مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(11)

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾  وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾ وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۱۵۶﴾ؕ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رَحۡمَۃٌ ۟ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾

ایمان والو، (یہ نعمت تمھیں عطا ہوئی ہے تو اب تمھارے مخالفین کی طرف سے جو مشکلیں بھی پیش آئیں، اُن میں) ثابت قدمی اور نماز سے مدد چاہو۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ اُن کے ساتھ ہے جو (مشکلات کے مقابلے میں) ثابت قدم رہنے والے ہوں۔ اور جو لوگ اللہ کی (اِس) راہ میں مارے جائیں، اُنھیں یہ نہ کہو کہ مردہ ہیں۔ وہ مردہ نہیں، بلکہ زندہ ہیں، لیکن تم (اُس زندگی کی حقیقت) نہیں سمجھتے۔ ہم (اِس راہ میں) یقیناً تمھیں کچھ خوف، کچھ بھوک اور کچھ جان و مال اور کچھ

اِنَّ الصَّفَا وَ الۡمَرۡوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَیۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ؕ وَ مَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۵۸﴾  اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَ الۡہُدٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الۡکِتٰبِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰہُ وَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ﴿۱۵۹﴾ۙ  اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اَصۡلَحُوۡا وَ بَیَّنُوۡا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوۡبُ عَلَیۡہِمۡ ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶۰﴾

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ مَاتُوۡا وَ ہُمۡ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ لَعۡنَۃُ اللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ﴿۱۶۱﴾ۙ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۱۶۲﴾

وَ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶۳﴾ اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾

پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے۔ اور (اِس میں) جو لوگ ثابت قدم ہوں گے، (اے پیغمبر)، اُنھیں (دنیا اور آخرت، دونوں میں کامیابی کی) بشارت دو۔ (وہی) جنھیں کوئی مصیبت پہنچے تو کہیں کہ لاریب، ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں (ایک دن) اُسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اُن کے پروردگار کی عنایتیں اور اُس کی رحمت ہو گی اور یہی ہیں جو اُس کی ہدایت سے بہرہ یاب ہونے والے ہیں۔153-157

(بیت الحرام ہی کی طرح صفا و مروہ کی حقیقت بھی اِن یہودیوں نے ہمیشہ چھپانے کی کوشش کی ہے۔ لہٰذا تحویل قبلہ کے اِس موقع پر یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ) صفا اور مروہ یقیناً اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ جو اِس گھر کا حج یا عمرہ کرنے کے لیے آئیں، اُن پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اِن دونوں میں طواف بھی کر لیں، (بلکہ یہ ایک نیکی کا کام ہے) اور جس نے اپنے شوق سے نیکی کا کوئی کام کیا تو اللہ اُس کی قدر کرنے والا ہے، اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔ (اِس معاملے میں) جو حقائق ہم نے نازل کیے اور جو ہدایت بھیجی تھی، اُسے جو لوگ چھپاتے ہیں، اِس کے باوجود کہ اِن لوگوں کے لیے اپنی کتاب میں ہم نے اُسے کھول کھول کر بیان کر دیا تھا، یقیناًوہی ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی جن پر لعنت کریں گے۔ اِن میں سے، البتہ جو توبہ کریں اور (اپنے اِس طرزِ عمل کی) اصلاح کر لیں اور (جو کچھ چھپاتے تھے، اُسے) صاف

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡدَادًا یُّحِبُّوۡنَہُمۡ کَحُبِّ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ؕوَ لَوۡ یَرَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اِذۡ یَرَوۡنَ الۡعَذَابَ ۙ اَنَّ الۡقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعَذَابِ ﴿۱۶۵﴾

اِذۡ تَبَرَّاَ الَّذِیۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡا وَ رَاَوُا الۡعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتۡ بِہِمُ الۡاَسۡبَابُ ﴿۱۶۶﴾ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡا لَوۡ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَتَبَرَّاَ مِنۡہُمۡ کَمَا تَبَرَّءُوۡا مِنَّا ؕ کَذٰلِکَ یُرِیۡہِمُ اللّٰہُ اَعۡمَالَہُمۡ حَسَرٰتٍ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ مَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنَ النَّارِ ﴿۱۶۷﴾

صاف بیان کر دیں تو اُن کی توبہ میں اپنی شفقت سے قبول کر لوں گا اور حقیقت یہ ہے کہ میں بڑا توبہ قبول کرنے والا ہوں، میری شفقت ابدی ہے۔ 158-160

اِس کے برخلاف جو اپنے انکار پر قائم رہے اور مرے تو اِسی طرح منکر تھے، یقیناً وہی ہیں جن پر اللہ اور اُس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ اُن پر سے سزا ہی ہلکی کی جائے گی اور نہ اُنھیں کوئی مہلت ملے گی۔161-162

(ایمان والو، اِنھیں فیصلہ کرنے دو) اور (اِن سے قطعِ نظر کر کے تم یہ حقیقت اب اچھی طرح سمجھ لو کہ) تمھارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ سراسر رحمت ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ آسمانوں اور زمین کے بنانے میں، اور شب و روزکے بدل کر آنے میں، اور لوگوں کے لیے دریا میں نفع کی چیزیں لے کر چلتی ہوئی کشتیوں میں، اور اُس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے، پھر اُس سے زمین کو اُس کے مر جانے کے بعدزندہ کیا ہے اور اُس میں ہر قسم کے جان دار پھیلائے ہیں ــــــ اور ہواؤں کے پھیرنے میں، اور آسمان و زمین کے درمیان حکم کے تابع بادلوں میں، (اِس حقیقت کو سمجھنے کے لیے) بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔ 163-164

اور (زمین و آسمان کی اِن نشانیوں کے باوجود) لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو اوروں کو اللہ کے برابر ٹھیراتے ہیں۔ وہ اُن سے اُسی طرح محبت کرتے ہیں، جس طرح اللہ سے محبت کرتے ہیں، دراں حالیکہ ایمان والوں کو تو سب سے بڑھ کر (اپنے) اللہ سے محبت ہوتی ہے۔ اور اگر یہ ظالم اُس وقت کو دیکھیں، جب یہ عذاب دیکھیں گے (تو اِن پر یہ حقیقت واضح ہو جائے) کہ زور و اختیار، سب اللہ ہی کا ہے اور یہ کہ (اِس طرح کے لوگوں کو) اللہ بڑا ہی سخت عذاب دینے والا ہے۔165

اُس وقت جب وہ لوگ جن کی پیروی کی گئی، اپنے پیرووں سے بے تعلقی ظاہر کر دیں گے اور عذاب سے دوچار ہوں گے اور اُن کے تعلقات یک قلم ٹوٹ جائیں گے۔ اور اُن کے پیرو کہیں گے کہ اے کاش، ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کا موقع ملے تو ہم بھی اِن سے بے تعلقی ظاہر کریں، جس طرح اِنھوں نے ہم سے بے تعلقی ظاہر کی ہے۔ اِس طرح اللہ اُن کے اعمال کو اُن کے لیے سراسر حسرت بنا کر اُنھیں دکھائے گا اور دوزخ سے نکلنے کے لیے وہ کوئی راہ نہ پا سکیں گے۔ 166-167

[باقی]