مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(15)

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّعۡجِبُکَ قَوۡلُہٗ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یُشۡہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیۡ قَلۡبِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴿۲۰۴﴾ وَ اِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الۡاَرۡضِ لِیُفۡسِدَ فِیۡہَا وَ یُہۡلِکَ الۡحَرۡثَ وَ النَّسۡلَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡفَسَادَ ﴿۲۰۵﴾ وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتۡہُ الۡعِزَّۃُ بِالۡاِثۡمِ فَحَسۡبُہٗ جَہَنَّمُ ؕ وَ لَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۲۰۶﴾

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡرِیۡ نَفۡسَہُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿۲۰۷﴾

(یہ عبادت ہے جس کی راہ روکنے والوں سے تم کو لڑنا ہے) اور (اِدھر صورت حال یہ ہے کہ تمھارے) لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں کہ جن کی باتیں تو اِس دنیا کی زندگی میں تمھیں بھلی معلوم ہوتی ہیں، اور وہ اپنے دل کے ارادوں پر اللہ کو گواہ بھی بناتے ہیں، لیکن ہیں وہ بدترین دشمن۔ (تمھارے سامنے وہ یہی کرتے ہیں) اور جب وہاں سے ہٹتے ہیں تو اُن کی ساری تگ و دو اِس لیے ہوتی ہے کہ زمین میں فساد پھیلائیں اور کھیتیوں کو غارت کریں اور نسلیں تباہ و برباد کریں، اور (تم جانتے ہو کہ) اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو گناہ پر آمادگی کے

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۰۸﴾ فَاِنۡ زَلَلۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡکُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۰۹﴾

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیۡ ظُلَلٍ مِّنَ الۡغَمَامِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ قُضِیَ الۡاَمۡرُ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۲۱۰﴾ سَلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ کَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍۭ بَیِّنَۃٍ ؕ وَ مَنۡ یُّبَدِّلۡ نِعۡمَۃَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۱۱﴾ زُیِّنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا وَ یَسۡخَرُوۡنَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا فَوۡقَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۲۱۲﴾

ساتھ اُن کا غرو ر اُنھیں دامن گیر ہو جاتا ہے۔ سو اُن کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔204-206

اور اِنھی لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان کھپا دینے کے لیے تیار ہیں۔ (یہی ہیں کہ جن سے کوئی غلطی ہو جائے تو اللہ اُسے معاف کر دیتا ہے)، اور اِس طرح کے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے۔207

ایمان والو، (ایمان کے ساتھ یہ دو رویے نہیں ہو سکتے، اِس لیے) تم سب (ایک ہی طریقے سے) اللہ کی اطاعت میں داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ اِن کھلی ہوئی تنبیہات کے بعد بھی جو تمھارے پاس آئی ہیں، اگر تم لغزش کھاتے ہو تو جان لو کہ اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔ 208-209

(اِس اتمام حجت کے باوجود) کیا یہ اِسی کے منتظر ہیں کہ اللہ اور اُس کے فرشتے بدلیوں کے سایے میں اِن پر نمودار ہو جائیں اور معاملے کا فیصلہ کر دیا جائے؟ (لیکن یہ اللہ کا طریقہ نہیں ہے) اور اِس طرح کے معاملات تو اللہ ہی کے حوالے ہیں۔ بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے اُن کو کتنی واضح نشانیاں دیں، (مگر اِس سے کیا فائدہ ہوا)؟ اور حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی (ہدایت جیسی)نعمت کو پا لینے کے بعد اُس کو (گم راہی سے) بدلتے ہیں، وہ اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکتے، اِس لیے کہ اللہ سخت مواخذہ کرنے والا ہے۔ دنیا کی زندگی اِن منکروں کے لیے بڑی دل پسند بنا دی گئی ہے۔ (اِس کے انجام سے اِنھیں آگاہ کیا جائے تو نہیں سنتے) اور ایمان والوں کا مذاق اڑاتے ہیں، دراں حالیکہ خدا سے ڈرنے والے قیامت کے دن اِن کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ (یہ اُن کے لیے اللہ کا فضل ہے) اور اللہ جس کو چاہے گا، اپنا فضل بے حساب عطا فرمائے گا۔210-212

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۟ فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۪ وَ اَنۡزَلَ مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ فِیۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ مَا اخۡتَلَفَ فِیۡہِ اِلَّا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡہُ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ۚ فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ مِنَ الۡحَقِّ بِاِذۡنِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۱۳﴾

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ مَسَّتۡہُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلۡزِلُوۡا حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ﴿۲۱۴﴾

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلۡ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ فَلِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ‌السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۱۵﴾

(اپنی منافقت کے لیے یہ اختلافات کو بہانہ بناتے ہیں۔ اِنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر(اُن میں اختلاف پیدا ہوا تو) اللہ نے نبی بھیجے، بشارت دیتے اور انذار کرتے ہوئے اور اُن کے ساتھ قول فیصل کی صورت میں اپنی کتاب نازل کی تاکہ لوگوں کے درمیان وہ اُن کے اختلافات کا فیصلہ کر دے۔ یہ جن کو دی گئی، اِس میں اختلاف بھی اُنھی لوگوں نے کیا، نہایت واضح دلائل کے اُن کے سامنے آ جانے کے بعد، محض آپس کے ضدم ضدا کی وجہ سے۔ پھر یہ جو (قرآن کے) ماننے والے ہیں، اللہ نے اپنی توفیق سے اُس حق کے بارے میں اِن کی رہنمائی کی جس میں یہ اختلاف کر رہے تھے۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق) سیدھی راہ کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔213

(یہ منافق سمجھتے ہیں کہ اِن پر کوئی ذمہ داری ڈالے بغیر ہی اِس راہ کی سب مشکلیں اللہ کی مدد سے دور ہو جانی چاہییں۔ خدا کے بندو)، تمھارا خیال ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، دراں حالیکہ تمھیں وہ حالات ابھی پیش ہی نہیں آئے جو (رسولوں کی بعثت کے نتیجے میں) اُن لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے گزرے ہیں؟ اُن پر آفتیں آئیں، مصیبتیں گزریں اور وہ ہلا مارے گئے، یہاں تک کہ رسول اور اُس کے ساتھ ایمان لانے والے سب پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ (اُس وقت بشارت دی گئی کہ) سنو، اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔214

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلۡ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ فَلِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ‌السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۱۵﴾

وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ اچھا، پھر کیا خرچ کریں؟ کہہ دو کہ جتنا مال بھی خرچ کروگے، وہ تمھارے والدین، اعزہ و اقربا، اور (تمھارے ہی معاشرے کے) یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے، (اِس لیے جتنی ہمت ہے، خرچ کرو) اور (مطمئن رہو کہ) جو نیکی بھی تم کرو گے، وہ ہرگز ضائع نہ ہو گی، اِس لیے کہ اللہ اُس سے پوری طرح واقف ہے۔215

[باقی]