امام فراہی رحمہ اللہ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ’’خدا کا بیٹا‘‘ نہیں ’’خدا کا بندہ‘‘ کہا گیا ہے۔وہ کہتے ہیں:
كلّ ما نجد في الإنجيل من ’ابن اللّٰه‘ فهو ’عبد اللّٰه‘ في المعنى وكلّ ما فيه من ’أبونا‘ أو ’أبونا وأبوكم‘، فهو: ربّنا وربكم.
(مفردات القرآن للفراہی 251)
’’انجیل میں جہاں کہیں بھی ’’اللہ کا بیٹا‘‘ ہے، وہ حقیقی معنی میں ’’عبد اللہ‘‘ ہے۔ اور جہاں کہیں بھی ’’میرے باپ‘‘ یا ’’میرے اور تمھارے باپ‘‘ ہے، اس سے مراد: میرا اور تمھارا پروردگار ہے۔‘‘
امام فراہی رحمہ اللہ زبان کے بہت بڑے ماہر تھے، ان کو عبرانی زبان بھی بخوبی معلوم تھی۔ چونکہ بنی اسرائیل کے مقدس صحائف و کتب بیش تر عبرانی ہی میں ہوتے تھے اور ان کے ربّی اور بڑے پیشوا اسی زبان کو استعمال کرتے تھے۔ آپ کا موقف تھا کہ غالباً اسی زبان میں انجیل کو بھی نشر کیا گیا۔ موجودہ اناجیل بھی صاف صاف الفاظ میں شاہد ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یہودیوں کے مذہبی پیشواؤں سے کثرت سے مکالمے ہوئے جن کے متعلق ایک احتمال ہے کہ عبرانی میں ہوئے ہوں گے۔
پھر عبرانی زبان کے متعلق اپنے استقرا اور کلام کے نظائر سے انھوں نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عبرانی زبان میں لفظ ’וּבְנֵ֖י‘ (جس کو عربی میں ’ابن‘ کہا جاتا ہے)، بندگی کی طرف اشارے کے لیے بھی بہ طورِ تعبیر استعمال ہوتا ہے۔ مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے پاس قدیم عبرانی لٹریچر دستیاب نہیں جس سے اس کے نظائر تلاش کیے جاسکیں، لہٰذا بائیبل ہی سے کچھ نظائر انھوں نے پیش کیے ہیں جن میں سیاق و سباق اور نظمِ کلام کی روشنی میں کسی صورت ’ ابن ‘ سے ’’بیٹا‘‘ مراد نہیں لیا جاسکتا، بلکہ اس کو بندگی کے لیے ایک ’’تعبیر‘‘ سمجھیں تو معنی کھل کر واضح ہوتے ہیں۔ایک مثال انجیلِ متی سے بھی دی گئی ہے جو لفظ ’’باپ‘‘ کے لیے ’’رب‘‘ کے استعمال پر مضبوط قرینہ ہے۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ اولاد کا جو مرتبہ والدین کے مقابلے میں تورات بیان کرتی ہے، اس کےپیشِ نظر یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ لفظ ’ابن ‘ کو بہ طورِ تعبیر ’’بندہ‘‘ کے معنی میں بھی استعمال کیا جاسکتا تھا۔ اولاد گویا والدین کے سامنے ایک غلام تھی۔ ماں باپ کی نافرمانی پر آپ قتل بھی ہوسکتے تھے اورایسا ہی انجام خدا کی نافرمانی کا بھی تھا۔ لفظ اپنی اصل سے نکل کر آہستہ آہستہ دوسرے معنی کی چادر بھی اوڑھ لیتا ہے۔ ممکن ہے کہ عبرانی صحائف پر مزید تدبرانہ طریقے سے نگاہ ڈالنے سے اس لفظ کی حقیقت بہتر طریقے سے متعین ہو۔ امام فراہی نے اپنی ایک کوشش کر رکھی ہے۔