مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة آل عمران
(4)

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۶۴﴾

یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَتِ التَّوۡرٰىۃُ وَ الۡاِنۡجِیۡلُ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۵﴾ ہٰۤاَنۡتُمۡ ہٰۤؤُلَآءِ حَاجَجۡتُمۡ فِیۡمَا لَکُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِیۡمَا لَیۡسَ لَکُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۶﴾ مَا کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾ اِنَّ اَوۡلَی النَّاسِ بِاِبۡرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ وَ ہٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۸﴾

اِن سے کہہ دو: اے اہل کتاب، اُس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اورنہ اُس کے ساتھ کسی چیز کوشریک ٹھیرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا اپنا رب بنائے۔ پھر وہ اعراض کریں تو، (ایمان والو)،

وَدَّتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یُضِلُّوۡنَکُمۡ ؕ وَ مَا یُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۶۹﴾ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ اَنۡتُمۡ تَشۡہَدُوۡنَ ﴿۷۰﴾ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَ تَکۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۱﴾

وَ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡہَ النَّہَارِ وَ اکۡفُرُوۡۤا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ۖ۷۲﴾ وَ لَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِعَ دِیۡنَکُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡہُدٰی ہُدَی اللّٰہِ ۙ اَنۡ یُّؤۡتٰۤی اَحَدٌ مِّثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ اَوۡ یُحَآجُّوۡکُمۡ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِیَدِ اللّٰہِ ۚ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚ۷۳﴾ یَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۷۴﴾

تم کہہ دو کہ گواہ رہو، ہم تو مسلم ہیں۔64

اے اہل کتاب، تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو، دراں حالیکہ تورات و انجیل تو اُس کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں۔پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے؟ یہ تمھی لوگ ہو کہ اُن باتوں میں تو جھگڑ چکے جن کے بارے میں تمھیں کچھ علم تھا، مگر اب یہ اُس بات میں کیوں جھگڑ رہے ہو جس کا تمھیں کچھ بھی علم نہیں ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اِن سب حقائق کو اللہ جانتا ہے ، مگر تم نہیں جانتے۔ ابراہیم نہ یہودی تھا اورنہ نصرانی، بلکہ ایک حنیف مسلم تھا اور وہ اِن مشرکوں میں سے بھی نہیں تھا۔ ا براہیم کے ساتھ نسبت کا زیادہ حق اُن لوگوں کو پہنچتا ہے جنھوں نے اُس کی پیروی کی۔ اب یہ پیغمبر اِس کے حق دار ہیں اوروہ بھی جو اِن پر ایمان لائے ہیں۔ اور اللہ تو اِنھی ایمان والوں کا ساتھی ہے۔65-68

(ایمان والو)، اِن اہل کتاب کے ایک گروہ کی تمنا ہے کہ کسی طرح تمھیں صحیح راستے سے ہٹا دیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح وہ اپنے آپ ہی کو گم راہی میں ڈال رہے ہیں، مگر نہیں سمجھتے۔ اے اہل کتاب، تم اللہ کی آیتوں کے منکر کیوں ہوتے ہو، دراں حالیکہ تم اُن کے گواہ ہو؟ اے اہل کتاب، تم حق کو باطل سے کیوں ملاتے ہواور کیوں حق کو چھپاتے ہو، دراں حالیکہ تم جانتے ہو؟69-71

اوراہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے کہ مسلمانوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے، اُس پر صبح ایمان لاؤ اورشام کو اُس کا انکار کردیا کر و تاکہ وہ بھی برگشتہ ہوں۔ اوراپنے مذہب والوں کے سوا کسی کی بات نہ مانا کرو ــــ اِن سے کہہ دو، (اے پیغمبر ) کہ ہدایت تو اصل میں اللہ کی ہدایت ہے ـــــ اِس لیے کسی

وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مَنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡہُ بِقِنۡطَارٍ یُّؤَدِّہٖۤ اِلَیۡکَ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡہُ بِدِیۡنَارٍ لَّا یُؤَدِّہٖۤ اِلَیۡکَ اِلَّا مَادُمۡتَ عَلَیۡہِ قَآئِمًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لَیۡسَ عَلَیۡنَا فِی الۡاُمِّیّٖنَ سَبِیۡلٌ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾ بَلٰی مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ وَ اتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ﴿۷۶﴾

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَشۡتَرُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَ اَیۡمَانِہِمۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ وَ لَا یَنۡظُرُ اِلَیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۪ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۷﴾

وَ اِنَّ مِنۡہُمۡ لَفَرِیۡقًا یَّلۡوٗنَ اَلۡسِنَتَہُمۡ بِالۡکِتٰبِ لِتَحۡسَبُوۡہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ مَا ہُوَ مِنَ الۡکِتٰبِ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ وَ مَا ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ وَ یَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۸﴾

کی بات نہ مانا کرو کہ مبادا اِس طرح کی چیز کسی اور کو بھی مل جائے جو تمھیں ملی ہے یا تم سے وہ تمھارے پروردگار کے حضور میں حجت کر سکیں۔ اِن سے کہہ دو کہ فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے عطاکردیتا ہے اوراللہ بڑی وسعت اوربڑے علم والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے لیے خاص کرلیتا ہے اوراللہ بڑے فضل والا ہے۔72-74

(تم اِن سے توقع رکھتے ہو کہ تمھارے پیغمبر کے معاملے میں یہ انصاف کی بات کہیں گے) اور اِدھر صورت حال یہ ہے کہ اہل کتاب میں وہ لوگ بھی ہیں کہ اگر تم مال و دولت کا ڈھیر اُن کے پاس امانت رکھ دو تو وہ تمھیں ادا کردیں گے اوراِن میں وہ بھی ہیں کہ اگر تم ایک دینا ر بھی اُن کی امانت میں دے دو تو جب تک اُن کے سر پر سوار نہ ہوجاؤ، وہ اُس کو تمھیں ادا نہ کریں گے۔ یہ اِ س وجہ سے کہ اُنھوں نے کہہ رکھا ہے کہ اِن امیوں کے معاملے میں ہم پرکوئی الزام نہیں ہے۔ اورحقیقت یہ ہے کہ وہ جانتے بوجھتے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ ہاں، کیوں نہیں؟ (اللہ کا طریقہ تویہ ہے کہ)جو اُس کے عہد کو پورا کر ے اور پرہیز گار رہے، وہ اُسے محبوب ہے، اِس لیے کہ اللہ پرہیز گاروں سے محبت کرتا ہے۔75-76

اِس کے بر خلاف جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ دیتے ہیں، اُن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اور اللہ قیامت کے دن نہ اُن سے بات کرے گا، نہ اُن کی طرف نگاہ التفات سے دیکھے گا اور نہ اُنھیں (گناہوں سے) پاک کرے گا، بلکہ وہاں اُن کے لیے ایک درد نا ک سزا ہے۔77

اور اِن میں وہ لوگ بھی ہیں کہ اللہ کی کتاب کو پڑھتے ہوئے اپنی زبان کو اِس طرح توڑتے مروڑتے

مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّؤۡتِیَہُ اللّٰہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوۡلَ لِلنَّاسِ کُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّیۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنۡ کُوۡنُوۡا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡکِتٰبَ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ ﴿ۙ۷۹﴾ وَ لَا یَاۡمُرَکُمۡ اَنۡ تَتَّخِذُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرۡبَابًا ؕ اَیَاۡمُرُکُمۡ بِالۡکُفۡرِ بَعۡدَ اِذۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۸۰﴾

ہیں کہ تم سمجھو کہ (جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں)، وہ کتاب ہی کی عبارت ہے، دراں حالیکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، دراں حالیکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا، اور اِس طرح جانتے بوجھتے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔78

(پھر یہی نہیں، وہ اللہ کے پیغمبر پر بھی جھوٹ باندھتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ )کسی انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ اُس کو اپنی کتاب دے اوراُس کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور نبوت عطا فرمائے،پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اللہ کے بجاے تم میرے بندے بن جاؤ۔ نہیں، بلکہ (وہ تو یہی کہے گاکہ لوگو)، اللہ والے بنو، اِس لیے کہ تم اللہ کی کتاب پڑھتے اور پڑھاتے ہو۔ اور نہ وہ تم سے یہ کہے گا کہ فرشتوں اور نبیوں کو اپنا رب بنا لو۔ تمھارے مسلمان ہو چکنے کے بعد کیا وہ تمھیں کفر اختیار کر لینے کی ترغیب دے گا؟79-80

[باقی]