[محمد حسن الیاس کے ساتھ ایک مکالمے سے لیا گیا]
(8)
تفصیل
واقعے کی جو تفصیل روایت سے معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے:
1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات مسجدِ حرام میں آرام فرما رہے تھے۔ روایت میں اِس کے لیے ’وهو نائم في المسجد الحرام ‘ (آپ مسجد حرام میں سو رہے تھے) کے الفاظ آئے ہیں۔ وہاں آپ کے علاوہ اور لوگ بھی سوئے تھے۔1
2۔ اِس عالم میں آپ نے دیکھا کہ تین فرشتے آئے ہیں اور اُنھوں نے آپ کی پہچان کی ہے۔2 اُس رات یہ فرشتے آپ کو دیکھ کر واپس چلے گئے۔
3۔ بعد ازاں، کسی رات میں وہ دوبارہ آئے۔3 اِس موقع پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں سو رہے تھے۔ ’ يرى قلبه، وتنام عينه‘ (جب کہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا اور آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں) کے الفاظ سے یہی بات واضح ہوتی ہے۔
4۔ اُنھوں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودِ اطہر کو اٹھایا اور اُسے زم زم کے کنویں کے پاس لےگئے۔ وہاں حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ کا سینہ چاک کیا اور اندرون کو آب ِزم زم سے دھویا۔ پھر آپ کے پاس ایک سونے کا طشت لایا گیا، جس میں علم و حکمت سے بھرا پیالہ رکھا تھا۔جبریل علیہ السلام نے اِس پیالےسے علم و حکمت کو نکالا 4 اور اُس سے آپ کے سینے کو بھر دیا۔ پھر اُنھوں نے سینہ سی دیا۔5
5۔ یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعدجبریل امین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر آسمانوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ آپ باری باری تمام سات آسمانوں میں سے گزرے۔ ہر آسمان پر آپ کو ایک پیغمبر سے ملایا گیا۔ راوی کی یادداشت کے مطابق یہ پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام، حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔ دوسرے آسمان پر آپ کو زمین کے دریاے دَجلہ اور فُرات اور جنت کے حوضِ کوثر کا مشاہدہ بھی کرایا گیا۔ یہ تینوں نہروں کی صورت میں ممثل تھے۔
6۔ سات آسمانوں سے گزار کر آپ کو سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر پہنچایا گیا۔ وہاں آپ کو ذاتِ باری تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوا۔ قرب کی نوعیت ایسی تھی، جیسے کمان کے دو کنارے ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں۔ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پچاس نمازوں کی فرضیت کا حکم وحی کیا گیا۔
7۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حکم لے کر واپسی کے سفر پرروانہ ہوئے تو ساتویں آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ اُنھوں نے اللہ سے ہونے والے عہد کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ نے پچاس نمازوں کی فرضیت سے آگاہ فرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے تجربے کی بنا پر تجویز کیا کہ دن رات میں پچاس نمازیں ادا کرنا آپ کی امت کے لیے دشوار ہو گا۔ لہٰذا مناسب یہی ہے کہ آپ بارگاہ ِ خداوندی میں واپس تشریف لے جائیے اور اللہ کے حضور اِن میں کمی کی درخواست پیش کیجیے۔ آپ کو یہ تجویز درست لگی، لہٰذا آپ واپس جناب ِالہٰی میں پیش ہوئے اور نمازوں کی تعداد میں تخفیف کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے درخواست قبول فرمائی اور دس نمازوں کی رعایت دے دی۔ واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو اُنھوں نے اُسی بات کو پھر دہرایا۔ آپ ایک مرتبہ پھر اللہ کے حضور میں پہنچے اور دس نمازوں کی مزید رعایت حاصل کر کے واپس لوٹے۔ تخفیف کی درخواست کا یہ عمل اِسی طرح جاری رہا، یہاں تک کہ نمازوں کی تعداد پانچ تک باقی رہ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے کمالِ عنایت سے ہر نماز کو دس نمازوں کے برابر کا درجہ دیا اور ارشاد فرمایا کہ ام الکتاب میں یہ پچاس نمازیں ہی رہیں گی، مگرآپ کی امت پر پانچ فرض ہوں گی۔ گویا جب آپ پانچ نمازیں ادا کریں گے تو وہ عنداللہ پچاس ہی شمار ہوں گی۔
8۔ اِس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پانچ نمازوں میں بھی تخفیف کرانے کا مشورہ دیا، مگر اِس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے مشورے کو قبول نہیں فرمایا۔
9۔ اِس پر حضرت موسیٰ نے اتفاق کرتے ہوئےنیچے کی طرف واپس جانے کا مشورہ دیا۔
10۔ پھر جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے اپنے آپ کو مسجدِ حرام میں پایا۔
تفہیم
روایت کی توضیح و تفہیم کے اہم نکات درجِ ذیل ہیں:
اولاً، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سفر اور اِس کے تمام واقعات و مشاہدات عالم رؤیا میں رونما ہوئے۔ بیانِ واقعہ کے ابتدائی اور اختتامی الفاظ اِس نوعیت کو نہایت صراحت کے ساتھ واضح کرتے ہیں۔ ابتدا میں بیان ہوا ہے:
حتى اتوه ليلةً اخرى فيما يرى قلبه، وتنام عينه، ولا ينام قلبه، وكذلك الانبياء تنام اعينهم ولا تنام قلوبهم.
’’یہاں تک کہ ایک دوسری رات کو وہ (دوبارہ)آئے۔ اُس وقت آپ کی کیفیت ایسی تھی کہ آپ کی آنکھیں تو سو رہی تھیں، مگر آپ کا دل نہیں سو رہا تھا۔ پیغمبروں کا معاملہ یہی ہوتا ہے کہ (نیند کے عالم میں بھی) اُن کی آنکھیں تو سو جاتی ہیں، مگر اُن کے دل نہیں سوتے۔ ‘‘
اختتامی الفاظ ہیں:
واستيقظ وهو في مسجد الحرام.
’’اِس کے بعد جب آپ بیدار ہوئے تو مسجدِ حرام میں تھے۔ ‘‘
ثانیاً، ذاتِ باری تعالیٰ کےتقرب کو بیان کرنے کے لیےیہاں ’حتى كان منه قاب قوسين او ادنٰى‘ (یہاں تک کہ ذاتِ باری سے فاصلہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم رہ گیا)کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ کم و بیش وہی الفاظ ہیں، جو سورۂ نجم میں جبریل علیہ السلام کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نزدیکی کا مفہوم ادا کرنے کے لیے آئےہیں۔ ارشاد ہے: ’فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰي‘(یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا)۔ عربی زبان میں یہ اُسی طرح کا تشبیہ کا اسلوب ہے، جس طرح ہم اپنی زبان میں ’ایک گز یا دو گز کا فاصلہ‘ یا ’دو چار ہاتھ کا فاصلہ‘6 کے الفاظ اختیار کرتے ہیں اور اِس سے ہماری مراد منزل کی نزدیکی یا چیزوں کی قربت ہوتی ہے۔ چنانچہ قرین قیاس یہی ہے کہ روایت میں آپ سے اللہ کے قرب کو نمایاں کرنے کے لیے سورۂ نجم ہی کے پیرایۂ بیان کو مستعار لیا گیاہے۔
ثالثًا، قرب ِ الہٰی کے مذکورہ اسلوب کی بنا پر غالب گمان یہی ہے کہ اِس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا شرف حاصل ہوا ہو گا۔ بعض دیگر روایتوں میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سےیہ الفاظ آئے ہیں کہ میں نے اپنے پروردگار کو اعلیٰ ترین صورت میں دیکھا۔بالبداہت واضح ہے کہ یہاں عالم رؤیا میں دیکھنا مراد ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ روایت کے الفاظ’وتنام عينه، ولا ينام قلبه‘ دلیل ہیں کہ معراج کا واقعہ ایسے موقع پر پیش آیا، جب آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں اور آپ کا دل نہیں سو رہا تھا۔ بعض دیگر روایتوں میں بھی بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو نیند کی کیفیت میں عالم رؤیا میں دیکھا تھا۔ اِس سلسلے کی ایک روایت ملاحظہ ہو: 7
عن معاذ بن جبل رضي اللّٰه عنه، قال: احتبس عنا رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ذات غداة عن صلاة الصبح حتى كدنا نتراءى عين الشمس، فخرج سريعًا فثوب بالصلاة فصلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وتجوز في صلاته، فلما سلم دعا بصوته، فقال لنا: على مصافكم كما أنتم، ثم انفتل إلينا، ثم قال: أما إني سأحدثكم ما حبسنى عنكم الغداة.
إني قمت من الليل فتوضأت وصليت ما قدر لى، فنعست في صلاتى حتى استثقلت فإذا أنا بربى تبارك وتعالٰى في أحسن صورة.
فقال: يا محمد، قلت: لبيك رب، قال: فيم يختصم الملا الأعلى؟ قلت: لا أدري، قالها ثلاثًا.
قال: فرايته وضع كفه بين كتفي حتى وجدت برد انامله بين ثديي، فتجلى لي كل شيء وعرفت.
(ترمذی، رقم 3235)
’’معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز ادا کرنے سے روکے رکھا، (کیونکہ آپ امامت کے لیے گھر سے باہر تشریف نہیں لائے تھے)۔ قریب تھا کہ ہم سورج کو دیکھ لیں گے کہ آپ تیزی سے باہر تشریف لائے۔ آپ نے نماز کے لیے لوگوں کو بلایا اور نماز پڑھائی۔ (وقت کی کمی کی وجہ سے) آپ نے مختصر نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر لوگوں کو (قریب) بلا لیا۔ فرمایا: اپنی اپنی جگہ بیٹھ جاؤ۔ (جب ہم بیٹھ گئے تو) پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں تم لوگوں کو وہ بات بتانا چاہتا ہوں، جس کی وجہ سے مجھے فجر میں تاخیر ہوئی ہے۔
(آپ نے فرمایا):میں رات کو تہجد کی نماز پڑھنے کے لیے اٹھا۔ میں نےوضو کیا اور حسبِ توفیق نماز ادا کی۔ پھر نماز کے دوران میں مجھ پر غنودگی طاری ہو گئی، یہاں تک کہ میں گہری نیند سو گیا۔اِسی اثنا میں میں نے اپنے آپ کو اپنے بزرگ و برتررب کے حضور میں پایا۔ (میں نے دیکھا کہ) اُس کی ذات اعلیٰ ترین صورت میں (میرے سامنے) ہے۔
رب تعالیٰ نے آواز دی: اے محمد، میں نے جواب دیا: میں حاضر ہوں، میرے پروردگار، ارشاد فرمایا: کیا آپ جانتے ہیں کہ ملاے اعلیٰ میں کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں (اِس بارے میں) نہیں جانتا۔ اللہ نے یہ سوال تین مرتبہ دہرایا۔ (ہر بار میں نے یہی جواب دیا)۔
(پھر) آپ نے فرمایا: میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا، اُس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔ یہاں تک کہ میں نے اُس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے اندر محسوس کی۔ اِس کے نتیجے میں (ملاے اعلیٰ) کی ہر چیز میرے سامنے روشن ہو گئی اور میں (صورتِ حال کو) پوری طرح جان گیا۔‘‘
رابعا ً، روایت کے الفاظ ’فهي خمسون في ام الكتاب وهي خمس عليك‘ (ام الکتاب میں یہ نمازیں پچاس ہی رہیں گی، مگر آپ کے لیے اِن کی تعداد پانچ ہو گی) سے بہ ظاہر یہ بات مفہوم ہوتی ہے کہ نمازِ پنجگانہ اِسی موقع پر فرض ہوئی تھی۔ ہمارے علما کا عام موقف بھی یہی ہے۔لیکن یہ موقف قرآنِ مجید اور بعض روایتوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی عبادت ہمیشہ سے اللہ کے دین کا جزو ِلازم رہی ہے۔قرآنِ مجید میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نےانبیاے کرام کو اولین فریضے کے طور پر اِس کی تاکید فرمائی۔ سنن ابوداؤد کی ایک روایت، رقم 393 سے بھی اِس امر کی تائید ہوتی ہے۔ اُس میں بیان ہوا ہے کہ جبریل امین نے ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ نماز ہمیشہ سے پانچ وقت ہی ادا کی جاتی رہی ہے۔ اِس تناظر میں قرین صواب یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی مشروع ہو گئی ہو گی اور معراج میں اِسی مشروعیت کے پس پردہ حقائق کو ممثل کر کے آپ کو دکھایا گیا ہو گا۔
[باقی]
- ۔ فرشتوں کے اِس مکالمے سے یہی بات مفہوم ہوتی ہے: ’فقال اولهم: ايهم هو؟ فقال اوسطهم: هو خيرهم، فقال آخرهم: خذوا خيرهم ‘ (اِن میں سے ایک نے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ جو اِن میں سب سے بہتر ہیں۔ تیسرے نے کہا کہ اِن میں جو سب سے بہتر ہیں، اُنھیں لے لو)۔
- ۔ اِس کا مقصد غالباً یہ ہو گا کہ آیندہ شبِ معراج کو جب وہ آپ کو لینے آئیں تو اُنھیں پہچاننے میں کوئی غلطی نہ ہو۔
- ۔ روایت کے الفاظ میں یہ صراحت نہیں ہے کہ یہ دوسری آمد اگلی رات ہی میں ہوئی یا کچھ ایام گزرنے کے بعد ہوئی۔
- ۔ اسلوب سے یہی بات ظاہر ہوتی ہے کہ علم و حکمت جیسی غیر مادی شے کو کسی سیال مادے کی صورت میں ممثل کر کے آپ کو دکھایا گیا۔
- ۔ یہ تمام معاملات عالم رؤیا میں انجام پائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ واقعہ کے آغاز میں بیان کر دیا گیا ہے کہ جب یہ واقعہ رونما ہوا تو آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں۔
- ۔ قائم چاند پوری سے منسوب معروف شعر ہے:قسمت کی خوبی دیکھیے، ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا
- ۔ اِس موضوع پر تفصیلی بحث آیندہ صفحات میں’’ رؤیتِ باری تعالیٰ‘‘ کے زیرِ عنوان کی گئی ہے۔