مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(10)

سَیَقُوۡلُ السُّفَہَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىہُمۡ عَنۡ قِبۡلَتِہِمُ الَّتِیۡ کَانُوۡا عَلَیۡہَا ؕ قُلۡ لِّلّٰہِ الۡمَشۡرِقُ وَ الۡمَغۡرِبُ ؕ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۴۲﴾ وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ وَ مَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَۃَ الَّتِیۡ کُنۡتَ عَلَیۡہَاۤ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ یَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ یَّنۡقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیۡہِ ؕ وَ اِنۡ کَانَتۡ لَکَبِیۡرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیۡعَ اِیۡمَانَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴۳﴾

(ابراہیم کی بنائی ہوئی مسجد کو، اے پیغمبر ،ہم نے تمھارے لیے قبلہ ٹھیرانے کا فیصلہ کیا ہے تو) اب اِن لوگوں میں سے جو احمق ہیں، وہ کہیں گے: اِنھیں کس چیز نے اِن کے اُس قبلے سے پھیر دیا جس پر یہ پہلے تھے؟ اِن سے کہہ دو: مشرق اور مغرب، سب اللہ ہی کے ہیں، وہ جس کو چاہتا ہے، (اِن تعصبات سے نکال کر) سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ (ہم نے یہی کیا ہے) اور (جس طرح مسجد حرام کو تمھارا قبلہ ٹھیرایا ہے)، اُسی طرح ہم نے تمھیں بھی ایک درمیان کی جماعت بنا دیا ہے تاکہ

قَدۡ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجۡہِکَ فِی السَّمَآءِ ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبۡلَۃً تَرۡضٰہَا ۪ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ حَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ شَطۡرَہٗ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ لَیَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۴﴾ وَ لَئِنۡ اَتَیۡتَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَکَ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِتَابِعٍ قِبۡلَتَہُمۡ ۚ وَ مَا بَعۡضُہُمۡ بِتَابِعٍ قِبۡلَۃَ بَعۡضٍ ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾ۘ اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنۡہُمۡ لَیَکۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۴۶﴾ؔ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۱۴۷﴾

وَ لِکُلٍّ وِّجۡہَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیۡہَا فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ؃ اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یَاۡتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۴۸﴾

تم دنیا کے سب لوگوں پر (حق کی) شہادت دینے والے بنو اور اللہ کا رسول تم پر یہ شہادت دے۔ اور اِس سے پہلے، (اے پیغمبر)، جس قبلے پر تم تھے، اُسے تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے ٹھیرایا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک بھاری بات تھی، مگر اُن کے لیے نہیں، جنھیں اللہ ہدایت سے بہرہ یاب کرے۔ اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ (اِس طرح کی آزمایش سے وہ) تم لوگوں کے ایمان کو ضائع کرنا چاہے۔ اللہ تو لوگوں کے لیے بڑا مہربان ہے، سراسر رحمت ہے۔142-143

تمھارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھتے رہے ہیں، (اے پیغمبر)، سو ہم نے فیصلہ کر لیا کہ تمھیں اُس قبلے کی طرف پھیر دیں جو تم کو پسند ہے۔ لہٰذا اب اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر دو اور تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو، (نماز میں) اپنے رخ اُسی کی طرف کرو۔ یہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی تھی، جانتے ہیں کہ اُن کے پروردگار کی طرف سے یہی حق ہے، (لیکن اِس کے باوجود انکار کر رہے ہیں)، اورجو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اُس سے بے خبر نہیں ہے۔ اور اِن اہل کتاب کے سامنے، (اے پیغمبر)، تم اگرہر طرح کی نشانیاں بھی پیش کر دو تو یہ تمھارے قبلے کی پیروی نہ کریں گے۔ اور (اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جو علم تمھارے پاس آ چکا ہے، اِس کی بنا پر) تم بھی اِن کا قبلہ نہیں مان سکتے اور (اِن کی یہ ضد صرف تمھارے ساتھ نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ) اِن میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کا قبلہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ (لہٰذا اِن کو کوئی چیز

وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ اِنَّہٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۹﴾

وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ حَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ شَطۡرَہٗ ۙ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَیۡکُمۡ حُجَّۃٌ ٭ۙ اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ ٭ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِیۡ ٭ وَ لِاُتِمَّ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۰﴾ۙ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِنَا وَ یُزَکِّیۡکُمۡ وَ یُعَلِّمُکُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۵۱﴾ؕ فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِیۡ وَ لَا تَکۡفُرُوۡنِ ﴿۱۵۲﴾

اگر مطمئن کر سکتی ہے تو یہی کہ تم اِن کا قبلہ مان لو)، لیکن اُس علم کے بعد جو تمھارے پاس آ چکا ہے، تم اگر اِن کی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہو تو تم بھی یقینا ًاِنھی ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ (یہ حقیقت ہے کہ) جن کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اِس چیز کو ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ اور اِن میں یہ ایک گروہ ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھپاتا ہے۔ (تم پر واضح ہو کہ) تمھارے پروردگار کی طرف سے یہی حق ہے، لہٰذا (اِس کے متعلق) تم کو ہرگز کسی شک میں نہ پڑنا چاہیے۔144-147

اور اِن میں سے ہر ایک نے (اپنے لیے قبلے کی) ایک سمت مقرر کر رکھی ہے، وہ اُسی کا رخ کرتا ہے۔ اِس لیے (تم لوگ اِنھیں چھوڑو اور) نیکیوں کی راہ میں آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم جہاں بھی ہو گے، اللہ تم سب کو (فیصلے کے لیے ) اکٹھا کرے گا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔148

(اِنھیں چھوڑو، اے پیغمبر)، اور (سفر میں بھی ہمیشہ) جہاں سے نکلو، (نمازکے لیے) اپنا رخ مسجد حرام ہی کی طرف کرو۔ اِس میں شبہ نہیں کہ تمھارے پروردگار کی طرف سے یہی حق ہے، اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم لوگ کرتے ہو، اللہ اُس سے بے خبر نہیں ہے۔ 149

اور (ایک مرتبہ پھر سنو کہ سفر میں بھی ہمیشہ) جہاں سے نکلو، (نماز کے لیے) اپنا رخ مسجدحرام ہی کی طرف کرو، اور (عام حالات میں بھی) تم لوگ جہاں کہیں ہو، اپنے رخ اِسی (مسجد) کی طرف کرو، اِس لیے کہ اِن لوگوں کو تمھارے خلاف کوئی حجت نہ ملے ـــــ ہاں اِن میں سے جو ظالم ہیں، اُن کی زبان تو کوئی چیز بھی بند نہیں کر سکتی، سو تم اُن سے نہ ڈرو، بلکہ مجھ سے ڈرو ـــــ اور اِس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں، اور اِس لیے کہ تم صحیح راستہ پا لو۔ چنانچہ (یہی مقاصد ہیں جن کے لیے) ہم نے ایک رسول تم میں سے تمھارے اندر بھیجا ہے جو ہماری آیتیں تمھیں سناتا ہے اور تمھارا تزکیہ کرتا ہے اور اِس کے لیے تمھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور اِس طرح وہ چیزیں تمھیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔ لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمھیں یاد رکھوں گا اور میرے شکر گزار بن کر رہو، میری ناشکری نہ کرو۔ 150-152

[باقی]