِس (ساتویں آسمان)سے بھی اوپر اُن بلندیوں کی طرف لے گئے، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہاں تک کہ آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ گئے۔ پھر اللہ رب العزت نے نزول فرمایا اور آپ کے قریب ہوئے۔ یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ پھر اللہ نے آپ کو وحی کی اور اُس کے ذریعے سے ہر روز وشب میں پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا، جو تمھاری امت پر فرض ہوئیں۔
اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نیچے اُترے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو روک لیا۔ اُنھوں نے دریافت کیا کہ اے محمد، اللہ نے آپ پر کیا ذمہ داری ڈالی ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھ سے ہر دن رات میں پچاس نمازوں کا عہد لیا گیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ کی امت میں اِس کی ہمت نہیں ہے، (لہٰذا میرا مشورہ یہ ہے کہ) آپ واپس تشریف لے جائیے اور اپنی اور اپنی امت کی جانب سے اِن میں کمی کی درخواست کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبریل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، گویا اِس بارے میں اُن سے مشورہ چاہتے ہیں۔ جبریل علیہ السلام نے اثبات کا اظہار کیا کہ آپ جانا چاہیں تو ٹھیک ہے۔ چنانچہ آپ پھر اُسی مقام پر بارگاہِ الٰہی میں واپس پہنچے (جہاں پہلے حاضری ہوئی تھی)۔آپ نے درخواست کی کہ پروردگار، ہمارے لیے اِس میں رعایت عطا فرمائیے، کیونکہ میری امت اِس کی طاقت نہیں رکھتی۔ (درخواست کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کر دیں۔ (اب چالیس نمازیں رہ گئیں)۔
واپسی پر جب آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو اُنھوں نے آپ کو پھر روک لیا۔ (اور وہی مشورہ دیا، جو پہلے دیا تھا، آپ مشورہ قبول کر کے پھر بارگاہ ِ الٰہی میں حاضر ہوئے)۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے آپ کو (تخفیف کے مشورے کے ساتھ) واپس بھیجنے کا سلسلہ جاری رہا، (اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخفیف ہوتی رہی) یہاں تک کہ فرض نمازوں کی تعداد پانچ رہ گئی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اِس کے بعد پھر آپ کو روکا اور (اور حسبِ معمول) کہا: اے محمد، اللہ کی قسم، میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو اِس سے بھی کم پر راضی کرنا چاہا تھا، مگر اُنھوں نے کم زوری دکھائی اور اِس (فریضے) کو چھوڑ دیا۔ آپ کی امت تو قلب و بدن اور سماعت و بصارت میں زیادہ کم زور ہے، لہٰذا آپ ایک بار پھر جائیے تاکہ اللہ اِس میں مزید کمی فرما دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا تاکہ اُن کی راے معلوم ہو۔ جبریل علیہ السلام نے اِسے ناپسند نہیں کیا۔ چنانچہ وہ پانچویں مرتبہ آپ کو لے گئے۔
آپ نے درخواست کی کہ پروردگار، میری امت کے لوگ قلب و بدن اور سماعت و بصارت میں کم زور ہیں، اِس لیے آپ سے مزید کمی کی درخواست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد، رسول اللہ نے کہا: لبیک و سعدیک (میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں )۔ اللہ نے فرمایا: میرا کہا ہوا تبدیل نہیں ہوتا۔ (چنانچہ حکم تو وہی رہے گا) جیسا کہ میں نے ام الکتاب، (یعنی لوح محفوظ) میں تم پر فرض کیا ہے۔ (البتہ، آپ کی امت کے لیے تخفیف کی صورت یہ ہو گی کہ اُن کی ) ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہو گی۔ چنانچہ ام الکتاب میں یہ نمازیں پچاس ہی رہیں گی، مگر آپ کے لیے اِن کی تعداد پانچ ہو گی۔ (گویا ایک نماز کا درجہ دس نمازوں کے برابر ہو گا)۔
(یہ حکم لے کر) آپ واپس موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ اُنھوں نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ آپ نے جواب دیا کہ اللہ نے نمازوں میں اِس طرح تخفیف کی ہے کہ ایک (نماز کی ) نیکی کو دس(نمازوں کی) نیکیوں کے برابر کر دیا ہے۔ اِس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (وہی بات دہرائی اور) کہا: بخدا میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے اِس سے بھی کم کا تقاضا کیا تھا، مگر اُنھوں نے کم زوری دکھائی اور اِس (فریضے) کو چھوڑ دیا۔ آپ ایک بار پھر جائیے تاکہ اللہ اِس میں مزید کمی کر دے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : موسیٰ، بخدا، مجھے اب اپنے رب سے شرم آتی ہے کہ میں (اِس کام کے لیے) پھر اُس کے پاس جاؤں۔ (اِس پر) موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ(اچھا، تو بس پھر) اب اللہ کا نام لے کر نیچے اتر جائیے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اِس کے بعد جب آپ بیدار ہوئے تو مسجدِ حرام میں تھے۔‘‘
پس منظر
یہ اِس سلسلے کا چوتھا اور آخری واقعہ ہے۔یہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اِسے امام بخاری نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ دو اجزا پر مشتمل ہے: پہلے جز میں شق صدر کا ذکر ہے۔ یعنی حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارک کو کھولا اور اُسے آب ِزم زم سے دھو کر اور ایمان و حکمت سے لبریز کر کے بند کر دیا۔ دوسرے جز میں معراج کی تفصیل بیان ہوئی ہے، جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبریل امین کے ہم راہ آسمانوں کی طرف روانہ ہوئے۔ پھردرجہ بہ درجہ سات آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ سے گزر کر بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہوئے اور وہاں سے نمازوں کا تحفہ لے کر واپس لوٹے۔
یہ عام انسانی واقعہ نہیں ہے۔ اِس کا تعلق منصبِ نبوت کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ جب اِس منصب کے لیے کسی انسان کا انتخاب کرتے ہیں تو اُسے اپنی ہم کلامی اور مخاطبت سے فیض یاب کرتے ہیں۔ اِس مخاطبت کی مختلف صورتیں ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے مطابق اختیار کی جاتی ہیں۔ اِس امر کی وضاحت میں ’’میزان‘‘میں لکھا ہے:
’’نبوت کیا ہے؟ یہ مخاطبۂ الٰہی کے لیے کسی شخص کا انتخاب ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اِس منصب کے لیے جب اپنے بندوں میں سے کسی کا انتخاب کر لیتا ہے تو اُس سے کلام فرماتا ہے۔ قرآن نے بتایا ہے کہ انسان کو اِس کا شرف ہمیشہ دو ہی طریقوں سے حاصل ہوا ہے:
ایک عام مخاطبت کے ذریعے سے جو پردے کے پیچھے سے ہوتی ہے۔ اِس میں بندہ ایک آواز سنتا ہے، مگر بولنے والا اُسے نظر نہیں آتا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہی ہوا۔ طور کے دامن میں ایک درخت سے یکایک اُنھیں ایک آواز آنی شروع ہوئی، لیکن بولنے والا اُن کی نگاہوں کے سامنے نہیں تھا۔
دوسرے وحی کے ذریعے سے۔ یہ لفظ کسی کے دل میں کوئی بات ڈالنے کے لیے آتا ہے۔ اِس کی پھر دو صورتیں ہوتی ہیں: اولاً، اللہ تعالیٰ براہِ راست نبی کے دل میں اپنی بات ڈال دے۔ ثانیاً، فرشتہ بھیجے اور وہ اُس کی طرف سے نبی کے دل میں بات ڈالے۔ یہ معاملہ خواب اور بیداری، دونوں میں ہو سکتا ہے۔ پھرجوبات اُس میں کہی جاتی ہے، وہ خواب میں بعض اوقات ممثل بھی ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِس کے نزول کی کیفیات روایتوں میں بیان ہوئی ہیں، اِن سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کی شدید ترین صورت میں اِس سے پہلے گھنٹی کی سی آواز پیدا ہوتی تھی، یہاں تک کہ سخت ترین سردی کے موسم میں بھی آپ پسینے سے تر ہو جاتے تھے۔ اِس سے آگے اِس کی حقیقت کیا ہے؟ قرآن کا ارشاد ہے کہ اِس کو سمجھنا انسان کے حدودِ علمی سے باہر ہے۔چنانچہ فرمایا ہے:
وَيَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ. قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا. (بنی اسرائیل 17: 85)
’’وہ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں (جو تم پر وحی کی جاتی ہے)۔ اِن سے کہو، یہ روح میرے پروردگار کا ایک حکم ہے اور اِس طرح کے حقائق کاتم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔‘‘‘‘
(130 – 131)
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیا کے ساتھ تکلیم و تخاطب کی جو مختلف صورتیں اختیار کی جاتی تھیں، اُن میں نمایاں یہ ہیں:
1۔ اللہ کا اوٹ میں رہتے ہوئے براہِ راست کلام فرمانا۔
2۔ اللہ کا نبی کے دل میں اپنی بات ڈال دینا۔
3۔ اللہ کا فرشتے کے ذریعے سے بیداری میں اپنا پیغام پہنچانا۔
4۔ اللہ کا بیداری میں حقائق کو ممثل کر کے دکھانا۔
5۔ اللہ کا فرشتے کے ذریعے سے خواب میں اپنا پیغام پہنچانا۔
6۔ اللہ کا خواب میں حقائق کو ممثل کر کے دکھانا۔
واقعۂ معراج کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس میں موخرالذکر دو صورتیں اختیار کی گئی ہیں۔