بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة آل عمران
(8)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَۃً ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۳۰﴾ۚ وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۳۱﴾ۚ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾ۚ وَ سَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ ۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ۙ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ وَ الۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۳۴﴾ۚ وَ الَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ ۪ وَ مَنۡ یَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ۪۟ وَ لَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾ اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ نِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِیۡنَ ﴿۱۳۶﴾ؕ
ایمان والو، (آگے بھی خدا کی مدد چاہتے ہو تو) یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو تا کہ تم فلاح پاؤ۔ اور اُس آگ سے بچو جو منکروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور اللہ اور اُس کے رسول کے فرماں بردار رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ اور اپنے پروردگار کی مغفرت اور اُس جنت کی طرف بڑھ جانے کے لیے دوڑو جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اُن پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ جو ہر حال میں خرچ کرتے ہیں، خواہ تنگی ہو یا کشادگی، اور (جن پر خرچ کرتے
قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ سُنَنٌ ۙ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾ ہٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ مَوۡعِظَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۸﴾ وَ لَا تَہِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾ اِنۡ یَّمۡسَسۡکُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُہٗ ؕ وَ تِلۡکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ ۚ وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ یَتَّخِذَ مِنۡکُمۡ شُہَدَآءَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۰﴾ۙ وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ یَمۡحَقَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾ وَ لَقَدۡ کُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡہُ ۪ فَقَدۡ رَاَیۡتُمُوۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۱۴۳﴾
ہیں، اُن کی طرف سے زیادتی بھی ہوتو) غصے کو دبا لیتے اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں ـــ (یہی خوبی سے عمل کرنے والے ہیں) اور اللہ اُن لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو خوبی سے عمل کرنے والے ہوں ــــ۔ اور جن کا معاملہ یہ ہے کہ جب کوئی بدکاری اُن سے ہو جاتی ہے یا اپنے حق میں کوئی برا کر بیٹھتے ہیں تو اُنھیں اللہ یادآجاتا ہے اور وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں ـــ اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو بخش دے ـــ اور جانتے بوجھتے اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے۔ یہی ہیں کہ جن کا صلہ اُن کے پروردگار کی مغفرت ہے اور وہ باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور کیا ہی اچھا صلہ ہے یہ نیک عمل کرنے والوں کے لیے۔ 130- 136
(ایمان والو، آخری فتح تمھاری ہو گی)۔ اِس کی بہت سی مثالیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں۔ سو اپنی اِس سرزمین ہی میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ہے۔ یہ اُن لوگوں کے لیے نہایت واضح تنبیہ ہے (جو پیغمبر کو جھٹلا دینے پر مصر ہیں) اور اُ ن کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ (اِس لیے مطمئن رہو) اور (جو نقصان تمھیں پہنچا ہے، اُس سے) بے حوصلہ نہ ہو اور غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو غلبہ بالآخر تمھیں ہی حاصل ہو گا۔ (اِس وقت) اگر تم کو چوٹ لگی ہے تو ایسی ہی چوٹ (اِس سے پہلے) دشمن کو بھی لگ چکی ہے۔ اور دنوں کا یہ الٹ پھیر تو ہم لوگوں کے اندر اِس لیے کرتے ہیں کہ اُن کا امتحان کریں اور اِس لیے کہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے اُن لوگوں کو چھانٹ لے جو (اپنی جان دے کر بھی) حق کی گواہی دینے والے ہوں ـــــ (اِن مصالح کو سمجھنے کی کوشش کرو) اور (یاد رکھو کہ) اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتاــــ۔ اور اِس لیے کرتے ہیں کہ ایمان والوں کو اللہ الگ کر لے اور اِن منکروں کو مٹا دے۔ ــــ کیا تم نے
وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَ سَیَجۡزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾
وَ مَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ وَ مَنۡ یُّرِدۡ ثَوَابَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا ۚ وَ مَنۡ یُّرِدۡ ثَوَابَ الۡاٰخِرَۃِ نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا ؕ وَ سَنَجۡزِی الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾
وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَہٗ رِبِّیُّوۡنَ کَثِیۡرٌ ۚ فَمَا وَہَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ مَا ضَعُفُوۡا وَ مَا اسۡتَکَانُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۶﴾ وَ مَا کَانَ قَوۡلَہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ اِسۡرَافَنَا فِیۡۤ اَمۡرِنَا وَ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَ انۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۷﴾ فَاٰتٰىہُمُ اللّٰہُ ثَوَابَ الدُّنۡیَا وَ حُسۡنَ ثَوَابِ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۴۸﴾
یہی سمجھا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے، اور اللہ نے ابھی اُن لوگوں کو دیکھا ہی نہیں جنھوں نے تمھارے اندر سے جہاد کیا (اور جنھوں نے نہیں کیا) ــــ اور اِس لیے کرتے ہیں کہ اللہ اُن کو بھی جان لے جو ثابت قدم رہنے والے ہوں۔ (اب حوصلہ چھوڑ رہے ہو) اور موت کے (اِس طرح) سامنے آجانے سے پہلے تم اُس کی تمنا کر تے رہے ہو۔ سو (تمھاری یہ تمنا پوری ہو گئی، اِس لیے کہ) اب تو موت کو تم نے آنکھیں چار کر کے دیکھ لیا ہے۔137- 143
محمد ایک رسول ہی ہیں۔ (اُن کے قتل ہو جانے کی خبر نے تمھارے قدم ڈگمگا دیے)۔ اُن سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں، (اور موت وحیات کے یہ مراحل اُن پر بھی آئے)۔ پھر کیا وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ (یاد رکھو)، جو الٹا پھرے گا، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور اللہ عنقریب اُن کو صلہ دے گا جو ہر حال میں اُس کے شکر گزار رہے ہیں۔ 144
(تم نے حوصلہ چھوڑ دیا) اور (اِس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے کہ) ہر شخص اللہ کے اذن سے ایک مقررہ نوشتہ کے مطابق ہی دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور (اِس کو بھی فراموش کر بیٹھے کہ) جو دنیا کا صلہ چاہے گا، اُس کو ہم اُسی میں سے دیں گے اور جو آخرت کا صلہ چاہے گا، اُس کو وہاں سے دیں گے اور اپنے شکر گزاروں کو ہم اُن کی جزا لازماً عطا فرمائیں گے۔145
(اِن حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرو) اور (یاد رکھو کہ) کتنے ہی نبی گزرے ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی ہے تو اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں اُنھیں پیش آئیں، اُن سے نہ تو وہ پست ہمت ہوئے، نہ اُنھوں نے کم زوری دکھائی اور نہ دشمنوں کے آگے سپر ڈالی، (بلکہ ہر حال
میں ثابت قدم رہے) اور اللہ ایسے ہی ثابت قدم رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اُن کی دعا بس یہ رہی کہ پروردگار، ہمارے گناہوں سے درگذر فرما؛ اپنے معاملات میں جو کچھ زیادتی ہم سے ہوئی ہے، اُسے معاف کر دے ؛ ہمارے قدم جما دے اور اِن منکر لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ پھر اللہ نے اُن کو دنیا کا صلہ بھی دیا اور آخرت کا اچھا اجر بھی عطا فرمایا۔ (یہی ہیں جو خوبی سے عمل کرنے والے ہیں) اور اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو خوبی سے عمل کرنے والے ہوں۔ 146-148