بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة آل عمران
(5)
وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّ حِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَخَذۡتُمۡ عَلٰی ذٰلِکُمۡ اِصۡرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ قَالَ فَاشۡہَدُوۡا وَ اَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾ فَمَنۡ تَوَلّٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۸۲﴾
اور اِنھیں یاد دلاؤ، جب اللہ نے نبیوں کے بارے میں (اِن سے) عہد لیا کہ میں نے جو شریعت اور حکمت تمھیں عطا فرمائی ہے، پھر تمھار ے پاس کوئی رسول اُس کی تصدیق کرتے ہوئے آئے جو تمھارے پاس موجود ہے تو تم اُس پرضرور ایمان لاؤ گے اور ضرور اُس کی مدد کرو گے۔ اِس کے بعد پوچھا: کیا تم نے اقرار کیا اور اِس پر میرے عہد کی ذمہ داری اٹھا لی ہے؟ اُنھوں نے جواب دیا کہ ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا کہ پھر گواہ رہو اور میں بھی تمھار ے ساتھ گواہ ہوں۔ ( فرمایا کہ) پھر جو اِس کے بعد اِس عہد سے پھریں گے تو وہی نافرمان ہیں۔81-82
اَفَغَیۡرَ دِیۡنِ اللّٰہِ یَبۡغُوۡنَ وَ لَہٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّ کَرۡہًا وَّ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾ قُلۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَ مَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰی وَ النَّبِیُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۪ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ ۫ وَ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ﴿۸۴﴾ وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ﴿۸۵﴾ کَیۡفَ یَہۡدِی اللّٰہُ قَوۡمًا کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ وَ شَہِدُوۡۤا اَنَّ الرَّسُوۡلَ حَقٌّ وَّ جَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۸۶﴾ اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ اَنَّ عَلَیۡہِمۡ لَعۡنَۃَ اللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾ اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَ اَصۡلَحُوۡا ۟ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۸۹﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ ثُمَّ ازۡدَادُوۡا کُفۡرًا لَّنۡ تُقۡبَلَ تَوۡبَتُہُمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الضَّآلُّوۡنَ ﴿۹۰﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ مَاتُوۡا وَ ہُمۡ کُفَّارٌ فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡ اَحَدِہِمۡ مِّلۡءُ الۡاَرۡضِ ذَہَبًا وَّلَوِ افۡتَدٰی بِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ وَّ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۹۱﴾
(یہ پیغمبر اِسی طرح آئے ہیں) تو کیا یہ لوگ اب اللہ کے دین کے سوا کسی اور دین کی تلاش میں ہیں، دراں حالیکہ زمین اور آسمانوں میں طوعاًوکرہاً، سب اُسی کے فرماں بردارہیں اوراُسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اِن سے کہہ دو کہ ہم نے اللہ کو مانا ہے اور اُس چیز کو مانا ہے جوہم پر نازل کی گئی اورجو ابراہیم، اسمٰعیل، اسحٰق اور یعقوب اوراُن کی اولاد پر نازل کی گئی، اورجوموسیٰ اورعیسٰی اور دوسرے سب نبیوں کو اُن کے پروردگار کی طرف سے دی گئی۔ ہم اِن میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔ (یہ سب اللہ کے پیغمبر ہیں) اورہم اُسی کے فرماں بردار ہیں۔ (یہی اسلام ہے)، اورجو اسلام کے سوا کوئی اوردین اختیارکرنا چاہے گا تو اُس سے وہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور قیامت میں وہ نامرادوں میں سے ہوگا۔ ( تم اِن کی ہدایت چاہتے ہو)؟ اللہ اُن لوگوں کو ہدایت کس طرح دے گا جو ماننے کے بعد منکر ہوگئے، دراں حالیکہ وہ اِس بات کے گواہ ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں اور(اِن کی سچائی پر گواہی کے لیے) اُن کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں بھی آچکی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ اِس طرح کے ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ یہی ہیں کہ جن کی سزا یہ ہے کہ اِن پر اللہ اور اُس کے فرشتوں اورتمام انسانوں کی لعنت ہے۔ یہ اُسی میں ہمیشہ رہیں گے، نہ اِن سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ اِنھیں مہلت دی جائے گی۔ (اِن میں سے)، البتہ جو اِس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں، وہ اِس سے محفوظ رہیں گے، اِس لیے کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی
لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۹۲﴾
کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسۡرَآءِیۡلُ عَلٰی نَفۡسِہٖ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تُنَزَّلَ التَّوۡرٰىۃُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِالتَّوۡرٰىۃِ فَاتۡلُوۡہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۹۳﴾ فَمَنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۹۴﴾ قُلۡ صَدَقَ اللّٰہُ ۟ فَاتَّبِعُوۡا مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۹۵﴾
اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۹۶﴾ فِیۡہِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ ۚوَ مَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ؕ وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۷﴾
شفقت ابدی ہے۔ اِس کے برخلاف جو ماننے کے بعد منکر ہوگئے، پھر اپنے اِس انکارمیں بڑھتے چلے گئے، (یہاں تک کہ آخری وقت آگیا)، اُن کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور وہی درحقیقت راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ اِسی طرح جومنکر ہوئے اور اِسی انکار کی حالت میں د نیا سے رخصت ہوگئے، اُن میں سے کوئی اگر (اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے ) زمین بھر کر سونا بھی فدیے میں دے تو اُس سے ہرگزقبول نہ کیا جائے گا۔ یہی ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے اور وہاں وہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے۔83-91
(اِن کا یہ رویہ محض اِس وجہ سے ہے کہ دین داری کی بعض رسمیں پوری کردینے کے باعث یہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں ۔ اِن سے کہہ دو)، تم نیکی کی حقیقت کوہرگز نہیں پا سکتے، جب تک اُن چیزوں میں سے (اللہ کی راہ میں ) خرچ نہ کرو جوتمھیں محبوب ہیں ،(اِس پر غور کرو) اور(یاد رکھو کہ) جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے، اُس کا صلہ تمھیں لازماً ملے گا، اِس لیے کہ اللہ اُسے جانتا ہے۔ 92
(اِنھیں اعتراض ہے کہ یہ پیغمبر تورات کی تصدیق کرتے ہیں تو اُس میں جو چیزیں حرام ہیں، اُن میں سے بعض کو حلال کیوں سمجھتے ہیں؟ کہہ دو کہ) کھانے کی یہ سب چیزیں بنی اسرائیل کے لیے بھی (اِسی طرح) حلال تھیں، سواے اُن کے جو بنی اسرائیل نے تورات کے نازل ہونے سے پہلے خود اپنے لیے ممنوع ٹھیرالی تھیں۔ کہہ دو کہ نہیں مانتے تو لاؤ تورات اوراُس کو پڑھو، اگرتم سچے ہو۔ پھر اِس کے بعد بھی جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں، وہی ظالم ہیں۔ کہہ دو کہ اللہ نے سچ فرمایا ہے، اِس لیے ( اپنے اِن تعصبات کو چھوڑ کر) ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو، جو (اسلام کے
قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ٭ۖ وَ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۸﴾ قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ تَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا وَّ اَنۡتُمۡ شُہَدَآءُ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۹﴾
راستے پر) بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔ 93-95
(اِسی طرح قبلے کے بارے میں بھی اِنھیں اعتراض ہے۔ اِن سے کہہ دو کہ)اللہ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا، وہ یقیناً وہی ہے جو مکہ میں ہے، تمام جہان والوں کے لیے برکت اور ہدایت کے مرکز کی حیثیت سے۔ اِس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں: ابراہیم کے (خدا کے لیے) کھڑے ہونے کی جگہ ہے، جو اِس میں داخل ہوجائے، وہ مامون ہے اور جو لوگ وہا ں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں، اُن پراللہ کے لیے اِس گھر کا حج ہے ۔(یہ اِس کی نشانیاں ہیں)، اور جو اِس کے بعد بھی انکار کریں، اللہ کو اُن کی کچھ پروا نہیں، اِس لیے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔ 96-97
اِن سے پوچھو، اے اہل کتاب، تم اللہ کی اِن آیتوں کا انکار کیوں کرتے ہو، دراں حالیکہ جو کچھ تم کررہے ہو، وہ اللہ کے سامنے ہے؟ اِن سے پوچھو، اے اہل کتاب، تم اُن لوگوں کو اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہوجو ایمان لائے ہیں؟ تم اِس میں عیب ڈھونڈتے ہو، دراں حالیکہ تم اِس کے گواہ بنائے گئے ہو؟ (اِس پر غور کرو) اور (یاد رکھوکہ)جوکچھ تم کررہے ہو، اللہ اُس سے بے خبر نہیں ہے۔ 98-99