بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة آل عمران
(1)
الٓمَّٓ ۙ﴿۱﴾ اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ الۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ؕ﴿۲﴾ نَزَّلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ اَنۡزَلَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ۙ﴿۳﴾ مِنۡ قَبۡلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ اَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ۬ؕاِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿۴﴾ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَخۡفٰی عَلَیۡہِ شَیۡءٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ؕ﴿۵﴾ ہُوَ الَّذِیۡ یُصَوِّرُکُمۡ فِی الۡاَرۡحَامِ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ﴿۶﴾
یہ سورۂ ’الم‘ ہے۔ اللہ وہ ہستی ہے کہ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، زندہ اور سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ (لوگوں کو امتحان میں ڈال کر وہ اُن کی ہدایت سے بے پروا نہیں ہو سکتا تھا، لہٰذا) اُس نے یہ کتاب تم پر قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے، اُن پیشین گوئیوں کی تصدیق میں جو اِس سے پہلے موجود ہیں، اور تورات و انجیل کو بھی۔ اِ س سے پہلے اُسی نے لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اتارا تھا، اور اب یہ فرقان بھی اُسی نے اتارا ہے۔ (یہ اللہ کی آیتیں ہیں، اور) جو لوگ (جانتے بوجھتے) اللہ کی
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الۡکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَہَ مِنۡہُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ وَ ابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ ۚ وَ مَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ۘؔ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ﴿۷﴾ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدَیۡتَنَا وَ ہَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ﴿۸﴾ رَبَّنَاۤ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۹﴾
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ وَقُوۡدُ النَّارِ ﴿ۙ۱۰﴾ کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۱۱﴾
قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَتُغۡلَبُوۡنَ وَ تُحۡشَرُوۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۲﴾ قَدۡ کَانَ لَکُمۡ اٰیَۃٌ فِیۡ فِئَتَیۡنِ الۡتَقَتَا ؕ فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ اُخۡرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوۡنَہُمۡ مِّثۡلَیۡہِمۡ رَاۡیَ الۡعَیۡنِ ؕ وَ اللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبۡرَۃً لِّاُولِی الۡاَبۡصَارِ ﴿۱۳﴾
آیتوں کے منکر ہوں، اُن کے لیے بڑا سخت عذاب ہے، اور اللہ زبردست ہے، وہ (اِس طرح کے لوگوں سے) انتقام لینے والا ہے۔ اِس لیے کہ اللہ سے نہ زمین میں کوئی چیز چھپی ہوئی ہے، نہ آسمان میں۔ وہی تو ہے جو ماؤں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں، جس طرح چاہتا ہے، بنا دیتا ہے۔ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔1- 6
وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری ہے جس میں آیتیں محکم بھی ہیں جو اِس کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور (اِن کے علاوہ) کچھ دوسری متشابہات بھی ہیں۔ سو جن کے دل پھرے ہوئے ہیں، وہ اِس میں سے ہمیشہ متشابہات کے درپے ہوتے ہیں، اِس لیے کہ فتنہ پیدا کریں اور اِس لیے کہ اُن کی حقیقت معلوم کریں، دراں حالیکہ اُن کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اِس کے بر خلاف جنھیں اِس علم میں رسوخ ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم اِنھیں مانتے ہیں، یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کی چیزوں کو وہی سمجھتے ہیں جنھیں اللہ نے عقل عطا فرمائی ہے۔ ( وہ کہتے ہیں) : پروردگار، تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اِس کے بعد اب تو ہمارے دل نہ پھیر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما۔ لا ریب، تو ہی عطا فرمانے والا ہے۔ پروردگار ، تو یقیناً سب لوگوں کو ایک ایسے دن کی پیشی کے لیے جمع کر کے رہے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں۔
زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الۡبَنِیۡنَ وَ الۡقَنَاطِیۡرِ الۡمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَ الۡفِضَّۃِ وَ الۡخَیۡلِ الۡمُسَوَّمَۃِ وَ الۡاَنۡعَامِ وَ الۡحَرۡثِ ؕ ذٰلِکَ مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ﴿۱۴﴾ قُلۡ اَؤُنَبِّئُکُمۡ بِخَیۡرٍ مِّنۡ ذٰلِکُمۡ ؕ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿ۚ۱۵﴾ اَلَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿ۚ۱۶﴾ اَلصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡمُنۡفِقِیۡنَ وَ الۡمُسۡتَغۡفِرِیۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ ﴿۱۷﴾
یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔7- 9
اِس کتاب کے منکروں کو، (جن پر حجت پوری ہو گئی)، اللہ کے حضور میں اُن کا مال کچھ کام دے گا اور نہ اُن کی اولاد، اور یہی ہیں جو دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ اِن کا معاملہ بھی وہی ہے جو فرعونیوں اور اُن سے پہلے کے لوگوں کا تھا۔ اُنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلا دیا تو اللہ نے اُن کے گناہوں کی پاداش میں اُنھیں پکڑ لیا اورحق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔10- 11
اِن منکروں سے کہہ دو کہ عنقریب تم بھی ( اِسی طرح ) مغلوب ہو جاؤ گے اور (اِس کے بعد) دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ اور (تمھیں اگر ہماری اِس بات میں کوئی تردد ہے تو) جن دو گروہوں میں مڈ بھیڑ ہوئی، اُن کی سرگذشت میں تمھارے لیے ایک بڑی نشانی ہے۔ ایک ماننے والوں کا گروہ جو اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا نہ ماننے والوں کا جو شیطان کی راہ میں لڑ رہا تھا۔ وہ ( بدر کے میدان میں) ماننے والوں کو کھلم کھلا اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جس کی چاہتا ہے ( اِسی طرح) اپنی تائید سے مدد فرماتا ہے۔ اِس میں اُن کے لیے یقینًا بڑی بصیرت ہے جو آنکھوں والے ہوں۔12- 13
اُن لوگوں کے لیے (جو اِس بصیرت سے محروم ہیں ) دنیا کے مرغوبات ــــ عورتوں بیٹوں، سونے چاندی کے ڈھیروں، نشان زدہ گھوڑوں، چوپایوں اورکھیتی کی محبت بہت لبھانے کی چیز بنا دی گئی ہے۔ یہ سب دنیا کی زندگی کا سروسامان ہے اور اچھا ٹھکاناتو صرف اللہ کے پاس ہے۔ اِن سے کہیے کہ میں تمھیں بتاؤں کہ اِن چیز وں سے بہتر کیا ہے؟ اللہ سے ڈر کر رہنے والو ں کے لیے اُن کے پروردگار کے ہاں باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی،وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں ہیں اور سب سے بڑھ کراللہ کی خوشنودی ہے، اور اللہ اپنے اِن بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ یہ جو دعائیں کرتے ہیں کہ پروردگار، ہم ایمان لے آئے ہیں، سو تو ہمارے گناہ بخش دے اورہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ یہ صبر کرنے والے، سچے، فرماں بردار، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کی گھڑیوں میں اٹھ کر اپنے گنا ہوں کی مغفرت چاہنے والے۔ 14- 17