دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا ملک امریکہ، سائنسی ترقی، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا علم بردار تو ہے، مگر ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ قائم ہے:
آخر امریکہ کی ڈھائی سو سالہ جمہوری تاریخ میں آج تک کوئی خاتون صدر کیوں نہیں بن سکی؟
تدبر سے دیکھیں تو یہ سوال کسی آئینی رکاوٹ کا نہیں، بلکہ امریکی سماج، سیاست اور اجتماعی نفسیات کی ان پرتوں کا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتیں، مگر فیصلوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔
امریکی سیاست کی بنیاد ایسے دور میں رکھی گئی جب قیادت کا تصور طاقت، جنگ اور مردانہ غلبے سے جڑا ہوا تھا۔ صدارتی منصب کو طویل عرصے تک ایک ایسے کردار کے طور پر دیکھا گیا جو بحران میں سخت فیصلے کرے، فوج کی قیادت کرے اور عالمی طاقت میں لیڈر شپ کا مظاہرہ کرے۔ یہ تصور اگرچہ کمزور ضرور ہوا ہے، مگر مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔
دوسری طرف، سماجی ماہرین کے مطابق امریکی ووٹر کا لاشعور آج بھی صنفی تعصب سے پوری طرح آزاد نہیں۔ خاتون امیدوار کے بارے میں یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ آیا وہ عالمی سیاست کے دباؤ، جنگی حالات اور طاقت کے توازن کو سنبھال پائے گی یا نہیں، جبکہ یہی سوال مرد امیدوار کے لیے شاذ ہی زیر بحث آتا ہے۔
انتخابی نظام بھی اس مسئلے کو تقویت دیتا ہے۔ Electoral College جیسے پیچیدہ نظام میں روایت پسند اور قدامت پرست ریاستوں کو غیر متناسب اثر حاصل ہے، جہاں تبدیلی اور صنفی مساوات کے تصورات ابھی پوری طرح جڑ نہیں پکڑ سکے۔ یوں عوامی ووٹ میں برتری کے باوجود نتائج کا پلڑا کسی اور طرف جھک جاتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کا کردار بھی قابلِ غور ہے۔ دونوں بڑی جماعتیں اکثر خاتون امیدوار کو “خطرناک تجربہ” سمجھتی ہیں اور محفوظ، آزمودہ راستہ اختیار کرتی ہیں۔ پارٹی قیادت، فنڈنگ اور تنظیمی ڈھانچے آج بھی بڑی حد تک مردوں کے زیرِ اثر ہیں، جس کا نقصان براہِ راست خواتین امیدواروں کو پہنچتا ہے۔
میڈیا کا رویہ اس عدم توازن کو مزید گہرا کرتا ہے۔ خاتون امیدوار کی گفتگو، لباس، آواز اور مزاج تک کو موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے، جبکہ مرد امیدوار کے لیے اہلیت اور پالیسی کافی سمجھی جاتی ہے۔ ایک مرد امیدوار کو پُراعتماد کہا جاتا ہے، مگر وہی انداز کسی خاتون میں “سخت” یا “غیر فطری” قرار پاتا ہے۔
ہلیری کلنٹن کی مثال اس تضاد کی واضح علامت ہے۔ وہ تجربے، عالمی سفارت کاری اور عوامی ووٹ میں سبقت رکھنے کے باوجود صدارت حاصل نہ کر سکیں۔ ان کی شکست نے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ محض اہلیت کافی نہیں، سماجی قبولیت بھی شرطِ اوّل ہے۔
تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں کہ امریکہ ہمیشہ اس دائرے میں قید رہے گا۔ کانگریس، سینیٹ اور ریاستی سطح پر خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تبدیلی کا عمل سست ضرور ہے، مگر جاری ہے۔ ممکن ہے کہ آنے والی دہائیوں میں یہ تاریخی خلا پُر ہو جائے۔
فی الحال، امریکہ کی جمہوریت کا یہ باب ایک سوالیہ نشان کے ساتھ کھلا ہے۔ ایک ایسا سوال جو صرف امریکہ ہی نہیں، بلکہ دنیا کی ہر جمہوریت سے یہ پوچھتا ہے کہ کیا قیادت واقعی صلاحیت سے مشروط ہے، یا اب بھی صنف کے ترازو میں تولی جاتی ہے؟