انگلش ونگلش (English Vinglish) ایک ہندوستانی فلم ہے جس کی انشاء پردازی اور ہدایت کاری گوری شنڈے (Gauri Shinde) نے کی ہے۔ اس فلم کا اجراء 2012ء میں ہوا اور اپنی نوعیت کے ایک نہایت مؤثر سماجی پیغام ہونے کے باعث دنیا بھر میں حد درجہ سراہا گیا۔ فلم کی مرکزی کردار ششی گوڈبولے (Shashi Godbole) کو مشہور و معروف اداکارہ شری دیوی (Sridevi) نے اس قدر فطری، دلکش اور مرغوب الطبع انداز میں نبھایا کہ یہ کردار ہر اس خاتون کی دل کی آماجگاہ سے اٹھی ہوئی آواز بن گیا جس کی حیثیت ہمارے خاندانوں اور معاشروں میں کسی صدا بصحرا کی تھی۔
یہ محض کسی شخص کے انگریزی زبان سیکھنے کی داستان نہیں، بلکہ یہ ایک خاتونِ خانہ کی خودداری، خود افروزی اور خاموش مگر باوقار جدوجہد کی سرگزشت ہے۔ یہ فلم جدید خاندانی نظام میں عورت کے مقام، اس کے جذبات، احساسات اور گھریلو رویوں پر لطیف مگر نہایت غائر سوالات اٹھاتی ہے۔
کہانی کی مرکزی کردار ششی گوڈبولے ایک سادہ لوح اور شریف النفس گھریلو خاتون ہے جو اپنے خاندان سے بے حد محبت کرتی ہے۔ وہ گھر کے تمام کام پوری دلجمعی اور حسن و خوبی سے انجام دیتی ہے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت، ان کی نگہداشت و پرداخت، اپنی ازدواجی زندگی میں ہر لمحہ مفاہمت، موافقت اور معاونت، اور گھر کی غایت درجے عزت اور دیکھ بھال کا اہتمام اس کی اولین ترجیحات ہیں۔ اس کے باوجود ششی کا واحد شخصی “عیب” یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ فصیح و بلیغ انداز میں روانی اور سلاست کے ساتھ انگریزی نہیں بول سکتی۔
ششی کی یہ فرضی “نالائقی اور نااہلی” اس کے لیے طعن و تشنیع، تخفیف، تنقیص، تمسخر اور احساسِ کمتری کا موجب بن جاتی ہے۔ شوہر اور بچے نادانستہ طور پر اس کی باتوں پر ہنستے ہیں، گھریلو فیصلوں میں اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، اور بتدریج ششی خود بھی اپنے آپ کو حقیر سمجھنے لگتی ہے۔
ایک موقع پر ششی کو اپنی بھانجی کی شادی میں شرکت کے لیے تنہا امریکہ جانا پڑتا ہے۔ یہ سفر اس کی زندگی کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوتا ہے۔ وہاں ایک روز کسی cafe میں انگریزی نہ آنے کی وجہ سے اُسے ایک ذلت آمیز تجربے سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس موقع پر محسوس کردہ رسوائی اور زبوں حالی اسے اس قدر باطنی طور پر جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے کہ وہ انگریزی سیکھنے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔
وہ ایک مختصر مدت پر مبنی مکالماتی انگریزی نصاب (Spoken-English Course) میں داخلہ لیتی ہے، جہاں مختلف قومیتوں، ثقافتوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد اس کے ہم سبق بنتے ہیں۔ دورانِ دروس ششی کو پہلی مرتبہ اپنی انفرادیت اور شخصی خصائص کی وقعت، اہمیت اور افادیت کا حقیقی احساس ہوتا ہے۔
رفتہ رفتہ ششی نہ صرف انگریزی زبان سیکھتی ہے بلکہ اپنے اندر خودقدری، وثوق اور خوداعتمادی جیسے اوصاف کو بھی نشوونما دینے لگتی ہے۔ فلم اپنے نقطۂ کمال اور ذروۂ پیغام پر تب پہنچتی ہے جب وہ اپنی بھانجی کی تقریبِ عروسی میں نوبیا
نوبیاہتا جوڑے کے لیے ایک مختصر مگر نہایت بامعنی اور عاجزانہ تقریر کرتی ہے۔ ایسے پُراثر کلمات جو اس کے اہلِ خانہ کو بھی آئینہ دکھا دیتے ہیں اور ناظرین کے قلوب و اذہان میں بھی ایک مثبت ارتعاش پیدا کرتے ہیں۔
فلم کے مرکزی اسباق
اس فلم کا لبِ لباب یہ ہے کہ کسی بھی فرد کی عزت کا معیار اس کی زبان دانی، تعلیمی اسناد یا معاشی کمالات نہیں، بلکہ اس کا انسانی وقار ہے۔ ایک گھریلو خاتون بھی اتنی ہی قابلِ احترام ہے جتنا کوئی کاروباری یا پیشہ ور شخص۔ ششی کی زندگی اس بات کی یاددہانی ہے کہ گھرداری بھی ایک اہم ترین ذمہ داری ہے، نہ کہ کسی لاچاری، پشیمانی یا سماجی ضعف کی علامت۔
1- مسلسل تضحیک، غیر سنجیدگی اور احترازی کا رویہ بتدریج انسان کی شخصیت میں محاسن کے قصر کو منہدم کر دیتا ہے۔ ششی پر کسی طرح کا کوئی سبّ و شتم، تشدد یا ظلم کا ارتکاب نہیں ہوتا، مگر اس کی توہین، طنز و مزاح کے لبادے میں ہوتی ہے۔ فلم یہ واضح کرتی ہے کہ جذباتی محرومی (emotional neglect) بھی ایک گہرا زخم ہوتا ہے، جو کسی لکڑی پر دیمک کے مانند خود اعتمادی کو بتدریج اختتام پذیری کی طرف دھکیلتا ہے۔
ششی کا یہ قابلِ ستائش سفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی
There is no age limit for learning. If you have the willingness and the
correct attitude to learn something, age becomes just a number.
تعلیم صرف اقتصادی کارکردگی کو بروئے کار لانے یا اپنی حیثیتِ عرفی کی افزونی کے لیے نہیں، بلکہ اپنی خودی کے شعوری ادراک کے لیے بھی ضروری ہوتی ہے۔ عورت اگر پورے عزم و استقلال کے ساتھ چاہے تو مابعدِ نکاح، اپنے شوہر، بچوں اور گھریلو ذمہ داریوں کے باوصف اس راہِ محمود کی مسافر بن سکتی ہے۔
2- فلم ہر فردِ خاندان کو یہ اہم سبق دیتی ہے کہ عورت کا سب سے پہلا سماجی دائرہ (social circle) اس کا گھر ہوتا ہے۔ اگر وہیں اسے وہ مطلوبہ عزت و اکرام نہ ملے تو دنیا کی تمام توصیف و تحسین بھی اس خلا کو پر نہیں کر سکتی۔ شوہر اور بچوں کے الفاظ، لہجہ اور رویہ عورت کی شخصیت کو یا تو بنیانِ مرصوص کی سی تقویت عطا کرتے ہیں یا پھر اس کی خودشناسی کو آخری درجے میں معدوم و مجروح کر دیتے ہیں۔
3- ششی نہ کسی طرح کا کوئی تصادم یا مخاصمانہ رویہ اختیار کرتی ہے، نہ شکوہ شکایت یا لعنت ملامت کے راستے پر گامزن ہوتی ہے، اور نہ ہی کسی کی تذلیل و تحقیر جیسے شنیع عمل میں مبتلا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، وہ ذاتی فارغ
البالی اور ارتقا پذیری کو اپنا ناگزیر ہدف و نصب العین قرار دیتی ہے۔ یہی اس فلم کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی تبدیلی شورش برپا کرنے یا شدید ردِ عمل کی نفسیات میں مبتلا ہونے سے نہیں، بلکہ کدو کاوش، مستقل مزاجی اور ثابت قدمی کو اپنا وتیرہ بنانے سے آتی ہے۔