مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(3)

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَوۡفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمۡ ۚ وَ اِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ ﴿۴۰﴾ وَ اٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ وَ لَا تَکُوۡنُوۡۤا اَوَّلَ کَافِرٍۭ بِہٖ ۪ وَ لَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۫ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوۡنِ﴿۴۱﴾ وَ لَا تَلۡبِسُوا الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَ تَکۡتُمُوا الۡحَقَّ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴿۴۲﴾ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ارۡکَعُوۡا مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾ اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبِرِّ وَ تَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴿۴۴﴾ وَ اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الۡخٰشِعِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾ الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ وَ اَنَّہُمۡ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۴۶﴾

(قرآن تمھارے لیے یہی ہدایت لے کر آیاہے، اِس لیے) اے بنی اسرائیل، میری اُس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی تھی اور میرے عہد کو پورا کرو، میں تمھارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہو، اور اِس (قرآن) پر ایمان لاؤ جو میں نے اُس چیز کی تصدیق میں اتارا ہے جو تمھارے پاس ہے، اور سب سے پہلے تم ہی اِس کے منکر نہ بن جاؤ؛ اور تھوڑی قیمت کے عوض میری آیتیں نہ بیچو، اور میرے ہی غضب سے بچو؛ اور حق کو باطل سے نہ ملاؤ، (یہ حق کو چھپانے کی کوشش ہے) اور تم جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش نہ کرو؛ اور نماز کا اہتمام کرو

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۷﴾ وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۸﴾

وَ اِذۡ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ یَسۡتَحۡیُوۡنَ نِسَآءَکُمۡ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآ ءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَظِیۡمٌ ﴿۴۹﴾

وَ اِذۡ فَرَقۡنَا بِکُمُ الۡبَحۡرَ فَاَنۡجَیۡنٰکُمۡ وَ اَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۵۰﴾

وَ اِذۡ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰۤی اَرۡبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ﴿۵۱﴾ ثُمَّ عَفَوۡنَا عَنۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۵۲﴾

وَ اِذۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَ الۡفُرۡقَانَ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۵۳﴾

اور زکوٰۃ ادا کرو؛ اور اِن جھکنے والوں کے ساتھ تم بھی (خدا کے حضور میں) جھک جاؤ۔ کیا تم لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، دراں حالیکہ تم کتاب الہٰی کی تلاوت کرتے ہو؟ پھر کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟ اور (اِس راہ پر چلنے کے لیے) صبر اور نماز سے مدد چاہو، اور اِس میں شبہ نہیں کہ یہ سب بہت بھاری ہے، مگر اُن کے لیے بھاری نہیں ہے جو خدا سے ڈرنے والے ہیں، جنھیں خیال ہے کہ اُنھیں اپنے پروردگار سے ملنا ہے اور اُن کو (ایک دن) اُسی کی طرف پلٹ کر جانا بھی ہے۔ 40-46

اے بنی اسرائیل، میری اُس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی تھی اور اِس بات کو کہ میں نے تمھیں دنیا والوں پر فضیلت دی تھی، اور اُس دن سے ڈرو، جب کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ اُس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ اُس سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ لوگوں کو کوئی مدد ہی ملے گی۔ 47-48

اور یاد کرو، جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے چھڑایا۔ وہ تمھیں برے عذاب چکھاتے تھے، تمھارے بیٹوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ذبح کر دیتے تھے اور تمھاری عورتیں جیتی رکھتے تھے اور (تمھیں) اِس (عذاب سے چھڑانے) میں تمھارے پروردگار کی طرف سے (تمھارے لیے) بڑی عنایت تھی۔49

وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ اِنَّکُمۡ ظَلَمۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ بِاتِّخَاذِکُمُ الۡعِجۡلَ فَتُوۡبُوۡۤا اِلٰی بَارِئِکُمۡ فَاقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ عِنۡدَ بَارِئِکُمۡ ؕ فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵۴﴾

وَ اِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ﴿۵۵﴾ ثُمَّ بَعَثۡنٰکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۵۶﴾ وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۵۷﴾

وَ اِذۡ قُلۡنَا ادۡخُلُوۡا ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃَ فَکُلُوۡا مِنۡہَا حَیۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدًا وَّ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغۡفِرۡ لَکُمۡ خَطٰیٰکُمۡ ؕ وَ سَنَزِیۡدُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۸﴾ فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمۡ فَاَنۡزَلۡنَا عَلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۵۹﴾

اور یاد کرو، جب ہم نے تمھیں ساتھ لے کر دریا کو چیر دیا اور اِس طرح تمھیں بچالیا اور فرعون کے لوگوں کو تمھارے دیکھتے دیکھتے ہم نے اُسی دریا میں غرق کر دیا۔50

اور یاد کرو، جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ ٹھیرایا۔ پھر اُس کے پیچھے تم نے وہ بچھڑا بنا لیا اور اُس وقت تم اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے تھے۔ پھر اِس کے بعد بھی ہم نے تمھیں معاف کر دیا ، اِس لیے کہ تم شکر کرنے والے بن جاؤ۔51-52

اور یادکرو، جب ہم نے موسیٰ کوکتاب، یعنی (حق وباطل کے لیے) فرقان عطا فرمائی، اِس لیے کہ (اِس کے ذریعے سے) تم ہدایت حاصل کرو۔ 53

اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: میری قوم کے لوگو، تم نے یہ بچھڑا بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے، اِس لیے اب اپنے خالق کی طرف لوٹو اور (اِس کے لیے) اپنے اِن لوگوں کو (اپنے ہاتھوں سے) قتل کرو۔ یہ تمھارے لیے تمھارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہتر ہے۔ (چنانچہ تم نے یہ کیا) تو اُس نے تمھاری توبہ قبول فرمائی۔ بے شک، وہی بڑا معاف کرنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔54

اور یاد کرو، جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ، ہم تمھاری بات کا ہر گز یقین نہ کریں گے، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں۔  اِس پر تم کو کڑک نے آ لیا اورتم دیکھتے رہ گئے۔ پھر تمھاری اِس موت کے بعد ہم نے تمھیں اٹھا کھڑا کیا، اِس لیے کہ تم شکرگزار بن کر رہو۔ اور تم پر بدلیوں کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارے، کھاؤ یہ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تمھیں دی ہیں۔ (افسوس کہ

وَ اِذِ اسۡتَسۡقٰی مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ فَقُلۡنَا اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ؕ فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَاعَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ اللّٰہِ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۰﴾

جن پر یہ عنایت ہوئی، اُنھوں نے اِس کی ناقدری کی) اور (اِس طرح) اُنھوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا، بلکہ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے۔ 55-57

اور یاد کرو، جب ہم نے کہا کہ اِس بستی میں داخل ہو جاؤ، پھر اِس میں سے جہاں سے چاہو، مزے سے کھاؤ اور (یاد ر کھو کہ) اِس کے دروازے میں (عجزکے ساتھ) سرجھکائے ہوئے داخل ہونا اور دعا کرنا کہ (پروردگار)، ہمارے گناہ بخش دے، ہم تمھارے گناہ بخش دیں گے اور (تم میں سے) وہ لوگ جو اچھا رویہ اختیار کریں گے، اُن پر عنقریب ہم اور بھی عنایت فرمائیں گے۔ پھر جو بات اُن سے کہی گئی تھی، ظالموں نے اُسے ایک دوسری بات سے بدل دیا۔ چنانچہ اِن ظلم کرنے والوں پر ہم نے آسمان سے عذاب اتارا، اُن نافرمانیوں کے باعث جو وہ کر رہے تھے۔ 58-59

اور یاد کرو، جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہا: اپنی لٹھیا اِس پتھر پرمارو۔ (اُس نے ماری) تو اُس سے بارہ چشمے بہ نکلے، اِس طرح کہ ہر گروہ نے اپنے لیے پانی لینے کی جگہ متعین کر لی۔ اللہ کی اِس روزی سے کھاؤ اور پیو، (اے بنی اسرائیل)، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔60

[باقی]