مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(5)

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ ۟ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ ذِی ‌الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا وَّ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ؕ ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۸۳﴾

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ لَا تَسۡفِکُوۡنَ دِمَآءَکُمۡ وَ لَا تُخۡرِجُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ ثُمَّ اَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَشۡہَدُوۡنَ ﴿۸۴﴾ ثُمَّ اَنۡتُمۡ ہٰۤـؤُلَآءِ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ وَ تُخۡرِجُوۡنَ فَرِیۡقًا مِّنۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِہِمۡ ۫ تَظٰہَرُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ؕ وَ اِنۡ یَّاۡتُوۡکُمۡ اُسٰرٰی تُفٰدُوۡہُمۡ وَ ہُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیۡکُمۡ اِخۡرَاجُہُمۡ ؕ اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَ تَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ یَّفۡعَلُ ذٰلِکَ مِنۡکُمۡ اِلَّا خِزۡیٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یُرَدُّوۡنَ اِلٰۤی اَشَدِّ الۡعَذَابِ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ﴿۸۵﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا بِالۡاٰخِرَۃِ ۫ فَلَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ﴿۸۶﴾

اور یاد کرو،جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اور والدین کے ساتھ اورقرابت مندوں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرو گے۔ اور عہد لیا کہ لوگوں سے اچھی بات کہو اور نماز کا اہتمام کرواور زکوٰۃ ادا کرو۔ پھر تم میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب (اُس سے) پھر گئے اور حقیقت یہ ہے کہ تم پھر جانے والے لوگ ہی ہو۔83

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَ قَفَّیۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ بِالرُّسُلِ ۫ وَ اٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ اَفَکُلَّمَا جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُکُمُ اسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ۚ فَفَرِیۡقًا کَذَّبۡتُمۡ ۫ وَ فَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴿۸۷﴾ وَ قَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفۡرِہِمۡ فَقَلِیۡلًا مَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾

وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ کِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ ۙ وَ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ یَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫ فَلَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۹﴾ بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بَغۡیًا اَنۡ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ۚ فَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۹۰﴾

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ اٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا وَ یَکۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَہٗ ٭ وَ ہُوَ الۡحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَہُمۡ ؕ قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡۢبِیَآءَ اللّٰہِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۱﴾ وَ لَقَدۡ جَآءَکُمۡ مُّوۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۹۲﴾

اور یاد کرو، جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں خون نہ بہاؤ گے اور اپنے لوگوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالو گے۔ پھر تم نے اقرار کیا اور تم اُس کے گواہ ہو۔ پھر یہ تمھی ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ہی ایک گروہ کو اُن کی بستیوں سے نکالتے ہو، اِس طرح کہ ظلم اور حق تلفی کے ساتھ اُن کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو، اور اگر وہ تمھارے پاس قیدی ہو کر آئیں تو فدیہ دے کر اُنھیں چھڑاتے ہو، دراں حالیکہ اُن کا نکالنا ہی سرے سے تمھارے لیے جائز نہ تھا۔ پھر کیا تم کتاب الہٰی کے ایک حصے کو مانتے اور ایک حصے کا انکار کرتے ہو؟ سو تم میں سے جو یہ کرتے ہیں، اُن کی سزا دنیا کی زندگی میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں اور قیامت کے دن وہ سخت سے سخت عذاب میں پہنچا دیے جائیں گے۔ (تم یہی کرتے ہو) اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے بے خبر نہیں ہے ـــــ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے آخرت دے کر دنیا کی زندگی خریدلی، اِس لیے اب نہ اِن سے عذاب ہی ہلکا ہو گا اور نہ کوئی مدد اِنھیں پہنچے گی۔84-86

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اُس کے پیچھے پے در پے اپنے پیغمبر بھیجے، اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کو (اِن سب کے بعد) کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اُس کی تائید کی (تو جانتے ہو کہ اُن کے ساتھ تمھارا رویہ کیا رہا)؟ پھر کیا یہی ہوگا کہ جب بھی (ہمارا) کوئی پیغمبر وہ باتیں لے کر تمھارے پاس آئے گا جو تمھاری خواہشوں کے خلاف ہوں گی، تو تم (اُس کے سامنے)

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اسۡمَعُوۡا ؕ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ عَصَیۡنَا وَ اُشۡرِبُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡعِجۡلَ بِکُفۡرِہِمۡ ؕ قُلۡ بِئۡسَمَا یَاۡمُرُکُمۡ بِہٖۤ اِیۡمَانُکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ﴿۹۳﴾

قُلۡ اِنۡ کَانَتۡ لَکُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۹۴﴾ وَ لَنۡ یَّتَمَنَّوۡہُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۹۵﴾

وَ لَتَجِدَنَّہُمۡ اَحۡرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ ۚ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚ یَوَدُّ اَحَدُہُمۡ لَوۡ یُعَمَّرُ اَلۡفَ سَنَۃٍ ۚ وَ مَا ہُوَ بِمُزَحۡزِحِہٖ مِنَ الۡعَذَابِ اَنۡ یُّعَمَّرَ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾

تکبر ہی کرو گے؟ پھر ایک گروہ کو جھٹلا دو گے اور ایک گروہ کو قتل کرو گے ــــــ۔ اور (یہ وہ لوگ ہیں کہ) اِنھوں نے کہا: ہمارے دلوں پر غلاف ہیں۔ نہیں، بلکہ اِن کے اِس کفر کی وجہ سے اللہ نے اِن پر لعنت کر دی ہے، اِس لیے (اب) یہ کم ہی مانیں گے۔87-88

اور (یہ وہ لوگ ہیں کہ) جب اللہ کی طرف سے ایک کتاب اِن کے پاس آئی، اُن پیشین گوئیوں کی تصدیق میں جو اِن کے ہاں موجود ہیں، اور اِس سے پہلے یہ (اُسی کے حوالے سے) اپنے دین کا انکار کرنے والوں کے خلاف فتح کی دعائیں مانگ رہے تھے، پھر جب وہ چیز اِن کے پاس آئی جسے خوب پہچانے ہوئے تھے تو یہ اُس کے منکر ہو گئے۔ سو اللہ کی لعنت ہے اِن منکروں پر۔ کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کے بدلے میں اِنھوں نے اپنے آپ کو بیچ دیا  کہ محض اِس بات کی ضدمیں کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنا فضل اتارے، یہ اُس چیز کا انکار کر دیں جو اللہ نے اتاری ہے۔ سو یہ غضب پر غضب کما لائے اور (دنیا اور آخرت میں) اِن منکروں کے لیے (اب) بڑی ذلت کا عذاب ہے۔ 89-90

اور (یہ وہ لوگ ہیں کہ) جب اِن سے اصرار کیا جاتا ہے کہ اُس چیز کو مان لو جو اللہ نے اتاری ہے تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اُسے ہی مانتے ہیں جو ہم پر اترا ہے اور اِس طرح جو کچھ اُس کے علاوہ ہے، اُس کا صاف انکار کر دیتے ہیں، دراں حالیکہ وہی حق ہے، اُن پیشین گوئیوں کے ٹھیک مطابق جو اِن کے ہاں موجود ہیں۔ اِن سے پوچھو، (وہ ہدایت جو تم پر اتری ہے )، اگرتم (اُس کے) ماننے والے ہو تو اِس سے پہلے پھر اللہ کے (اُن) نبیوں کوقتل کیوں کرتے رہے ہو (جوتمھاری طرف آئے)؟ اور حقیقت یہ ہے کہ موسیٰ تمھارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آیا، پھر اُس کے پیچھے تم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور اُس وقت تم بڑے ظلم کا ارتکاب کر رہے تھے۔91-92

قُلۡ مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِیۡلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلۡبِکَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۷﴾ مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ جِبۡرِیۡلَ وَ مِیۡکٰىلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۹۸﴾

اور یاد کرو، جب ہم نے تم سے عہد لیا اور (اِس کے لیے) طور کو تم پر اٹھا دیا اور حکم دیا کہ یہ جو کچھ ہم نے تمھیں دیا ہے، اِسے مضبوطی سے پکڑو، اور سنو (اور مانو) تو (تمھارے بزرگوں نے جو رویہ اُس کے ساتھ اختیار کیا، اُس نے بتا دیا کہ) اُنھوں نے (گویا اُس وقت یہی) کہا کہ ہم نے سنا اور نہیں مانا۔ اور اُن کے اِس کفر کے باعث وہ بچھڑااُن کے دلوں میں بسا دیا گیا۔اِن سے پوچھو، اگر تم ماننے والے ہو توکیا ہی بری ہیں یہ باتیں جو تمھارا یہ ایمان تمھیں سکھاتا ہے! 93

اِن سے کہو، اگر آخرت کاگھر اللہ کے نزدیک، سب لوگوں کو چھوڑ کر صرف تمھارے لیے خاص ہے تو مرنے کی تمنا کرو، اگر تم (اپنے اِس دعوے میں) سچے ہو۔ اور (تم دیکھو گے کہ) اپنے ہاتھوں کی جو کمائی یہ آگے بھیج چکے ہیں، اُس کی وجہ سے یہ کبھی اِس کی تمنا نہ کریں گے اورحقیقت یہ ہے کہ اللہ اِن ظالموں سے خوب واقف ہے۔ 94-95

اور اِنھیں تم سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤ گے، اور(حد یہ ہے کہ) اُن لوگوں سے بھی بڑھ کرجنھوں نے شرک کو اپنا مذہب بنایا ہے۔ اِن میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ کاش، وہ ہزار سال جیتا رہے، دراں حالیکہ اگر یہ عمر بھی اُس کو مل جائے تو (اِس سے) وہ اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے بچا نہ سکے گا۔ اور (اِس میں شبہ نہیں کہ) جو کچھ یہ کرتے ہیں، اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔96

(قرآن کی د شمنی میں اب یہ جبریل کے بھی دشمن ہو گئے ہیں)، اِن سے کہہ دو: جو لوگ جبریل کے د شمن ہیں، وہ درحقیقت اللہ کے دشمن ہیں، اِس لیے کہ اُس نے تو (اے پیغمبر)، اِسے اللہ کے اذن ہی سے تمھارے قلب پرنازل کیا ہے، اُن پیشین گوئیوں کی تصدیق میں جو اِس سے پہلے موجودہیں اور اُن لوگوں کے لیے ہدایت اور بشارت کے طور پر جو ایمان والے ہیں۔ (اِنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) جو اللہ اور اُس کے فرشتوں اور اُس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کے دشمن ہیں تو اللہ بھی ایسے کافروں کا دشمن ہے۔97-98

[باقی]

ترجمہ و تحقیق: جاوید احمد غامدی / محمد حسن الیاس

ــــــ 1 ــــــ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ کو دل میں بڑا سمجھےیا اپنی چال میں تکبر اختیار کرے،وہ اللہ سے اِس طرح ملے گا کہ اللہ اُس پر سخت غصے میں ہو گا۔ (مسند احمد، رقم 5830)

ــــــ 2 ــــــ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حیا جس چیز میں بھی ہو، اُس کو خوب صورت بناتی ہے،اور بے حیائی جس چیز میں بھی ہو، اُسے عیب لگا دیتی ہے۔ (الادب المفرد، بخاری، رقم 598)

ــــــ 3 ــــــ

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔ اِس پر بشیر بن کعب نے کہا: ہمارے ہاں حکمت کی کتاب میں لکھا ہے کہ حیا کی ایک قسم وقار اور ایک قسم سکینت ہے، اور اِسی کی ایک قسم طبیعت کی کم زوری بھی ہے۔ عمران نے اُنھیں ٹوکا اور کہا: میں تمھارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بیان کر رہا ہوں اور تم اُس کے مقابل میں مجھے اپنی کتاب کی باتیں سناتے ہو۔ (بخاری، رقم 5679)

مقامات