اُم ِّموسیٰ سیدہ یوکبد کا شمار ان عظیم خواتین میں ہوتا ہے جن کی عظمت کی گواہی خود قرآن نے دی ۔ انھوں نے اپنے رب پر ایسا بھروسا کیا جس کی مثال معلوم تاریخ میں ملنا مشکل ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدایش کے واقعے کو قرآن مجید میں بہت مختصرطریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ قرآن اور مقدس صحیفوں کی مدد سے حضرت موسیٰ کی پیدایش پر ان کی والدہ کے کردار کو ایک کہانی کی شکل دی گئی ہے ۔
انسانوں کی یہ بستی بھی عجیب تھی ۔ اس بستی میں رہنے والوں سے زیادہ ظلم شاید ہی کسی پر ہوا ہو ۔ یہاں کے بادشاہ نے جو قانون بنا رکھا تھا اس سے پہلے وہ قانون کسی نے نہیں بنایا تھا۔ اس گھر میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو اس کے خاندان والے سخت پریشانی میں مبتلا ہو جاتے۔
یوکبد اور عمران کے ہاں جب ایک بیٹی اور ایک بیٹے کے بعد تیسرا بچہ پیدا ہوا تو وہ بھی خوش ہونے کے بجائے سخت خوفزدہ اور پریشان تھے ۔اس کی پریشانی کی وجہ وہ ظالمانہ قانون تھا جویہاں کے حکمران نے نافذ کر رکھا تھا۔اس قانون کے مطابق بنی اسرائیل کے بچوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتاتھا۔
اس ظالمانہ قانون کے کئی سبب بیان کیے جاتے ہیں ۔ سب سے قرین قیاس وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم ﷺ کے پوتے حضرت یوسف علیہ السلام یہاں پر کم و بیش تین سو برس قبل حکمران تھے ۔ انھیں ملک مصر
نامور خواتین
کے ہاکسوس خاندان کے ایک بادشاہ نے یہاں کا حکمران بنا یا تھا ۔ ہاکسو س خاندان سے پہلے مصر پر قبطی خاندان کی حکومت تھی ۔ یہ مصر کے مقامی باشندےتھے ۔اور ہاکسوس خاندان نے انھیں شکست دے کر حکومت حاصل کی تھی ۔ حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ قبطی خاندان حکومت حاصل کرنے میں دوبارہ کامیاب ہو گیا۔ انھوں نے اس وقت کے عام دستور کے مطابق اپنے دشمن خاندان کے حمایتیوں کو اپنا غلام بنا لیا۔ یہ حضرت یوسف کی قوم بنی اسرائیل تھی ۔ “اسرائیل ” حضرت یعقوب کا لقب تھا ۔ اس کا وہی مطلب ہے جو عربی میں عبداللہ کا ہے ، یعنی اللہ کا بندہ ۔ قبطی اپنے حکمرانوں کو ” فرعون “کہتے تھے ۔ یعنی ان کا ہر بادشاہ ” فرعون” کہلاتا تھا۔ فرعونوں نے بنی اسرائیل کو قابو میں رکھنے کےلیے یہ قانون بنایا تھا کہ وہ ایک برس پیدا ہونے والے لڑکوں کو قتل کر دیتے اور لڑکیوں کو زندہ رکھتے ۔ ام موسیٰ یوکبد کے ہاں جس برس بچہ پیدا ہوا تھا، اس برس قانون کے مطابق بچوں قتل کیا جا رہا تھا ۔
فرعون کی جاسوس عورتیں بستی میں پھرتی رہتیں ۔ انہیں جیسے ہی کسی کے ہاں بیٹا پیدا ہونے کی خبر ملتی فوراً فرعون کے سپاہیوں کو خبر کر دیتیں اور وہ معصوم بچے کو قتل کر دیتے۔
یوکبد سخت پریشان تھیں کہ وہ بیٹے کو فرعون کے سپاہیوں سے کیسے بچائے۔ ان کے شوہر نے یقینا اپنے طور پر اس کا کچھ انتظام کر رکھا ہو گا کہ کسی کو بیٹے کی پیدایش کی خبر نہ ہو ۔ لیکن یوکبد کو ہر دم دھڑکا لگا رہتا ہوگا کہ جس دن ظالم بادشاہ کو اس کی خبر پہنچی اسی دن وہ میرے اس خوب صورت اور روشن آنکھوں والے بچے کو لے جائیں گے۔ وہ دن رات اپنے بچے کی سلامتی کی دعائیں مانگتی رہتیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ،اسی قدر ان کے دل میں یہ خوف بڑھتا جاتا ۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب یوکبد اپنے پیارے بیٹے کو دیکھ دیکھ کر اللہ سے اس کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھیں کہ انھیں محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے سرگوشی کی ہے۔ انھوں نے ارد گرد دیکھا لیکن وہاں تو کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ اکیلے ہی بیٹھی تھی۔ سوچا کہ شاید یہ میرا وہم ہو لیکن انھیں دوبارہ آواز سنائی تھی۔ اس مرتبہ آواز اتنی صاف اور واضح تھی کہ انھیں کسی قسم کا شک نہ رہا کہ واقعی کوئی ان کا نام لے رہا تھا ۔
انھیں جو کچھ کہا جا رہا تھا ، اور جیسے بھی کہا گیا ،اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اے یوکبد جب تمہیں بچے کے معاملے میں خطرہ محسوس ہو تو اسے ٹوکری میں ڈال کر دریا میں چھوڑ دینا۔ دریا اسے کنارے پر دھکیل دے گا اور پھر ہمارا وعدہ ہے کہ ہم اس بچے کو محفوظ بھی رکھیں گے اور یہ تمہاری ہی گود میں پرورش پائے گا ۔یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔
یوکبد اللہ پر یقین رکھنے والی ماں تھی ۔ وہ بنی اسرائیل کے اس خاندن سے تھیں جو نبیوں اور ان کی سکھلائی تعلیم پر یقین رکھتی تھیں۔وہ اشارہ ِغیبی کی روایت سے بخوبی واقف تھیں ۔ انھیں پختہ یقین تھا کہ سرگوشی کسی اور نے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ اور کوئی عام مطالبہ نہیں کیا جا رہا۔ اسے اپنے دل کے ٹکڑے کوٹوکری میں رکھ کر دریا میں بہا دینے کا حکم کسی اور نے نہیں بلکہ اللہ نے دیا ہے ۔یہ ہر گز کوئی وہم یا شیطانی خیال نہیں ۔
اس حکم کے بارے میں یہ یقین ہو جانے کے بعد کہ یہ اللہ کا حکم ہے ، انھوں نے فوراً اس حکم کی تعمیل کا ارادہ کر لیا ۔ اپنی بیٹی مریم کو اپنا ہم راز بنایا اور اس کے ساتھ مل کر ایک ٹوکری لیا۔ اس پر اچھی طرح روغن کیا تاکہ پانی سے وہ خراب نہ ہو۔ اور پھرجیسے ہی مناسب موقع ملا ، انھوں نے اپنے خوب صورت بیٹے کو اپنے ہاتھوں سےٹوکری میں ڈالا اور بیٹی سے کہا کہ اسے خاموشی سے دریا میں بہا دو ۔
یہ ایک ماں کا اللہ پر بھروسا ہی تھا جس نے اسے اس بات پرآمادہ کیا کہ وہ اپنے پیارے بیٹے کو دریا میں بہا دے ۔اگر چہ انھیں اللہ پر مکمل یقین تھا لیکن پھر بھی ا نسان ہونے کے ناتے ان کے دل میں بار بار یہ خیال پیدا ہو رہا تھا کہ معلوم نہیں ان کا جگر گوشہ دریا میں بہتے ہوئے کہاں جائے گا۔ اس لیے بیٹی مریم سے کہا کہ ذرا دیکھنا یہ ٹوکری جاتی کہاں ہے۔
بیٹی کو روانہ کر کے وہ اللہ سے اپنے بیٹے کی سلامتی کی دعا مانگنے لگی ۔ کچھ وقت گزراتو ان کا انتظار طویل ہونے لگا۔ وہ بے چین ہوگئیں کہ اس کی بیٹی مریم واپس کیوں نہیں آرہی ۔ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ ٹوکری دریا میں بہانے کے بعد کدھر گئی ہے۔
طرح طرح کے خدشات نے یقیناًان کے دل میں پیدا ہو رہے ہوں گے کہ فرعون کے کسی جاسوس نے تو اسے ٹوکری دریا میں بہاتے نہیں دیکھ لیا ۔ وہ سوچتیں کہ اگر ایسا ہوا تو سپاہی بچے کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ مریم کو بھی نہیں چھوڑیں گے لیکن پھر انھیں اللہ کا وعدہ یاد آیا اور مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جل اٹھا۔ وہ اللہ سے مخاطب ہوئیں کہ اے اللہ مجھے تمہارے وعدے پر پورا پورا بھروسہ ہے لیکن کیا کروں، میں ایک ماں ہوں۔ دل بار بار خوف کی بھول بھلیوں میں لگتا ہے۔
مریم کی آمد سے پہلے انھوں نے جس انتظار میں وقت گزارا ہوگا ، اس کی شدت کا اندازہ شاید ہی کوئی لگا سکے ۔ کئی گھنٹوں یا شاید ایک دن کے انتظار کے بعد مریم ہانپتی کانپتی گھر میں داخل ہوئی ۔ ماں اس کے چہرے پر لکھی تحریر کو پڑھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔ مریم نے کہا کہ ماں تیار ہو جاؤ، آپ میرے ساتھ فرعون کے محل میں جا رہی ہیں۔ ماں کا دل دھک سے رہ گیا۔ بولیں : کیا بیٹے کو بچا نے کی کوشش میں مجھے سزا ملنے والی ہے ؟
“نہیں دراصل میرا بھائی فرعون کے محل میں ہے ۔” مریم نے رازداری سے بتایا ۔
یہ خبر اور بھی پریشان کن تھی۔ ” میرا بیٹا فرعون کے محل میں؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا انہوں نے تمہیں ٹوکری کو دریا میں ڈالتے دیکھ لیا تھا ۔ ” یہ خدشات بالکل فطری تھے ۔
“نہیں ماں، ایسی بات نہیں ۔ میرا بھائی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ تمہارا بیٹا اور میرا بھائی ہے۔ اللہ نے اپنے وعدے کے مطابق میرے بھائی کی حفاظت کی ہے۔ “
تب یوکبد نے اصرار کیا کہ بیٹی مجھے پوری بات بتاؤ۔ مجھ میں مزید سوالات پوچھنے کی ہمت نہیں ۔ مریم نے بتایا کہ جب میں نے ٹوکری کو دریا میں بہا یا تو مجھے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ میں ٹوکری کو دریا میں بہا کر چھپ گئی تھی اور پھر تھوڑے فاصلے سے دریا کے کنارے کنارے چلنے لگی۔ میں نے دیکھا کہ ٹوکری ایک جگہ پر اُگی جھاڑیوں میں اٹک گیا ہے ۔ میں بہت پریشان ہوئی۔ لیکن جلد ہی میں نے وہاں پر کچھ خواتین کو دیکھا۔ یہ مجھے شاہی محل کی عورتیں محسوس ہوئیں ۔ انھوں نےٹوکری کو وہاں سے نکالا اور اپنی مالکہ کے سپرد کر دیا۔ اب وہ سب خواتین محل کی طرف جانے لگیں ۔ میں بھی کسی نہ کسی طرح کنیز کے روپ میں اندر چلی گئی۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مریم پہلے ہی سے محل میں کنیز ہوں ۔
بہر کیف اس نے بتایا کہ ملکہ نے ٹوکری کو دریا کے کنارے جھاڑیوں میں دیکھا تو اس کو پانی سے باہر نکلوایا اور کھول کر دیکھا ۔ اس میں خوب صورت بچہ تھا ۔ بچہ ملکہ کو بہت پسند آیا ۔ فرعون کی یہ ملکہ بے اولاد تھی ، اُس نے اس خوب صورت بچے کو گود میں لینے کا سوچا ۔ کچھ دیر مزید گزری تو یہ خبر مشہور ہوئی کہ بچے کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کسی اسرائیلی نے بچے کوقتل سے بچانے کے لیے اسے دریا میں بہا دیا ہے ۔
اور فرعون بھلا ایک اسرائیلی بچے کا یوں بچایا جانا کیسے برداشت کر سکتا تھا۔
یوکبد نے جب یہ واقعہ اپنی بیٹی کی زبانی یہاں تک سنا تو سخت بے چین ہوئیں مگر بیٹی نے دلاسا دیاکہ پریشان نہ ہوں ۔ اللہ کے خصوصی کرم سے فرعون نے اپنا حکم واپس لے لیا۔ فرعون جتنا ظالم ہے اس کی یہ ملکہ اتنی ہی رحم دل اور عقل مند ہے۔ اس نے اسے سمجھایا کہ میں اس بچے کو گود لینا چاہتی ہوں۔ میں اس کی پرورش محل ہی میں کروں گی ۔ اس لیے یہ بڑا ہو کر ہمارا دشمن نہیں دوست ہوگا۔ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا۔ اس کی دلیل بہت زور دار تھی ۔اور اللہ تعالیٰ نے بھی فرعون کے ذہن کو موم کر دیا۔ بہر کیف انھوں نے کسی نہ کسی طرح فرعون سے یہ بات منوا لی ۔ اور اس نے ملکہ کو اجازت دے دی کہ وہ بچے کو گود لے سکتی ہے۔
یوکبد نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ وہ اللہ کی قدرت پر حیران ہو رہی تھی کہ اس نے دشمن کے دل میں کیسے رحم پیدا کیا۔ مریم نے مزید بتایاکہ صرف یہی نہیں ،اللہ کی کرشمہ سازی تو یہ ہوئی کہ میرے بھائی نے اچانک رونا شروع کر دیا۔ ظاہر ہے اسے بھوک لگی تھی ۔ وہ دودھ پینے کے لیے رو رہا ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود بھائی نے محل میں موجود کسی آیا کا دودھ نہیں پیا۔ دودھ پلانے والی کئی عورتیں محل میں موجود تھیں ۔ ان سب کو بلایا گیا لیکن بھائی نے کسی کا دودھ نہیں پیا ۔ سارے محل میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ ملکہ نے جس بچے کو گود میں لیا ہے وہ کسی آیا کا دودھ نہیں پی رہا۔ پھر میرے دل میں نہ جانے کیا بات آئی۔ میں نے ایک کنیز سے کہا کہ میں ایک ایسی عورت کو جانتی ہوں جو بچے کو دودھ پلانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ وہ کنیز اسی وقت ملکہ کے پاس پہنچی۔ ملکہ کا یہ سننا تھا کہ مجھے بلا بھیجا ۔ میں نے ملکہ کو یقین دلایا کہ اگر مجھے اجازت دی جائے تو میں ایک ایسی عورت کو یہاں لاؤں گی جس کا دودھ یہ بچہ ضرور پیے گا اور ماں میں سیدھی تمہارے پاس آپہنچی ہوں۔ دیکھو اللہ نے اپنا وعدہ پورا کرنے کا کیسا شان دار انتظام کیا ہے۔
یوں اللہ نے یوکبد کے بھروسے کا مان رکھا۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ فرعون کے محل میں تھیں ۔ انھوں نے دیکھا کہ اس کا پیارا بچہ بھوک سے رو رہا ہے اور اسے کسی کی آغوش میں چین نہیں آرہا۔ بلک بلک کر رو رہا ہے ۔ کنیزوں نے ایک جمگھٹا اس کے ارد گرد لگا رکھا ہے لیکن اسے کسی کی گود میں وہ اپنایت اور محبت نہیں مل رہی جو اسے چپ کرا دے ۔ پھر یوکبد نے اسے ملکہ کی اجازت سے اپنی گود میں لیا تو وہ پر سکون ہو گیا۔ اور دودھ پینے لگا۔ یقیناً ننھے موسیٰ نے ماں کی گود پہچان لی ہو گی ۔
اللہ تعالی نے یوکبد سے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا ۔ اس کی حفاظت کے لیے دشمن کا محل فراہم کر دیا اور ماں کی ممتا کو
ٹھنڈک پہنچانے کے لیے ان کا بچہ ان کی جھولی میں ڈال دیا۔ ماں کی بھروسے کا اللہ نے صرف یہی انعام نہیں دیا بلکہ یہ بچہ بڑا ہو کر اللہ کے ممتاز ترین رسولوں میں سے ایک رسول بنا ۔
نوٹ: فرعون کی جس بیوی کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ وہ ننھے موسیٰ کو گود میں لے، ان کا نام عام طور پر “آسیہ”بیان کیا جاتا ہے ۔ پیغمبر کی ماں نہ ہونے کے باوجود ان کی نگرانی میں حضرت موسیٰ کی اعلیٰ سطح پر دیکھ بھال ہوئی اور انھیں اپنی حقیقی ماں کی گود نصیب ہوئی ۔ قرآن مجید میں ان کا نام تو نہیں ہے لیکن سورۃ تحریم کی آیات سے واضح ہے کہ وہ ایمان لائیں اور ان کی دعائیں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہیں کہ اللہ میرے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے برے کاموں سے نجات دے اورآلِ فرعون جیسی ظالم قوم سے مجھے بچا ۔ جب حضرت موسیٰ کے بارے میں فرعون کو معلوم ہو گیا کہ ان کے ہاتھوں سے قبطی کا قتل ہو گیا ہے تو اس نے حضرت موسیٰ کو قتل یا گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔ گمان کیا جاتا ہے کہ یہ آسیہ ہی تھیں جنھوں نے نوجوان موسیٰ تک اس فیصلے کی خبر پہنچائی اور وہ مصر سے ہجرت کرکے مدین چلے گئے ۔ کچھ روایات کے مطابق جب ان کے مسلمان ہونے کا علم فرعون کو ہوا تو اس نے انھیں شہید کرا دیا۔