بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(19)
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ ہُمۡ اُلُوۡفٌ حَذَرَ الۡمَوۡتِ ۪ فَقَالَ لَہُمُ اللّٰہُ مُوۡتُوۡا ۟ ثُمَّ اَحۡیَاہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۴۳﴾
وَ قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۴﴾
(یہ مباحث جہادو انفاق کے بارے میں تمھار ے سوالوں سے پیدا ہوئے تھے۔ ایمان والو، اِن کا حکم تم پر شاق نہ ہوناچاہیے)۔ کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھر چھوڑکر اُن سے نکل کھڑے ہوئے؟ اِس پر اللہ نے اُن سے فرمایا کہ مردے ہوکر جیو۔ (وہ برسوں اِسی حالت میں رہے، پھر اللہ نے اُنھیں دوبارہ زندگی عطا فرمائی۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے، مگر لوگوں میں زیادہ ہیں جو (اُس کے) شکر گزار نہیں ہوتے۔ 243
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗۤ اَضۡعَافًا کَثِیۡرَۃً ؕ وَ اللّٰہُ یَقۡبِضُ وَ یَبۡصُۜطُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۴۵﴾
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الۡمَلَاِ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی ۘ اِذۡ قَالُوۡا لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ قَالَ ہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوۡا ؕ قَالُوۡا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ قَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِیَارِنَا وَ اَبۡنَآئِنَا ؕ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقِتَالُ تَوَلَّوۡا اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۴۶﴾
وَ قَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اللّٰہَ قَدۡ بَعَثَ لَکُمۡ طَالُوۡتَ مَلِکًا ؕ قَالُوۡۤا اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہُ الۡمُلۡکُ عَلَیۡنَا وَ نَحۡنُ اَحَقُّ بِالۡمُلۡکِ مِنۡہُ وَ لَمۡ یُؤۡتَ سَعَۃً مِّنَ الۡمَالِ ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰىہُ عَلَیۡکُمۡ وَ زَادَہٗ بَسۡطَۃً فِی الۡعِلۡمِ وَ الۡجِسۡمِ ؕ وَ اللّٰہُ یُؤۡتِیۡ مُلۡکَہٗ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۷﴾
(ایمان والو، اِس سے سبق لو ) اور اللہ کی راہ میں جنگ کرو ا ور خوب جان رکھو کہ اللہ سمیع و علیم ہے۔ 244
کون ہے جو (اِس جنگ کے لیے) اللہ کو قرض دے گا، اچھا قرض کہ اللہ اُس کے لیے اُسے کئی گنا بڑھا دے۔ اور (جو گریز کرے تو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ ہی ہے جو تنگی بھی کرتا ہے اور فراخی بھی، اور تم کو ( ایک دن) اُسی کی طرف لوٹنا بھی ہے۔245
تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے سرداروں کو نہیں دیکھا، جب اُنھوں نے اپنے ایک نبی سے کہا: آپ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دیں تاکہ ہم (اُس کے حکم پر) اللہ کی راہ میں جنگ کریں؟ اِس پر نبی نے کہا: ایسا نہ ہو کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے اور پھر تم جہاد نہ کرو؟ وہ بولے: ہم کیوں اللہ کی راہ میں جہاد نہ کریں گے، جب کہ ہمیں ہمارے گھروں اور ہمارے بچوں سے دور نکال دیا گیا ہے؟ لیکن (ہوا یہی کہ) جب اُن پر جہاد فرض کیا گیا تو اُن میں سے تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب پھر گئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ اِن ظالموں سے خوب واقف تھا۔ 246
اور (اُن کے اِس مطالبے پر) اُن کے نبی نے اُنھیں بتایا کہ اللہ نے طالوت کو تمھارے لیے بادشاہ مقرر کر دیا ہے۔ بولے: اُس کی بادشاہی ہم پر کس طرح ہو سکتی ہے، جب کہ ہم اِس بادشاہی کے اُس سے زیادہ حق دار ہیں اور وہ کوئی دولت مند آدمی بھی نہیں ہے؟ نبی نے جواب دیا: اللہ نے اُسی کو تم پر (حکومت کے لیے) منتخب کیا ہے اور اِس مقصد کے لیے اُسے علم اور جسم،
وَ قَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اٰیَۃَ مُلۡکِہٖۤ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ بَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَ اٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحۡمِلُہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۴۸﴾
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالۡجُنُوۡدِ ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبۡتَلِیۡکُمۡ بِنَہَرٍ ۚ فَمَنۡ شَرِبَ مِنۡہُ فَلَیۡسَ مِنِّیۡ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَطۡعَمۡہُ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡۤ اِلَّا مَنِ اغۡتَرَفَ غُرۡفَۃًۢ بِیَدِہٖ ۚ فَشَرِبُوۡا مِنۡہُ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ ؕ فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ہُوَ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۙ قَالُوۡا لَا طَاقَۃَ لَنَا الۡیَوۡمَ بِجَالُوۡتَ وَ جُنُوۡدِہٖ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوا اللّٰہِ ۙ کَمۡ مِّنۡ فِئَۃٍ قَلِیۡلَۃٍ غَلَبَتۡ فِئَۃً کَثِیۡرَۃًۢ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۲۴۹﴾
وَ لَمَّا بَرَزُوۡا لِجَالُوۡتَ وَ جُنُوۡدِہٖ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَ انۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۵۰﴾ؕ
دونوں میں بڑی کشادگی عطا فرمائی ہے۔ (یہ سلطنت اللہ کی ہے) اور اللہ اپنی یہ سلطنت، (اپنی حکمت کے مطابق)، جس کو چاہے، بخش دیتا ہے۔ (تم معاملات کو اپنی تنگ نظروں سے دیکھتے ہو) اوراللہ بڑی وسعت رکھنے والا ہے، وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ 247
اور اُن کے نبی نے اُن کے لیے مزید وضاحت کی کہ (اللہ کی طرف سے ) اُس کے بادشاہ مقرر کیے جانے کی نشانی یہ ہے کہ (تمھارا) وہ صندوق (تمھارے دشمنوں کے ہاتھ سے نکل کر) تمھارے پاس آ جائے گا جس میں تمھارے پروردگار کی طرف سے (تمھارے لیے ہمیشہ) بڑی سکینت رہی ہے اور جس میں وہ یادگاریں بھی ہیں جو موسیٰ اور ہارون کی ذریت نے (تمھارے لیے) چھوڑی ہیں۔ اُسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اِس میں، یقینا ایک بڑی نشانی ہے تمھارے لیے، اگر تم ماننے والے ہو۔ 248
(بنی اسرائیل کی حکومت سنبھالنے کے بعد) پھر جب طالوت فوجیں لے کر نکلے تو اُنھوں نے لوگوں کو بتایا کہ اللہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک ندی کے ذریعے سے تمھیں آزمائے گا۔ اِس کی صورت یہ ہوگی کہ جو اِس کا پانی پیے گا، وہ میرا ساتھی نہیں ہے اور جس نے اِس ندی سے کچھ نہیں چکھا، وہ میرا ساتھی ہے۔ ہاں، مگر اپنے ہاتھ سے ایک چلو کوئی پی لے توپی لے۔ لیکن ہوایہ کہ اُن میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا باقی سب نے اُس ندی کا پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اُس کے پار اترے اور اُن کے وہ ساتھی بھی جو اپنے ایمان پر قائم رہے، (اور فوجیں دیکھیں) تو (جو لوگ آزمایش میں پور ے نہیں اترے تھے)، اُنھوں نے کہہ دیا کہ ہم تو آج جالوت اوراُس کے لشکر وں
فَہَزَمُوۡہُمۡ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۟ۙ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ وَ اٰتٰىہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ عَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ ؕ وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۵۱﴾
تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۲۵۲﴾
تِلۡکَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ۘ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللّٰہُ وَ رَفَعَ بَعۡضَہُمۡ دَرَجٰتٍ ؕ وَ اٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا اقۡتَتَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ وَ لٰکِنِ اخۡتَلَفُوۡا فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَفَرَ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا اقۡتَتَلُوۡا ۟ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۲۵۳﴾
کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اِس پر وہ لوگ جنھیں خیال تھا کہ اُن کو اللہ سے ملنا ہے، بول اُٹھے کہ (حوصلہ کرو، اِس لیے کہ) بہت جگہ ایسا ہو ا ہے کہ اللہ کے حکم سے چھوٹے گروہ بڑے گروہو ں پر غالب آئے ہیں، اور اللہ تو ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔249
اور (یہی سچے مسلمان تھے کہ) جب جالوت اور اُس کی فوجوں کا سامنا ہوا تو اُنھوں نے دعا کی کہ پروردگار، ہم پر صبر کا فیضان فرمااور ہمارے پاؤں جما دے اور اِن منکر لوگوں پر ہمیں غلبہ عطا کر دے۔ 250
چنانچہ (اُن کی دعا قبول ہوئی اور) اللہ کے حکم سے اُنھوں نے اپنے اُن دشمنوں کو شکست دے دی اور جالوت کو داؤد نے قتل کر دیا اور اللہ نے اُسے بادشاہی دی اور حکمت عطا فرمائی اور اُسے اُس علم میں سے سکھایا جو اللہ چاہتا ہے کہ اپنے اِس طرح کے بندوں کو سکھائے ـــــــ اور حقیقت یہ کہ اگر اللہ ایک کو دوسرے سے نہ ہٹاتا تو زمین فساد سے بھر جاتی، لیکن (اُس نے اِسی طرح ہٹایا ہے، اِس لیے کہ ) اللہ دنیا والوں پر بڑی عنایت فرمانے والا ہے۔ 251
یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمھیں حق کے ساتھ سنا رہے ہیں، اور اِس میں کوئی شک نہیں کہ تم اللہ کے رسولوں میں سے ہو۔ 252
(بنی اسرائیل بھی اِس بات کو جانتے ہیں، لیکن مانتے اِس لیے نہیں کہ) یہ جو رسول ہیں، ہم نے اِن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی، ( اِس طرح کہ) اِن میں سے کسی سے اللہ خود ہم کلام ہوا اور کسی کے درجے اُس نے (بعض دوسری حیثیتوں سے) بلند کیے اور (آخر میں) مریم کے بیٹے عیسیٰ کوہم نے نہایت واضح نشانیاں دیں اور روح القدس سے اُس کی تائید کی۔ (چنانچہ یہی چیز اِن رسولوں کے ماننے والوں میں ایک دوسرے کو جھٹلانے کا باعث بن گئی)۔ اور اگر اللہ چاہتا تو جو نہایت واضح دلائل اُن کے سامنے آگئے تھے، اُن کے بعد یہ رسولوں کے بعد والے ایک دوسرے سے نہ لڑتے، لیکن (اللہ نے یہ نہیں چاہا کہ لوگوں پر جبر کرے، اِس لیے) اُنھوں نے اختلاف کیا۔ سو اُن میں سے کوئی (اِن رسولوں پر) ایمان لایا اور کسی نے ماننے سے انکار کر دیا۔ (تم کو نہ ماننے کی وجہ بھی یہی ہے، اے پیغمبر)، اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ہرگز آپس میں نہ لڑتے، مگر اللہ(اپنی حکمت کے مطابق) جو چاہے کرتا ہے۔ 253