مسلمانوں کی علمی روایت میں دین کو سمجھنے اور پیش کرنے کے عموماً دو منہاج رہےہیں:
ایک، سلفی منہاج،
دوسرے، فقہ و تدبر کا منہاج ۔
سلفی منہاج بنیادی طور پر اطاعت کے اصول پر قائم ہے۔ اُس میں دین ایک مجموعۂ احکام کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اوامر و نواہی کی ایک فہرست متعین ہو جاتی ہے، جو مکلفین کے لیے واجب التعمیل ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے ترک و اختیار کے احکام کو اخذ کیا جاتا اور لوگوں پر اُن کی پابندی کو لازم ٹھہرایا جاتا ہے۔ اِس مقصد کے لیے قرآن و حدیث کے علاوہ صحابۂ کرام کے آثار سے بھی رجوع کیا جاتا ہے۔ حکم کی نسبت اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متحقق ہے تو پھر اُس کے مصدر کی بحث ضمنی ہو جاتی ہے۔ یعنی یہ مسئلہ زیادہ اہم نہیں رہتا کہ حکم کا منبع و مصدر قرآن و سنت ہیں یا احادیث و آثار۔
اِس اندازِ فکر کے نتیجے میں احکام اجزا میں ظاہر ہوتے اور انفرادی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ اُن میں اصل اور فرع یا کل اور جز جیسی کوئی مناسبت طے کرنے کی جستجو نہیں کی جاتی۔ اِسی طرح احکام کے اسباب و علل بھی زیرِ بحث نہیں آتے۔
فقہ و تدبر کا منہاج، اِس کے برعکس، غور و فکر کے اصول پر قائم ہے۔ اُس میں دین ایک نظام فکر کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یعنی احکام کو بہ حیثیتِ مجموعی اورایک نظام کی صورت میں دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اِس پر غور کیا جاتا ہے کہ دینی احکام کس بنیاد ،کس فلسفے، کس حکمت پر مبنی ہیں اور اُن میں کیا نظم و ترتیب قائم ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اِس منہاج میں حکم کی محض اطاعت کو کافی نہیں سمجھا جاتا ، بلکہ اُس کی اساس اور علت بھی متعین کی جاتی ہے۔ اِس کے نتیجے میں مختلف احکام کے مابین متن اور شرح، فصل اور اشتراک، کل اور جز اور اصل اور فرع کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں، جو باہم متصل اور ہم آہنگ ہوتے ہیں۔
دین کو سمجھنے کے یہ دو منہاج ہیں۔ اِن دونوں کے فرق کو عمارت اور اُس کے اجزا کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سلفی منہاج میں چیزیں اِس طرح سامنے آتی ہیں، جیسے عمارت بننے سے پہلے اُس کے تعمیری اجزا الگ الگ اور بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مثلاً یہ اینٹیں ہیں، یہ پتھر ہیں، یہ مسالا ہے، یہ رنگ و روغن ہے۔ یعنی ساری چیزیں الگ الگ طور پر نمایاں ہوتی ہیں۔ اِس کے برعکس، فقہ و تدبر کے منہاج میں یہی اجزا ایک عمارت کی صورت میں مجتمع نظر آتے ہیں، ہر جز کسی نظم و ترتیب کے تحت کسی متعین جگہ پر مقرر ہو جاتا ہے۔
میرے نزدیک مسلمانوں کی تاریخ میں فقہ و تدبر کا منہاج ہی وہ منہاج ہے، جس میں دین کو صحیح طریقے سے سمجھنے کی سعی کی گئی ہے۔ احناف نے، شوافع نے، متکلمین نے اِسی کو اختیار کیا ہے۔ اِن کا فہم اور اُس کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں، مگر یہ سب دین کو ایک نظام فکر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ دین پر غور و فکر کا یہ منہاج اِن کے مابین قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے۔
دین کو اِس زاویۂ نظر سے دیکھنے سے بڑا غیر معمولی فرق واقع ہوتا ہے۔ اِس سے احکام کی فلسفیانہ اساس معلوم ہوتی ہے، اُن کی حکمت نمایاں ہوتی ہے، اُن کی ترتیب اور درجہ بندی سامنے آتی ہے، اُن کا باہمی تعلق واضح ہوتا ہے اور دین کے مجموعی دائرے میں اُن کی قدر متعین ہوتی ہے۔
فقہ و تدبر کے اِس منہاج کے بانی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ اُنھوں نے اگر چہ فقہ و تدبر کے اصولوں کی کوئی کتاب نہیں لکھی، لیکن اُن کی بنیادیں واضح کر دیں اور اپنے تلامذہ کے ذہنوں میں اُنھیں پوری طرح راسخ کر دیا۔ پھر اُن کے تلامذہ نے اُن بنیادوں پر ایک پورا قصر تعمیر کر دیا ۔ امام ابوحنیفہ کے بعد امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ اُنھیں یہ امتیاز حاصل ہے کہ اُنھوں نے اِس منہاج کو باقاعدہ مرتب کرنے کی سعی کی۔ اِس کے ساتھ اُنھوں نے ایک مزید کام یہ کیا کہ سلفی منہاج اور فقہ و تدبر کے منہاج کو جمع کرنے کی کوشش کی۔ اِس چیز نے بعد میں آنے والے اہل علم کو بہت متاثر کیا۔ چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ جو بڑے بڑے لوگ ہمارے ہاں پیدا ہوئے ، اُن میں بیش ترشافعی ہیں۔
مدرسۂ فراہی کے نظام فکر میں تو یہ اتنی بڑی چیز ہے کہ جب فقہ و تدبر کے منہاج سے دین کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ عمل خود دین کے مبنی برحق ہونے کی دلیل بن جاتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں جو نظام فکر سامنے آتا ہے، وہ بجاے خود ایک معجزہ ہے۔ یعنی وہ اپنی ذات میں اِس امر کی دلیل ہے کہ یہ دین اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اِس دین کا نظام فکر اِس قدر مرتب ہے، اتنا محکم ہے اور اِس طرح سے اپنے اجزا میں مربوط ہے کہ دنیا کے کسی فلسفے کو، کسی نظام فکر کو اِس کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اِس دوسرے منہاج کے بہت بڑے عالم ہیں۔یعنی وہ فقہ و تدبر کے زاویۂ نظر سے دین کو سمجھتے ہیں۔ وہ اُس پوری علمی روایت کے اندر کھڑے ہیں، جو فقہ و تدبر کے منہاج کے نتیجے میں ہمارے ہاں پیدا ہوئی ہے۔ یعنی وہ روایت جس میں شریعت پر کام ہوا ہے اور جس میں خاص طور پر احناف اور شوافع نے شریعت کے احکام میں ربط و نظام کو واضح کرنے کے لیے قواعدِ عامہ ترتیب دیے ہیں ۔ اِس بنا پر اُن کو یا اُن کے کام کو کسی لحاظ سے بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
شاہ صاحب فقہ و تدبر کی روایت میں پوری طرح کھڑے ہیں، مگر اِس کے باوجود اُنھوں نے سلفی منہاج سے صرفِ نظر نہیں کیا۔خاص طور پر جب اُنھوں نے حرمین کا سفر کیا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے بعد اُن میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور روایات کی غیر معمولی اہمیت کا احساس اُن میں پیدا ہوا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اُنھوں نے سلفی روایت کو اپنے نظام فکر میں رکھ کر دوبارہ سمجھا ہے۔ چنانچہ اُنھوں نے عربی اور فارسی میں موطا امام مالک کی شرحیں لکھی ہیں۔ اِسی طرح حدیث میں ، جس قدر دین بیان ہوا ہے، اُسے وہ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں بھی زیر بحث لائے ہیں۔ اِس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ اُنھوں نے سلفی روایت کو فقہ و تدبر کی روایت کے ساتھ متعلق کر دیا ہے اور اُن دونوں روایتوں کو ایک روایت بنا کر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ بہ الفاظِ دیگر اُنھوں نے دو بڑی روایتوں کو ایک ہی زاویے سے دیکھنے کی طرح ڈالی ہے اور بہت سے معاملات میں جو انتشار تھا یا ہو سکتا تھا، اُس کو دور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ گویا ایسے لگتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ اِن دونوں رووں یا منہاجوں کو الگ الگ نہ دیکھیں۔ چنانچہ وہ دین کے نظام فکر کی ایک سلک بناتے ہیں اور فقہ و تدبر کی روایت اور سلفی روایت کو موتیوں کی طرح اُس میں پرو کے دکھا دیتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اُنھوں نے وہ سررشتہ دریافت کیا ہے، جس کی بنیاد پر وہ دونوں منہاجوں کو یکجا کر کےاپنے پورے نظام فکرکو پیش کر رہے ہیں۔ یہ میرے خیال میں اُن کا بڑا غیر معمولی کارنامہ ہے۔ اِس طرح سے اُن کا مقام گویا مجمع البحرین کا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے بعد ہمارے ہاں جس طرح فقہ و تدبر کے منہاج کے لوگ اُن سے اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، اُسی طرح سلفی منہاج کے لوگ بھی اُن سے اپنی نسبت قائم کرتے ہیں۔ یعنی دونوں مناہج سے تعلق رکھنے والے اہل علم اُنھیں اپنا امام تسلیم کرتے ہیں۔1
- ۔ یہی کام اُنھوں نے تصوف کے میدان میں بھی کیا ہے اور ’ وحدت الوجود‘اور ’وحدت الشہود‘ کے تصورات کو باہم ملانے کی سعی کی ہے۔ ’’مکتوبِ مدنی‘‘ میں اُنھوں نے بیان کیا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی بات کی مختلف تعبیریں ہیں، حقیقت کے لحاظ سے اِن میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔