مواد پر جائیں

الطاف احمد اعظمی ــــ ’فغان نیم شب‘ کے آئینے میں!

محمد مرسلین اصلاحی اردو

’’ فغان نیم شب‘‘ پروفیسر الطاف احمد اعظمی کا پہلا شعری مجموعۂ کلام ہے ۔ یوں تو الطاف احمد اعظمی صاحب حلقۂ ارباب علم و دانش میں ناشناسا نہیں ہیں ۔ شعر وادب ہو یا علم و تحقیق ہر میدان میں آپ کی صلاحیت، صلابت، علمیت اور عقلیت آپ کی قابلیت پر دال ہے ۔ شعر و سخن کے حوالے سے ایک تاثر ابھرا سو قلم بند کردیا۔ تاکہ کلام کے آئینے میں آپ کی ادبی شخصیت اور کلام کے نمایاں خد و خال رو کش ہو سکیں۔ کیونکہ شاعر کا کلام اس کے تجربات کی آماج گاہ ہوتا ہے۔ اور اس کے فن کے دائرے میں اس کی شخصیت کا مرتبہ طے کیا جا سکتا ہے۔ فنون لطیفہ میں شعر و شاعری کا مزاج خوش ذوقی کی علامت ہے جہاں زندگی کے تجربوں کی آنچ پر خیال کو دبازت دی جاتی ہے ۔ بقول خلیل الرحمٰن اعظمی :

’’ فکشن ہو یا شاعری فن کار کی اصل تصویر کشی اس کے فن کے دائرے میں طے کی جاتی ہے۔ فنون لطیفہ میں شعر و شاعری کا مزاج خوش ذوقی کی علامت ہے۔ ‘‘

الطاف احمد اعظمی صاحب نے اپنے شعری پیکر میں حیات کا المیہ بیان کیا ہے اور قاری کے ذہن کو زندگی کے حقائق کی طرف معکوس کیا ہے ۔ معاً حرماں نصیبی، غم انگیزی اور یاس کے اندھیروں میں حوصلہ مندی، جرأت و جسارت اور آرزو مندی کی روشنیاں بانٹتے ہیں، آپ کے کلام میں شائستگی ، برجستگی، رعنائی اور شگفتگی کی عمدہ مثالیں ملتی ہے۔ لیکن آپ کا اصل میدان علم و تحقیق ہے، گو کہ آپ نے شعریات مشرق کا بغور مطالعہ کیا، لیکن اس کو کبھی اپنی اصل توجہ کا مرکز نہیں بنایا، کیونکہ آپ کا اصل مقصد علوم اسلامیہ کی ترویج و اشاعت ہے، الطاف احمد اعظمی صاحب گلستان شبلی و فراہی کے گل سر سبد ہیں اور خوشہ چیں بھی ! شعر و ادب میں کمال نے نوازی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور شعری معاملات میں کامیابی کے ساتھ عہدہ برا ہوتے ہیں جو آپ کے مطالعہ اور ادبی و شعری شعور کا بین ثبوت ہے۔

نام الطاف احمد ، 1942ء سنہ ولادت ہے، ضلع اعظم گڑھ کے موضع بھاٹن پارا سے تعلق رکھتے ہیں۔ مدرسۃ الاصلاح سے تعلیم پائی لیکن فارغ التحصیل نہ ہوسکے۔ اس کے باوجود آپ کے اندر بلا کی شعری و تخلیقی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ انھوں نے قرآنیات، اسلامیات، ادب، طب اور اقبالیات میں گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ اردو اکادمی دہلی کے نائب صدر بھی رہے۔ علامہ اقبال کے فکر وفلسفہ پر ان کی تحریریں ’’خطبات اقبال ایک مطالعہ‘‘، ’’اقبال کے بنیادی افکار‘‘، ’’اقبال اور وحدت الوجود‘‘ اور ’’اقبال کا تصور اجتہاد کو‘‘ اقبالیات کے ذخیرہ میں گراں قدر اضافہ قرار دی گئی ہیں اور متعدد ماہر اقبالیات نے ان کتابوں کی عظمت وانفرادیت کا اعتراف کیا ہے۔ ’’قرآنی مقالات چند اہم مباحث‘‘ کے عنوان سے ان کے مقالات کا ایک اہم مجموعہ شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ’’توحید کا قرآنی تصور‘‘، ’’ایمان وعمل کا قرآنی تصور‘‘، ’’تجلیات حق‘‘، ’’انوارِ قرآن‘‘ (مجموعہ مقالات)، ’’قرآن مجید کے امتیازی تصورات‘‘، ’’قرآن کے کلام الہٰی ہونے کے شواہد‘‘، ’’مولانا فراہی کے بنیادی افکار‘‘ اور ’’فی ملکوت اللہ‘‘(اردو ترجمہ) وغیرہ قرآنیات پر ان کی اہم نگارشات ہیں۔ ’’میزان القرآن‘‘ کے نام سے تین جلدو ں پر مشتمل تفسیر بھی ہے۔ بہت پہلے ’’سورۂ فاتحہ ایک تحقیقی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے انھوں نے تفسیر کا آغاز کیا تھا جس کی علمی حلقوں میں خوب پذیرائی ہوئی، پھر پچیس سال کے بعد انھوں نے یہ تفسیر لکھی۔ ان کے احساسات و تاثرات کو ان کے مجموعۂ کلام ’’فغانِ نیم شب‘‘، ’’ چراغِ شب گزیدہ‘‘ اور ’’زنجیر غزل‘‘ میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔

خاک وطن اعظم گڑھ کے علمی و ادبی افق پر نیر تاباں بن کر ابھرے اور دبستان شبلی کی اس شعری روایت کو برقرار رکھا جس کے سرخیل علامہ شبلی نعمانی ہیں ۔

آپ کا شعری مجموعۂ کلام ’’فغان نیم شب‘‘ آپ کی زندگی کے تلخ تجربات کا افشردہ ہے ۔ کتاب کے مطالعہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس میں شاعری غالب ہے یا شاعر ۔آغاز حمد و نعت سے ہوا ہے، نظم و غزل کی اعلیٰ قدریں نظر آتی ہیں، کلام میں کلاسیکیت اور اعتباریت ملتی ہے۔ اکثر نظمیں حادثاتی اور تاثراتی ہیں، اور سب سے بڑھ کر مقصدیت عیاں اور منزل متعین ہے۔ الطاف احمد اعظمی صاحب کو سخن و شعر کا اعلیٰ شعور عطا ہوا ہے۔ غیرت مندی آپ کی ذات و حیات کا لازمہ ہے، آپ اپنی شاعری میں جابجا نوجوانوں کو دعوت فکر و عمل دیتے ہیں اور حالات کی نامساعدت سے ملول نہیں ہوتے۔ وہ خود اپنا چراغ روشن کرتے ہیں ۔ شعر ملاحظہ فرمائیں :

چراغِ غیر سے دریوزۂ ضیا کب تک

کہیں تو ہم بھی فروزاں کوئی چراغ کریں

آپ کی شاعری میں زبان و بیان کے اعلیٰ نمونے اور شعری خصوصیتیں ملتی ہیں۔ الطاف صاحب ہمہ آن نئے زاویوں کو جنم دیتے ہیں۔کسی تقلید و اتباع کے قائل نہیں ہیں، بلکہ شعری معاملات میں اجتہادی شان رکھتے ہیں، لیکن روایات سے برگشتہ نہیں ہوتے۔

موصوف نے اس عہد میں آنکھیں کھولیں جس عہد میں ایک طرف آزادی کے کھو دینے کا غم تھا تو دوسری طرف آزادی کے حصول کی تحریکیں سرگرم عمل تھیں جہاں انگریزی استعمار کے خلاف طلب گاران حریت اپنے دامن کی دھجیوں کا پھریرا بنا کر زندہ باد کے نعروں سے سرشار تحریک آزادی کو نئی تب و تاب بخش رہے تھے ۔ احتجاج اور ہنگاموں کا دور تھا، الطاف صاحب کے اندر بھی وہی ولولہ و جذبہ پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی اکثر نظمیں اسی تاثر کی زائیدہ ہیں، وہ جہاں حریت آدم کے قائل ہیں، وہیں معاشرتی شکست و ریخت، سماجی انتشار، خود غرضی، بے مروتی، انا پرستی، ریا کاری، ہوس زر جو انسانوں کے اندر رچ بس گئی ہے، اس ناہمواری اور کشاکش سے آزردہ ہیں، ان کے شعروں میں جابجا صداے اجتجاج ملتی ہے، کیونکہ وہ تقدیس آدم، انسانی ہم دردی، یکسانیت، امن و سلامتی اور صالح روایات کے پاس دار ہیں۔ شاعری میں کسی جماعتی منافرت اور گروہی عصبیت کے خلاف رہے، بلکہ ان کا مسلک شاعری یہ ہے کہ ایک شاعر معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اور یہ اس کے فرائض میں شامل ہے، یہی وجہ کہ ان کے اشعار ہر طرح کے خارجی و داخلی عوامل سے پاک صالح روایات کی آب یاری اور خالص ادبی مفاہیم کی ترویج کرتے ہیں، تصنع و تکلف سے کوسوں دور خود اپنی ذات کو اوروں کے لیے وقف کر دینے کا جذبہ ہمہ آن موجود ہے۔ چند در چند ان کے یہی خیالات ان کی شعری عظمت کا پتہ دیتے ہیں، لیکن وہ معاشرے کی گرتی ہوئی قدروں سے آزردہ ہیں ۔ کہتے ہیں :

وہ دن گئے کہ جلتا تھا مثل شمع بزم

اب تو چراغِ رہ گزرِ عام ہو گیا

الطاف احمد اعظمی کے فن کا کمال یہ ہے کہ بلا جھجھک وہ اپنے محسوسات کو الفاظ کا ریشمی پیکر عطا کرتے ہیں۔ نہ ستایش کی تمنا نہ صلے کی پروا۔ شگفتہ انداز، معیاری زبان، آزادانہ خیال۔ ادب کے تقاضوں سے ہم آہنگ، الفاظ کا بر محل استعمال، زبان پر مضبوط گرفت، خطیبانہ اسلوب، حقیقت پسندانہ رجحان، برجستہ تراکیب و محاورے، لسانی ساخت و توازن، سلاست و روانی کلام کے خصائص ہیں۔ جو کچھ محسوس کیا شعر میں ڈھل گیا اور جو کچھ مشاہدے میں آیا سپرد قلم کیا ۔ آپ کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ گہرا ہے، بالکل ’’ آنکھیں میری باقی ان کا‘‘ کے مصداق۔

کچھ اپنے ناتمام فسانوں کے واسطے

سنتا ہوں دوسروں سے محبت کے واقعات

’’فغان نیم شب‘‘ آپ کے جذبات و احساسات کا آئینہ دار ہی نہیں، بلکہ ایک کرب، ایک آہٹ، ایک فغاں ہے جو سنی جا سکتی ہے، ایک احساس ہے جسے محسوس کیا جا سکتا ہے اور اس احساس میں سچائی، خلوص ، مروت، ہم دردی اور انسانی جذبات کی نمود پائی جاتی ہے۔ اشعار ملاحظہ فرمائیں :

اپنے احساس کے شعلوں میں جلا جاتا ہوں

صورت شمع جلا جاتا اور گھلا جاتا ہوں

بن گیا میرا یہ احساس مری جاں کا عذاب

آج حیراں ہے مری گوشہ نشینی پہ جہاں

کیسے دکھلاؤں اسے سینۂ پر خوں اپنا

کیسے بتلاؤں کہ خوابوں کا فسوں ٹوٹ گیا

یاس کی کہر میں گم ہے دل محزوں اپنا

پھر وہی چاند، وہی میں، وہی تنہائی

پھر وہی درد، وہی تلقین شکیبائی

اور یہی سچائی ان کے ایقان و ایمان کی ترجمانی کرتی ہے ۔ کہتے ہیں :

غم حیات کا درماں نہ کر تلاش کہیں

علاج درد جگر، لا الٰہ الا اللہ

ان کی یہ سوچ اور فکری جہت کیا ہے؟ اس کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ وہ کسی محدود دائرے میں سمٹ کر رہ جانے والے نہیں ہیں، بلکہ ہر دن ایک نئے جہاں کی تلاش اور ایک نئی دنیا بسانے کا یارا رکھتے ہیں ۔ شعر دیکھیں :

آہستہ اے نسیم سحر ! کچھ خبر بھی ہے

بیٹھا ہے دل سجا کے جہان تصورات

دیدنی ہے یہ جمال گل و لالہ لیکن!

مرے ہی خون جگر کا یہ تماشا تو نہیں

اور پھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہر قدم سرگشتہ و حیراں نظر آتے ہیں، جیسا کہ یہ اشعار:

ہر طرف پھیلے ہوئے یاس کے دھندلکے

ہر طرف اٹھتی ہیں مغموم نگاہیں میری

ڈھونڈتا پھرتا ہوں افکار کے صحراؤں میں

جانے کس وادی میں روپوش ہیں راہیں میری

الطاف اعظمی صاحب نے غم جاناں اور غم دوراں، دونوں سے آنکھیں چار کی ہیں۔ لیکن جہاں وہ اپنے حقیقی محبوب کا ذکر کرتے ہیں وہاں ان کی نوا اور بھی لطیف اور دل پذیر ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی نظموں کے عناوین سحر انگیز ہوتے ہیں۔ اور علامہ اقبال کی نظموں کے عناوین سے مماثلت رکھتے ہیں، مثلاً ’’عرفان غم‘‘ ، ’’یاد ماضی‘‘ ، ’’فغان درد ‘‘، ’’تلاش آگہی‘‘، ’’اسرار عشق‘‘، ’’صبح یقیں‘‘ وغیرہ ۔ آپ نے اقبال شناسی کے حوالے سے کئی اہم کتابیں بھی تصنیف کی ہیں اور ادق موضوعات پر مضامین قلم بند کیے، آپ کے شعروں میں جا بجا ایسی تراکیب ملتی ہیں جو آپ کی زبان کا حصہ ہیں، مثلاً ’’تیرگیِ شب‘‘، ’’سوزمئے الفت‘‘، ’’مطرب شعلہ بداماں‘‘ وغیرہ۔ آپ کے کلام کا ایک خاص وصف سادگی اور شگفتگی بھی ہے، وہ اپنی شاعری اور اسلوب کے ذریعے سے قاری کے وجدان کو گرفت میں لیتے ہیں۔ اور دل گداختہ تاثر پیدا کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی اس کتاب کا انتساب جس ہستی کے نام کیا ہے وہ آپ کی والدہ مغفورہ ہیں۔ محض چار مصرعے ہیں، لیکن اس قدر پر سوز، رقت آمیز اور غم انگیز ہیں کہ بے ساختہ آنکھوں سے آنسو چھلک اٹھیں۔ ملاحظہ فرمائیں :

ہزار کروٹیں لیل و نہار نے بدلیں

کسی طرح نہ گئی دل کی بے کلی میری

غم حیات کا درماں نہ ہو سکا اب تک

ترے فراق میں روتی ہے زندگی میری

الطاف صاحب نے آزاد نظمیں بھی کہیں، لیکن اس باب میں آپ کا موقف یہ ہے کہ :

’’ میں نظموں میں قوافی کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتا، لیکن اس کے ساتھ میرا یہ بھی خیال ہے کہ اگر قوافی اظہار خیال میں حارج نہ ہوں تو پابند نظموں کو آزاد نظموں پر برتری حاصل ہے۔‘‘(فغان نیم شب 15)

مزید آگے لکھتے ہیں :

’’حقیقت یہ ہے کہ اردو کا مخصوص شعری مزاج آزاد شعری نظم کو بالکل قبول نہیں کرتا۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ نثری نظم تو کجا آزاد نظم لکھنے کا حق بھی انھی شعرا کو حاصل ہے جو پابند نظمیں تمام شعری لوازم کے ساتھ کہنے پر قدرت رکھتے ہیں۔‘‘ (فغان نیم شب 16 )

نظم ’’ شکست دل‘‘ میں ان کا یہ انداز دیکھا جا سکتا ہے :

اے اہلِ طرب

تم میری صداے دردِ فغاں سے گھبراکر

کیوں آئے ہو مجھ کو سمجھانے

بچوں کی طرح سے بہلانے

دیکھو تو ذرا ان زخموں کو

بہتا ہے لہو پانی کی طرح

دیکھو تو ذرا ان آنکھوں کو

تصویر ہے یاس و حرماں کی

دیکھو تو ذرا اک لمحے کو

خوں ناب بدخشاں مژگاں کی

کچھ اس میں رنگ ِخونِ جگر

کچھ اس میں لختِ قلب حزیں

الطاف احمد اعظمی صاحب نے اپنی شاعری میں فطرت کی بھی خوب عکاسی کی ہے۔ مثلاً ’’طلوع صبح کا منظر‘‘، ’’سکوت شب ماہ‘‘، ’’چاندنی رات‘‘، ’’حسن ازل‘‘، ’’تفسیر جہاں‘‘، ’’برسات‘‘، ’’فصل خزاں‘‘ جیسی نظمیں اس امر پر دال ہیں۔

پروفیسر شمیم حنفی صاحب نے اس مجموعۂ کلام پر اپنے تاثرات کا یوں اظہار کیا ہے :

’’ان کا ذہن نا مطبوع حالات کو تبدیل کرنے یا کم ازکم ان کے جبر سے رہائی کے راستے بھی ڈھونڈتا ہے تو یہ نظمیں اسی طرح کے تجربوں کی عکاس ہیں۔ وہ جو ایک روایت دانش ورانہ شاعری کی حالی، اکبر اور اقبال کے واسطے سے مرتب ہے، الطاف صاحب کا ذہن اسی روایت سے نسبت رکھتا ہے۔‘‘ ( تعارف از شمیم حنفی ، فغان نیم شب 8 )

پروفیسر سید غلام سمنانی ، دلی یونیورسٹی رقم طراز ہیں:

’’ فغان نیم شب وہ فغان ہے جو متاثر کرتی ہے۔ شاعر نے اپنی شخصیت کو شاعری سے الگ نہیں رکھا ہے۔ شخصیت اور شاعری کے درمیان کوئی ثنویت نہیں ہے۔ شاعر جو ہے وہی اس کی شاعری ہے۔ اس نے اپنے شعر میں اپنے محسوسات کو سمونے کی کوشش کی ہے۔ یہ شعر براے شعر نہیں، بلکہ شعر براے شعار و شعور ہے۔ مسائل و معاملات کی بابت ایک پیش رفت ہے۔ اپنے اندرون کی گہرائی و گیرائی کو گرفت میں لینے کی ایک سعی ہے۔ اور بطن انسانی میں پوشیدہ امکانات کی دریافت کی ایک کاوش ہے، ایک درد مندی ہے، ایک روداد قلب ہے۔ بلند سے بلند تر فضاؤں میں پرفشانی کی آرزو ہے۔ بہر حال ڈاکٹر الطاف احمد اپنے اس ارمغان ’’فغان نیم شب‘‘ کی روشنی میں اپنے ہم عصروں سے یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ

آں چہ دریں بزم سخن آوردہ ام دانی کہ چیست

یک گل ، یک نیستاں ، نالہ یک خم خانہ مئے‘‘

( پیش لفظ از سید غلام سمنانی، فغان نیم شب 12، 7اپریل 1998)

نمونۂ کلام :

تجھ سے اے دوست اب گلہ ہی نہیں

تیری فطرت میں تو وفا ہی نہیں

سب ہے حاصل مگر خوشی تو نہیں

سانس لینا ہی زندگی تو نہیں

اب تو تقلید کے زنداں سے نکلنے دو مجھے

وقت بدلا ہے تو تھوڑا سا بدلنے دو مجھے

جس گھڑی زندگی ہوتی ہے چراغ سحری

غم گساروں کا بھی انداز بدل جاتا ہے

پیرہن جسم بدلے ہیں بہت میں نے مگر

روح تو پیکر حالات میں ڈھلتی ہی نہیں

وہ اگر ساتھ ہو ہر گام ہے منزل کی طرح

زندگی حسن رفاقت کے سوا کچھ بھی نہیں

ہم اپنا چاک گریباں نہ سی سکے لیکن

بنیں ہیں اس سے بہت سی کہانیاں میری

بنتی نہیں ہے کوئی بھی تصویر آرزو

ہے تار تار شوق کا داماں ترے بغیر

ہر آدمی کے ہاتھ میں پتھر ہے آج کل

اب دل کے آئینہ کو بچائیں تو کس طرح

  1. یہ مضمون 2019 میں الطاف احمد اعظمی صاحب کی حیات میں لکھا گیا ۔