مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(16)

کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ وَ ہُوَ کُرۡہٌ لَّکُمۡ ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۱۶﴾

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الشَّہۡرِ الۡحَرَامِ قِتَالٍ فِیۡہِ ؕ قُلۡ قِتَالٌ فِیۡہِ کَبِیۡرٌ ؕ وَ صَدٌّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ کُفۡرٌۢ بِہٖ وَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ٭ وَ اِخۡرَاجُ اَہۡلِہٖ مِنۡہُ اَکۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ الۡفِتۡنَۃُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ ؕ وَ لَا یَزَالُوۡنَ

تم پر جنگ فرض کی گئی اور (اللہ کی راہ میں انفاق کی طرح) وہ بھی تمھیں ناگوار ہے، دراں حالیکہ یہ بالکل ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور تمھارے لیے وہی بہتر ہو، اور بالکل ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمھارے لیے بری ہو۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے اور (اِس طرح کی بہت سی چیزوں کو) تم نہیں جانتے۔216

وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ حرام مہینے میں قتال کا کیا حکم ہے؟ کہہ دو کہ اِس میں قتال بڑی ہی سنگین بات ہے، لیکن اللہ کی راہ سے روکنا اور اُس کو نہ ماننا اور بیت الحرام کا راستہ لوگوں پر بند کرنا اور

یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ حَتّٰی یَرُدُّوۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ؕ وَ مَنۡ یَّرۡتَدِدۡ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتۡ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۲۱۷﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۱۸﴾

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِؕ قُلۡ فِیۡہِمَاۤ اِثۡمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۫ وَ اِثۡمُہُمَاۤ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِہِمَا ؕ وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلِ الۡعَفۡوَؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَکَّرُوۡنَ﴿۲۱۹﴾ۙ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡیَتٰمٰی ؕ قُلۡ اِصۡلَاحٌ لَّہُمۡ خَیۡرٌ ؕ وَ اِنۡ تُخَالِطُوۡہُمۡ فَاِخۡوَانُکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ الۡمُفۡسِدَ مِنَ الۡمُصۡلِحِ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَاَعۡنَتَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۲۰﴾

اُس کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اِس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ اور ظلم و جبر کے ذریعے سے لوگوں کو دین سے پھیرنا توقتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔ (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جن لوگوں سے قتال کا حکم تمھیں دیا گیا ہے، اُنھوں نے طے کر لیا ہے کہ) وہ تم سے برابر لڑیں گے، یہاں تک کہ اگر اُن کے لیے ممکن ہو تو تمھیں تمھارے دین سے پھیر لے جائیں۔ اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا اور پھر اِسی کفر کی حالت میں مرجائے گا تو اِسی طرح کے لوگ ہیں جن کے عمل دنیا اور آخرت میں ضائع ہوئے اور یہی دوزخ میں پڑنے والے ہیں، یہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔اِس کے برخلاف جو لوگ ایمان پر قائم رہے ہیں اور جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے، وہی اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ 217-218

وہ تم سے جوے اور شراب کے بارے میں پوچھتے ہیں، (اِس لیے کہ یہ بھی اِن کے ہاں غریبوں کی مدد کا ایک ذریعہ ہیں)۔ کہہ دو کہ اِن دونوں میں گناہ بہت بڑا ہے اور (اِس میں شبہ نہیں کہ) لوگوں کے لیے اِن میں کچھ فائدے بھی ہیں، لیکن اِن کا گناہ اِن کے اِن فائدوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور پوچھتے ہیں کہ (اچھا، یہ تو واضح کیجیے کہ) کیا خرچ کریں؟ کہہ دو کہ وہی جو ضرورت سے زیادہ ہے۔ اللہ اِسی طرح تمھارے لیے اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم دنیا اور آخرت، دونوں کے معاملات میں غور کرتے رہو۔ اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ (جنگ ہوئی اور لوگ مارے گئے تو اُن کے) یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ کہہ دو: جس میں اُن کی بہبود ہو، وہی بہتر ہے۔ اور اگر تم (اُن کی ماؤں سے نکاح کر کے) اُنھیں اپنے ساتھ شامل کر لو تو وہ تمھارے بھائی ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ کون بگاڑنے والا ہے اور کون اصلاح کرنے والا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو (اِس کی اجازت نہ دے کر) تمھیں مشقت

وَ لَا تَنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکٰتِ حَتّٰی یُؤۡمِنَّ ؕ وَ لَاَمَۃٌ مُّؤۡمِنَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِکَۃٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ ۚ وَ لَا تُنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤۡمِنُوۡا ؕ وَ لَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِکٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ یَدۡعُوۡنَ اِلَی النَّارِ ۚۖ وَ اللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلَی الۡجَنَّۃِ وَ الۡمَغۡفِرَۃِ بِاِذۡنِہٖ ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۲۱﴾

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡمَحِیۡضِ ؕ قُلۡ ہُوَ اَذًی ۙ فَاعۡتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الۡمَحِیۡضِ ۙ وَ لَا تَقۡرَبُوۡہُنَّ حَتّٰی یَطۡہُرۡنَ ۚ فَاِذَا تَطَہَّرۡنَ فَاۡتُوۡہُنَّ مِنۡ حَیۡثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ ﴿۲۲۲﴾  نِسَآؤُکُمۡ حَرۡثٌ لَّکُمۡ ۪ فَاۡتُوۡا حَرۡثَکُمۡ اَنّٰی شِئۡتُمۡ ۫ وَ قَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّکُمۡ مُّلٰقُوۡہُ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۲۳﴾

میں ڈال دیتا۔ بے شک، اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔219-220

اور (یتیموں کی بہبود کے مقصد سے بھی) مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اور (یاد رکھو کہ) ایک مسلمان لونڈی کسی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے، اگرچہ وہ تمھیں پسند ہو۔ اور اپنی عورتیں بھی مشرکوں کے نکاح میں نہ دو، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اور (یاد رکھو کہ) ایک مسلمان غلام کسی مشرک شریف زادے سے بہتر ہے، اگرچہ وہ تمھیں پسند ہو۔ یہ (مشرک لوگ تمھیں) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنی توفیق سے جنت اور مغفرت کی دعوت دیتا ہے، اور لوگوں کے لیے اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں۔221

اور (نکاح کا ذکر ہوا ہے تو) وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ (عورتوں کے) حیض کا کیا حکم ہے؟ کہہ دو: یہ ایک طرح کی نجاست ہے۔ چنانچہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ خون سے پاک نہ ہو جائیں، اُن کے قریب نہ جاؤ۔ پھر جب وہ نہا کر پاکیزگی حاصل کر لیں تو اُن سے ملاقات کرو، جہاں سے اللہ نے تمھیں (اُس کا) حکم دیا ہے۔ یقیناً اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو توبہ کرنے والے ہوں اور اُن کو جو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہوں۔ تمھاری یہ عورتیں تمھارے لیے کھیتی ہیں، لہٰذاتم اپنی اِس کھیتی میں جس طرح چاہو، آؤ اور (اِس کے ذریعے سے دنیا اور آخرت، دونوں میں) اپنے لیے آگے کی تدبیر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ تمھیں (ایک دن) لازماً اُس سے ملنا ہے۔ اور ایمان والوں کو، (اے پیغمبر، اِس ملاقات کے موقع پر فلاح و سعادت کی) خوش خبری سنا دو۔222-223

[باقی]