بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(2)
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّکُمۡ ۚ فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا وَّ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۲﴾
وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪ وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۳﴾ فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَ لَنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡ وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الۡحِجَارَۃُ ۚ اُعِدَّتۡ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۴﴾ وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ
(اِن کے پیچھے لگ کر تم اپنے آپ کو برباد کیوں کرتے ہو)؟ تم اپنے اُس پروردگار کی بندگی کرو، لوگو، جس نے تمھیں پیدا کیا ہے اور تم سے پہلوں کو بھی، اِس لیے کہ تم (اُس کے عذاب سے) بچے رہو۔ (وہی) جس نے تمھارے لیے زمین کوبچھونا اور آسمان کوچھت بنایا ہے اور آسمان سے پانی اتارا ہے، پھر اُس سے تمھاری روزی کے لیے طرح طرح کے میوے پیدا کر دیے ہیں۔ لہٰذا تم اللہ کے ہم سر نہ ٹھیراؤ، دراں حالیکہ تم اِن سب باتوں کو جانتے ہو۔21-22
(یہی اِس کتاب کی دعوت ہے ، اِسے قبول کرو)، اور جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے،
مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ کُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡہَا مِنۡ ثَمَرَۃٍ رِّزۡقًا ۙ قَالُوۡا ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَ اُتُوۡا بِہٖ مُتَشَابِہًا ؕ وَ لَہُمۡ فِیۡہَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ ٭ۙ وَّ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۵﴾
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسۡتَحۡیٖۤ اَنۡ یَّضۡرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوۡضَۃً فَمَا فَوۡقَہَا ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَیَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۚ وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَیَقُوۡلُوۡنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰہُ بِہٰذَا مَثَلًا ۘ یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا ۙ وَّ یَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِہٖۤ اِلَّا الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾ الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِہٖ ۪ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۲۷﴾
کَیۡفَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ کُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡیَاکُمۡ ۚ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ﴿۲۸﴾ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ٭ ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰىہُنَّ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ ؕ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۲۹﴾
وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَجۡعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفۡسِدُ فِیۡہَا وَ یَسۡفِکُ الدِّمَآءَ ۚ وَ نَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۰﴾ وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمۡ عَلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ ۙ فَقَالَ اَنۡۢبِـُٔوۡنِیۡ بِاَسۡمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ﴿۳۱﴾
اُس کے بارے میں اگرتمھیں شبہ ہے تو (جاؤ اور) اِس کے مانند ایک سورہ ہی بنا لاؤ اور (اِس کے لیے) خدا کے سوا تمھارے جو زعما ہیں، اُنھیں بھی بلا لو، اگرتم (اپنے اِس گمان میں) سچے ہو۔ پھر اگر نہ کر سکو اور ہر گز نہ کر سکو گے تو اُس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن وہ لوگ بھی ہوں گے جو نہیں مانتے اور اُن کے وہ پتھربھی جنھیں وہ پوجتے ہیں۔ وہ اِنھی منکروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور اُن کو جو (اِس کتاب پر) ایمان لائے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے، اِس بات کی بشارت دو، (اے پیغمبر) کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اُن کا کوئی پھل اُنھیں جب بھی کھانے کے لیے دیا جائے گا تو کہیں گے: یہ وہی ہے جو اِس سے پہلے ہمیں دیا گیا، دراں حالیکہ اُن کو یہ اُس سے ملتا جلتا دیا جائے گا، اور اُن کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔23-25
(یہ جنت کی تمثیل ہے، اور) اللہ اِس بات سے نہیں شرماتا کہ (کسی حقیقت کی وضاحت کے لیے) وہ مچھر یا اِس سے بھی حقیر کسی چیز کی تمثیل بیان کرے۔ پھر جوماننے والے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ اُن کے پروردگار کی طرف سے حق آیا ہے، اور جو نہیں مانتے، وہ کہتے ہیں کہ اِس مثال سے اللہ
قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ لَا عِلۡمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳۲﴾ قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنۡۢبِئۡہُمۡ بِاَسۡمَآئِہِمۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَنۡۢبَاَہُمۡ بِاَسۡمَآئِہِمۡ ۙ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ غَیۡبَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ وَ اَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا کُنۡتُمۡ تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۳۳﴾
واِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اَبٰی وَ اسۡتَکۡبَرَ ٭۫ وَ کَانَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ﴿۳۴﴾
نے کیا چاہا؟ (اِس طرح) اللہ بہتوں کو اِس سے گم راہ کرتا اور بہتوں کو اِس سے راہ دکھاتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ وہ اِس سے گم راہ تو سرکشوں ہی کو کرتا ہے۔ جو اللہ کے عہد کو اُس کے باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اللہ نے جس چیز کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اُسے کاٹتے ہیں، اور اِس طرح زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ یہی ہیں جو (دنیا اور آخرت، دونوں میں) نامراد ہیں۔ 26-27
(لوگو)، تم اللہ کے منکر کس طرح ہوتے ہو، دراں حالیکہ تم مردہ تھے تو اُس نے تمھیں زندگی عطا فرمائی؟ پھر وہی تم کو مارتا ہے، پھروہی زندہ کرے گا، پھر تم اُسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وہی جس نے تمھارے لیے زمین کی سب چیزیں پیدا کیں، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور سات آسمان استوار کر دیے، اور وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ 28-29
(اِن سے پوچھو، اے پیغمبر کہ یہ منکر کس طرح ہوتے ہیں)؟ اور (اِس دنیا کے بارے میں ہماری اسکیم کو سمجھنے کے لیے) وہ واقعہ اِنھیں سناؤ، جب تمھارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک ایسی مخلوق بنانے والا ہوں جسے (اُس کی) بادشاہی دی جائے گی۔ اُنھوں نے عرض کیا: کیا آپ اُس میں وہ مخلوق بنائیں گے جو وہاں فساد کرے گی اور خون بہائے گی، اور اِدھر ہمارا معاملہ یہ ہے کہ آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ ہم آپ کی تسبیح و تقدیس کر رہے ہیں؟ فرمایا: میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے، اور (اُنھیں سمجھانے کے لیے) آدم کو سب نام سکھا دیے۔ پھر (جن کے نام سکھائے)، اُن ہستیوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ پھر فرمایا: مجھے اِن لوگوں کے نام بتاؤ، اگر تم (اپنے اِس خیال میں) سچے ہو۔ اُنھوں نے عرض کیا: آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں، جتنا آپ نے ہمیں بتایا ہے، علیم و حکیم تو اصل میں آپ ہی ہیں۔ فرمایا: آدم، تم اِن ہستیوں کے نام اِنھیں بتاؤ۔ پھر جب اُس نے اُن کا تعارف اُنھیں کرا دیا تو فرمایا: میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہوں اور میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپا رہے تھے۔30-33
وَ قُلۡنَا یٰۤاٰدَمُ اسۡکُنۡ اَنۡتَ وَ زَوۡجُکَ الۡجَنَّۃَ وَ کُلَا مِنۡہَا رَغَدًا حَیۡثُ شِئۡتُمَا ۪ وَ لَا تَقۡرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۵﴾ فَاَزَلَّہُمَا الشَّیۡطٰنُ عَنۡہَا فَاَخۡرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیۡہِ ۪ وَ قُلۡنَا اہۡبِطُوۡا بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ وَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ﴿۳۶﴾ فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۳۷﴾ قُلۡنَا اہۡبِطُوۡا مِنۡہَا جَمِیۡعًا ۚ فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۸﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور (ہماری اِس اسکیم میں انسان کے امتحان کو سمجھنے کے لیے) وہ واقعہ بھی اِنھیں سناؤ، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو وہ سب سجدہ ریز ہو گئے، ابلیس کے سوا۔ اُس نے انکارکر دیا اور اکڑ بیٹھا اور اِس طرح منکروں میں شامل ہوا۔ اور ہم نے کہا: اے آدم، تم اور تمھاری بیوی، دونوں اِس باغ میں رہو اور اِس میں سے جہاں سے چاہو، فراغت کے ساتھ کھاؤ۔ ہاں، البتہ تم دونوں اِس درخت کے پاس نہ جانا، ورنہ ظالم ٹھیرو گے۔ پھر شیطان نے اُن کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس حالت میں وہ تھے، اُس سے اُنھیں نکلوا کر چھوڑا۔ اور ہم نے کہا: (یہاں سے) اتر جاؤ، اب تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمھیں ایک خاص وقت تک زمین پر ٹھیرنا ہے اور وہیں گزر بسرکرنی ہے۔ پھر آدم نے اپنے پروردگارسے (توبہ کے) چند الفاظ سیکھ لیے (اور اُن کے ذریعے سے توبہ کی) تو اُس پر اُس نے عنایت فرمائی اور اُس کو معاف کر دیا۔ بے شک، وہی بڑا معاف فرمانے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ ہم نے کہا: تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر میری طرف سے اگر کوئی ہدایت تمھارے پاس آئے تو اُسی پر چلنا، اِس لیے کہ جو لوگ میری اِس ہدایت کی پیروی کریں گے، اُن کا صلہ جنت ہے، سو اُن کے لیے نہ وہاں کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں گے۔ اورجنھوں نے (اِس کا) انکارکیا اورہماری آیتوں کو جھٹلا دیا، وہ دوزخ کے لوگ ہیں ، وہ ہمیشہ اُسی میں رہیں گے۔34-39