بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(8)
یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۲۲﴾ وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَّ لَا تَنۡفَعُہَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾
وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ قَالَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾
اے بنی اسرائیل، میری اُس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی تھی اور اِس بات کو کہ میں نے تمھیں دنیا والوں پر فضیلت دی تھی۔ اور اُس دن سے ڈرو، جب کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ اُس سے کوئی بدلہ قبول کیا جائے گا، نہ اُسے کوئی سفارش نفع دے گی اور نہ لوگوں کو کوئی مدد ہی ملے گی۔122-123
اور یاد کرو، جب ابراہیم کو اُس کے پروردگار نے چند باتوں میں آزمایا تو اُس نے وہ پوری کر دیں، فرمایا: میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمھیں لوگوں کا امام بناؤں گا۔ عرض کیا: اور میری اولاد میں سے؟ فرمایا: میرا یہ عہد اُن میں سے ظالموں کو شامل نہیں ہے۔124
وَ اِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَیۡتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمۡنًا ؕ وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی ؕ وَ عَہِدۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ اَنۡ طَہِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡعٰکِفِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ ﴿۱۲۵﴾
وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارۡزُقۡ اَہۡلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡہُمۡ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ قَالَ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّہٗۤ اِلٰی عَذَابِ النَّارِ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۲۶﴾
وَ اِذۡ یَرۡفَعُ اِبۡرٰہٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَیۡتِ وَ اِسۡمٰعِیۡلُ ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۲۷﴾
رَبَّنَا وَ اجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَیۡنِ لَکَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّۃً مُّسۡلِمَۃً لَّکَ ۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَ تُبۡ عَلَیۡنَا ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۲۸﴾ رَبَّنَا وَ ابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۲۹﴾
اور یاد کرو، جب ہم نے (سرزمین عرب میں) اِس بیت الحرام کو لوگوں کا مرجع اور اُن کے لیے پناہ کی جگہ قرار دیا اورحکم دیا کہ ابراہیم کی اِس قیام گاہ میں نماز کی ایک جگہ بناؤ اور ابراہیم و اسمٰعیل کو اِس بات کا پابند کیا کہ میرے اِس گھر کو اُن لوگوں کے لیے پاک رکھو جو (اِس میں) طواف کرنے، اعتکاف کرنے اور رکوع و سجدہ کرنے کے لیے آئیں۔ 125
اور یاد کرو، جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اِس کے لوگوں میں سے جو اللہ اور قیامت کو ماننے والے ہوں، اُنھیں پیداوار کی روزی عطا فرما۔ (اللہ نے) فرمایا: اور جو منکر ہیں، (اِن چیزوں سے) چند روز کے لیے فائدہ اٹھانے کی مہلت تو میں اُنھیں بھی دوں گا، پھر اُن کو دوزخ کے عذاب میں پکڑ بلاؤں گا اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ 126
اور یاد کرو، جب ابراہیم اور اسمٰعیل (میرے) اِس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔ (اُس وقت اُن کے لبوں پر التجا تھی کہ) پروردگار، تو ہماری طرف سے یہ دعا قبول فرما۔ اِس میں شبہ نہیں کہ تو ہی سننے والا ہے، جاننے والا ہے۔ 127
پروردگار، اور ہم دونوں کو تو اپنا فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد سے بھی اپنی ایک فرماں بردار امت اٹھا اور ہم کو ہماری عبادت کے طریقے بتا اور ہم پرعنایت کی نظر فرما۔ اِس میں شبہ نہیں کہ تو ہی بڑاعنایت کرنے والا (اور اپنے بندوں پر )رحم فرمانے والا ہے۔ پروردگار، اور اُنھی میں سے تو اُن کے اندر ایک رسول اٹھا جو تیری آیتیں اُنھیں سنائے اور اُنھیں قانون اور حکمت سکھائے اور اِس طرح اُنھیں پاکیزہ بنائے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ تو ہی بڑا زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ 128-129
وَ مَنۡ یَّرۡغَبُ عَنۡ مِّلَّۃِ اِبۡرٰہٖمَ اِلَّا مَنۡ سَفِہَ نَفۡسَہٗ ؕ وَ لَقَدِ اصۡطَفَیۡنٰہُ فِی الدُّنۡیَا ۚ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۳۰﴾ اِذۡ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗۤ اَسۡلِمۡ ۙ قَالَ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۳۱﴾
وَ وَصّٰی بِہَاۤ اِبۡرٰہٖمُ بَنِیۡہِ وَ یَعۡقُوۡبُ ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰی لَکُمُ الدِّیۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾ؕ
اَمۡ کُنۡتُمۡ شُہَدَآءَ اِذۡ حَضَرَ یَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ ۙ اِذۡ قَالَ لِبَنِیۡہِ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِیۡ ؕ قَالُوۡا نَعۡبُدُ اِلٰہَکَ وَ اِلٰـہَ اٰبَآئِکَ اِبۡرٰہٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ وَّ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۳۳﴾
تِلۡکَ اُمَّۃٌ قَدۡ خَلَتۡ ۚ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ لَکُمۡ مَّا کَسَبۡتُمۡ ۚ وَ لَا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۳۴﴾
اور ابراہیم کے دین سے کون ہے جو انحراف کرے؟ ہاں، وہی جو اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کر لے۔ ہم نے اُس کو دنیا میں بھی اپنے لیے خاص کیاتھا، اور قیامت میں بھی وہ صالحین میں سے ہو گا۔ (وہی ابراہیم کہ) جب اُس کے پروردگار نے اُسے حکم دیا کہ اپنے آپ کو حوالے کر دو، اُس نے فوراً کہا: میں نے اپنے آپ کو پروردگار عالم کے حوالے کر دیا۔130-131
اور اِسی دین کی نصیحت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو کی تھی اور اِسی کی نصیحت یعقوب نے کی تھی۔ (اُس نے کہا تھا کہ) میرے بچو، اللہ نے یہی دین تمھارے لیے منتخب فرمایا ہے، اِس لیے اب موت کے وقت تک تمھیں ہر حال میں مسلمان ہی رہنا ہے۔ 132
پھر کیاتم لوگ اُس وقت موجود تھے، جب یعقوب اِس دنیا سے رخصت ہو رہاتھا، اُس وقت جب اُس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا: تم میرے بعد کس کی پرستش کرو گے؟ اُنھوں نے جواب دیا: ہم اُسی ایک معبود کی پرستش کریں گے جو تیرا معبود ہے اور تیرے باپ دادوں ـــــــ ابراہیم، اسمٰعیل اور اسحق ــــــ کا معبود ہے اور ہم اُسی کے فرماں بردار ہیں۔133
یہ ایک گروہ تھا جو گزر گیا، اُن کاہے جو اُنھوں نے کیا اور تمھارا ہے جو تم نے کیا، تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔134