سوال: اسلام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ہم معنی قرار دیا جاتا ہے۔ مسلمان اہل علم بھی اِس بات کو پورے اہتمام سے بیان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے آغاز میں لکھا ہے کہ ’’اور اللہ نے اپنی فرماں برداری کو انبیا کی فرماں برداری کے ساتھ معلق کر دیا‘‘ (وجعل طاعته منوطة بطاعتهم)۔ آپ کے نزدیک اللہ کی اطاعت کو انبیا کی اطاعت کے ساتھ معلق کرنے سے کیا مراد ہے اور آپ اپنے فکر میں اِسے کیسے بیان کرتے ہیں؟
جواب: اللہ کی اطاعت کو انبیا کی اطاعت کے ساتھ معلق کرنے کامطلب یہ ہے کہ وہ ہدایت جو اللہ نے اپنے نبیوں کے ذریعے سے انسانوں کو دی ہے، اُس کے حصول کا ذریعہ انبیا ہی ہیں، اُن کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے۔ وہی ہیں، جو اللہ کی طرف سے ہمیں یہ بتا تے ہیں کہ اُن کے ساتھ آسمان سے رابطہ کیا گیا ہے، اُن پر وحی ہوئی ہے، اُن کے لیے حقائق کھول دیے گئے ہیں، اُن کو ملاے اعلیٰ کی حقیقتوں سے باخبر کیا گیا ہے اور اِس طرح پھر وہ پورے اذعان کے ساتھ، اعتماد کے ساتھ گویا شاہد بن گئے ہیں، جیسے کہ قرآن بیان کرتا ہے: ’لِتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ‘، ’’تاکہ تم دنیا کے سب لوگوں پر (حق کی) شہادت دینے والے بنو اور اللہ کا رسول تم پر یہ شہادت دے‘‘ (البقرہ 2: 143)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تفصیلی ہدایت کو ہم اللہ تعالیٰ سے براہ ِ راست نہیں، بلکہ اُس کے انبیا کے ذریعے سے حاصل کرتے ہیں۔ اِسی حقیقت کو میں نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’…دین کا تنہا ماخذ اِس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ یہ صرف اُنھی کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو اُن کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف اُنھی کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے۔‘‘ (میزان 13)