مواد پر جائیں

امام مہدی ــــایک نہیں دو!

عدنان اعجاز اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

’ ظہورِ مَہدی ‘ یا ’امام مَہدی‘ امتِ مسلمہ کے اہم نظریات میں سے ہے، جسے بالعموم ہمارا روایتی علم عقائد کے باب میں شمار کرتا ہے۔ اس امر میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ نظریہ کليتًا احادیث پر مبنی ہے، جن میں چند صحیح اور باقی حسن و ضعیف و موضوع ہیں، اور قرآنِ مجید اس کے ذکر و اشارات سے خالی ہے۔ تاہم، اسے عقائد کے باب میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں، اس بحث سے قطعِ نظر، اس نظریے کے خام خدوخال متعلقہ احادیث سے ضرور متبادر ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کے متعلق نہ مکمل استرداد صحیح رويّہ ہے اور نہ ہر تفصیل کے درست اور پورا ہونے کی شرط پر اصرار کوئی معتدل مطالبہ۔

اس نظریے پر بحث کرنے سے پہلے دو مبادی مدِ نظر رہنے چاہییں:

1۔ شواہد حقیقی وجود رکھتے ہیں اور انھیں جوڑ کر نظریات ہم بناتے ہیں۔ یہ بات جیسے آفاق و انفس میں سچ ہے، ویسے ہی تاريخ و ادب میں حق۔ چنانچہ عین ممکن ہے کہ ایک ہی مجموعۂ شواہد کو ایک طریقے سے جوڑنے سے ایک نظریہ پیدا ہو اور ایک دوسرے طریقے سے جوڑنے سے دوسرا۔ پس یہ ذہن نشین کرنے کی بات ہے کہ نظریہ شواہد کا ایک ایسا بیان ہوتا ہے جو نظریہ ساز کے وضع کردہ اصولوں کے شواہد پر اطلاق سے وجود پاتا ہے، اس لیے شواہد کی حقانیت کے باوجود وضع کردہ نظریہ بہتری و کہتری یا صحت و سقم کے امکانات سے خالی نہیں ہوتا۔

2۔ مسلمان اللہ تعالیٰ کی پہلی منتخب امّت نہیں۔ نہ صرف یہ کہ اس سے پہلے يہود و نصاریٰ اس انتخاب سے گزر چکے، بلکہ تاسيسِ امّتِ مسلمہ کے وقت ہی اس ياددہانی سے آغاز کیا گیا تا کہ پچھلی امتوں کی غلطیاں شروع ہی سے پیشِ نظر رہیں اور نذر و حذر کے کام آئیں۔ یہ غلطياں جس طرح ايمان و شریعت کے ابواب میں ہوئیں، اسی طرح پیشین گوئیوں کے باب میں بھی ہوئیں۔ اور ان کے تجزیے سے ہم اس امر میں فراست حاصل کر سکتے ہیں کہ پیشین گوئیوں کو کیسے سمجھنا چاہیے اور ان کے مصداقات کو کیسے متعین کرنا چاہیے۔

چنانچہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مسیح و محمد صلی اللہ علیہما و سلم کے متعلق مختلف پیشین گوئیوں کو جوڑ کر انھوں نے ایسے ’’ڈرامائی‘‘ خاکے تیار کر لیے کہ نہ ان کے مصداق انھیں مل سکے، نہ کبھی ملیں گے؛ اور وہ آج تک ان کے منتظر ہیں۔ امتِ مسلمہ میں امام مہدی کا معاملہ بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔

تفصیل میں جائے بغیر، امام مہدی کے متعلق اہل السنۃ والجماعۃ کے موقف کا اگر ایک خلاصہ بیان کیا جائے تو وہ کچھ اس طرح بنے گا:

’’آخری زمانے (1)میں مسلمانوں(2) کا ایک امیر يا خلیفہ(3) ہو گا، وہ اہلِ بیت (4) سے ہو گا، اس کا نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہو گا (5) (اور اس کے والد کا نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کے نام پر ہو گا)، وہ زمین (6) کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و جَور سے بھری جا چکی ہو گی، اس کے 7-9 (7)سالہ دور میں اسلام کا غلبہ (8) ہو گا، اقتصادی خوش حالی ہو گی اور وہ بہت فيّاض ہو گا۔ یہ وہی ہو گا جس کو حضرتِ عیسٰی علیہ السلام اپنے نزول کے وقت نماز کی امامت کرانے کو کہیں گے(9)۔ ‘‘

اگرچہ لوگ جانتے ہوں گے پھر بھی ياد دہانی فائدے سے خالی معلوم نہیں ہوتی کہ یہ پورا نظریہ کسی ایک ہی روایت میں بیان نہیں ہوا، بلکہ متعدد روایات میں بکھری ہوئی جزوی معلومات کو جمع کر کے وجود میں لایا گیا ہے۔ تو آئیے، ذرا مرقوم عبارات کو، جن کے انضمام سے نظریۂ مہدویت تکمیل پاتا ہے، فرداً فرداً دیکھتے ہیں تا کہ آگے کی بات سمجھ میں آ سکے۔

(1) اصل الفاظ: ’آخر الزمان‘، ’آخر امتی‘، ’لو لم یبق من الدھر/الدنیا الا يوم/لیلۃ‘، ’لا تذھب/تنقضی الدنیا‘۔ روایتی فہم میں بالعموم ان عبارات کو جو مختلف روایات میں آئی ہیں، ایک نہایت محدود مفہوم پر محمول کر دیا جاتا ہے، یعنی آخری زمانے میں یا امت کے آخری حصے میں، جس سے پھر قیامت سے متصلاً پہلے آنے والی چند نسلوں کا تعین اخذ کر لیا جاتا ہے۔ یہ مفہوم و استنباط درست نہیں۔ چاہے ’آخر‘ کا لفظ ہو یا ’دنیا ختم نہیں ہو گی‘ کی تعبیر ہو، یہ اپنے اندر ایک وسعت رکھتی ہیں، جنھیں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے بعد سے لے کر قیامت تک کے پورے زمانے کو بلا تعيين مراد لینا ہوتا تھا تو اس طرح کے الفاظ و تراکیب استعمال فرمایا کرتے تھے۔ یہ وسعت ’آخر‘ کے لفظ میں بھی موجود ہے اور ’دنیا ختم نہیں ہو گی‘ کی عبارت میں بھی، اس لیے اس کے مصداق کا زمانہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی بھی وقت ہو سکتا ہے، نہ کہ صرف دنیا کے اختتام سے قبل چند نسلیں۔

(2) اصل الفاظ: امت، عرب۔ کہیں ’امت‘ کہہ کر، تو کہیں ’عرب‘ کہہ کر یہ مفہوم ادا کیا گیا ہے۔ چنانچہ جس طرح اس میں یہ امکان موجود ہے کہ پوری مسلم امت کا کوئی حکمران ہو، اسی طرح یہ امکان بھی ان مختلف الفاظ سے پوری طرح سامنے آتا ہے کہ فقط عرب کا کوئی حکمران ہو۔

(3)اصل الفاظ: امیر، خلیفہ، ملک، رجل، امام۔ ان مختلف الفاظ سے سیاسی حکمران کا مفہوم ادا کیا گیا ہے۔ ’امام‘ کا لفظ اگرچہ ہمارے یہاں ایک مذہبی جہت بھی رکھتا ہے، مگر ایک تو عربی میں اس کا عام استعمال محض حکمران یا لیڈر کے لیے معروف ہے، دوسرے اکثر روایتوں میں ’امام‘ کا لفظ ہے ہی نہیں، بلکہ دوسرے مذکورہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

(4) اصل الفاظ: ’منّی‘، ’من اہل بیتی‘، ’من عترتی‘۔ یعنی مجھ سے ہو گا یا میرے اہلِ بیت و عترت سے ہو گا۔ اگرچہ ’اہلِ بیت‘ کے الفاظ اکیلے بھی آئے ہیں، کچھ روایات ایسی مل جاتی ہیں جن میں راوی ’’مجھ سے ہوگا‘‘ یا ’’میرے اہل بیت سے ہو گا‘‘ کی عبارات میں اپنے تردّد کا اظہار کر دیتا ہے۔ چنانچہ ’مجھ سے ہو گا‘میں وہ وسعت داخل ہو جاتی ہے جو ’اہل بیت‘ کی تحدید سے وسیع تر ہے۔

(5)’اس کا نام میرے نام پر ہو گا‘، اور بعض میں اضافہ ہے کہ ’اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا، اگرچہ یہ دونوں باتیں روایات میں اکٹھی وارد ہوتی بھی نظر آتی ہیں، بہت سی روایات صرف ’میرے نام پر ہو گا‘ پر اکتفا کرتی ہیں اور بس کسی کسی میں والد کے نام والی بات ملتی ہے۔ اسی لیے میں نے اس دوسری بات کو قوسین میں رکھا ہے۔

(6) ’الارض‘ کا لفظ ملتا ہے، جس کے معنی زمین کے ہیں۔ یہ وہ لفظ ہے جس سے بالعموم پوری زمین مراد لے کر پھر امام مہدی کے آفاقی حکمران ہونے پر دلیل بھی پکڑی جاتی ہے، دراں حالیکہ یہ لفظ عربی میں اکثر و بیش ترسیاق و قرائن کی مناسبت سے محدود ہوتا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ’زمین کا بس وہ حصہ جس پر وہ حکمران ہو گا‘ کرنے میں کچھ مانع نہیں، بلکہ اولیٰ و ارجح ہے۔

(7)بعض روایات میں ’سات سال‘ اور بعض میں ’نو سال‘ آئے ہیں۔ کچھ میں’ آٹھ‘ کا بھی تذکرہ ہے۔

(8) بعض روایات میں یہ بات آتی ہے اور اس طرح کثرت سے نہیں ملتی جس طرح باقی عبارات ملتی ہیں۔ تاہم، غلبے کا حدود اربعہ کیا ہوگا، اس کے متعلق بھی اسی قسم کا افراط ہمیں روایتی علم میں ملتا نظر آتا ہے، جیسے ’الارض‘ میں، جس کی بنیاد نہایت کم زور ہے۔

(9) یعنی فتحِ قسطنطنیہ و نزولِ عیسٰی علیہ السلام و دجال والی روایات میں جس امام کا ذکر ہے۔ اس جملے کو پچھلی تمام عبارات سے علیحدہ کرنے کے لیے قارئین اس سے پہلے وقفِ ختمہ کو دیکھ سکتے ہیں، جو اتفاقی نہیں ارادی ہے۔ یہ اس لیے کہ یہ نشانی بالکل علیحدہ نوعیت کی احادیث میں وارد ہوئی ہے جن میں پچھلی عبارات میں موجود نشانیوں کی کوئی رمق نہیں، اور جن میں وہ بیان ہوئی ہیں، ان میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں۔ ہوا یہ ہے کہ علماے اسلاف نے ان دونوں علیحدہ باتوں کو اپنا نظریہ تشکیل دینے کے لیے ملا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں اس قدر مختلف نوعیت کی سلسلۂ روایات ہیں کہ ان دونوں کو کسی طور یکجا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

’مہدی‘ کا لفظ اکثر روایتوں میں نہیں آتا۔ تاہم، اس پر اعتراض کی تو کوئی وجہ نہیں کہ اس پورے نظریے میں ’مہدی‘کا لفظ کیوں مرکزیت اختیار کر گیا۔ یہ اس لیے کہ جس امام کا تذکرہ مراد لیا گیا، اسے خدا کی طرف سے ہدایت یافتہ ہونے کو علامت بنا لیا گیا، جس میں يوں تو کوئی مسئلہ نہیں، مگر ہمارے یہاں مہدی پھر امتدادِ زمانہ سے ایک تقریباً طلسماتی اہمیت اختیار کر گیا، حالاں کہ یہ ایک قدرے عام لفظ تھا، جو خلفاے راشدین کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ جس طرح کا التباس و تشویش اہلِ کتاب کے علم میں لفظِ ’مسیح‘ نے برپا کر دی، اسی طرح ہمارے یہاں لفظِ مہدی نے کر دی۔ در اصل بات غالباً صرف اتنی تھی کہ حکمران کو جب نیک و تابعِ سنت قرار دینا تھا تو اس لفظ سے کیا جاتا تھا اور بس۔

نوٹ: عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ کوئی مہدی نہیں، کم زور روایت ہے۔ اسی طرح بارہ اماموں والی حدیث پر بھی بہت بحث ہے، اس لیے انھیں شاملِ خلاصہ نہیں کیا گیا۔

اب جب کہ اس نظریے کو تشکیل دینے والے اجزاے متحرکہ نمایاں ہو چکے اور قدرے مختلف مفاہیم پر ان کی ممکنہ دلالتیں سامنے آ گئیں، ذیل میں پیش کیے جانے والے متبادل نظريۂ مہدی کی شقوں کو سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے:

1۔ احادیث میں وارد ہونے والی متفرق نشانیاں ایک نہیں، دراصل کم سے کم دو مہديّین یا حکمرانوں کے متعلق تھیں، جنھیں ایک سمجھ لیا گیا۔ یعنی ایک وہ جن کے متعلق عرب کا حکمران ہونے، فیاض ہونے، زمین کو ظلم و جور کے بعد عدل و انصاف سے بھر دینے وغیرہ کی پیشین گوئیاں تھیں اور دوسری وہ جو فتحِ قسطنطنيہ اور دجال و مسیح والی روایات میں مذکور تھیں۔

2۔ پہلی نوعیت کی نشانیاں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ میں پوری ہو گئیں؛ سب نہیں تو اکثر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رفقا حضراتِ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور اسماء بنتِ ابو بکر رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی گھٹی پائی، يزید کی بیعت نہیں کی، مدینہ سے مکہ ہجرت کر گئے، بیت اللہ میں ان کی بیعت کی گئی، شام سے انھیں مارنے کے لیے لشکر آئے، نو سال عرب کے حکمران رہے، ان کے دور میں خوش حالی رہی، عراق و شام نے پھر انھیں خراج بھیجنا بند کر دیے۔گویا تمام بڑی نشانیاں ان میں پوری ہوتی نظر آتی ہیں۔

3۔ دوسرے فاتحِ قسطنطنیہ، یعنی محمد الفاتح تھے، جنھوں نے سلطنتِ روما سے ان کا قدیم دارالخلافہ ایک تاريخ ساز معرکے میں ایسا چھینا کہ پھر کبھی انھیں واپس نہ مل سکا اور بچی کھچی سلطنتِ روما ہمیشہ کے لیے زمیں بوس ہو گئی۔

4۔ ان دونوں حضرات کے نام بھی کوئی نظر انداز کرنے کے لائق نہیں۔ ایک کا نام حضور کے والد کے نام جیسا اور دوسرے کا خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ چنانچہ اگر راویوں سے ان دونوں میں غتر بود ہو گئی ہو تو تاريخ کے طالب علموں کے لیے یہ کوئی بعید از امکان چیز نہیں۔ یعنی عین ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مختلف مواقع پر کبھی ان میں سے ایک کے متعلق کوئی ارشاد فرمایا اور کبھی دوسرے کے، مگر راویوں نے چونکہ انھیں ایک ہی شخص شمار کر لیا، جیسا کہ بعد میں علما نے بھی کیا، اس لیے ان دونوں علیحدہ نشانیوں کو ایک ہی شخص میں جمع کر دیا گیا۔

تاہم اکثر نشانیاں پوری ہونے کے باوجود جو نشانیاں ان میں پوری نہیں ہوئیں، ان کی بھی توجیہ ہونی چاہیے، جو یہ ہے:

1۔ اہلِ بیت یا ولدِ فاطمہ ہونے کی نشانی ان میں پوری نہیں ہوئی۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ کی طرف تو اوپر اشارہ گزر چکا۔ یعنی کیونکہ بعض روایات میں ’منّی او من اہل بیتی‘،یعنی ’’وہ مجھ سے ہو گا یا میرے اہل بیت سے ہو گا‘‘ کے درمیان راوی کو التباس ہو گیا، کیا بعید ہے کہ اصل بات’منی‘والی ہی ہو اور بعد میں ’ ’اہل بیت‘‘ والی بات زیادہ شہرت پکڑ گئی ہو۔ یہ اوپر بیان کیا جا چکا کہ اس طرح کی کسی ایک آدھ نشانی کے پورا ہونے پر اصرار، جب کہ اکثر نشانیاں پوری ہو چکی ہوں، غلط رویہ ہے اور اہلِ کتاب کی تاريخ سے اس رویے کی غلطی ہمارے لیے نظیر کے طور پر موجود ہے۔

2۔ خروجِ دجال و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعات اس امام کے ہوتے پیش نہیں آئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان واقعات کو صحیح سمجھا ہی نہیں گیا۔ متعلقہ روایات کے سرسری مطالعے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے یہی امام، جنھیں یہاں محمد الفاتح پر محمول کیا گیا ہے، گویا دجال کے خلاف صف آرا ہوں گے اور اسی اثنا میں نزولِ عیسی علیہ السلام سے سرفراز ہوں گے، پر یہ تاویل درست نہیں۔ یہ نکتہ چونکہ دجال و مسیح کے مصداقات سے متعلق ہے، جو بہ ذاتِ خود ایک گھمبیر مسئلہ ہےاور جس پر علیحدہ سے تفصیلی بحث درکار ہے، اس لیے فی الوقت اس نکتے پر بحث اگلی قسط تک اٹھا رکھنا ہی مجبوری ہے۔ اس نکتے کے علاوہ باقی سب نشانیوں پر بحث، البتہ مکمل ہوئی۔1

مضمون کا خلاصہ یہ ہوا کہ ظہورِ مہدی کے باب میں وارد ہونے والی یا متعلق کی جانے والی روایات دراصل ایک نہیں، دو مختلف حکمرانوں کے متعلق تھیں۔ ان میں سے ایک نوعیت کی روایات کے مصداق حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری کے محمد الفاتح۔ چنانچہ یہ دونوں واقعات پورے ہو چکے اور امت کا اب بھی ان کا منتظر رہنا اسی قدیم غلطی کو دہرانا ہے جو اہلِ کتاب سے مسیح و محمد صلی اللہ علیہما و سلم کے مصداقات متعین کرنے میں ہوئی۔

  1. ۔ اس اور دوسری علاماتِ قیامت پر بحث راقم کے يوٹیوب چینل پر جاری ہے اور پیٹریان پر اس کے متعلق مضامین کی اشاعت بھی۔ تفصیل کے طالب وہاں پر بحث ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔