مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة آل عمران
(7)

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ۚ وَ مَا تُخۡفِیۡ صُدُوۡرُہُمۡ اَکۡبَرُ ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴿۱۱۸﴾ ہٰۤاَنۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَہُمۡ وَ لَا یُحِبُّوۡنَکُمۡ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ کُلِّہٖ ۚ وَ اِذَا لَقُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚ٭ۖ وَ اِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَیۡکُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَیۡظِکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴿۱۱۹﴾ اِنۡ تَمۡسَسۡکُمۡ حَسَنَۃٌ تَسُؤۡہُمۡ ۫ وَ اِنۡ تُصِبۡکُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّفۡرَحُوۡا بِہَا ؕ وَ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا لَا یَضُرُّکُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡـًٔا ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ ﴿۱۲۰﴾

ایمان والو، (یہ تمھارے دوست نہیں ہیں، اِس لیے) اپنے سے باہر کے لوگوں کو بھیدی نہ بناؤ۔ تمھیں نقصان پہنچانے میں یہ کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ یہ تمھارے لیے زحمتوں کے خواہاں ہیں۔ اِن کی دشمنی اِن کے منہ سے نکلی پڑتی ہے اور جو کچھ اِن کے سینوں میں چھپا ہوا ہے، وہ اِ س سے بھی سخت تر ہے۔ ہم نے یہ نشانیاں تمھارے لیے واضح کر دی ہیں، اگر تم عقل رکھتے ہو۔ یہ تمھی ہو کہ اِن کو دوست رکھنا چاہتے ہو، مگر وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے، دراں حالیکہ تم خدا کی سب کتابوں کو مانتے ہو۔ اور اِن کا طریقہ یہ ہے کہ جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں

وَ اِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ اَہۡلِکَ تُبَوِّیُٔ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مَقَاعِدَ لِلۡقِتَالِ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲۱﴾ۙ

اِذۡ ہَمَّتۡ طَّآئِفَتٰنِ مِنۡکُمۡ اَنۡ تَفۡشَلَا ۙ وَ اللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾ وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾

اِذۡ تَقُوۡلُ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَلَنۡ یَّکۡفِیَکُمۡ اَنۡ یُّمِدَّکُمۡ رَبُّکُمۡ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُنۡزَلِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾ؕ بَلٰۤی ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا وَ یَاۡتُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡرِہِمۡ ہٰذَا یُمۡدِدۡکُمۡ رَبُّکُمۡ بِخَمۡسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾

اور جب الگ ہوتے ہیں تو غصے سے تم پر انگلیاں کاٹتے ہیں ـــــ کہہ دو کہ اپنے اِسی غصے میں مر جاؤ۔ (اللہ تمھاری ہر چیز سے واقف ہے اور) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تو سینوں کے راز تک جانتا ہے ـــــ۔ تمھیں کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اِنھیں تکلیف پہنچتی ہے اورتم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اِس سے خوش ہوتے ہیں۔ (یہ تمھارے دوست نہیں ہیں، اِن کی پروا نہ کرو) اور (یاد رکھو کہ) اگر تم صبر کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اِن کی کوئی تدبیر تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی، اِس لیے کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اُس کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ 118-120

(یہ حقیقت اِنھیں سمجھاؤ، اے پیغمبر)، اور (اِس کے لیے) وہ موقع یاد دلاؤ، جب (احد کے دن) تم مسلمانوں کو جنگ کے مورچوں پر کھڑا کرنے کے لیے بہت سویرے اپنے گھر سے نکلے تھے۔ (اُس وقت اللہ تمھارے ارادوں سے واقف تھا اور تمھاری باتیں سن رہا تھا) اور اللہ سمیع و علیم ہے۔121

اُس وقت، جب تم میں سے دو گروہوں نے حوصلہ چھوڑنا چاہا، دراں حالیکہ اللہ اُن کی مدد کے لیے موجود تھا اور ایمان والوں کو تو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ اللہ نے(اِس سے پہلے) بدر میں بھی تمھاری مدد کی تھی، جب کہ تم نہایت کم زور تھے۔ (پھر بھی ناشکری کرتے ہو)؟ سو اللہ سے ڈرو تاکہ تم اُس کے شکر گزار ہو۔ 122

اُس وقت، جب تم میں سے دو گروہوں نے حوصلہ چھوڑنا چاہا، دراں حالیکہ اللہ اُن کی مدد کے لیے موجود تھا اور ایمان والوں کو تو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ اللہ نے(اِس سے پہلے) بدر میں بھی تمھاری مدد کی تھی، جب کہ تم نہایت کم زور تھے۔ (پھر بھی ناشکری کرتے ہو)؟ سو اللہ سے ڈرو تاکہ تم اُس کے شکر گزار ہو۔ 123

یاد کرو، جب تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمھارے لیے کافی نہیں ہے کہ تمھارا پروردگار

وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشۡرٰی لَکُمۡ وَ لِتَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُکُمۡ بِہٖ ؕ وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱۲۶﴾ۙ لِیَقۡطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَوۡ یَکۡبِتَہُمۡ فَیَنۡقَلِبُوۡا خَآئِبِیۡنَ ﴿۱۲۷﴾ لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ اَوۡ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ اَوۡ یُعَذِّبَہُمۡ فَاِنَّہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾ وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۹﴾

تین ہزار فرشتوں سے تمھاری مدد کرے جو (اِسی مقصد سے) اتارے گئے ہوں؟ ہاں کیوں نہیں، اگر تم صبر کرو اور خدا سے ڈرتے رہو اور تمھارے دشمن اِسی وقت تم پر آ پڑیں تو تمھارا پروردگار پانچ ہزار فرشتوں سے تمھاری مدد کرے گا جو خاص نشان لگائے ہوئے ہوں گے۔ 124-125

اور یہ تو اللہ نے صرف اِس لیے کیا کہ تمھیں بشارت ہو اور تمھارے دل اِس سے مطمئن ہو جائیں اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے جو زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ اِس لیے کیا کہ اِن منکروں (کو ایمان لانے کی توفیق دے اور اِس طرح اِن ) کا ایک حصہ کاٹ لے یا اِنھیں ایسا ذلیل کرے کہ خوار ہو کر لوٹیں۔ تمھیں اِس معاملے میں کوئی اختیار نہیں (کہ اللہ اِن کے ساتھ یہی کرے) یا اِن پر عنایت کی نظر کرے اور اِن کی توبہ قبول کر لے، (اگر یہ توبہ کریں) یا اِن پر اپنا عذاب نازل کر دے، اِس لیے کہ یہ ظالم ہیں۔ (یہ اللہ ہی کا اختیار ہے) اور زمین اورآسمانوں میں جو کچھ ہے، وہ اللہ ہی کا ہے۔ وہ (اپنے قانون کے مطابق) جس کو چاہے گا، بخش دے گا اور جس کو چاہے گا، سزا دے گا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔126-129

[باقی]