آشفتۂ فرنگ ہیں علم و ہنر تمام
عالم بھی تھا نگاہ میں، لیکن زہے نصیب
اب اُن کی نذر کر دیا ذوقِ نظر تمام
دیکھا ہے جب بھی حسن کو فطرت میں بے نقاب
زنداں لگے ہیں شہر کے دیوار و در تمام
اُس دن کی خیر جس میں بہ صد شوقِ آگہی
برپا ہوا یہ معرکۂ خیر و شر تمام
سنتے کہیں تو حسن و محبت کی داستاں
اِس شہر کے خطیب ہوئے نوحہ گر تمام
اپنے ہی سنگ و خشت سے ہر سُو اٹی ہوئی