]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
اختلاف انسانی فطرت کا خاصہ اور اس کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک ہے۔ اسے انسانی زندگی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن کہتا ہے: ’’ یہ لوگ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے سواے ان لوگوں کے جن پر آپ کا رب رحم فرمائے۔‘‘(ہود11: 118)۔ علامہ الشریف الجر جانی نے اختلاف(الخلاف) کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: ’منازعۃ تجری بین المتعارضین لتحقیق حق أوابطال باطل‘1 (حق کے اثبات اور باطل کے ابطال کے لیے دوفر یقوں کے درمیان جو بحث و مباحثہ ہو اس کا نام اختلاف ہے)۔اسلام میں تعمیری اختلاف سے منع نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب مشہور حدیث ہے: ’اختلاف أمتی رحمۃ‘،’’میری امت کا اختلاف باعث رحمت ہے‘‘2۔اس حدیث کی سند اگرچہ کمزور ہے، لیکن اپنے معنی کے لحاظ سے وہ قوی ہے اور اسلاف نے اس سے استد لا ل کیا ہے۔ علماے اسلاف میں سے بعض جلیل القدر شخصیات کے اقوال سے بھی اس حدیث کے معنی و مراد کی وضاحت ہوتی ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں: ’’اگر صحابۂ کرام اختلاف نہ کرتے اور یک راے ہوجاتے تولوگ تنگی میں مبتلا ہوجاتے۔‘‘(کان الناس فی ضیق)3۔ معروف تابعی ابو اسحاق سبیعی کا قول ہے: ’’اہل علم اس وسعت کو دین میں مدد تصور کرتے تھے ‘‘۔ اس کی مزید وضاحت ابن قدامہ حنبلی کے اس جملے سے ہوتی ہے: ’’اہل علم کا اتفاق حجت قاطعہ ہے اور اُن کا اختلاف رحمت واسعہ ہے۔‘‘4
علما و اصحاب فضل کے اس قبیل کے متعدد اقوال ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف اگر اپنی حدود میں ، حسن نیت اور تعمیری مقصد سے ہوتو وہ امت کے حق میں سراسر رحمت اور خیر کا باعث ہے ۔تاہم اس ضمن میں اختلاف اور افتراق کے فرق کوذہن میں رکھنا چاہیے۔ اختلاف کا مطلب ہے راے اور فہم کا اختلاف ۔اس بنیاد پر عمل میں بھی اختلاف پیدا ہوجاتا ہے، لیکن یہ اختلاف دلوں کو بانٹنے والا، اجتماعیت میں خلل ڈالنے اور انتشار پیدا کرنے والا نہیں ہوتا جب کہ ’’افتراق‘‘ دراصل فرقوں اور گروہوں میں بٹ جانا ہے جس کی اسلام میں مذمت کی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی(ستفترق ھذہ الامۃ علی ثلاث وسبعین فرقۃً) 5۔ یا اسی طرح قرآن میں کہا گیا: ’’تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جو باہم اختلاف و افتراق میں مبتلا ہوگئے۔‘‘(آل عمران 3:105) ۔
اسلام میں فکری اختلاف کے اصول وآداب
اسلامی فکری روایت میں اصولی طور پر اختلاف کی دو بڑی قسمیں کی گئی ہیں: اختلاف محمود و مقبول اور اختلاف مذموم و مر دود۔
اختلاف محمود کی اہم خصو صیات یہ ہیں: وہ صحیح نیت اورقصد سے کیا جائے۔ اس کا مطلوب و مقصود صرف جستجوے حق اور تلاش معرفت ہو۔ اختلاف کرنے والے کے پیش نظر کوئی ذاتی غرض نہ ہو۔ اختلاف کے عمل میں عصبیت اور عناد کو کوئی دخل نہ ہو۔ مجتہد فیہ امور میں اختلاف کرنے والا شخص خود کو حق کا اجارہ دار تصور نہیں کرتا، بلکہ وہ یہ گمان رکھتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ دوسرا فریق ہی حق پر ہو اور وہ غلط موقف پر قائم ہو۔حدیث میں جس اختلاف کو رحمت بتایا گیا ہے وہ یہی اختلاف ہے۔ اسلام میں اس اختلاف کو نہ صرف یہ کہ پسندیدہ قرار دیا گیا ہے، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
صحابۂ کرام اور سلف صالحین کے درمیان عمو ماً اختلاف کی نو عیت یہی تھی۔ اس لیے وہ امت کے حق میں سراسر رحمت ثابت ہوا۔ اس سے شر یعت کے احکام میں وسعت و گنجایش پیدا ہو ئی اور آسانی کا راستہ کھلا جو شریعت کا مقصود ومطلوب ہےکیونکہ رسول اللہ کی حدیث کے مطابق ”دین آسان ہے (الدین یسرٌ) 6 ۔اوپر عمر بن عبد العزیز اور بعض دوسری اکابر شخصیات کے جو اقوال گزرے، وہ دراصل اسی اختلاف کی مدح میں ہیں۔ فقہاو مجتہدین کے درمیان پا یا جانے والا اختلاف اسلام میں اختلاف محمود کی روایت کی عظیم الشان مثا ل ہے۔ اختلاف محمود کا محرک صرف حق کا حصول ہوتا ہے، اس سے قطع نظر کہ وہ حق کس کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ اس اختلاف کی شناخت یہ ہے کہ اس سے اتحاد و اجتماعیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ چنانچہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں جب خیر غالب تھا، امت کے درمیان مختلف امور میں کثرت سے اختلافات ہوئے، لیکن چند استثنا کے ساتھ اسلامی اجتماعیت اپنی جگہ بر قرار و محفوظ رہی۔ لیکن بعد کے زمانوں میں امت کے اندر اختلاف محمود کی جگہ اختلاف مذموم نے لے لی جس نے امت کو زوال وانتشار کے دہانے پر کھڑا کردیا۔
اختلاف مذموم کا قرآن کی مختلف آیات میں ذکرکیا گیاہے:’’پھر جماعتیں آپس میں اختلافات میں مبتلا ہو گئیں۔‘‘(مریم 19:37)، ”تمھارا رب ان کی اس بات کا قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ ‘‘ (یونس 10:93 ) اختلاف مذموم کی خصوصیات اختلاف محمود کی اُن خصو صیات کے بر عکس ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا۔ اختلاف مذموم کے پیچھے صرف نفسانی خواہش اور ذاتی غرض کا ر فرما ہوتی ہے۔ حق کی تحقیق و جستجو کے بجاے اس کا مقصد صرف اپنی اناکوغالب رکھنا ہوتا ہےجب کہ قرآن میں واضح طور پر اس سے باز رہنے کی تا کید کی گئی ہے: ’’تم خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کیونکہ وہ تمھیں اللہ کر راہ سے بھٹکا دے گی۔‘‘ (ص 38: 26) اسی معنی میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’الخلاف شر‘ یعنی ’’اختلاف سراپا شر ہے‘‘۔7یہ اختلاف براے اختلاف ہوتا ہے جس کو مخا لفت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔
علامہ ابو البقا کفوی نے’ اختلاف‘ کو اختلاف محمود اور ’خلاف‘ کو اختلاف مذموم کے معنی میں استعمال کرتے ہوئے، اختلاف محمود و مذموم کی زمرہ بندی کی ہے۔وہ لکھتے ہیں :
الاختلاف ہو ان یکون الطریق مختلفًاوالمقصود واحدًا والخلاف ان یکون کلاہما مختلفًا. الاختلاف مایستند الی دلیل والخلاف مالایستند الی دلیل. والاختلاف من آثار الرحمۃ . . . والخلاف من آثار البدعۃ.8
’’اختلاف یہ ہے کہ مقصد ایک ہی ہو، خواہ اس کے راستے مختلف ہوں اور خلاف (بمعنی اختلاف مذموم) یہ ہے کہ مقصود اورطریق کار، دونوں مختلف ہوں۔ اختلاف (اختلاف محمود) کی بنیاد دلیل پرہوتی ہے جب کہ خلاف (اختلاف مذموم) کوئی (مضبوط) دلیل نہیں ہوتی۔ اختلاف آثار رحمت ہے اور خلاف آثار بدعت میں سے ہے۔‘‘
اپنے الفاظ میں ہم اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ مقصود اور غایت میں اتحاد کے ساتھ وسائل و ذرائع میں اختلاف ہو اور خلاف یہ ہے کہ وسائل و مقاصد، دونوں الگ الگ ہوں۔ خلاف کے اندر نزاع، انتشار اور حقیقی افتراق و علیحدگی پائی جاتی ہے، جب کہ اختلاف میں لفظی فرق ہوتا ہے نہ کہ حقیقی۔
اختلاف مذموم سے ہی ’’تفرق‘‘(گروہوں میں بٹ جانا) پیدا ہوتا ہے جس سے قرآن کی متعدد آیات میں منع کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں اس اختلاف مذموم سے امت کے مختلف طبقات میں کشمکش کی کیفیت پیدا ہوئی اور اس سے سامنے آنے والی تشدد پسندی کی صورت حال سے اسلامی اجتماعیت پارہ پارہ ہورہی ہے۔ سارے نزاعات، باہمی تصا دمات اور جھگڑوں کی بنیاد اسی اختلاف مذموم پر ہے۔
اختلاف کا سب سے اہم اصول یہ ہے کہ اختلاف اس خلوص نیت سے کیا جائے کہ حق واضح اور بے غبار ہوکر سامنے آجائے خواہ وہ اپنی زبان سے ہو یا اپنے مخالف کی زبان سے۔ وہ تعمیر کی نیت سے کیا جائے نہ کہ تخریب کی نیت سے۔ قرآن کے مطابق(النحل 16: 125) اختلاف کے لیے نہایت خوش گوار طریقہ( قرآن کے لفظ میں ’’احسن‘‘) اختیار کیا جانا چاہیے۔ خوش گوار طریقہ یہ ہے کہ ایسا طرزعمل اختیار نہ کیا جائے جس سے فریق مخالف کے جذبات میں اشتعال پیدا ہو جیسے طنز و تمسخر،دوسروں کے سامنے مخالف کی کمزوری کا اظہار اور اظہار مدعا میں جارحانہ اور تشدد آمیز اسلوب اختیار کرنا وغیرہ۔ اختلاف راے کے اظہار میں حکمت و مو عظت کا اسلوب اختیار کیا جانا چاہیے۔ کسی مرحلے میں اگر اپنی راے کی کمزوری واضح ہو جا ئے تو ضروری ہے کہ حق کا اعتراف کر لیا جائے۔ خواہ مخواہ اپنی بات کی پچ کرنا محض انانیت اور کبر کی علامت ہے جو اسلام کی نگاہ میں سخت نا پسندیدہ ہے۔ اختلاف کرنے والے کو اس بات سے اختلاف کرنا چاہیے جو اس کی نظر میں اصولی اور واضح طور پر غلط ہو، لیکن فریق مخالف کی جو باتیں حق کے خلاف نہ ہوں ان کا اعتراف کرنا اور ان کو قبول کرنا چاہیے۔جس طرح ایک صاحب علم واجتہاد کی تمام باتوں کو قبول کر لینا اور انھیں سو فی صد بر حق تصور کرنا غلط ہے کہ یہ مقام خدا کے بعد صرف رسول کو حاصل ہے، اسی طرح اس کی مستند باتوں سے انکار محض عناد اور جہالت کی علا مت ہے۔ اختلاف تو اضع اور لچک کے ساتھ کیا جائے، لیکن اظہار حق میں مداہنت سے کام نہ لیا جائے۔ اسی طرح فریق مخالف سے اسی وقت تک بحث و مباحثہ ضروری ہے جب تک کہ پیش کی جانے والی راے سے تعلق رکھنے والے تمام پہلو مکمل و ضاحت کے ساتھ سامنے نہ آجائیں ۔تمام پہلوؤں کی حتی الوسع وضاحت و تصریح کے بعد بحث کو یک طرفہ طور پر ختم کر دینا چاہیے۔ چاہے فریق مخالف کا ذہن مطمئن ہو یا نہ ہو۔ اپنی بات کو منوا لینے کی کوشش کا انجام کبھی مثبت نہیں ہوتا ۔وہ نزاع کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ قرآن میں مشرکین کے اس رویے کی ان الفاظ میں مذمت کی گئی ہے: ’’ وہ اپنے حق کے بارے میں جھگڑتے ہیں جب کہ حق اچھی طرح واضح ہوچکا ہے۔‘‘( الانفال8: 46)۔
صحابہ وتابعین کے درمیان اختلاف کے مظاہراور ان کا طرز عمل
صحابۂ کرام پاک نفس و پاک باز شخصیت کے مالک تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا، لیکن وہ معصوم عن الخطا نہیں تھے۔ ان سے خطائیں سرزد ہوئیں، لیکن وہ اپنی خطاؤں پر قائم رہنے والے نہیں تھے۔ صحابۂ کرام کے مابین مختلف امور و معاملات میں بہت سے اختلافات کے واقعات پیش آئے، لیکن عموماً یہ اختلافات ادب کے دائرے سے باہر نہیں نکلے۔ سب سے بڑا اختلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کے مسئلے پر ہوا، لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اس دلیل کو قبول کرتے ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق، خلیفہ قریشی ہوگا،9 صحابہ کی جماعت نے اپنا اختلاف ختم کردیااور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر راضی ہوگئی۔ ایک دوسرا بڑا اختلاف زکوٰۃ دینے سے انکار کرنے والوں کے بارے میں ہوا۔ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد صحابہ میں دوسری عظیم ترین شخصیت کے مالک تھے، صرف زکوٰۃ سے انکار کی بنیاد پر جنگ و جدال کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابۂ کرام کی اس جماعت نے جو اس معاملے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے موقف کی موید تھی، اپنے موقف سے رجوع کرلیااور اختلاف اتحاد میں بدل گیا۔
ان کے علاوہ سینکڑوں، بلکہ ہزاروں اختلافات وہ ہیں جن کا تعلق فقہی احکام سے ہے: عبادات میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، معاملات میں لین دین، خرید و فروخت وغیرہ ۔اسی طرح نکاح و طلاق، وراثت اور اس طرح کے دیگر بہت سے معاملات میں صحابہ کے درمیان نظری اختلافات پائے جاتے تھے جن میں سے بعض اختلاف کی نوعیت شدید ترین تھی۔ مثلاً: حضرت عبداللہ ابن عمر اہل کتاب کی عورتوں سے شادی کو جائز تصور نہیں کرتے تھے، حضرت ابو طلحہ روزے کی حالت میں اولہ کھانا اور حضرت حذیفہ سورج نکلنے سے کچھ پہلے تک جب کہ روشنی پوری طرح پھیل چکی ہو، سحری کھانے کو جائز سمجھتے تھے۔10چاروں خلفاے راشدین کے درمیان بہت سے مسائل میں نظریاتی اختلافات موجود تھے، لیکن ان کے باہمی تعلقات پر اس کاکوئی اثر مرتب نہیں ہوا۔ حضرت عمر فاروق حضرت عبد اللہ ابن مسعود کو علم اور دینی تفقہ و بصیرت کا لبریز پیالہ (کنیف ملیٔ علما أو فقھا ) کہتے اور سمجھتے تھے۔ لیکن دونوں شخصیات کے درمیان تقریباً سو مسائل میں اختلافات پائے جاتے تھے۔11حضرت عبد اللہ ابن عباس اور زید بن ثابت کے درمیان وراثت کے بعض مسائل میں اتنے شدید اختلافات تھے کہ ابن عباس کہتے تھے کہ جو لوگ مجھ سے اختلافات کرتے ہیں وہ اور میں سبھی جمع ہوکر اللہ سے دعاکریں اور گڑ گڑائیں اور کہیں کہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ لیکن ابن عباس کا احترام حضرت زید بن ثابت کے تعلق سے یہ تھا کہ ایک مرتبہ انھیں تشریف لاتے ہوئے دیکھا تو سواری کی رکاب تھام لی اور ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ حضرت زید نے کہا کہ اے رسول اللہ کے چچا کے بیٹے،آپ اسے چھوڑ کر ہٹ جائیں اور ایسا نہ کریں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس نے کہا کہ ہمیں یہی سکھایا گیا ہے کہ اپنے علما اور بڑوں کے ساتھ ایسا ہی کریں۔ اس پر حضرت زید نے کہا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں۔ حضرت ابن عباس نے ہاتھ آگے کیا جسے حضرت زید نے فوراً چوم لیا اور فرمایا کہ ہم کو اہل نبی کے ساتھ ایسا ہی کرنے کا حکم اور تعلیم دی گئی ہے۔12
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کئی مسائل میں حضرت عبد اللہ ابن عمر سے شدید اختلاف کیا اور کہا کہ انھوں نے حدیث کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کی ہے۔ لیکن ابن عمر نے رد عمل میں ان کی ذرا بھی کوئی بے احترامی نہیں کی۔ حضرات صحابۂ کرام کے درمیان بہت سی شاذ آرا اور تفردات بھی پائے جاتے تھے، جن کی کچھ مثالیں اوپر گزریں، لیکن کسی صحابی سے دوسرے پر نظریاتی اختلاف کی وجہ سے لعن طعن منقول نہیں ہے۔
حضرات صحابۂ کرام کے اختلاف میں اتحاد کے یہ نمونے تابعین و تبع تا بعین اور ائمۂ مجتہدین کے لیے نقوش راہ ثابت ہوئے ۔چنانچہ تاریخ کے صفحات میں ان کے ایسے بہت سے وا قعات اور مثالیں مذکور ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ علمی و فکری اختلافات کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے باہمی تعلقات ومعاملات میں اسلام کی اصولی تعلیمات اوراخلاقی ہدایات پر عمل پیرا تھے۔ قاضی شریح سے متعلق منقول ہے کہ وہ قرآن کی بعض آیات کو متفق علیہ قرا ءت سے ہٹ کر پڑھتے تھے۔ ابراہیم نخعی تک یہ بات پہنچائی گئی تو انھوں نے صرف یہ کہا کہ عبد اللہ ابن مسعود ان سے زیادہ بڑے عالم تھے، وہ اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے۔ اہم ترین مسائل میں اختلاف کی اس طرح کی مثالیں دور اول میں کثرت سے پائی جاتی تھیں، لیکن وہ ہمیشہ علمی دائرے میں رہیں۔ کسی نے ان کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ و بدعتی قرار نہیں دیا۔13
اسی طرح متعدداجماعی مسائل میں صحابۂ کرام اور تابعین وتبع تابعین کے درمیان اختلافات کی مثالیں ملتی ہیں۔ ایسے تمام مسائل میں انھوں نے دوسروں پر نکیر کی اور اپنا اختلاف ظاہر کیا، لیکن اس کو کفر و ایمان کا مسئلہ نہیں بنایا ۔تکفیر کی بد عت صحابہ و تا بعین کے زمانے میں سب سے پہلے خوارج نے شروع کی جو اسلام کے نظری و عملی ڈھانچے میں بالکل ایک نئی چیز تھی۔ اس لیے امت کے اجتماعی ضمیر نے ان کی فکری روش کو قبول نہیں کیا اور ان کی فکر تاریخ اسلام کا پا رینہ ورق بن کر رہ گئی۔
ائمۂ مجتہدین کے درمیان اختلاف کے مظاہر اور ان کا طرز عمل
صحابہ و تا بعین کے درمیان اجتہادی و فقہی مسائل میں جو اختلاف پائے جاتے تھے، اس کی وراثت ائمۂ مجتہدین کو بھی حاصل ہوئی۔ چنانچہ سینکڑوں امور ومعاملات میں وہ باہم مختلف الراے تھے۔ اس بنیاد پر ان کے درمیان متعدد مکاتب فقہ وجود میں آئے جن میں سے تقریباً آٹھ مکاتب فقہ سے اس وقت امت کی اکثریت وابستہ ہے ۔پانچ اہل سنت کے: حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور ظاہری یا اہل حدیث اور باقی تین میں سے دو اہل تشیع کے: جعفری اور زیدی اور آٹھواں مکتب فقہ اباضی ہے جس کی نسبت خوارج کے فرقہ اباضیہ سے ہے( لیکن موجودہ اباضی علما و اہل قلم اس نسبت سے انکار کرتے ہیں) ۔
حضرت امام مالک کا قول ہے کہ کسی فقیہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے مسلک کے اختیار کرنے پر مجبور کرے۔14 علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اجتہادی مسائل میں نکیر نہ کی جائے اور کسی کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ ایسے مسائل میں اپنی راے پر عمل کرنے کے لیے دوسروں کو مجبور کرے۔ شا ہ ولی اللہ دہلوی ’’الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’اکثر مسائل میں فقہا نے یہ علت بیان کی ہے کہ ان میں صحابۂ کرام کا عمل مختلف ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سارے صحابہ حق پر تھے۔ اس لیے ہمیشہ علماے کرام اجتہادی مسائل میں مفتیوں کے فتا ویٰ کو جائز قرار دیتے اور قاضیوں کے فیصلوں کو تسلیم کرتے تھے اور بعض مرتبہ اپنے مسلک کے خلاف راے پر بھی عمل کرتے تھے۔ائمۂ فقہ کو دیکھیے کہ وہ ان مسائل میں ان کی تہ تک جاتے ہیں، اختلاف کو واضح کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں:’’یہ زیادہ احتیاط پر مبنی ہے‘‘ (ھذا احوط)، ’’ یہی پسندیدہ ہے‘‘(ھذا ھو المختار)، ’’یہ میرے نزدیک زیادہ بہتر ہے‘‘(ھذا أحبُّ الیّ)۔ اسی طرح وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مجھ تک بس یہی روایت پہنچی ہے۔اس طرح کی مثالیں(سرخسی کی) المبسوط، امام محمد کے آثار اور امام شافعی کے اقوال میں بکثرت ملتی ہیں۔‘‘15
اسی طرح ان فقہاے مجتہدین کے درمیان یہ تصور نہیں پایا جاتا تھا کہ حق صرف انھی کے ساتھ خاص ہے اور لا محالہ انھی کا استنباط قابل عمل ہے۔ جیسا کہ یہ ذہنیت بعد کے دور میں علمی حلقوں میں پیدا ہوتی چلی گئی۔ اس کی بکثرت مثالیں موجود ہیں کہ ائمۂ مجتہدین اور اُن کے فقہی بصیرت کے حامل لائق تلامذہ خود اپنے استاذ سے اختلاف کرتے اوربہت سے مسائل میں اپنے فقہی موقف سے ہٹ کر دوسرے مکاتب فقہ سے تعلق رکھنے والے مجتہدین کے اقوال پر عمل کر لیتے تھے۔ امام ابو یوسف اور امام محمد نے بہت سے مسائل میں اپنے استاذ امام ابو حنیفہ سے اختلاف کیا۔ امام شا فعی نے ایک مرتبہ امام ابوحنیفہ کے مقبرے کے قریب فجر کی نماز ادا کی، لیکن اپنے مسلک کے بر خلاف اس میں قنوت نہیں پڑھی حالانکہ وہ ان کے نزدیک سنت موکدہ ہے۔ لوگوں کے سوال پر فرما یا کہ کبھی کبھی ہم اہل عراق کے مذہب پر بھی عمل کر لیتے ہیں۔16 امام ابو یوسف نے ایک مرتبہ جمعہ کی نماز پڑھائی۔ انھوں نے ایک حمام سے غسل کیا تھا ۔ نماز کے بعد انھیں بتایا گیا کہ جس حمام سے آپ نے غسل کیا تھا اس میں مردہ چوہا موجود تھا۔ احناف کے نزدیک اس صورت میں پانی پاک نہیں رہتا، لیکن انھوں نے فرمایا کہ اگر ایسا ہے تو ہم اس مسئلے میں اہل مدینہ کے مسلک پر عمل کرتے ہیں جن کے نزدیک ایسا پانی پاک ہے۔17
امام مالک اور ابو حنیفہ کے درمیان سینکڑوں مسائل میں جو اختلاف ہے، وہ اہل علم پر واضح ہے۔ لیکن ان دونوں کے درمیان باہمی احترام و قدر شناسی کی مثال یہ ہے کہ لیث بن سعد کہتے ہیں کہ ایک روز میری مدینہ میں امام مالک سے ملاقات ہوئی تو میں نے دیکھا کہ وہ پیشانی سے پسینہ پونچھ رہے ہیں۔ اس سے متعلق سوال پر فرمایا کہ میں ابو حنیفہ سے گفتگو کرکے پسینہ پسینہ ہوگیا۔اے مصری !وہ واقعی فقیہ ہیں۔ لیث کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک دن میں نے ابو حنیفہ سے کہا کہ مالک نے آپ سے متعلق کتنی اچھی بات کہی۔ انھوں نے جواب میں کہا کہ صحیح جواب اور بھر پور تنقید میں مالک سے بڑھ کر میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔18 امام بن حسن شیبانی کا قول ہے کہ اگر کسی کا اختلاف ہم پر غالب آیا تو وہ شا فعی ہیں۔ جب مزید پوچھا گیا کہ اس کی وجہ کیا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ان کے حسنِ بیان کی وجہ سے اور اس لیے بھی کہ وہ غور سے سن کر پوری ثابت قدمی کے ساتھ سوال و جواب کرتے تھے۔19 حنفی و شا فعی مکاتب فقہ کے درمیان اختلاف کی جو حدت و شدت پائی جاتی ہے اس سے عہد وسطیٰ سے لے کر آج تک فقہی مجادلوں اور منا ظروں کی مجلسیں آراستہ ہوتی رہی ہیں۔ لیکن خود امام شا فعی کا اپنے ’’ حریف ‘‘کے بارے میں یہ اعتراف قابل غور ہے کہ لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کے محتاج ہیں۔20
امام ابن تیمیہ سے منقول ہے کہ امام احمد بن حنبل ان کے خلاف راے رکھنے والے فرقوں سے انتساب رکھنے والے ائمۂ مساجدکے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔ محدثین و مفسرین کی رواداری کا یہ عالم ہے کہ انھوں نے ان کی روایات تک اپنی کتابوں میں شامل کی ہیں۔ان میں خود اما م بخاری بھی شامل ہیں ۔انھوں نے خوارج اور شیعہ راویوں کی روایتیں بھی اپنی ’’الجامع الصحیح‘‘ میں شامل کی ہیں۔ ابن حجر عسقلانی نے ’’فتح الباری‘‘ کے مقدمے ’’ہدی الساری‘‘ میں اٹھارہ ایسے راویوں کا تذکرہ کیا ہے جو شیعہ تھے اور ان کی روایات صحیح بخاری میں موجود ہیں۔21 محدثین اہل سنت نے ’اہل بدعت‘ کی روایات اس اصول کے تحت اپنی کتابوں میں لی ہیں کہ وہ جھوٹ سے بچنے والے، قول کے سچے پکے (صدوق) ہوں اور اپنے مذہب کے داعی نہ ہوں۔
یہ اہل سنت کے فقہا وائمہ کے درمیان ادب اختلاف کے نظا ئر ہیں۔ دوسرے مکاتب فقہ میں سے جعفری فقہ کے ستون اعظم، جن سے فقہ جعفری منسوب ہے، یعنی حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ اوران کے والد امام باقر، دونوں امام ابو حنیفہ کے استا دوں میں سے تھے۔ ابو حنیفہ کا قول ہے کہ میں نے جعفر صادق سے زیادہ بڑا فقیہ کسی کو نہیں دیکھا۔امام مالک کہتے ہیں کہ میں کچھ عرصے تک جعفر بن محمد کے پاس آتا جاتا رہا۔ میں نے انھیں ہمیشہ تین حالتوں میں سے ایک میں پایا: نماز کی حالت میں یا روزے کی حالت میں یا قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے۔علم اورعبادت میں کسی نے جعفر بن محمدسے بڑھ کر نہ کسی کودیکھا اور نہ سنا۔22
موجودہ منظرنامہ
موجودہ صورت حال یہ ہے کہ فکری اختلاف نے نزاع وشقاق کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اسلامی فکری روایت اس کے ہاتھوں شکست وریخت کا شکار ہے۔ اس کا ایک اہم مظہر تکفیر اور تضلیل و تفسیق کی روش ہے۔ہمارے علمی و دینی حلقوں میں آزادیِ فکرونظر کو پابند سلاسل کرنے اور اس پرقدغن لگانے کی جوکوششیں کی جاتی رہی ہیں، تکفیر وتفسیق کو اس کے لیے آلۂ کار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے،جیسا کہ اوپر کی مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے۔ صحابہ وتابعین کے اور ائمۂ مجتہدین کے مثالی دور میں اس کے واقعات نہیں ملتے۔ حالانکہ ان کے درمیان مختلف دینی امور میں شدید ترین نظریاتی اختلافات پائے جاتے تھے اور کبھی یہ اختلافات شدید تر بھی ہوجاتے تھے۔ حضرت قدامہ بن مظعون نے ،جو بدری صحابی تھے، شراب پی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس بابت سوال اور محاسبے پر اپنے اس فعل حرام کے جواز میں قرآن کی ایک آیت (المائدہ 5: 193) سے استدلال کیا۔صحابۂ کرام کے مشورے سے، جن میں حضرت علی اور عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما شامل تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر حد جاری کی، لیکن ان کی تکفیر نہیں کی۔23 سیاسی سطح پر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اختلافات نے تاریخ کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا، لیکن ان نظری و سیاسی اختلافات نے کبھی تکفیر کی شکل اختیار نہیں کی۔ خوارج حضرت علی رضی اللہ عنہ اورحضرت عثمان رضی اللہ عنہ سمیت اکثر صحابہ کی تکفیر کرتے اور انھیں مباح الدم سمجھتے تھے، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی تکفیر نہیں کی۔ اس تعلق سے ایک شخص کے سوال کے جواب میں انھوں نے فرمایا کہ وہ کفر سے ہی تو بھاگے ہیں (من الکفر فروا)۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پھر ان پر کیا حکم لگایا جائے توانھوں نے فرمایا: ’اخواننا بغوا علینا‘(وہ ہمارے بھائی جو ہمارے خلاف باغی ہوگئے ہیں)۔24
اسلاف میں اس تعلق سے احتیاط کی روش پائی جاتی تھی۔ وہ حکمِ شرعی کا اطلاق فرد کی ظاہری حالت پر کرتے ہوئے باطن کی کیفیت کو خدا پر چھوڑنے کے قائل تھے۔ ان کا مسلک تھا کہ ہم ظاہر حال پر حکم لگاتے ہیں اور چھپے ہوئے احوال کو اللہ کے حوالے کردیتے ہیں(نحن نحکم بالظواہر ونولی الی اللّٰہ السرائر)۔ اس لیے جو لوگ دین کے اساسی اعتقادات پر ایمان لاتے ہوئے خود کو مسلمان کہتے تھے، انھیں مسلمان سمجھا جا تا تھا۔ یہی وجہ ہے، جیسا کہ اوپرگزرا، خوارج، معتزلہ،جہمیہ یا قدریہ جیسی جماعتوں کے ضلال وانحراف کے اظہر من الشمس ہوجانے اور ان سے اختلاف کے باوجود علما ے اہل سنت اس نکتے پر متفق رہے کہ ان کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
خلاصہ یہ ہے کہ اسلام نے اختلاف فکر ونظر کواہمیت دی ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کی ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ ضروری قراردیا ہے کہ وہ اصول وآداب کے دائرے میں ہواورتعمیری اور نتیجہ خیز ہو۔ اسلامی فکری روایت کی تشکیل میں ایک بنیادی عامل کے طور پر اس نوع کے اختلاف فکرونظرکا اہم کردار رہا ہے جس کے اہم نمونے سلف صالحین کے طرز عمل میں ملتے ہیں۔موجودہ دور میں فکر اسلامی کو مضبوط بنیادوں پر قائم ومستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس حوالے سے اسلام کی اصولی تعلیمات اور اسلاف کے نقوش عمل کوبنیادبنانے کی کوشش کی جائے۔اس تعلق سے اسلامی حلقہ ہاے علم وفکر کا موجودہ منظرنامہ قابل اطمینان نہیں ہے۔اصحاب علم و دانش کے لیے یہ غوروفکر کا ایک اہم موضوع ہے۔
- ۔ معجم التعریفات، علی بن محمد السیدالشریف الجرجانی 89۔
- ۔ تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، جلال الد ین السیوطی 1/ 625۔
- ۔ مختصرجامع بیان العلم و فضلہ، ابن عبد البر ،اختصرہ احمد بن عمر المحمصانی البیروتی254۔
- ۔ مقدمہ کتاب المغنی، ابن قدامہ الحنبلی 1/4۔
- ۔ ابوداؤد، رقم 93۔
- ۔ بخاری، رقم 39۔
- ۔ابوداؤد، رقم 1960۔
- ۔ الکلیات:معجم فی المصطلحات والفروق اللغویہ، ابو البقا الکفوی60۔
- ۔ مسند احمد، رقم 2329۔
- ۔ قاعدۃ جلیلۃ فی التوسل والوسیلہ، ابن تیمیہ 104۔
- ۔ ادب الخلاف، طٰہٰ جابر علوانی 74۔
- ۔ حیاۃ الصحابہ، محمدیوسف کاندھلوی 3/ 30۔
- ۔ اس کی مثالوں کے لیے دیکھیے: ادب الخلاف، یا سر برہامی، المکتبۃ الشاملہ9۔
- ۔ مالک : حیاتہ و عصرہ، آرائہ وفقہہ، محمد ابو زہرہ 225۔
- ۔ الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف،مراجعۃ وتعلیق: عبد الفتاح ابوغدہ 1/ 108۔
- ۔ ماخذ سابق 110۔
- ۔ ماخذ سابق۔
- ۔ ادب الخلاف، علوانی123-122۔ بحوالہ ،الانتقاء فی فضائل الائمۃ الثلاثۃ الفقہاء، ابن عبد البر 14۔
- ۔ اس نوع کے تفصیلی مطالعے کے لیے رجوع کریں: ادب الخلاف، علوانی 123- 122۔
- ۔ منازل الآئمۃ الاربعہ : ابی حنیفہ ومالک والشافعی واحمد، ابوزکریا یحیٰ بن ابراہیم السلمانی 170۔
- ۔ہدی الساری مقدمہ فتح الباری، ابن حجرالعسقلانی 340- 335۔
- ۔ مالک :تجارب حیاۃ، امین الخولی105۔
- ۔ الجامع لاحکام القرآن، القرطبی3/ 192۔
- ۔ مصنف عبد الرزاق، ابوبکر عبدالرزاق بن الہمام 10/ 150۔