[150 ھ – 204 ھ]
(2)
تجدیدی کارنامے
امام شافعی اوران کی فقہ کا بڑاکمال یہ ہے کہ انھوں نے حدیث وفقہ کوجمع کیاہے اوربعض اہل علم کہتے ہیں کہ فقہ شافعی میں ’اصح مافی الباب‘ (یعنی کسی مسئلہ کے سلسلہ میں سب سے صحیح جو حدیث ہو) سے اخذواستفادہ کا رجحان ہے۔ شافعی کا بہت بڑااورتجدیدی کارنامہ اورمجموعی طورپر اسلامی فقہ پر ان کا زبردست احسان ہے کہ انھوں نے فقہ اسلامی کے اصول مدون کیے، فروعی مسائل اور جزئیات کومنضبط کرنے والے جامع قواعدوکلیات کا استنباط کیااوراپنی ’’الرسالہ‘‘ اور ’’الام‘‘ کے ذریعے سے علم و فکرکی ایک نئی دنیا آبادکردی۔ کتاب وسنت کے نصوص سے شرعی مسائل کا استنباط اپنی جگہ ایک عظیم الشان کام ہے۔ تاہم ان مسائل کی اصول سازی اورنظریہ سازی اس سے بھی بڑاکام ہے۔ اوریہ شافعی کی عبقریت ہے کہ انھوں نے دونوں کام کیے۔ اوراس راہ میں طریق معتدل کی دریافت کی، مثال کے طورپر اپنے بہت سے معاصرین کی افراط وتفریط کے درمیان انھوں نے کہاکہ قرآن اصل ِشرع ہے۔1 شافعی کے لفظوں میں :
’’اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جوکچھ بھی اپنی رحمت کے طورپر اور بندوں پرحجت کے لیے نازل فرمایا، اس کا عالم عالم ہے اورجواس کونہیں جانتا، وہ جاہل ہے۔ اس کونہ جاننے والے کوعالم نہیں کہہ سکتے اوراس کے جاننے والے کوجاہل نہیں کہہ سکتے۔ اورعلم کے اندر لوگوں کے درجات مختلف ہیں۔ اور جتناکوئی قرآن کا علم رکھتاہے، اتناہی اس کا رتبہ سواہے، اس لیے طالبانِ علم پر لازم ہے کہ وہ اس کا زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی بھرپورجدوجہدکریں اوراس راہ میں جو کچھ بھی پیش آئے، اس کو برداشت کریں اورنص یااستنباط سے قرآن کے علم کے حصول میں نیت خالص اللہ کے لیے رکھیں۔‘‘
یعنی قرآن شافعی کے نزدیک بیانِ کلی ہے اور سنت اس کی تبیین۔2 صحابہ بھی اسی کے قائل تھے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں:’من جمع القرآن فقد حمل امراًعظیمًا و لقد ادرجت النبوۃ بین جنبیہ الاانہ لایوحی الیہ‘، ’’جس کے پاس قرآن کا علم ہے تووہ ایک امرعظیم کا حامل ہے، گویاکہ اس کے سینہ میں نبوت دے دی گئی ہے اگرچہ اس کے پاس وحی نہیں آتی۔3 ابن حزم اس بنیادپر کہتے ہیں کہ ’کل ابواب الفقہ لیس منہاباب الا ولہ اصل فی الکتاب، والسنۃ تعلنہ‘، ’’فقہ کا کوئی باب ایسانہیں جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو، سنت اس کی تفصیل سے وضاحت کرتی ہے۔‘‘ اس کے بعدشافعی نے بیانِ قرآن کی دوقسمیں کی ہیں: 1۔ وہ آیات جوخوداپنی شرح ہیں اورجن کو مزید تفسیر کی ضرورت نہیں، مثلاً روزہ اورلعان کا بیان۔ 2۔ قرآن کی دوسری قسم وہ ہے جس کوانھوں نے: ’القسم الذی من القرآن لایکون نص فی الموضوع بل البیان فیہ یحتاج الی السنۃ ‘کہاہے، یعنی وہ قسم جو موضوع پر خوددلالت نہ کرے، بلکہ اس کے بیان کے لیے سنت کی ضرورت پڑے۔4
اسی طرح یہ مسئلہ کہ قرآن کے فرائض وواجبات کے بارے میں صحیح نقطۂ اعتدال کیا ہے؟ تو شافعی نے قرآن کے متعددنصوص میں غورو فکر کرکے فرض کو دو وجہوں پر تقسیم کیاہے: فرض عین اورفرض کفایہ۔ وہ فرض کفایہ کو ’المطلوب علی وجہ الکفایہ یرادبہ العام ویدخلہ الخصوص‘ (ایساعام فرض جوکچھ لوگوں سے مطلوب ہو) سے تعبیرکرتے ہیں۔5 امام شاطبی نے اس کی بے حدمعنی خیز تفصیل کی ہے اوراس کوفرض عین پر ایک گونہ فوقیت دی ہے۔ ابوزہرہ کی کتاب میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ چونکہ امام شافعی نے خود اصول و قواعدکا استخراج کیا اور ان کی تدوین کی اس لیے بہ قول ابوزہرہ ان کے تلامذہ اور بعد کے لوگوں کو مذہب شافعی پر تخریج (کسی اصل سے مزیدمسئلہ نکالنا)کے لیے اصول ثابتہ مقررہ میسرآگئے، جب کہ یہ چیز دوسرے مذاہب ِ فقہ میں نہیں پائی جاتی، کیونکہ شافعی کے علاوہ کسی اورامام سے یہ منقول نہیں کہ انھوں نے شافعی کی طرح اصول وقواعدبیان فرمائے ہوں۔6
حجیت حدیث
امام شافعی کا دوسراکارنامہ حجیت حدیث ہے۔ موجودہ زمانہ میں انکارحدیث کا جوفتنہ پیدا ہوا ہے، عموماً اس کے بارے میں خیال کیاجاتاہے کہ یہ ایک نیا ظاہرہ (Phenomenon)ہے، مگر امام صاحب کی دونوں کتابوں ’’الرسالہ‘‘ اور ’’الام‘‘ کے ایک سرسری مطالعہ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ایسانہیں ہے، بلکہ یہ فتنہ نہایت قدیم ہے۔ امام شافعی کے زمانہ میں تین طرح کے منکرین حدیث موجودتھے، جن سے ان کی گفتگوئیں بھی ہوئیں اورجن کی آرا کواپنی تحریروں میں نقل کر کے انھوں نے ان پرتفصیل سے محاکمہ بھی فرمایاہے۔ ’’الام‘‘ کی کتاب ’’جماع العلم‘‘ میں شافعی نے تفصیل سے منکرین سنت کے بارے میں بیان کیا ہے۔ (’’الرسالہ‘‘ میں حجیت حدیث کا اثبات ہے اور ’’الام‘‘ میں منکرین سے مناظرہ اوران کے استدلال کا تفصیلی ردہے )۔ شافعی کے مطابق حدیث کا انکارکرنے والے فی الجملہ تین طرح کے لوگ ہیں: پہلے تووہ لوگ ہیں جوبالکل ہی سنت کا انکارکرتے ہیں۔ ’’ الرسالہ‘‘ میں امام صاحب نے ان لوگوں کا پورااستدلال نقل کرکے ان کو جواب دیاہے۔ شافعی کے الفاظ میں ان کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ ’وجملۃ قولہم واحتجاجہم لہ ان الکتاب فیہ تبیان لکل شیئی، وان الکتاب عربی، لا یحتاج الی بیان غیرمعرفۃ اللسان العربی والاسلوب العربی الذی جاء القرآن بہ، ولیس وراء بیانہ بیان7 ای السنۃ لایمکن ان تاتی بشرع زائدعلی مافی الکتاب اللّٰہ‘مطلب یہ ہے کہ قرآن عربی میں نازل ہوا ہے اورعربی کلام کوسمجھنے کے لیے عربی زبان اورعربی اسلوب کے علاوہ کسی اورچیز کی ضرورت کیوں پڑنے لگی؟ اسی لیے سنت قرآن کے کسی حکم پر اضافہ بھی نہیں کرسکتی۔ ان کے استدلال کا جواب امام شافعی نے بہت تفصیل سے دیاہے، جس کی تلخیص ابو زہرہ نے کردی ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو صرف انھی حدیثوں کولیتے ہیں جن کے مطابق قرآن میں کوئی حکم پایاجاتاہے، یہ خبر واحد کو قبول نہیں کرتے۔ (ماکان فیہ قرآن یقبل فیہ الخبر) اورتیسرے نمبر پر وہ لوگ ہیں جوبس انھی احادیث کومانتے ہیں جومتواترومستفیض ہیں اورخبرواحدکی حجیت کے قائل نہیں ہے۔ (وثالث المذاہب المخالفہ للجماعۃ مذھب الذین ینکرون حجیۃ خبر الآحاد جملۃ ولایعتبرون الاالاخبارالمتواترۃ المستفیضہ)8 پہلا گروہ توامت سے بالکل ہی خارج ہے (وقائل ذلک لیس من الاسلام فی شیئی)9 اوردوسرے گروپ کے بارے میں تفصیل ہے کہ ان کے قول کے دومطلب نکلتے ہیں:ایک لحاظ سے یہ بھی پہلے ہی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا انھی میں سے شمارہوں گے اوراگران کے قول کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں تعارض نہیں ہوسکتاتویہ بات درست ہے اوراس لحاظ سے اگریہ خبرواحدمیں شک کرتے ہیں توان کوخارج عن الامۃ (امت سے باہر ) نہیں سمجھاجائے گا۔
تیسرے گروپ کے بارے میں انھوں نے صراحت سے کوئی راے نہیں دی، جب کہ پہلے گروپ کوامام صاحب زنادقہ، خوارج اوربعض معتزلہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، جنھوں نے اپنی تائیدمیں ایک حدیث بھی گھڑ لی تھی کہ جب تمھارے پاس کوئی حدیث آئے تواس کوکتاب اللہ پر پیش کرو، اس کے موافق ہوتوسمجھوکہ وہ میراہی قول ہے اوراس کے خلاف ہوتوسمجھوکہ وہ میرا قول نہیں ہے کہ قرآن مجھ ہی پراتراہے، اسی سے اللہ نے مجھے ہدایت دی تومیراقول اس کے خلاف کیسے ہوگا؟ ’مااتاکم منی فاعرضوہ علی کتاب اللہ، فان وافق کتاب اللّٰہ فاناقلتہ وان خالف کتاب اللّٰہ فلم اقلہ، وکیف اخالف کتاب اللّٰہ وبہ ہدانی اللّٰہ‘۔ اس حدیث کے سلسلہ میں عبدالرحمٰن بن مہدی نے فرمایاکہ اس کوزنادقہ اور خوارج نے گھڑا ہے۔10
آج کے منکرین حدیث بھی کم وبیش انھی خیالا ت کی جگالی کرتے رہتے ہیں، ان کے استدلال بھی تقریباً یہی رنگ لیے ہوتے ہیں۔
امام شافعی ایک ایسے عہدمیں پیداہوئے تھے جب روایات کی کثرت تھی، واضعین حدیث اور منکرین سنت کی مذموم کوششوں نے اہل علم کے لیے سنت کے حوالہ سے ایک بڑاعلمی چیلنج پیدا کر دیا تھا۔ وضعی حدیثوں کا ایک سیلاب تھا، ایسے میں شافعی جیسے عبقری نے وقت کے ا س چیلنج کا جواب دیا۔ آپ نے واضح کیاکہ سنت صحیحہ ثابتہ قرآن سے باہرنہیں ہے، وہ قرآن ہی سے مستنبط ہے۔ اس کی اصل قرآن میں موجودہے اورسنت اس کی مستندترین شرح و تفسیر ہے۔ موجودہ زمانہ میں فکرفراہی کے سب سے بڑے شارح مولاناامین احسن اصلاحی اور استاذ جاوید احمد غامدی بھی سنت کے بارے میں یہی راے رکھتے ہیں، بلکہ اس کوانھوں نے مزیدمبرہن کرکے ثابت کیا ہے۔11
اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں آپ نے ثابت کیاکہ قرآن میں کئی جگہ ’الکتاب والحکمۃ‘ ساتھ ساتھ آیاہے ( مثلاً البقرہ2 :129 )جس میں کتاب سے مراد قرآن اورحکمت سے مراداس کی نبوی تفسیر (حدیث ) ہے۔ ’الکتاب ہوالقرآن والحکمۃ ھی السنۃ النبویۃ‘12 ظاہرہے کہ حکمت منزل من اللہ وحی اوراسوۂ نبوی کا عمل دنیامیں کامل ترین اظہارہے، یہ وہ دانش نورانی ہے جس کو ’وما ینطق عن الہوی ان ہوالاوحی یوحی‘( النجم53: 3-4) کی تائیدربانی حاصل ہے۔ ’’الرسالہ‘‘ میں انھوں نے تینوں فریقوں کے جواب دیے ہیں اوراسی وجہ سے مکہ، بغداد اور مصر وغیرہ میں شافعی کو ناصرالسنۃ اور حافظ حدیث کہاجاتاتھا۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ شافعی بغیرکسی تعصب کے حق کی حمایت کرتے تھے۔ شافعی سے پہلے اہل الراے اصحاب الحدیث پر اپنے منطقی طرز استدلال کے ذریعے سے غالب آ جایا کرتے، جب کہ اصحاب الحدیث ذخیرۂ آثار و روایات میں ان کودبالیتے تھے۔ جب شافعی آئے تووہ ان دونوں ہی ہتھیاروں سے لیس تھے۔ چنانچہ ان سے دونوں مدرسہ ہاےفکرکے جس آدمی نے بھی بحث ومباحثہ کیا، کوئی بھی شافعی کے سامنے نہ ٹک سکا۔ حق کے سلسلہ میں بلاخوف لومۃ لائم امام شافعی نے اپنی آرا کا اظہارکیا۔ چنانچہ امام مالک سے محبت کے باوجود انھوں نے ’’خلاف مالک‘‘لکھی، جس میں اپنے استاذکی بہت سی آرا پر تنقیدتھی۔ اسی طرح اپنے دوسرے استادامام محمدسے بھی مناقشہ کیااوربصرہ کے علما سے بھی مناظرہ کیا، جوخبرواحدکی حجیت کے قائل نہ تھے اورسب میں غالب رہے۔ مگربراہومسلکی تعصب کا کہ جب امام صاحب مصر گئے تو وہاں کے مالکیوں نے’’ خلاف مالک‘‘ لکھنے کی وجہ سے والیِ مصرسے شافعی کی شکایت کی اوران کو مصرسے نکلوادینے کی کوشش کی! حالاں کہ ان کا اختلاف صرف مالک سے ہی نہ تھا، بلکہ حنفیہ اوردوسرے ائمۂ فقہ سے بھی تھا۔ مثال کے طورپرامام شافعی خبر واحد کو اہمیت دیتے ہیں اورقرآن کے عام کی تخصیص خبر واحدسے جائزقراردیتے ہیں۔ اس بارے میں حنفیہ کا ان سے اختلاف ہے، کیونکہ حنفیہ کہتے ہیں کہ قرآن قطعی الثبوت ہے اورخبرواحدظنی الثبوت، اس لیے ظنی سے قطعی کی تخصیص نہیں ہوسکتی، 13 سواے اس صورت کے کہ اس عام کی پہلے ہی کسی اورسے تخصیص ہو چکی ہے۔ واضح رہے کہ ابوزہرہ کی تحقیق میں شافعی خودعقیدہ کے اثبات میں خبرواحدکوکافی نہیں سمجھتے۔
امام شافعی نے خبرواحدکی حجیت تو ثابت کی ہے، تاہم خبرواحدکووہ، جیساکہ علامہ ابوزہرہ لکھتے ہیں، قرآن کے یاخبر متواترومستفیض کے درجہ میں نہیں رکھتے اورابوزہرہ کے لفظوں میں : ’بہذاتراہ یضع الامورفی مواضعہافھویجعل الآحادحجۃ فی العمل دون الاعتقاد، فیقرران الشک فیہ لاعقاب علیہ‘۔14 اس کے بعدامام صاحب نے خبرالواحد(روایات الخاصۃ ) کے قبول کے دقیق شرائط بیان کیے ہیں اوریہ سب شرطیں وہی ہیں جن کوماہرین مصطلح الحدیث نے اختیار کیا ا ور ان سے اتفاق کیاہے۔ خبرواحدکے علاوہ امام شافعی نے مرسل کوبھی بعض کڑی شرائط کے ساتھ قبول کیا ہے، مثلاً یہ کہ مرسل کبارتابعین کی ہو، اس مرسل کی کسی اورمتصل روایت سے تائیدہوتی ہو یا قول صحابی اس کے مطابق ہو، وغیرہ۔
اسوۂ متواترہ مکشوفہ ومروجہ کا سب سے بڑااظہارامام مالک کے نزدیک عملِ اہل مدینہ ہے۔ لیکن اس تاریخی حقیقت کے پیش نظرکہ خلافت راشدہ اور خصوصاً حضرت عمربن الخطاب کے بعد اجلۂصحابہ کی بڑی تعدادجہاد، علم کی نشرواشاعت اوردعوتی مقاصدکے تحت مختلف بلادوامصارمیں پھیل گئی تھی اورمدینہ کاعلمی اختصاص بڑی حدتک ختم ہوگیاتھااوراس حقیقت کوخودامام مالک بھی تسلیم کرتے تھے، جبھی تو انھوں نے خلیفہ منصورکواس بات سے روک دیاتھاکہ ’’موطا‘‘ کو پورے عالم اسلام کا دستورالعمل بنادیاجائے۔ انھوں نے خلیفہ کوخودیہی دلیل دی تھی کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے علم کے حامل مختلف بلادمیں پھیل گئے ہیں اوروہاں لوگ ان کے فتووں پر عمل کر رہے ہیں، اگر ان کوایک ہی مدرسۂ فکرکا تابع بنادیاجائے گاتوبڑی مشکل پیدا ہوجائے گی۔ اسی دلیل کو آگے بڑھاتے ہوئے امام شافعی نے جواستدلال کیا، اس کا مفادیہ ہے کہ سنت قولی جومتعدداہل علم صحابہ جیسے ابوہریرہ، عائشہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ اس کوعمل اہل مدینہ پر ترجیح ہوگی۔ ’’الرسالہ‘‘ میں شافعی نے اصولی طورپر یہ ثابت کیاکہ قولی حدیثوں سے مروجہ سنت (یعنی مدینہ میں) کی تصحیح وتنقیدکاکام لیاجائے گا۔ یوں ’’الرسالہ‘‘ جواصول حدیث، فقہ اوراسلام کی مذہبی تاریخ پر اولین تصنیف ہے، نے آنے والے دنوں میں فکراسلامی پرگہرے اثرات مرتب کیے۔ تاہم اس سے یہ ہواکہ تواترعملی یاسنت کے بجاے قولی احادیث کوفوقیت مل گئی اور اخبار آحاد کا غلغلہ ہوگیا۔
ہمارے زمانہ میں کچھ لوگ بڑی شدت سے تقلیدکے خلاف آواز بلندکررہے ہیں، حالاں کہ جس تقلیدجامدکی مخالفت کا ان کودعویٰ ہے، اس کا رستہ توائمۂ متبوعین نے خودہی بند کر دیا ہے۔ چنانچہ ہر امام تقلیدجامدکے بالکل خلاف تھا اورسب حریت فکری کے قائل تھے۔ اورامام شافعی کا بھی اس کلیہ سے کوئی استثنا نہیں۔ جس طرح انھوں نے دلائل کے ساتھ اپنے اساتذہ اور معاصرین سے اختلاف فرمایا، اپنے شاگردوں کوبھی اسی کی تربیت دی کہ وہ ان کی جامدتقلیدنہ کریں، چنانچہ امام شافعی نے فرمایا: ’اذاصح الحدیث فہومذھبی واضربوابقولی عرض الحائط‘ (جب صحیح حدیث مل جائے تووہی میرامذہب ہے اوراس کے ہوتے ہوئے میرے قول کودیوارپر ماردینا)۔ تمام ائمہ سے اسی طرح کے اقوال منقول ہیں اورامام ابوحنیفہ کے اسکول کا تویہ امتیاز ہے کہ انھوں نے اپنے تلامذہ کو زبردست حریت فکری عطاکی تھی۔ اسی وجہ سے کہاگہاہے کہ ان کے ارشدتلامذہ نے مذہبِ ابوحنیفہ کے 2/3 سے اختلاف کیاہے۔15 یہی آزادی راے امام شافعی کے ہاں بھی بدرجۂ اتم موجودہے۔ چنانچہ ان کے ہاں یہ ہے کہ اگر شافعی کے قول کے خلاف کوئی حدیث مل جاتی ہے اوران کے قول کوچھوڑکرحدیث کو اختیار کرلیاجاتاہے تویہ مذہب سے خروج شمارنہیں ہوتا، بس شرط یہ ہے کہ جولوگ مذہب ِامام سے باہرجائیں وہ رتبۂ اجتہادکوپہنچ گئے ہوں۔16 چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبِ شافعی میں تخریجات کرنے والے علما دوطرح کے تھے: وہ مخرّج جو اصول شافعی سے باہرنہیں نکلتے جیسے شیخ ابو حامداورقفال۔ دوسرے وہ مخرّج جومذہب شافعی سے اصول و فروع، دونوں میں باہرچلے جاتے ہیں، اس لیے کہ وہ خود اجتہاد مطلق کے درجہ پر فائز ہیں، مثال کے طور محمدون (محمدنام کے علما )جن سے مرادہیں: محمدبن نصر، محمدبن جریر طبری، محمد بن خزیمہ اور محمد بن المنذر، لیکن چونکہ انھوں نے کسی الگ فقہی مکتب فکرکی بنیادنہیں ڈالی اورشافعی ہی رہے، اس لیے ان کوبھی شافعی مذہب کے اندرہی شمار کیا جاتا ہے۔ البتہ بعض کی راے میں ان کے تفردات کوشافعی مسلک سے باہرسمجھاجائے گا۔17
اجماع کی بحث
اسی طرح اسلامی فکرمیں قرآن، سنت، اجماع اورقیاس کے اصول اربعہ کوبھی امام شافعی نے ’’الرسالہ‘‘ میں مضبوط استدلالی بنیادوں پر قائم کردیاہے۔ تاہم شافعی کی تحریروں سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ اجماع سے ان کی مراد صحابہ کااجماع ہے اوراس کے بعدکااجماع ان کے نزدیک ثابت نہیں۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ اگر صحابہ کسی امرپر متفق ہوں تووہ تمام فقہا کے نزدیک اجماع ہے اور اس پر عمل واجب۔ اس میں فقہا اورمحدثین کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔ اس کے بعد اگراہل مدینہ کا کسی امرپر اجماع ہے تواس کوامام مالک ایک دلیل شرعی مانتے ہیں اوراس کی مخالف صحیح حدیث تک کو رد کر دیتے ہیں کہ ان کے نزدیک عمل اہل مدینہ کے خلاف ہوناحدیث میں قادح ہے۔ جہاں تک اما م شافعی کی راے ہے توان کے زمانہ میں صورت حال یہ تھی کہ ہرفریق اپنی اپنی راے پر اجماع کا دعویٰ کر رہا تھا۔ ایسے میں شافعی نے اصولی طورپر اجماع کوشرعی حجت تسلیم کیا۔ کتاب و سنت میں اس کی بنیاددریافت کی، اس کے مبادی منضبط کیے۔ تاہم عملی سطح پر انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہر مسئلہ پر اجماع کا دعویٰ کرناغلط ہے، کیونکہ ہمارے پاس اجماع کے عملًا وقوع کی کوئی دلیل نہیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اجماع کامرتبہ کتاب وسنت کے بعد ہوگا اور وہ ان کے تابع ہوگا۔ اس معاملہ میں فریق مخالف کی انھوں نے شدت سے مخالفت کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ: ’دعویٰ الاجماع خلاف الاجماع‘ (اجماع کا دعویٰ کرناخوداجماع کے خلاف ہے) اورآگے اس کو جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اجماع کے عیب کے لیے تویہی کافی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدلوگوں کی زبانوں پر تمھارے اس زمانہ کے علاوہ کبھی اس کا نام نہیں آیا۔18 یوں شافعی بعض اجماع کے تو قائل ہیں اورمن کل الوجوہ اس کا انکارنہیں کرتے، لیکن علی الاطلاق اس کو قبول بھی نہیں کرتے۔ اجماع کے علاوہ راے، قیاس (یا اجتہاد) کوانھوں نے منضبط کیاہے، مگراستحسان پر تنقیدکی ہے، جس کا اعتبارمالکیہ و حنفیہ، دونوں کے ہاں ہوتاہے۔ ’’کتاب الام‘‘ میں استحسان کے ردمیں انھوں نے جوکچھ لکھاہے، اس کاخلاصہ یوں کیاجاسکتاہے کہ چونکہ قیاس یا راے (اجتہاد) ایک اصولی فریم ورک کے اندرoperateکرتاہے، اس لیے وہ درست ہے، جب کہ استحسان کوکسی کلیہ کے تحت لانا دشوار ہوتا ہے، اس لیے استحسان کودلیل شرعی نہیں سمجھا جائے گا۔ چنانچہ اس بارے میں انھوں نے اپنے استادامام محمدسے اختلاف کیاہے، جس طرح عمل اہل مدینہ کے سلسلہ میں انھوں نے اپنے دوسرے استادو شیخ مالک سے بھی اختلاف کیاتھا۔ تاہم قیاس کو شافعی اجماع کی نگرانی میں دینے کے حامی ہیں۔ ظاہرہے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ نئی تعبیری اور فکری کوششوں کو فکراسلامی کے محورکے گرد رکھاجائے۔
واضح رہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اس خیال کا اظہارکیاہے کہ مذاہب اربعہ بنیادی طور پر دو مذاہب، یعنی فقہ شافعی اورحنفی کے اندرضم ہو جاتے ہیں اورانھوں نے ’’التفہیمات الالہٰیہ‘‘ میں کہاہے کہ میراطریقہ، جہاں تک ممکن ہے ان دونوں مذاہب کے درمیان جمع وتطبیق کرناہے۔ فرماتے ہیں:
’’فروع میں ہم علما کے متفق علیہ مسئلہ کو لیتے ہیں خاص کر حنفی و شافعی مسلک کے اتفاق کو کہہ یہ عظیم فرقے ہیں اور وہ بھی طہارت و نماز کے سلسلہ میں خصوصاً۔ اگر اتفاق نہ حاصل ہو اور علما مختلف ہوں تو پھر جس مسئلہ کی تائید ظاہر حدیث سے ہوتی ہے ہم اسے اختیار کرتے ہیں۔ ہم علما میں سے کسی کی بھی اہانت نہیں کرتے کہ سبھی حق کے طالب ہیں، البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کسی کے لیے عصمت کا اعتقاد نہیں رکھتے۔ ‘‘
امام شافعی پر نئے نئے مطالعات جاری ہیں، مثال کے طورپرڈاکٹرطٰہٰ جابر علوانی نے اس کا اظہار کیا ہے کہ امام شافعی کے نزدیک ’’نص شرعی ‘‘صرف اورصرف قرآن کوکہاجاسکتاہے۔ اس میں کوئی اورچیز اس کی شریک نہیں ہوسکتی۔ انھوں نے ’’الام‘‘ کے بہت سے اقتباسات اورفقرے نقل کرکے اس تحقیق کوپیش کیاہے۔ البتہ یہ وضاحت کردی ہے کہ صحیح اورثابت سنت بہرحال اس کی شرح و تفسیر ہے۔ 19
امام شافعی کا ظہورعصرعباسی کے دوسرے مرحلہ میں ہوا۔ جب مختلف اسلامی علوم وفنون کی تدوین زوروشورسے ہورہی تھی، علم کلام اورمتکلمین میدان میں تھے۔ یونانی، سنسکرت، فارسی اور دوسری زبانوں سے عربی میں ترجمہ کی تحریک برگ و بارلارہی تھی۔ مسلمانوں میں بھی طرح طرح کے فقہی، کلامی اورشیعہ فرقے وجودپذیرتھے۔ فقہ حنفی ومالکی کی نشوونماہورہی تھی۔ اس عہدمیں انھوں نے آنکھ کھولی اوراپنے عہدکے ان سبھی حالات، وقائع اورچیلنجوں سے واقفیت حاصل کی۔ امام صاحب قوی الحجت، زبان آور، فصیح وبلیغ، اور استدلالی اندازومنطقی اسلوب تکلم کے مالک تھے۔ چنانچہ اپنی کتابوں ’’الرسالہ‘‘ اور ’’الام‘‘ وغیرہ میں انھوں نے جومقدمات قائم کیے، اور جس انداز میں فقہ، فقہ حدیث اوراصول فقہ کے سلسلہ میں اپنے استدلالات کی بنیادرکھی اور جو نتائج نکالے، ان سے ایک زمانے نے اتفاق کیا۔ امام مالک نے ’’موطا‘‘ کے ذریعے سے حدیث، اقوال ِ صحابہ رضی اللہ عنہم اورعلماے مدینہ کی آرا (عمل اہل مدینہ ) اور اپنے فتاوی ٰ کوجمع کر دیا تھا۔ شافعی موطا سے بہت متاثرتھے اورسب سے پہلے اس کوانھوں نے ہی اصح کتاب بعدکتاب اللہ کا معزز نام دیاتھا۔ امام اعظم ابوحنیفہ نئے نئے مسائل کے حل کے سلسلہ میں اجتماعی اجتہاد، بحث و مناقشہ کے بعد مسائل کے استنباط واستخراج کی عظیم نظیرقائم کرچکے تھے۔ ان دونوں اماموں کے بعد ان دونوں کے علمی وفکری اورفقہی سرمایہ سے کام لے کرامام شافعی نے اصول فقہ کی تدوین کی اور ادلۂ شرعیہ کا منہاج قائم کردیاجس سے کام لے کرقیامت تک امت ان کے زیر بار احسان رہے گی۔
خیال و خامہ
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 211۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 211۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 210۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 214۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 202۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 379۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 218۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 220۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 219۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 219۔
- ۔ ملاحظہ ہو باب ’’مبادی تدبرسنت‘‘، ’’میزان‘‘، البتہ انھوں نے حدیث وسنت میں فرق کیاہے، جو غالباًامام شافعی کے ہاں نہیں ہے۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی222۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی208۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 232۔
- ۔ امام محمدامام ابوحنیفہ کے شاگردہیں اورفقہ حنفی کے اساطین میں سے ہیں، مگراپنے استاذ سے نہ صرف فروع میں، بلکہ اصول میں بھی سینکڑوں مسائل میں اختلاف کیاہے، سبکی نے ان کے اورابویوسف کے بارے میں لکھا ہے: ’فانہما یخالفان اصول صاحبہما ‘ (طبقات الشافعیہ1/243)۔ امام الحرمین الجوینی کہتے ہیں کہ ان دونوں نے مسلک حنفی کے 2/3حصہ میں امام ابوحنیفہ سے اختلاف کیااورامام شافعی کا قول اختیارکیاہے، ملاحظہ ہو:صلاح الدین مقبول احمد، زوابع فی وجہ السنۃ قدیماوحدیثا، مجمع البحوث الاسلامیہ، الطبعۃ الاولی 1411ھ1991جوگابائی 1/8، نئی دہلی 25ص224۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 383۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 382۔
- ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 87۔
- ۔ ملاحظہ ہوکتاب :مفاہیم محوریہ فی المنہح والمنھجیہ، دوسراباب مفہوم النص، دارالسلام، القاہرہ، الطبعۃ الاولیٰ، 2009۔