بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة آل عمران
(10)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ اِذَا ضَرَبُوۡا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ کَانُوۡا غُزًّی لَّوۡ کَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَ مَا قُتِلُوۡا ۚ لِیَجۡعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسۡرَۃً فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۵۶﴾ وَ لَئِنۡ قُتِلۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَحۡمَۃٌ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ﴿۱۵۷﴾ وَ لَئِنۡ مُّتُّمۡ اَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَاِالَی اللّٰہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾
ایمان والو، اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤجو منکر ہیں اورجن کے اعزہ واقربا کبھی سفر پر جاتے ہیں یا کسی جنگ کے لیے نکلتے ہیں (اور اُن کو موت آجاتی ہے) تو اُن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے۔ یہ اِس لیے کہ اللہ اِس چیز کو اُن کے دلوں کی حسرت بنا دے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی زندگی دیتا اور اللہ ہی مارتاہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، وہ اللہ کی نگاہوں میں ہے۔ اور اِس پر مزید یہ کہ اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ گے یا مرو گے تو اللہ کی جو بخشش اوررحمت تمھیں حاصل ہوگی، وہ اُس سے کہیں بہتر ہے جو یہ جمع کررہے ہیں۔ اور یہ بھی کہ تم مرو یا مارے جاؤ، تم کو سمٹ کر جانا بہرحال اللہ ہی کی طرف ہے۔ 156- 158
فَبِمَا رَحۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنۡتَ لَہُمۡ ۚ وَ لَوۡ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِکَ ۪ فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ وَ شَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَوَکِّلِیۡنَ﴿۱۵۹﴾ اِنۡ یَّنۡصُرۡکُمُ اللّٰہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمۡ ۚ وَ اِنۡ یَّخۡذُلۡکُمۡ فَمَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَنۡصُرُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾
وَ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّغُلَّ ؕ وَ مَنۡ یَّغۡلُلۡ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾ اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَ اللّٰہِ کَمَنۡۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۶۲﴾ ہُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶۳﴾ لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۶۴﴾
سو یہ اللہ کی عنایت ہے کہ تم اِن کے لیے بڑے نرم خو واقع ہوئے ہو، ( اے پیغمبر)۔ اگر تم درشت خو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب تمھارے پاس سے منتشر ہوجاتے۔ اِس لیے اِن سے درگذر کرو، اِن کے لیے مغفرت چاہو اور معاملات میں اِن سے مشورہ لیتے رہو۔ پھر جب فیصلہ کر لو تو اللہ پر بھروسا کرو، اِس لیے کہ اللہ کو وہی لوگ پسند ہیں جو اُس پر بھروسا کرنے والے ہوں۔ (ایمان والو)، اگر اللہ تمھاری مدد پر ہو تو کوئی تم پر غلبہ نہیں پاسکتا اور وہ تمھیں چھوڑ دے تو اُس کے بعد کون ہے جو تمھاری مدد کرے گا؟ اور اِیمان والوں کو تو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔159- 160
(یہ سمجھتے ہیں کہ اِس جنگ کے لیے باہر نکل کر پیغمبر نے اِن سے بدخواہی کی ہے۔ ہرگز نہیں)، یہ کسی پیغمبر کے شایان شان ہی نہیں کہ بدخواہی کرے اور (اِنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) جو کوئی بد خواہی کرے گا، قیامت کے دن وہ اپنی اِس بدخواہی کے ساتھ ہی حاضر ہوگا۔ پھر ہر شخص کو اُس کی کمائی کا پوراپورا بدلہ مل جائے گا اوراُن پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔ پھر کیا وہ جو خدا کی خوشنودی چاہے، وہ اُن لوگوں کی طرح ہوجائے گا جو خدا کی ناراضی لے کر لوٹے اور جن کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے؟ اللہ کے نزدیک اِن کے درجے الگ الگ ہوں گے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے تو مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا ہے کہ اُن کے اندر خود اُنھی میں سے ایک رسول اٹھایا ہے جو اُس کی آیتیں اُنھیں سناتا ہے اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے اور اِس کے لیے اُن کو قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اور اِس میں شبہ نہیں
اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَیۡہَا ۙ قُلۡتُمۡ اَنّٰی ہٰذَا ؕ قُلۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۶۵﴾ وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ فَبِاِذۡنِ اللّٰہِ وَ لِیَعۡلَمَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾ۙ وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا ۚۖ وَ قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ؕ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعۡنٰکُمۡ ؕ ہُمۡ لِلۡکُفۡرِ یَوۡمَئِذٍ اَقۡرَبُ مِنۡہُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاہِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۱۶۷﴾ۚ اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ وَ قَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ؕ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا عَنۡ اَنۡفُسِکُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۶۸﴾
کہ اِس سے پہلے تو وہ کھلی گم راہی میں تھے۔161- 164
اور (ہاں)، جب ایک مصیبت تمھیں پہنچی جس سے دوگنی مصیبت (اِس سے پہلے) تم نے اُنھیں پہنچائی تھی تو کیا یہ بات بھی تم نے کہی کہ یہ کہاں سے آ گئی؟ اِن سے کہہ دو، (اے پیغمبر) کہ یہ تمھاری اپنی ہی لائی ہوئی ہے۔ (اللہ فتح دیتا ہے تو اپنی حکمت کے مطابق شکست بھی دلواتا ہے)، اِس لیے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اور مزید یہ کہ جب دونوں فوجیں بھڑیں تو اُس دن جو مصیبت تم پر آئی، وہ اللہ کے اذن سے آئی اور اِس لیے آئی کہ اللہ اُن کو بھی دیکھ لے جو سچے مومن ہیں۔ اور اُن کو بھی جو (ابتدا ہی سے) منافقت اختیار کیے ہوئے تھے۔ (وہی کہ) اُن سے کہاگیا کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا کم سے کم (اپنے شہر کی) مدافعت ہی کرو تو اُنھوں نے کہا تھا کہ اگر ہم جانتے کہ جنگ ہونی ہے تو ضرور تمھارے ساتھ چلتے۔ اُس دن ایمان سے زیادہ وہ کفر کے قریب تھے۔ وہ اپنے منہ سے وہ باتیں کہہ رہے تھے جو اُن کے دل میں نہیں تھیں اور اللہ خوب واقف تھا اُس سے جو وہ چھپائے ہوئے تھے۔ وہی جو بیٹھے رہے اور اپنے (اُن) بھائیوں کے بارے میں (جو لڑنے کے لیے نکلے)، کہہ دیا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو (اِس طرح) قتل نہ ہوتے۔ اِن سے کہہ دو کہ اچھا اب اپنے اوپر سے موت کو ٹال کر دکھانا، اگر تم سچے ہو۔ 165- 168