مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(7)

وَ قَالُوۡا لَنۡ یَّدۡخُلَ الۡجَنَّۃَ اِلَّا مَنۡ کَانَ ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی ؕ تِلۡکَ اَمَانِیُّہُمۡ ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۱﴾ بَلٰی ٭ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾ وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ لَیۡسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیۡءٍ ۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰی لَیۡسَتِ الۡیَہُوۡدُ عَلٰی شَیۡءٍ ۙ وَّ ہُمۡ یَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ مِثۡلَ قَوۡلِہِمۡ ۚ فَاللّٰہُ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾

یہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہو سکے گا، جب تک وہ یہودی یا نصرانی نہ ہو۔یہ اِنھوں نے محض آرزوئیں باندھ لی ہیں۔ اِن سے کہو، تم سچے ہو تو (اِس کے لیے) اپنی کوئی دلیل پیش کرو۔ (اِن کی اِس بات میں کوئی حقیقت نہیں)۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ اپنی ہستی جن لوگوں نے اللہ کے سپرد کر دی، اور وہ اچھی طرح سے عمل کرنے والے ہیں، اُن کے لیے اُن کا اجر اُن کے پروردگار کے ہاں محفوظ ہے، اور اُن کے لیے نہ وہاں کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں گے۔ (اپنے گروہ سے باہر یہ کسی حق کو نہیں مانتے، لہٰذا) یہودی کہتے ہیں کہ نصاریٰ کی کوئی بنیادنہیں اورنصاریٰ کہتے ہیں کہ یہودیوں کی کوئی بنیادنہیں، دراں حالیکہ دونوں کتاب الہٰی کی تلاوت

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنۡ یُّذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗ وَ سَعٰی فِیۡ خَرَابِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ مَا کَانَ لَہُمۡ اَنۡ یَّدۡخُلُوۡہَاۤ اِلَّا خَآئِفِیۡنَ ۬ؕ لَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ وَّ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾  وَ لِلّٰہِ الۡمَشۡرِقُ وَ الۡمَغۡرِبُ ٭ فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجۡہُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ۙ سُبۡحٰنَہٗ ؕ بَلۡ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوۡنَ﴿۱۱۶﴾  بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۱۱۷﴾

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ لَوۡ لَا یُکَلِّمُنَا اللّٰہُ اَوۡ تَاۡتِیۡنَاۤ اٰیَۃٌ ؕ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّثۡلَ قَوۡلِہِمۡ ؕ تَشَابَہَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ قَدۡ بَیَّنَّا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ بِالۡحَقِّ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ۙ وَّ لَا تُسۡئَلُ عَنۡ اَصۡحٰبِ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۱۹﴾

کرتے ہیں۔ اِسی طرح بالکل اِنھی کی سی بات اُن لوگوں نے بھی کہی جو (خدا کی کتاب کا) کوئی علم نہیں رکھتے۔ چنانچہ اب اللہ اِن کے درمیان قیامت کے دن ہی اِس معاملے کا فیصلہ کرے گا جس میں یہ جھگڑ رہے ہیں۔ 111-113

(اپنے اِنھی اختلافات کی وجہ سے یہ ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کو ویران کرتے رہے ہیں)۔ اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ کے معبدوں میں اِس بات سے منع کرے کہ وہاں اُس کا نام لیا جائے اور اُن کی ویرانی کے درپے ہو۔ اِن کے لیے اِس کے سوا کچھ زیبا نہ تھا کہ اِن (معبدوں) میں جائیں تو اللہ سے ڈرتے ہوئے جائیں۔  (لیکن اِنھوں نے سرکشی اختیار کی تو اب) اِن کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور قیامت میں بھی ایک بڑا عذاب اِن کا منتظر ہے۔ (یہ اِس لیے ہوا کہ اِن میں سے کسی نے مشرق کو قبلہ ٹھیرایا اور کسی نے مغرب کو)، اور حق یہ ہے کہ مشرق و مغرب، سب اللہ ہی کے لیے ہیں۔ لہٰذا (اللہ کے حکم پر) تم جدھر رخ کرو گے، وہیں اللہ کا رخ ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ بڑی گنجایش والا ہے، وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ 114-115

(پھر یہی نہیں، اپنی نجات کے یہ مدعی اِس قدر پستی میں گر چکے ہیں کہ) اِنھوں نے کہا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ (لاریب)،وہ پاک ہے اِن باتوں سے ، بلکہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اُسی کا ہے، سب اُس کا حکم مانتے ہیں۔ زمین اور آسمانوں کو وہی عدم سے وجود میں لانے والا ہے اور جب کسی بات کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کے لیے اِتنا ہی کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔ 116-117

اور اِسی طرح اُن لوگوں نے بھی کہا ہے جو (کتاب الہٰی کا) علم نہیں رکھتے کہ اللہ ہم سے (براہ راست)

وَ لَنۡ تَرۡضٰی عَنۡکَ الۡیَہُوۡدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ الَّذِیۡ جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۲۰﴾ؔ

اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَتۡلُوۡنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۲۱﴾

کیوں ہم کلام نہیں ہوتا یا ہمارے پاس کوئی واضح نشانی کیوں نہیں آتی؟ بالکل اِسی طرح جو اِن سے پہلے گزرے ہیں، اُنھوں نے بھی اِنھی کی سی بات کہی تھی۔ اِن سب کے دل ایک سے ہیں۔ ہم نے اپنی نشانیاں اُن لوگوں کے لیے جو یقین کرنا چاہیں، ہر لحاظ سے واضح کر دی ہیں، (لہٰذا تمھاری کوئی ذمہ داری نہیں کہ اِن کی خواہش کے مطابق اِنھیں معجزے اور نشانیاں دکھا ؤ)۔ ہم نے تمھیں حق کے ساتھ بھیجا ہے، (اے پیغمبر)، بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر، اور تم سے اِن دوزخ والوں کے بارے میں ہرگز کوئی پرسش نہ ہو گی۔ 118-119

یہ یہود و نصاریٰ تم سے ہر گز راضی نہ ہوں گے، جب تک اِن کا مذہب اختیار نہ کر لو۔ (لہٰذا) کہہ دو کہ اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے، اور (جان لو کہ) اگر تم اُس علم کے بعد جو تمھارے پاس آ چکا ہے، اِن کی خواہشوں پرچلے تو اللہ کے مقابلے میں تمھارا کوئی دوست اور کوئی مدد گار نہ ہو گا۔ 120

(تمھیں مطمئن رہنا چاہیے کہ) وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب عطا فرمائی اوراُن کا معاملہ یہ رہا کہ وہ اُس کی تلاوت کا حق ادا کرتے رہے، وہی اِس (ہدایت) پر ایمان لائیں گے اور جو اِس کے منکر ہوں گے تو وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔ 121

[باقی]