مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة آل عمران
(12)

لَتُبۡلَوُنَّ فِیۡۤ اَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ لَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿۱۸۶﴾ وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَکۡتُمُوۡنَہٗ ۫ فَنَبَذُوۡہُ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ وَ اشۡتَرَوۡا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَبِئۡسَ مَا یَشۡتَرُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا وَّ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ یُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ یَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّہُمۡ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الۡعَذَابِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸۸﴾ وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۸۹﴾

(ایمان والو)،تمھارے جان و مال میں تمھاری آزمایش تو ہر حال میں ہونی ہے اور اُن لوگوں کی طرف سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور اُن لوگوں کی طرف سے جنھوں نے شرک کیا ہے، تمھیں بہت سی تکلیف دہ باتیں بھی سننا پڑیں گی۔ البتہ، اگر تم ثابت قدم رہے اور تم نے تقویٰ اختیار کیے رکھا تو خدا تمھاری مدد کرے گا، اِس لیے کہ یہی وہ کام ہیں جو (اِس کے لیے) ضروری قرار دیے گئے ہیں۔ اور اُن لوگوں کو جنھیں کتاب دی گئی، اُن کا وہ عہد بھی یاد دلاؤ جو اللہ نے اُن سے لیا تھا کہ تم لوگوں کے سامنے اِس کتاب کو لازماً بیان کرو گے اور اِسے ہرگز نہ چھپاؤ گے۔

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۹۰﴾ۚۙ الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾ رَبَّنَاۤ اِنَّکَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَیۡتَہٗ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۱۹۲﴾ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ کَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ ﴿۱۹۳﴾ۚ رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَ لَا تُخۡزِنَا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّکَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۱۹۴﴾

فَاسۡتَجَابَ لَہُمۡ رَبُّہُمۡ اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی ۚ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ قٰتَلُوۡا وَ قُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ﴿۱۹۵﴾

پھر اُنھوں نے اِسے پس پشت ڈال دیا اور اِس کے بدلے میں بہت تھوڑی قیمت لے لی۔ سو کیا ہی بری ہے وہ چیز جسے یہ خرید لائے ہیں۔ تم اُن لوگوں کو ہرگزعذاب سے بری نہ سمجھو جو اپنے اِن کرتوتوں پر مگن ہیں اور ایسے کاموں پر اپنی تعریف چاہتے ہیں جو اُنھوں نے کیے نہیں ہیں، بلکہ اُن کے لیے ایک دردناک سزا تیار ہے۔ (وہ اِس سے بھاگ کر کہیں جا نہیں سکتے، اِس لیے کہ) زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔186- 189

(یہ عقل کے اندھے ہیں، اِس لیے پیغمبر پر ایمان کے لیے نشانی مانگتے ہیں، ورنہ) حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کے بنانے میں اور دن اور رات کے باری باری آنے میں اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو بصیرت والے ہیں۔ اُن کے لیے جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر لیٹے ہوئے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے اور زمین اور آسمانوں کی خِلقت میں غور کرتے رہتے ہیں۔ (اُن کی دعا یہ ہوتی ہے کہ) پروردگار، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا ہے۔ تو اِس سے پاک ہے کہ مقصد کے بغیر کوئی کام کرے۔ سو ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ پروردگار، تو نے جسے دوزخ میں ڈالا، اُسے درحقیقت بڑی رسوائی میں ڈال دیا اور (وہ ایسی جگہ ہے کہ) ظالموں کا وہاں کوئی مددگار نہ ہو گا۔ پروردگار، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا کہ (لوگو)، اپنے پروردگار کو مانو تو ہم نے مان لیا۔ اب تو ہمارے گناہوں کو بخش دے، اے مالک۔ ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمیں اپنے وفادار بندوں کے ساتھ موت دے۔ پروردگار،

لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِی الۡبِلَادِ ﴿۱۹۶﴾ؕ مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۟ ثُمَّ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۹۷﴾ لٰکِنِ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ ﴿۱۹۸﴾

وَ اِنَّ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَمَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ خٰشِعِیۡنَ لِلّٰہِ ۙ لَا یَشۡتَرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۹۹﴾

اپنے رسولوں کی زبان سے جو وعدے تو نے ہم سے کیے ہیں، وہ ہمارے لیے پورے کر دے اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کر۔ بے شک، تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔190- 194

سو اُن کے پروردگار نے اُن کی یہ دعا اِس طرح قبول فرمائی کہ مرد ہو یا عورت، میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا کوئی عمل ضائع نہ کروں گا۔تم سب آپس میں ایک ہی ہو۔ لہٰذا جنھوں نے ہجرت کی ہے اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں اور میری راہ میں ستائے گئے اور (میرے لیے) لڑے اور مارے گئے ہیں، اُن کے گناہ میں اُن سے دور کر دوں گااور اُن کو ضرورایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ اللہ کے ہاں سے اُن کی جزا ہے اور بہترین جزا تو اللہ ہی کے پاس ہے۔195

اِس ملک کے شہروں میں منکروں کی یہ چلت پھرت تمھیں کسی مغالطے میں نہ ڈالے، (اے پیغمبر)۔ یہ تھوڑا سا لطف ہے، پھر اِن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی بری جگہ ہے۔ اِس کے برخلاف جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے، اُن کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کے ہاں سے اُن کے لیے مہمانی ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، اُس کے وفادار بندوں کے لیے وہ کہیں بہتر ہے۔ 196- 198

(اِن وفادار بندوں سے اہل کتاب بھی خالی نہیں ہیں)۔ یہ حقیقت ہے کہ اِن اہل کتاب میں ایسے بھی ہیں جو خدا پر سچا ایمان رکھتے ہیں، اُس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں جو تمھاری طرف نازل کی گئی ہے اور اُس پر بھی جو (اِس سے پہلے) اُ ن کی طرف نازل کی گئی تھی، اللہ سے ڈرتے ہوئے۔ وہ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ نہیں دیتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اُن کا اجر اُن کے پروردگار کے پاس ہے۔ (وہ بہت جلد اُنھیں مل جائے گا)، اِس لیے کہ اللہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا۔ 199

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَ صَابِرُوۡا وَ رَابِطُوۡا ۟ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۲۰۰﴾

ایمان والو، (آخری فتح تمھاری ہوگی، لیکن اِس کے لیے ضروری ہے کہ) صبر کرو، اپنے حریفوں کے مقابلے میں پامردی دکھاؤ، مقابلے کے لیے تیار رہو اور (تمام معاملات میں) اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ کامیاب رہو۔ 200