يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَوٰةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا ﴿28﴾) وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿29﴾ يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا﴿30﴾ وَمَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا ﴿31﴾ يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ﴿32﴾ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ﴿33﴾ وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا ﴿34﴾ [سورۃ الأحزاب]
ترجمہ
(اِس طرف سے مایوس ہو کر اب یہ منافقین تمھارے گھروں میں فتنے اٹھانا چاہتے ہیں، اِس لیے)، اے نبی، اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اُس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمھیں دے دلا کر خوش اسلوبی کے
ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اُس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو تو اِن سب چیزوں سے بے نیاز ہو کر اُسی کے لیے سرگرم رہو، اس لیے کہ اللہ نے تم میں سے خوبی کے ساتھ نباہ کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔
نبی کی بیویو، تم میں سے جو کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرے گی، اُس کے لیے دوہرا عذاب ہے۔ اور یہ اللہ کے لیے آسان سی بات ہے۔ اور تم میں سے جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں بردار بنی رہیں گی اور نیک عمل کریں گی، اُنھیں ہم اُن کا دہرا اجر عطا فرمائیں گے اور اُن کے لیے ہم نے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔
نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم خدا سے ڈرو تو (اِن لوگوں کے ساتھ) نرمی کا لہجہ اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے، وہ کسی طمعِ خام میں مبتلا ہو جائے اور معروف کے مطابق بات کرو۔ تم اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور اگلی جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت پر قائم رہو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے، اِس گھر کی بیبیو کہ تم سے (وہ) گندگی دور کرے (جو یہ منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں) اور تمھیں پوری طرح پاک کرے۔ اور تمھارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور اُس کی حکمت کی جو تعلیم دی جاتی ہے، اُس کا چرچا کرو۔ بے شک اللہ بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔
تسہیل و تفہیم
غزوۂ خندق 5 ہجری کے بعد مدینہ میں موجود منافقین اور دشمنوں کو جب معلوم ہو گیا کہ اب ہم اللہ کے رسول اور مسلمانوں کو میدانِ جنگ میں شکست نہیں دے سکیں گے تو اُنھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کو نشانہ بنایا۔ اُن کی عورتوں اور مردوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول تو ہیں لیکن وہ مدینہ کے حکمران اور سردار بھی ہیں۔ لیکن اُن کے گھر میں اِس طرح کی کوئی بات نظر نہیں آتی۔ اُن کی بیویوں کو چاہیے کہ اپنا رہن سہن سردار اور حکمران کی بیگمات کی طرح رکھیں۔ اِس موقع پر بعض امہات المؤمنین کی طرف سے جب بہتر زندگی کی بات ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنی بیگمات سے کہیں کہ وہ فیصلہ کریں کہ اُنھوں نے کیسی زندگی بسر کرنی ہے۔ اگر وہ اللہ کے نبی کی بیویاں بن کر رہنا چاہتی ہیں تو اُن کو جان لینا چاہیے کہ اِس کے لیے ضابطہ اور قانون عام خواتین سے بالکل الگ ہے۔ وہ خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لیں کہ اُنھیں یہ خاص احکام اور
قدرے سخت پابندیوں والی زندگی قبول ہے؟ اگر قبول نہیں تو ان پر کوئی بار نہیں، وہ اللہ کے رسول سے علیحدہ ہو جائیں اور عام خواتین والی زندگی بسر کر سکتی ہیں۔ لیکن اگر وہ امہات المومنین اور رسول اللہ کی بیویاں بن کر رہنا چاہتی ہیں تو ان کے لیے یہ قوانین اور زائد پابندیاں ہوں گی۔ ان پابندیوں کا خلاصہ یہ تھا:
1: امہات المومنین کے لیے نیکی کا اجر عام خواتین سے دو گنا ہو گا اور گناہ کی سزا بھی دوگنی ہو گی۔
2: بعض منافقین ان سے بہانے بہانے سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کبھی انھیں ان کی کسی بات کا جواب دینا پڑ جائے تو ایسے لوگوں سے عام نرم اور بااخلاق رویے کے بجائے سیدھی بات کر کے جان چھڑا لیں۔
3: اپنے گھروں میں قیام کریں اور باہر اگر نکلنا ہو تو ضرورت ہی پر نکلیں۔ اور ان کا نکلنا اس طرح کا نہیں ہونا چاہیے جس طرح کہ دنیا دار حکمرانوں کی بیگمات کا ہوتا ہے کہ اپنی حیثیت اور دولت کی نمایش کرتے ہوئے نکلتی ہیں۔
4: حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خاص خیال رکھیں۔ اس سلسلے میں معاشرے پر واضح ہونا چاہیے کہ نبی کی بیویوں کی حیثیت سے تمھارا گھر نیکی و خیر کا مرکز ہو۔ وہ لوگوں کے لیے ایک ماڈل ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو منافقین اور دشمنانِ دین کی ہر سازش سے پاک رکھنا چاہتا ہے۔ کسی کو بھی کوئی ایسا موقع نہیں ملنا چاہیے کہ آپ کی طرف انگلی اٹھا سکے۔
امہات المومنین کا جواب
روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ یہ سوال جب امہات المومنین، خاص کر سیدہ عائشہ صدیقہ کے سامنے رکھا گیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھیں اور ان سے کہا گیا کہ اس کے جواب میں وہ جلدی نہ کریں، بلکہ اپنے والدین سے بھی مشورہ کر لیں تو انھوں نے بغیر کسی سوچ بچار کے جواب دیا کہ مجھے اس معاملے میں کسی سے مشورے کی ضرورت نہیں ہے، میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں۔ باقی امہات المومنین کا جواب بھی یہی تھا۔
برائی سے رکنے کا حکم
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ازواجِ مطہرات سے، معاذ اللہ، کسی فحش حرکت کا اندیشہ تھا۔ قرآن نے یہ الفاظ سازشی لوگوں کے خفیہ ارادوں کو سامنے رکھ کر استعمال کیے ہیں۔
امہات المومنین کے لیے سزا و جزا کا خاص قانون
یہ اس قانون کے مطابق ہے کہ جس کا خدا کے ہاں جو درجہ و مرتبہ ہے، اُس کا محاسبہ بھی اُسی کے لحاظ سے ہو گا۔ اس سے قرآن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو یہ احساس دلایا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت میں اُن کا مقام کس قدر بلند ہے اور اس بلند مقام سے کسی پستی کی طرف اترنے کا نتیجہ اُن کے لیے کیسا سنگین ہو سکتا ہے۔
اللہ کے لیے سزا و جزا کے قانون کے آسان ہونے کا مطلب
یعنی تم میں کوئی اس بھلاوے میں نہ رہے کہ نبی کی بیویاں ہونا تمھیں اللہ کی پکڑ سے بچا سکتا ہے یا تمھارا مرتبہ کچھ ایسا بلند ہے کہ اُس کی وجہ سے تمھیں پکڑنے میں اللہ کو کوئی دشواری پیش آسکتی ہے۔ ہرگز نہیں، خدا کا قانون بے لاگ ہے، وہ کسی کے درجے اور مرتبے یا نسبت و تعلق کی بنا پر کوئی رعایت نہیں کرے گا۔
امہات المومنین کی خاص حیثیت کا مطلب
مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت و تعلق کی وجہ سے تمھاری ایک خاص حیثیت ہے جس کو تمھیں ہر حال میں ملحوظ رکھنا چاہیے اور کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جو اس مرتبے اور مقام کے منافی ہو۔ تمھارے ہر طرزِ عمل کے اثرات اس دعوت اور مشن پر ہوں گے جس کے لیے خدا نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرمایا ہے۔
تبرج الجاہلیت کا مطلب
یہ ہدایت بھی اُسی منصب اور اُس کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے ہے جو ازواجِ مطہرات کو حاصل تھا کہ اُنھیں زمانۂ جاہلیت میں بڑے لوگوں کی بیگمات کے طریقے پر اپنی زیب و زینت کی نمایش کرتے ہوئے باہر نہیں نکلنا چاہیے، بلکہ جو حالات اُنھیں درپیش ہیں، اُن میں باہر نکلنے ہی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ منافقین شب و روز اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ اُن سے متعلق کوئی اسکینڈل پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ عام عورتوں کے ساتھ اس ہدایت کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ اپنے حالات اور اپنی ضرورتوں کے لحاظ سے اُس زمانے میں بھی، جہاں چاہیں، جاسکتی تھیں اور اب بھی جاسکتی ہیں۔ اجنبیوں کے سامنے زیب و زینت کی نمایش، البتہ اُن کے لیے
بھی ممنوع ہے، اس لیے کہ سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ نے اس کی ہدایت اُنھیں الگ فرما دی ہے۔ یہاں اتنی بات مزید واضح ہوئی کہ اجنبی مردوں کے سامنے زیب و زینت کی نمایش جاہلیت کا طریقہ ہے، اس کا اسلامی تہذیب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اہل بیت کو پاکیزہ رکھنے کا مطلب
اس آیت سے واضح ہے کہ اہل بیت سے مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں۔ اس میں ان کی بیٹیاں یا دوسرے رشتے دار شامل نہیں، کیونکہ اس صورت میں ان پر بھی یہ ساری پابندیاں لگتیں اور امت میں اس پر کوئی اختلاف نہیں کہ یہ پابندیاں صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیگمات ہی کے لیے تھیں اور ان آیات کی مخاطب صرف آپ کی بیگمات ہی تھیں۔
ان کو پاکیزہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تمھارے باطن کی پاکیزگی میں شبہ نہیں، لیکن اللہ تعالیٰ تمھارے منصب کے لحاظ سے تمھیں لوگوں کی نگاہ میں بھی ہر طرح کی اخلاقی نجاست سے بالکل پاک دیکھنا چاہتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کو نہایت شفقت و محبت کے ساتھ خطاب کر کے ان ہدایات کا مقصد بتایا ہے جو انھیں یہاں دی جا رہی ہیں اور ان کے لیے اہل بیت کا لفظ استعمال کر کے واضح کر دیا ہے کہ اس کا شرف اصلاً اُنھی کو حاصل ہے۔ دوسروں کی شمولیت اس میں ہو سکتی ہے تو اصلاً نہیں، بلکہ محض اظہارِ تعلق و خاطر کے لیے ہو سکتی ہے۔