حضرت ابن عباس کی طرف منسوب روایت:
ابن جریر نے لکھا ہے:
حدثنی محمد بن سعد ثنی ابی ثنی عمی عن ابیہ عن ابن عباس۔ قال کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعث الولید بن عقبۃ بن ابی معیط الی بنی المصطلق لیاخذ منھم الصدقات وانہ لما اتاھم الخبر فرحوا وخرجوا لیتلقوارسول رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وانہ لما حُدِّث الولید انھم خرجوا یتلقونہ، رجع الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال یارسول اللّٰہ، ان بنی المصطلق قد منعوا الصدقۃ فغضب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم غضبا شدیدا فبینما ھو یحدث نفسہ ان یغزوھم اذا اتاہ الوفد فقالوا یارسول اللہ انا حدثنا ان رسولک رجع عن نصف الطریق وانا خشینا ان یکون انما ردہ کتاب جاء ہ منک فعضبت غضبۃ علینا۔ فانا نعوذ باللّٰہ من غضب اللّٰہ و غضب رسولہ فانزل اللّٰہ عذرھم فی الکتاب فقال: ”یایھا الذین اٰمنوا ان جاء کم فاسق“.1
اس حدیث کی سند بڑی تاریک ہے۔ اول تو ابن جریر طبری کی محمد بن سعد سے ملاقات ہی نہیں ہوئی، کیونکہ جب محمد بن سعد کا بغداد میں 230ھ میں انتقال ہوا ہے تو ابن جریر اپنی عمر کے چھٹے سال میں تھے اور اپنے وطن آمل میں رہتے تھے جو کہ طبرستان کی ایک بستی تھی۔ لہٰذا ابن جریر کا حدثنی محمد بن سعد کا کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔ حالاں کہ ابن جریر ثقہ و ثبت ہیں پس دو ہی بات ہیں۔ یا تو یہ حدیث الحاقی ہے، کسی نے تفسیر ابن جریر میں درج کردی ہے یا ’حدثنی‘ کا لفظ کسی کاتب یاناسخ کا غلط اضافہ ہے پھر محمد بن سعد کے جو آبا و اجداد اور اسلاف اس سند میں مذکور ہیں علماے رجال ان میں سے اکثر کے ناموں سے بھی ناواقف ہیں، حالات کا اور ثقہ یا غیر ثقہ ہونے کا تو ذکر ہی کیا! اس لیے یہ حدیث ناقابل اعتماد اور غالباً موضوع ہے۔
ناظرین یہ جملہ روایات میں نے اس لیے نقل کی ہیں کہ ان سے مولانا مودودی کی غلط بیانی واضح ہوجاتی ہے۔ مولانا مودودی نے لکھا ہے: بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مصطلق کی سرکوبی کے لیے دستہ روانہ کردیا تھا اور بعض میں یہ بیان ہوا ہے کہ آپ روانہ کرنے والے تھے۔ بہرحال اس بات پر سب متفق ہیں کہ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ضرار ام المومنین حضرت جویریہ کے والد اس دوران میں خود ایک وفد لے کر حضور کی خدمت میں پہنچ گئے۔ مگر ناظرین دیکھ رہے ہیں کہ قتادہ، مجاہد، یزید بن رومان، عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، حضرت ام سلمہ، حضرت ابن عباس والی ان روایات میں سے کسی روایت میں بھی حارث بن ضرار کا ذکر نہیں ہے۔ سخت تعجب ہے کہ مودودی صاحب نے یہ صریح غلط بات کیسے لکھ دی جو موصوف سے پہلے کسی نے بھی نہیں لکھی۔ شاید انھیں خیال ہوا ہوگا کہ مطالعہ کرنے والوں میں سے ان روایات کو کون دیکھے گا۔ پس میرے لکھنے پر اعتماد کرلیا جائے گا۔
حارث کا ذکر صرف ایک روایت میں ہے، جو حارث سے ہی مروی ہے۔ اس کی تخریج امام احمد نے فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں:
حدثنا محمد بن سابق ثنا عیسی بن دینار ثنا ابی انہ سمع الحارث بن ضرار الخزاعی قال قدمت علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فدعانی الی الاسلام فد خلت فیہ واقررت بہ فدعانی الی الزکاۃ فاقررت بہا، وقلت یارسول اللّٰہ ارجع الی قومی فادعوھم الی الاسلام واداء الزکاۃ فمن استجاب لی جمعت زکاتہ فیُرسلُ الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رسولا لاِ بان کذا وکذا لآتیک ما جمعت من الزکاۃ. فلما جمع الحارث الزکاۃ ممن استجاب لہ وبلغ الابان الذی اراد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یبعث الیہ احتبس علیہ الرسول فلم یأتہ،فظن الحارث انہ قد حدث فیہ سخطۃ من اللّٰہ عزوجل ورسولہ فدعا سروات قومہ فقال لھم ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان وقت لی وقتا یرسل الی رسولہ لیقبض ماکان عندی من الزکاۃ ولیس من رسول اللّٰہ الخلف ولا اری حبس رسولہ الا من سخطۃ کانت، فانطلِقوا فنأتی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وبعث رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الولید بن عقبۃ الی الحارث لیقبض ماکان عندہ من الزکاۃ. فلما ان سار الولید حتی بلغ ببعض الطریق فرق فرجع فاتی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وقال یارسول اللّٰہ ان الحارث منعنی الزکاۃ واراد قتلی فضرب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم البعث الی الحارث، فاقبل الحارث باصحابہ اذا استقبل البعث وفصل من المدینۃ لقیھم الحارث قالوا ھذا الحارث فلما لقیھم قال لھم الی مَن بُعِثتم؟ قالوا الیک۔ قال ولم؟ قالوا: ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان بعث الیک الولید بن عقبۃ فزعم انک منعت الزکاۃ واردت قتلہ. قال لا والذی بعث محمدًا بالحق ما رأیتہ بتۃ ولا اتانی. فلما دخل الحارث علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال منعت الزکاۃ واردت قتل رسولی. قال والذی بعثک بالحق مارأیتہ ولا اتانی. وما اقبلتُ حین احتبس علی رسول رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خشیت ان تکون کانت سخطۃ من اللّٰہ عزوجل ورسولہ قال فنزلت الحجرات ’یاایھا الذین اٰمنو ان جاءک فاسق‘.(مسند احمد4/289)
’’عیسٰی بن دینار نے اپنے باپ دینار سے روایت کی ہے کہ اس نے ضرار کے بیٹے حارث خزاعی سے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے مجھے دعوتِ اسلام دی، میں نے قبول کرلی اورمسلمان ہو گیا، آپ نے مجھے اداے زکوۃ کے بارے میں بتایا میں نے قبول کر لیا اورآپ سے کہا: یا رسول اللہ، میں اپنے قبیلہ واپس جارہا ہوں، انھیں اسلام اور زکوٰۃ کی دعوت دوں گا۔ جو لوگ مان لیں گے، ان کی زکوٰۃ جمع کر لوں گا۔ حضور فلاں فلاں وقت کوئی قاصد روانہ فرما دیں جو جمع شدہ اموالِ زکوٰۃ لے آئے۔ حارث نے ایسا ہی کیا، مگر وقت مقرر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی قاصد نہ پہنچا۔ حارث کو گمان ہوا کہ خدا اور رسول شاید مجھ سے ناراض ہوگئے ہیں اس نے اپنی قوم کے سرداروں اور ذی اثر لوگوں کو جمع کرکے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصول زکوٰۃ کے لیے قاصد بھیجنے کا وقت مقرر فرما دیا تھا، وعدہ خلافی تو آپ کرنہیں سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کچھ ہم سے ناراض ہوگئے ہیں۔ اس لیے خدمتِ اقدس میں چل کر تحقیق حال کرو۔ ادھر آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وقت مقرر پر ولید بن عقبہ کو بھیج دیا تھا، مگر وہ درمیان راہ سے ہی خوف زدہ ہوکر واپس ہوگیا اور آپ سے کہہ دیا کہ حارث نے زکوٰۃ بھی ادا نہیں کی اور مجھے قتل کرڈالنے کی فکر میں پڑ گیا۔ آپ نے حارث کی سرکوبی کے لیے فوجی مہم بھیج دی۔ ادھر سے یہ لشکر اسلام چلا اُدھر حارث اپنے قبیلہ کے ذی اثر لوگوں کے ساتھ آرہا تھا۔ راستہ میں مڈبھیڑ ہوئی۔ حارث نے مسلمانوں سے دریافت کیا: آپ لوگ کہاں بھیجے گئے ہیں؟ بولے: تمھارے ہی پاس۔ حارث نے کہا: کیوں؟ انھوں نے کہا: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھارے پاس وصولیِ زکوٰۃ کے لیے ولید بن عقبہ کو بھیجا تھا۔ اس نے آکر بتایا کہ تم نے زکوٰۃ بھی نہ دی اور اس کے قتل کے درپے ہوگئے۔ حارث نے قسم کھا کر کہا: میں نے اسے قطعاً نہیں دیکھا نہ وہ میرے پاس آیا۔ پس جب حارث حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے فرمایا: تم نے زکوٰۃ ادا نہیں کی اور میرے قاصد کو قتل کردینے کے فکر میں پڑ گئے؟ حارث نے قسم کھا کر کہا کہ نہ میں نے اسے دیکھا نہ وہ میرے پاس آیا۔ میں تو اس کا انتظار دیکھ کر اور نہ آنے پر یہ خیال کرکے کہ کہیں آپ ناراض تو نہیں ہوگئے، حاضرِ خدمت ہوا ہوں۔ اس پر سورۂ حجرات کی یہ آیت نازل ہوئی۔‘‘
اس حدیث کی اسناد میں عیسٰی بن دینار کا باپ دینار مجہول الحال و مستور ہے۔ ’قال ابن المدینی عیسی معروف ولا نعرف اباہ یعنی دینارًا ‘، (یعنی ابن المدینی نے کہاہے کہ عیسٰی تومعروف ہے، مگرہم اس کے باپ دینارکونہیں جانتے)۔ بخاری نے البتہ عیسٰی بن دینارکوثقہ قراردیاہے۔2
اس سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے جو اس کے بیٹے عیسٰی نے روایت کی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ علمی آدمی نہ تھا۔ لے دے کرجس کو ایک یہ ہی فضول سی حدیث یاد ہو، اس کے غیر علمی شخص ہونے میں کیا کلام ہوسکتا ہے۔ رہا حارث بن ضرار خزاعی تو وہ بھی مجہول وغیر متعین ہے۔ مسند احمد میں تو حارث بن ضرار ہے، لیکن ابنِ اثیر جزری نے ”اسد الغابہ“ میں امام احمد کے طریق سے ہی اس کی تخریج کی ہے۔ اس میں حارث بن ابی ضرار ہے۔ حافظ ابن کثیر کا خیال ہے کہ یہ حارث بن ضرار ام المومنین جویریہ رضی اللہ عنہا کے والد اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خسر ہیں۔3
حافظ ابن عبدالبر نے ”الاستیعاب فی تذکرۃ الاصحاب“ میں یہ لکھا ہے کہ اس حدیث کا راوی حارث بن ضرار کوئی اور شخص ہے۔ ام المومنین جویریہ رضی اللہ عنہا کے والد حارث بن ابی ضرار ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابن اثیر نے اس حدیث کی اسناد میں حارث بن ابی ضرار غلطی سے کہہ دیا ہے۔ حارث بن ضرار ہی ہونا چاہیے، جیسا کہ مسند احمد میں ہے۔
میں کہتا ہوں کہ یہ حارث بن ضرار خزاعی مجہول شخص ہے۔ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قبیلہ بنی خزاعہ میں کوئی شخص حارث بن ضرار تھا تو نہ معلوم وہ اس قبیلہ کی کس شاخ میں سے تھا۔ بہرحال بنی مصطلق میں سے تو تھا نہیں، بنی مصطلق بھی قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ ہے اور اس قبیلہ کے اسلام لانے کا واقعہ معلوم و معروف ہے۔ وہ یہ کہ چونکہ اس قبیلہ نے غزوۂ احزاب میں مکہ کے مشرکین کا ساتھ دیا تھا، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان 6 ھ میں اس قبیلہ پر فوج کشی کی۔ تھوڑی دیر مقابلہ ہوا، مگر جلد ہی یہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔ آپ نے ان کی عورتوں اور بچوں کو گرفتار کرلیا۔ انھی میں حضرت جویریہ تھیں، جو بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے انھیں اپنی زوجیت میں لے لیا۔ عام مسلمانوں نے اس قبیلہ کے تمام بچوں اور عورتوں کو جو مالِ غنیمت میں ان کے درمیان تقسیم ہوگئے تھے، یہ کہہ کر آزاد کردیا کہ اب یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار ہیں۔ ہم انھیں اپنی غلامی میں نہ رکھیں گے۔ یہ اطلاع بنی مصطلق کے لوگوں کو جو بہ وقت مقابلہ بھاگ نکلے تھے پہنچی تو وہ سب کے سب بہ خوشی حاضرِ خدمت ہوکر مسلمان ہوگئے۔ انھی میں حارث بن ابی ضرار بھی تھے۔ اب ظاہر ہے کہ حارث بن ضرار خزاعی نے اپنے اور اپنے قبیلہ کے مسلمان ہونے کا جو قصہ بیان کیا ہے، جو اس حدیث میں ہے وہ بنی مصطلق کے اسلام لانے کے واقعہ سے قطعاً مختلف ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دینار کوفی نے قتادہ و یزید بن رومان وغیرہ کی روایت سنی ہوگی۔ الٹا سیدھا تصرف کرکے اسے ہی بیان کردیا ہے۔ پس مولانا مودودی کا اس حارث کو جزم کے ساتھ حضرت جویریہ کا باپ بتا دینا غلط ہے۔ اِس تفصیل سے روزِ روشن کی طرح آشکار ہوجاتا ہے کہ ان ساقط الاعتبار روایات پر اعتماد کرکے جن لوگوں نے آیت ’اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌ ‘ کاشان نزول اس کہانی کو اور فاسق سے مراد ولید بن عقبہ کو بتایا ہے انھوں نے سخت غلطی کی ہے۔
اس بحث کے آخر میں ناظرین سے ایک بات اور کہتا ہوں، وہ یہ کہ بہ طور فرضِ محال اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ولید بن عقبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اپنی عمر کے لحاظ سے اس لائق تھے کہ انھیں ذمہ داری کا منصب دیا جائے اور امین تحصیل بنا کر بھیجا جائے تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کوولید کا فاسق ہونا، صلاح و تقویٰ سے عاری ہونا معلوم تھا؟ اس سوال کا جواب کوئی بھی اثبات میں نہیں دے سکتا، کیونکہ یہ قطعاً ناممکن تھا کہ جو شخص کھلم کھلا فسق میں ملوث ہو، جس کا فاسق ہونا معلوم و معروف ہو، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امینِ تحصیل بنا کر بھیجیں۔ پس اگر واقعی ولید بن عقبہ کو ہی آپ نے بنی مصطلق کے یہاں امین تحصیل بنا کر بھیجا تھا تو یقیناً وہ ظاہرالفسق نہ تھا۔ بہ ظاہر نیک و متقی ہی تھا، بلکہ صلاح و تقویٰ میں عام مسلمانوں کی سطح سے کچھ اونچا ہی ہوگا تبھی تو آپ نے اسے یہ حکم دیا تھا۔ اور سورۂ حجرات کی یہ آیت احکامِ حق کی پروا نہ کرنے والے ظاہرالفسق شخص کی لائی ہوئی خبر کے بارے میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دے رہی ہے کہ اسے سن کر سچ نہ سمجھ بیٹھو، بلکہ اس کی تحقیق کرلیا کرو۔ کیونکہ جب وہ مخبر فاسق ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ خبر اس نے خود تصنیف کرلی ہو۔ پس آیت اس مخبر کے بارے میں ہے جو ظاہر الفسق ہو۔ جس کا فاسق ہونا معلوم و معروف ہو اور ولید نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ظاہرالفسق تھا، نہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہماکے عہد میں۔
لہٰذا یہ آیت ولید کو متناول ہی نہیں ہے اور نازل و شانِ نزول میں مطابقت نہیں ہے۔ جب کسی آیت کے متعلق کوئی شان نزول مروی ہو، لیکن آیت میں اور اس میں مطابقت نہ ہو تو وہ شانِ نزول واجب الرد ہے۔ یعنی یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی ہے، مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ: آیت ’اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ‘ عدتِ وفات کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ چار ماہ دس دن ہے تو وہ بکواس کرتا ہے۔ اس کا یہ کہنا قطعاً غلط ہے۔اس برہان کی رو سے ماننا پڑتا ہے کہ آیت ’اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌ ‘ کی یہ شانِ نزول غلط ہے۔
ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ خالص جھوٹی کہانی پاؤں اس لیے چل گئی کہ حضرت عثمان کے عہد میں ان پر شراب پینے کا الزام لگا تھا اور ان پر شراب نوشی کی حد بھی نافذ ہوئی تھی۔ یہ الزام ان کے دشمنوں نے ایک سازش کے تحت لگایا تھا اور گواہی دینے والے دو شخصوں نے قطعاً جھوٹی گواہی دےڈالی تھی۔ یہ اندوہناک واقعہ شرح و بسط کے ساتھ ہی ہم نے اپنی کتاب: ’’ارشاد الطالب شرح مسند علی بن ابی طالب‘‘(اردو) میں لکھا ہے۔4
- ۔ تفسیرابن جریرالطبری، سورۃ الحجرات، جزء الحادی والعشرون، بتحقیق: د، عبد اللّٰہ بن عبدالمحسن الترکی،مرکزاالبحوث للدراسات العربیہ والاسلامیہ بدارہجرللنشروالتوزیع ص 350۔
- ۔ ملاحظہ ہو: تہذیب التہذیب8/188، دارالفکر،بیر وت،الطبعۃ الاولی، 1984ء۔
- ۔ البدایہ والنہایہ 6/182، بتحقیق: د. عبداللّٰہ بن عبدالمحسن الترکی، مرکزا البحوث للدراسات العربیہ والاسلامیہ بدارہجرللنشروالتوزیع۔
- ۔ نیزکتاب شہادت ِعثمان رضی اللہ عنہ کا تاریخی پس منظرمیں مختصراً ص37 تا64۔