بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(6)
وَ لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۚ وَ مَا یَکۡفُرُ بِہَاۤ اِلَّا الۡفٰسِقُوۡنَ﴿۹۹﴾ اَوَ کُلَّمَا عٰہَدُوۡا عَہۡدًا نَّبَذَہٗ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ نَبَذَ فَرِیۡقٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ ٭ۙ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ کَاَنَّہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ﴿۱۰۱﴾۫ وَ اتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّیٰطِیۡنُ عَلٰی مُلۡکِ سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ مَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَ لٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ ٭ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ عَلَی الۡمَلَکَیۡنِ بِبَابِلَ ہَارُوۡتَ وَ مَارُوۡتَ ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَۃٌ فَلَا تَکۡفُرۡ ؕ
اور (اِس قرآن کی صورت میں، اے پیغمبر)، ہم نے تمھاری طرف نہایت واضح دلیلیں اتاردی ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اُنھیں صرف اِس طرح کے نافرمان ہی نہیں مانتے۔ کیا یہی ہوتا رہے گا کہ یہ جب کوئی عہد باندھیں گے، اِن میں سے ایک گروہ اُسے اٹھا کر پھینک دے گا؟ بلکہ (حق یہ ہے کہ) اِن میں سے اکثر تو ایمان ہی نہیں رکھتے۔99-100
اور (اب بھی یہی ہوا ہے کہ) جب اللہ کی طرف سے ایک پیغمبر اُن پیشین گوئیوں کے مطابق اِن کے پا س آ گیا ہے جو اِن کے ہاں موجود ہیں تو یہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی، اِن میں سے ایک گروہ
فَیَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡہُمَا مَا یُفَرِّقُوۡنَ بِہٖ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ زَوۡجِہٖ ؕ وَ مَا ہُمۡ بِضَآرِّیۡنَ بِہٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ یَتَعَلَّمُوۡنَ مَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ ؕ وَ لَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰىہُ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ۟ؕ وَ لَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾
لَوۡ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَمَثُوۡبَۃٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ خَیۡرٌ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَ اسۡمَعُوۡا ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ﴿۱۰۴﴾ مَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ لَا الۡمُشۡرِکِیۡنَ اَنۡ یُّنَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۱۰۵﴾
مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۰۶﴾ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۰۷﴾
نے اللہ کی اِس کتاب کو اِس طرح اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا، گویا وہ اِسے جانتے ہی نہیں۔ اور (پیغمبر کو ضرر پہنچانے کے لیے) اُس چیز کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کی بادشاہی کے نام پر شیاطین پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ (یہ اُسے سلیمان کی طرف منسوب کرتے ہیں)، دراں حالیکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا، بلکہ اِسی طرح کے شیطانوں نے کفر کیا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور اُس چیز کے پیچھے لگ گئے جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت و ماروت پر اتاری گئی تھی، دراں حالیکہ وہ دونوں اُس وقت تک کسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے، جب تک اُسے بتا نہ دیتے کہ ہم تو صرف ایک آزمایش ہیں، اِس لیے تم اِس کفر میں نہ پڑو۔ پھر بھی یہ اُن سے وہ علم سیکھتے تھے جس سے میاں اور بیوی میں جدائی ڈال دیں، او ر حقیقت یہ تھی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر یہ اُس سے کسی کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکتے تھے۔(یہ اِس بات سے واقف تھے) اورـ اِس کے باوجود وہ چیزیں سیکھتے تھے جو اِنھیں کوئی نفع نہیں دیتی تھیں، بلکہ نقصان پہنچاتی تھیں، دراں حالیکہ یہ جانتے تھے کہ جو اِن چیزوں کا خریدار ہے، اُس کے لیے پھر آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کے بدلے میں اِنھوں نے اپنی جانیں بیچ دیں۔ اے کاش، یہ جانتے۔101-102
اور اگر یہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں جو صلہ اِنھیں ملتا، وہ (اِن کے لیے) کہیں بہتر تھا۔ اے کاش، یہ سمجھتے ۔103
اَمۡ تُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَسۡـَٔلُوۡا رَسُوۡلَکُمۡ کَمَا سُئِلَ مُوۡسٰی مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَبَدَّلِ الۡکُفۡرَ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ ﴿۱۰۸﴾
وَدَّ کَثِیۡرٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یَرُدُّوۡنَکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِکُمۡ کُفَّارًا ۚۖ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الۡحَقُّ ۚ فَاعۡفُوۡا وَ اصۡفَحُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۰۹﴾ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ تَجِدُوۡہُ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۱۰﴾
(اِن کے فتنوں سے بچنے کے لیے)، ایمان والو، (تم بارگاہِ رسالت میں بیٹھو تو) ’رَاعِنَا‘ نہ کہا کرو، ’اُنْظُرْنَا‘ کہا کرو اور جو کچھ کہا جائے، اُسے توجہ سے سنو، اور اِس بات کو یاد ر کھو کہ اِن کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ اہل کتاب ہوں یا مشرکین، اِن میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے، وہ نہیں چاہتے کہ تمھارے پروردگار کی طرف سے کوئی خیر تم پر نازل کیا جائے۔ (یہ احمق نہیں جانتے کہ) اللہ جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے لیے خاص کر لیتا ہے، اور (نہیں جانتے کہ) اللہ بڑی عنایت فرمانے والا ہے۔104-105
(اِنھیں اعتراض ہے کہ تورات کی شریعت میں ہم کوئی تبدیلی کیوں کرتے ہیں؟ اِنھیں بتادو کہ) ہم (اِس کتاب کی) جو آیت بھی منسوخ کرتے ہیں یا اُسے بھلا دیتے ہیں، (قرآن میں) اُس کی جگہ اُس سے بہتر یا اُس جیسی کوئی دوسری لے آتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے، (لوگو) کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ زمین اور آسمانوں کی پادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے؟ (وہ جس کو چاہے گا، اپنی شریعت کا حامل بنائے گا)، اور (تم اگر اُس کا یہ فیصلہ نہیں مانتے تو) اللہ کے سوا تمھارے لیے (اِس دنیا میں پھر) کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد کرنے والا۔106-107
(اِن کی پیروی میں ، ایمان والو)، کیا تم بھی اپنے رسول سے اُسی طرح کی باتیں پوچھنا چاہتے ہو، جس طرح کی باتیں اِس سے پہلے موسیٰ سے پوچھی گئی تھیں؟ (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایمان کا طریقہ نہیں ہے) اور (معلوم ہونا چاہیے کہ) جس نے ایمان کے بدلے میں کفر کو لے لیا، وہ پھر سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔ 108
بہت سے اہل کتاب محض اپنے جی کے حسد کی وجہ سے یہ چاہتے ہیں کہ تمھارے ایمان لانے کے بعد وہ پھرتمھیں کفر کی طرف پلٹا دیں، اِس کے باوجود کہ حق اُن پر اچھی طرح واضح ہو چکا ہے۔ سو اُن سے درگذر کرو اور نظر انداز کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر کر دے۔ بے شک، اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اور (اُن کے فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے) نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو، اور (یاد رکھو کہ) جو نیکی بھی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اُسے تم اللہ کے ہاں پا لو گے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔109-110