مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(1)

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾ ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚ فِیۡہِ ۚ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾ اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۷﴾

یہ سورہ ’الم‘ ہے۔یہ کتابِ الہٰی ہے، اِس کے کتاب الہٰی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے اِن خدا سے ڈرنے والوں کے لیے۔ جو بن دیکھے مان رہے ہیں اور نماز کا اہتمام کر رہے ہیں اور جو کچھ ہم نے اِنھیں دیا ہے، اُس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کر رہے ہیں۔ اور جو اُسے بھی مان رہے ہیں جو تمھاری طرف نازل کیا گیا اور اُسے بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی اپنے پروردگار کی ہدایت پر ہیں اور یہی ہیں جوفلاح پانے والے ہیں۔1-5

اِس کے برخلاف جن لوگوں نے اِس کتاب کو نہ ماننے کا فیصلہ کرلیا ہے، اُن کے لیے برابر ہے، تم اُنھیں خبردار کرو یا نہ کرو، وہ نہ مانیں گے۔ اُن کے دلوں اور کانوں پر اب اللہ نے (اپنے قانون کے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ مَا ہُمۡ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ۘ﴿۸﴾ یُخٰدِعُوۡنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ وَ مَا یَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ؕ﴿۹﴾ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡذِبُوۡنَ ﴿۱۰﴾ وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾ اَلَاۤ اِنَّہُمۡ ہُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَ لٰکِنۡ لَّا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۲﴾ وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ اٰمِنُوۡا کَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ کَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَہَآءُ ؕ اَلَاۤ اِنَّہُمۡ ہُمُ السُّفَہَآءُ وَ لٰکِنۡ لَّا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳﴾ وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚ وَ اِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمۡ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ ۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَہۡزِءُوۡنَ﴿۱۴﴾ اَللّٰہُ یَسۡتَہۡزِئُ بِہِمۡ وَ یَمُدُّہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ﴿۱۵﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالۡہُدٰی ۪ فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۶

مطابق) مہر لگا دی ہے اور اُن کی آنکھوں پر پردہ ہے، اور (قیامت کے دن) ایک بڑا عذاب ہے جو اُن کے لیے منتظر ہے۔ 6-7

اور اِنھی لوگوں میں وہ (منافقین ) بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کو مانا ہے اور قیامت کے دن کومانا ہے، دراں حالیکہ وہ اِن میں سے کسی چیز کو بھی نہیں مانتے۔ وہ اللہ اور اہل ایمان، دونوں کو فریب دینا چاہتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اپنے آپ ہی کو فریب دے رہے ہیں، لیکن اِس کا شعور نہیں رکھتے۔ اِن کے دلوں میں (حسد کی) بیماری تھی تو اللہ نے اب اِن کی اِس بیماری کو اور بڑھا دیا ہے، اور اِن کے اِس جرم کی پاداش میں کہ یہ جھوٹ بولتے رہے ہیں، اِن کے لیے بڑا دردناک عذاب ہے۔ اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ (اپنے اِس رویے سے) تم اِس سرزمین میں فساد پیدا نہ کرو تو جواب میں کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار، یہی فسادی ہیں، لیکن اِس کا احساس نہیں کر رہے۔ اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی اُسی طرح ایمان لاؤ، جس طرح (تمھارے سامنے) یہ لوگ ایمان لائے ہیں تو (بڑے تکبر سے) کہتے ہیں کہ ہم کیا اِن احمقوں کی طرح ایمان لائیں؟ سن لو، یہی احمق ہیں، لیکن نہیں جانتے۔اور جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے مان لیا اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں کے پاس پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں، ہم تو مذاق کر رہے تھے۔ (یہ کیا مذاق کریں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ) اللہ اِن سے مذاق کر رہا ہے اور اِن کی سرکشی میں اِن کی رسی (اپنے قانون کے مطابق) دراز کیے جاتا ہے، اِس طرح کہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ یہی ہیں جنھوں نے ہدایت پر گم راہی کو ترجیح دی تو

مَثَلُہُمۡ کَمَثَلِ الَّذِی اسۡتَوۡقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَہٗ ذَہَبَ اللّٰہُ بِنُوۡرِہِمۡ وَ تَرَکَہُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۱۷﴾ صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ فَہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾ اَوۡ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیۡہِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعۡدٌ وَّ بَرۡقٌ ۚ یَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَہُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ ؕ وَ اللّٰہُ مُحِیۡطٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ﴿۱۹﴾ یَکَادُ الۡبَرۡقُ یَخۡطَفُ اَبۡصَارَہُمۡ ؕ کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوۡا فِیۡہِ ٭ۙ وَ اِذَاۤ اَظۡلَمَ عَلَیۡہِمۡ قَامُوۡا ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَذَہَبَ بِسَمۡعِہِمۡ وَ اَبۡصَارِہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۰﴾

اِن کا یہ سودا (اِن کے لیے) کچھ بھی نفع بخش نہ ہوا اور نہ یہ راستہ پا سکے ہیں۔8-16

اِن کی مثال ایسی ہے، جیسے (اندھیری رات میں) کسی شخص نے الاؤ جلایا، پھر جب آگ نے اُس کے ماحول کو روشن کر دیا تو جن کے لیے آگ جلائی گئی تھی، اللہ نے اُن کی روشنی سَلْب کر لی اور اُنھیں اِس طرح اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے؛ بہرے ہیں،گونگے ہیں، اندھے ہیں، سو اب وہ کبھی نہ لوٹیں گے۔ یا ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہو رہی ہے، اُس میں اندھیری گھٹائیں بھی ہیں اور کڑک اور چمک بھی، وہ موت کے ڈر سے کڑک کے مارے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونسے لے رہے ہیں، دراں حالیکہ اِس طرح کے منکروں کو اللہ ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ بجلی کی چمک اِن کی آنکھیں خیرہ کیے دے رہی ہے؛ جب اِن پر چمکتی ہے، یہ اُس میں کچھ چل لیتے ہیں اور جب اِن پراندھیرا چھا جاتا ہے توکھڑے رہ جاتے ہیں۔ اِن کے کان اور آنکھیں بھی اگر اللہ چاہتا تو سلب کر لیتا۔ بے شک، اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (17-20)

[باقی]