میری نوا کا ثبات، اشہد ان لا الٰہ
قلب و نظر کی حیات، اشہد ان لا الٰہ
عالم نو ہے مگر آج بھی ہوں نغمہ زن
توڑ کے لات و منات، اشہد ان لا الٰہ
شوکت فغفور و کے، سلطنت ِ روم و رے
موت ہے اس کی برات، اشہد ان لا الٰہ
تو ہے مسلماں تو ہیں ایک ہی دریا کی موج
دجلہ و نیل و فرات، اشہد ان لا الٰہ
پھر وہ اذانِ سحر، ڈھونڈ رہی ہے جسے
تیرے شبستاں کی رات، اشہد ان لا الٰہ
علم و ہنر کا فسوں، عشق کا زور ِ جنوں
بندۂ حق کی نجات، اشہد ان لا الٰہ
درد کا درماں بھی یہ، عشرتِ دوراں بھی یہ
تلخی غم میں نبات، اشہد ان لا الٰہ